Malumat-Ul-Hewanat

Malumat-Ul-Hewanat All about animal's health-care and husbandry

اپنے گائے بھینس کو آج ہی گھل گھوٹو HS ویکسین لازمی لگاو۔ اگلے 2 مہینے یعنی برسات وساون ( جون جولائی اگست) میں اس بیماری ...
30/05/2025

اپنے گائے بھینس کو آج ہی گھل گھوٹو HS ویکسین لازمی لگاو۔ اگلے 2 مہینے یعنی برسات وساون ( جون جولائی اگست) میں اس بیماری کا حملہ ہوگا ، جس سے جانور سانس بند ہونے اور لوز موشن سے مرجاتے ہیں ( گلہ گھونٹ جانا ، اس وجہ سے بیماری کو گھل گھوٹو کہتے ہیں)

MashaAllah check Cow's Beauty 🐄🐄
04/01/2024

MashaAllah check Cow's Beauty 🐄🐄

مویشی پال بھائیو !جانور_قدرت_کا_تحفہ_ہیں۔⭐مارچ کے مہینے میں ہر جانور کے جسم کے پرانے بال گرتے ہیں اور نئے بال نکل آتے ہی...
13/03/2023

مویشی پال بھائیو !

جانور_قدرت_کا_تحفہ_ہیں۔
⭐مارچ کے مہینے میں ہر جانور کے جسم کے پرانے بال گرتے ہیں اور نئے بال نکل آتے ہیں۔
⭐ مارچ کے مہینے میں مکھی، مچھر، جوئیں اور چیچڑ خوراک (خون) حاصل کرنے کے لئے جانوروں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں تاکہ اپنی نسل کو آگے بڑھا سکیں۔
⭐ مارچ کے مہینے میں رات کو درجہ حرارت کم ہونے اور دن کو درجہ حرارت بڑھنے سے جانوروں میں قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔
⭐ مارچ کے مہینے میں جانوروں کو مکھیوں اور مچھروں کے کاٹنے سے بخار ہوجاتا اور جانور لگڑا کر چلتا ہے اس بیماری کو وِل بخار یا رہیومیٹک فیور کہتے ہیں۔

سوال ؛
اپنے قیمتی جانوروں کو مکھی، مچھروں، چیچڑیوں اور وِل بخار سے کیسے بچائیں ؟

جواب ؛
🔶اپنے قیمتی جانوروں کو آئیورمیکٹن کا ٹیکہ ٹھنڈا کر کے زیرِ جلد صبح یا شام کے وقت لگائیں۔

🔶 شام کے وقت جانوروں کے فارم، باڑے یا بھانے میں ٹرائی_کلورفان یا سائپرمیتھرین یا ڈیلٹامیتھرین کے پانچ فیصد محلول سے سپرے کریں اور یہ ہر سات دن کے وقفے سے لگاتار چار سپرے کریں تاکہ فارم سے مکھی، مچھروں اور چیچڑیوں کا مکمل خاتمہ ہوجائے۔

🔶 شام کے وقت جانوروں کے فارم میں دھواں لگائیں جو کہ ساری رات سلگتا رہے تاکہ رات کے وقت مچھر ہمارے جانوروں کے پاس نہ آئیں۔

ڈیوارمنگ کاطریقہدودھیل جانورکی ڈیوامنگ ایسےسالٹ سےکریں جوایک فارمولے کاسالٹ ہو بہترالبنڈازول ہےرات کوجب جانورچارہ کھالے ...
18/02/2023

ڈیوارمنگ کاطریقہ
دودھیل جانورکی ڈیوامنگ ایسےسالٹ سےکریں جوایک فارمولے کاسالٹ ہو بہترالبنڈازول ہے
رات کوجب جانورچارہ کھالے پانی پی لے گڑ کھلاٸیں بعض جانورڑنہیں کھاتے انہیں میٹھے زہربادکامسٸلہ ہوتاہے ایسےجانورکوونڈایادلیہ میں گڑ ،شکر،یاچینی مکس کرکےرکھ دیں جانورکھالےگا
گڑکھانےکےآدھاگھنٹابعد ڈیوارمنگ کی دواٸی پلاٸیں
دواٸی پلاتےوقت زبان کونہ پکڑیں نال کے ذریعےپلاٸیں
دوسرےدن شام کوچواٸی کے بعد انجکش ایورمیکٹن زیرجلدلٹھنڈاکرکےگاٸیں
پھر پندریوں دن دوبارہ ڈیوارمنگ کریں
ہرجانورکی ڈیوارمنگ ہرتین ماہ بعدکریں اورہرتین ماہ بعدانجکشن ایورمیکٹن لگاٸیں
نوزاٸیدہ بچے کی ڈیوارمنگ پیداٸش کے دوسرےماہ بعدکریں
جب جانورنیاحاملہ ہو اسکی ڈوارمنگ دوسرے ماہ کاحمل مکمل ہونیکے بعدکریں
جب جانوربچہ دے اسکی ڈیوارمنگ بچہ دینے کیبعد دسویں دن کرسکتےہیں
حاملہ جانورکی ڈیوارمنگ حمل کےساتویں ماہ تک کرسکتےہیں
جانورکی ڈیوارمنگ پندرہویں دن اس وجہ سےکیجاتی ہے کیونکہ جب آپ جانورکی ڈیوامنگ کرتےہیں ہیں توپیٹ میں موجودہ کیرمزختم توہوجاتےہیں لیکن انکے انڈوں سےنودن بعددوبارہ بچےپیداہوکرایکٹوہوجاتےہیں اسوجہ سےڈیوارمنگ پندرہویں دن دہراٸی جاتی ہے

 اوانس کا لفظی مطلب جسم کے کسی حصے کا اپنی جگہ سے ہٹ کے باھر آ جانااوانس یا پرولیپس دو قسم کا ہوتا ہے1)  ویجاینل پرولپس ...
13/02/2023


اوانس کا لفظی مطلب جسم کے کسی حصے کا اپنی جگہ سے ہٹ کے باھر آ جانا
اوانس یا پرولیپس
دو قسم کا ہوتا ہے
1)
ویجاینل پرولپس ہعنی پیشاب گاہ کا اندرونی حصہ باہر آنا
یہ مرض عموما حمل کے آخری ماہ میں ہوتا ہے
جانور پیچھا مارنا شروع کر دیتا ہے جس کا حجم ایک فٹبال تک یااس سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے
اس مرض کی عموما وجہ موروثی ہوتی ہے
بچے کا سایز بڑھنے کیوجہ سے پیٹ پہ دباو پڑتاہے جس سے جسم اندرونی حصہ باھر آتا ہے
ایسٹروجن ہارمون کابڑھنا۔غیرمتوازن خوراک۔کمزوری۔قبض۔خوراک میں چکنای کا زیادہ استعمال۔
۔
جانور کو فورا اٹھایں
اگر نہ اٹھے تو اگلا حصہ ڈھلان کی طرف ہو پیچھے والا حصہ اونچا ہو۔گاے کی جسامت کے حساب سے بیل یا سانڈ کا انتخاب کریں
دس سی سی لگایں
لگایں
سکون آور ادویات دیں
قبض ہو تو اسکا علاج کریں
اوانس کو صاف کر کے رسی لگادیں۔

2)۔
یہ بچہ دینے کے بعد کچھ ہی وقت بعد ہوتا ہے
اس میں یوٹرس یعنی مکمل باہر آ جاتی ہے۔
#وجوہات
1)کیلشیم کی کمی
2)جانور کاکمزور ہونا۔خون کادباو کم ہونا
3)بچہ کوکھینچ کے نکالنا
اگر کسی جانور کے ساتھ ایسا مسلہ ہو تو فورا ڈاکٹر کو بلایں اس میں خون بھت زیادہ ضایع ہوتا ہےاور جانور کی جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے
اوانس کو کسی صاف شیٹ پہ رکھیں
اگر اس پہ جیر ہے تو جیر کو علیحدہ کریں۔
اوانس پہ ٹھنڈا پانی ڈالیں
اس سے اسکا حجم کچھ کم ہونے لگ جاے گا
اسکو آرام سے ہاتھوں کی مٹھیوں سے اندر دھکیل دیں تاکہ وہ زخمی نہ ہو
طاقت کی ڈرپ لگایں
سکون آور دوا دیں
تاکہ جانور زور نہ لگاےجانوروں کا آوانس یا پیچھا نکالنا یا
#علاج:-

1

#اجزا
1۔ گوند کتیرا 200 گرام
2۔ کمر کس 200 گرام
3۔ گل سپاری یا سپاری کا پھول 200 گرام


ان تینوں چیزوں کو باریک پیس کر پائوڈر بنا لیں اور روز رات جب جانور چارا کھا چکےتو اس پاءوڈر کو آٹے کے پیڑے میں مکس کر کے کھلا دیں یہ 1 خوراک ہے اسی طرح کی تین خوراکیں روز استعمال کریں اگر مسئلہ باقی رہے تو 2 خوراکیں مزید کھلا دیں۔
اس کے علاوہ جانور کو ہرا چارہ زیادہ دیں، جانور کی جگہ ایسے بنائیں کے جانور کا پچھلا حصہ اوپر رہے اور اگلا حصہ نیچے رہے۔ اگر جانور پورا حصہ باہر نکال دے تو فورا ڈاکٹر سے رابطہ کریں
#نوٹ۔یہ مسلہ موروثی نھی ہوتا اور ایسا جانور بچہ دینے کے بعد بھی بریڈنگ کے قابل رہتا ہے۔
کاپی

مسئلہ: ایک نوزائیدہ جانور سانس نہیں لے رہا ہے۔ کچھ نئے پیدا ہونے والے جانور بہت کمزور ہوتے ہیں، خاص طور پر مشکل پیدائش ک...
05/02/2023

مسئلہ:
ایک نوزائیدہ جانور سانس نہیں لے رہا ہے۔ کچھ نئے پیدا ہونے والے جانور بہت کمزور ہوتے ہیں، خاص طور پر مشکل پیدائش کے بعد۔ ان کے پھیپھڑوں میں اکثر زیادہ سیال ہوتا ہے جو انہیں عام طور پر سانس لینے سے روکتا ہے۔ لہذا پیدائش کے بعد آپ کو یہ کرنا پڑے گا

1. اگر بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو تو اسے الٹا لٹکا دیں۔ بنانے کے لیے سینے کو رگڑیں۔ پھیپھڑوں میں کوئی بھی سیال ناک سے نکلتا ہے۔
2. نوزائیدہ جانور کو پیچھے سے اوپر اٹھائیں ٹانگوں کو ایک منٹ یا اس سے زیادہ بلغم جانے کے لئے اور پھیپھڑوں سے سیال خارج ہوتا ہے۔ آپ کر سکتے ہیں۔ ایک چھوٹے جانور کی پچھلی ٹانگیں پکڑیں۔ اور بلغم بنانے کے لیے اسے گول کر دیں۔ ناک سے باہر آنا.
3. نوزائیدہ جانور کو پیٹھ کے اوپر رکھیں اس کی ماں کا سر نیچے کے ساتھ پھیپھڑوں سے سیال نکالنے میں مدد کریں۔
4. بچے کے اوپر خشک گھاس کا ایک ٹکڑا رکھیں جانور کی ناک. اس سے پھر کھانسی ہوجاتی ہے۔ یہ سانس لینے لگتا ہے.
5. اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچہ جانور اسے چوستا ہے۔ جتنی جلدی ممکن ہو ماں کی چوت. کب ماں محسوس کرتی ہے کہ بچہ چوس رہا ہے۔ دماغ ایک ہارمون خارج کرتا ہے جسے آکسیٹوسن کہتے ہیں۔ اس کے خون میں جس سے دودھ بہتا ہے۔ تھن سے یہ بچہ دانی بھی بناتا ہے۔ معاہدہ کریں اور نال کو باہر دھکیلیں۔

سوال: کیا عورتوں کا یورین پریگنینسی ٹیسٹ کٹس جانوروں پر بھی کام کرتی ہیں ؟جواب: عام طور پر نہیں، جانوروں اور انسانوں کے ...
04/02/2023

سوال: کیا عورتوں کا یورین پریگنینسی ٹیسٹ کٹس جانوروں پر بھی کام کرتی ہیں ؟

جواب:

عام طور پر نہیں، جانوروں اور انسانوں کے پریگنینسی ٹیسٹ میں فرق ہوتا ہے۔ پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ انسانوں کا کیا حساب ہے تو

عورت کا بیضہ جب سپرم سے فرٹیلائز ہوتا ہے تو پہلے زائگوٹ اور پھر ایمبریو بنتا ہے۔ تقریباً 5 دن بعد اس ایمبریو کے پلاسینٹا (placenta) سےبچ ایک ہارمون خارج ہوتا ہے جسے human Chorionic gonadotropin کہا جاتا ہے۔ اس ہارمون کا کام تو کچھ اور ہوتا ہے، مگر کیونکہ یہ ہارمون ایمبریو سے ماں کے خون اور پیشاب میں پھیلتا ہے، اس لیے ہم اس ہارمون کو پریگنینسی ٹیسٹ کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ پریگنینسی کٹس میں اس ہارمون کے لیے خاص اینٹی باڈیز ہوتی ہیں۔ جب ایک حاملہ عورت کا پیشاب پریگننسی کٹ سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے تو یہ اینٹی باڈیز HCG ہارمون کے ساتھ جڑ جاتی ہیں، جس سے رنگ کی تبدیلی ہوتی ہے، جو کہ پریگنینسی کی نشانی ہوتی ہیں۔ (البتہ یہ طریقہ سو فیصد کامیاب نہیں)۔ اسی طرح مختلف طریقوں سے پریگنینسی کے دوران جینین (fetus) اور ایمبریو سے خارج ہونے والے کچھ اور ہارمنونز کو بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن ان سے پہلے HCG خارج ہوتا ہے۔ اس لیے پہلے ٹیسٹ کے لیے یہی دستیاب ہوتا ہے۔

اب اگر جانوروں کی بات کی جائے تو ان میں یہ HCG ہارمون نہیں بنتا (سوائے کچھ primates کے)، اس لیے ان کے لیے انسانی یورین پریگنینسی کٹ تو استعمال نہیں کرسکتے۔ جانوروں کے لیے اگر ہارمون کی مدد سے پریگننسی کا پتہ لگانا ہو تو اسکے لئے "relaxin" ہارمون کو استعمال کیا جاتا ہے جو زیادہ تر جانوروں میں پریگنینسی کے وقت پایا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے یورین ٹیسٹ نہیں بلکہ بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

یا پھر ایک خاص مدت تک کچھ اور ہارمونز یا انکے intermediate precursors یعنی وہ کیمکل جن سے وہ ہارمونز بنتے ہیں، ان کا ٹیسٹ بھی کیا جاسکتا ہے، جس کی کچھ ایسی کٹس آچکی ہیں، جو ان ہارمونز کا پتہ کچھ جانوروں کے پیشاب سے بھی لگا سکتی ہیں مگر وہ اتنا عام نہیں۔

دوسرے طریقے میں الٹراساؤنڈ وغیرہ کے طریقے موجود ہیں، اور ڈاکٹرز اور تجربہ کار لوگ گائے بھینسوں، بکریوں کو دیکھ کر بھی پتہ لگا لیتے ہیں۔ copy

بکریوں کی جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے Vaccination کیا ہے کیوں ضروری ہے اور اسے لگانے کا سہی طریقہ کیا ہے: ا...
22/01/2023

بکریوں کی جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے Vaccination کیا ہے کیوں ضروری ہے اور اسے لگانے کا سہی طریقہ کیا ہے:
اسّلام و علیکم پیارے فارمر بھائیوں کہتے ہیں کہ جانور کو بیمار ہونے سے بچانا اس کے بیمار ہونے کے بعد علاج کرنے سے زیادہ آسان کام ہے اسی لئے آج ہم جانوروں کی تین مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکوں یعنی Vaccination کے متعلق بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ ویکسینیشن کیا ہے اور کیوں ضروری ہے اور کا بہتر طریقہ کار کیا ہے۔

حفاظتی ٹیکہ Vaccination کیا ہے ؟
انسانوں کی طرح جانوروں میں بھی بہت سی جان لیوا وائرل Viral بیماریاں پائی جاتی ہیں جو اگر ایک جانور کو ہو جائے تو باقی جانوروں میں بھی پھیل جاتی ہیں جن کا علاج ناممکن تو نہیں مگر مشکل ہے اور ان میں جانور کی شرح اموات تباہ کن حد تک زیادہ ہے اور اس وجہ سے فارمر کو بہت زیادہ مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے لیکن ان سے بچاؤ ممکن ہے اگر اس بیماری کے خلاف حفاظتی ٹیکہ جانور کو لگا دیا جائے تو جانور محفوظ رہتا ہے اور اگر خدا نہ خواستہ بیماری کا حملہ ہو بھی جائے تو جانلیوا نہیں ہوتا ۔
حفاظتی ٹیکوں Vaccination کی دو اقسام:
حفاظتی ٹیکے دو طرح کے ہوتے ہیں:
1- زندہ جراثیم والی Live Vaccine
یہ Vaccine بیماری کے زندہ جرثوموں کو اک خاص طریقہ پر کمزور کر کے بنائی جاتی ہے اور بیماری کے خلاف زیادہ اور جلد مدافعت پیدہ کرتی ہے اور عام طور پر اس کی ایک خوراک لمبے عرصے کےلئے کافی ہوتی ہے لیکن بعض حالتوں میں اس کا reaction بھی دیکھا گیا ہے جو علاج کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
2- مردہ جراثیم والی Killed Vaccine
یہ Vaccine بیماری کے مردہ جرثوموں کے ساتھ بنائی جاتی ہے اور یہ بیماری کے خلاف مدافعت تو پیدہ کرتی ہے لیکن اس مقصد کبلئے اس کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں جو ایک ماہ کے وقفے سے لگانا ضروری ہوتا ہے عام طور پر اس vaccine کا کوئی reaction دیکھنے میں نہیں آتا۔

بکریوں کی 3 بیماریاں جن کی Vaccine کرنا انتہائی ضروری ہے :
یوں تو دنیا میں بکریوں کی کافی بیماریوں کی Vaccine کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں تمام vaccine دستیاب نہیں اس لئے کم از کم 3 خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکے لازمی لگانا چاہئے۔
1- انتڑیوں کا زہر Enterotoxemia (ET)
یہ بکریوں اور بچوں کی ایک عام بیماری ہے اس بیماری میں جانور اچانک موت کے مو میں چلا جاتا ہے اور علاج کا وقت بھی نہیں ملتا اس لئے اس کی vaccine کرانا بہت ضروری ہے۔
اس کی vaccine تقریبن ہر جگہKilled vaccine کی شکل میں بنی بنائی دستیاب ہوتی ہے۔ یہ ویکسین 1 ml زیر جلد لگتی ہے اور ایک ماہ بعد اس کی ایک اور خوراک Booster dose لگانا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہر 6 مہینے بعد لگانی ضروری ہے۔
اگر گبن بکری کو آخری مہینے میں یہ ویکسین لگا دی جائے تو اس کے پیدہ ہونے والے بچے بھی محفوظ ہو جاتے ہیں اور انکو پیدائش کے فورن بعد اس بیماری سے مرنے کا خدشہ نہیں رہتا پھر ان کو تقریبن 2 مہینےکی عمر میں یہ vaccine لگائی جاتی ہے۔

2- کاٹا یا PPR
یہ بکریوں کی ایک انتہائی خطرناک بیماری ہے اور اس میں شرح اموات تقریبن 90% تک ہوتی ہے یہ بیماری بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے فارم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اسی لئے اس کو بکریوں کا طاعون Goat plague بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ Vaccine ہے۔ خوش قسمتی سے اس کی vaacine آسانی کے ساتھ Live vaccine کی شکل میں ہر جگہ دستیاب ہے جس کو استعمال سے پہلے تیار کرنا ضروری ہے یہ powder کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ فراہم کے گئے پانی میں ملا کر تیار کی جاتی ہے یہ 1 ml زیر جلد لگتی ہے اور بچوں کو 3 ماہ کی عمر میں لگائی جاتی ہے اور گبن جانور کو بھی لگتی ہے۔ اس vaacine کی ایک خوراکایک سال سے تین سال کبلئے کافی ہوتی ہے۔

3- پلورو نمونیا یا CCPP
یہ بھی بکریوں کی ایک خطرناک بیماری ہے جس میں جانور کے پھیپڑے متاثر ہوتے ہیں اور اسمیں شرح اموات 80% تک دیکھی گی ہے یہ بیماری بھی تیزی سے پھیلتی ہے اور پورے فارم پر پھیل سکتی ہے اس لئے اس کی ویکسین کرانا بہت ضروری ہے۔ اس کی vaccine بھی آسانی سے killed vaccine کی شکل میں بنی بنائی دستیاب ہے۔ یہ بھی 1 ml زیر جلد لگتی ہے بچوں کو 3 مہینے کی عمر میں لگتی ہے اور گبن جانور کو بھی لگائی جاتی ہے اس vaccine کو ہر 6 مہینے بعد لگانا ضروری ہے۔

ضروری ہدایات براۓ حفاظتی ٹیکہ Vaccination

- حفاظتی ٹیکہ vaccine ہمیشہ صحت مند جانور کو لگایا جاتا ہے اگر جانور بیمار ہو تو اس کا علاج دوا سے کیا جاتا ہے بیمار جانور کی vaccine کرنے سے بیماری کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جانور کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ لگانے کے 15 سے 20 دن کے اندر جانور کے جسم میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدہ ہو جاتی ہے اس لئے وبائی امراض کے زمانے میں خیال رکھیں vaccine ہمیشہ بیماری اپنے علاقے تک پہنچنے سے پہلے مکمل کر لیں۔
- حفاظتی ٹیکے کو ہمیشہ 2 سے 8 ڈگری درجہ حرارت میں سٹور کیا جاتا ہے جس کے لئے فریج کی ضرورت ہوتی ہے اگر کوئی vaccine اس سے زیادہ یا کم درجہ حرارت پر رکھی جائے تو وہ خراب ہو جاتی ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ vaccine کو فارم یا گھر تک لے جانے کے لئے برف میں رکھنا ضروری ہے۔
- اگر ویکسین پاؤڈر ملا کر اسی وقت تیار کی گئی ہے یعنی Live vaccine ہے تو تیار کرنے کے بعد 3 گھنٹے کے اندر سب جانوروں کو لگا دینی ضروری ہے۔
- ایک ویکسین vaccine کرنے کے بعد 15 دن کے وقفے سے دوسری ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ گبن جانور کو لگایا جا سکتا ہے۔
- حفاظتی ٹیکا ہمیشہ جانور کی کھال میں لگایا جاتا ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ vaccine ہمیشہ نئی سرینج سے لگائیں اور ٹیکہ لگانے کے بعد سرینج کو دوبارہ استعمال نہ کریں ۔
یاد رکھیں احتیاط علاج سے بہتر ہے اس لئے اپنے تمام جانوروں کو کسی قریبی جانور ہسپتال یا ڈاکٹر سے فورن vaccine کرائیں یا پھر خود کریں۔

اللّه پاک ہم سب کے جانوروں کو محفوظ فرمائیں اور کاروبار میں برکت دیں آمین۔

محفل اہل قلم ڈاکٹر غلام حیدر خلجی

🐂  پاکستان کا ریڈ گولڈ  - ساہیوال گائے  🐂کیا آپ کو ساہیوال گائے کے پہچان ہے؟ اگر نہیں ہے تو پڑھیں اور جانیں ساہیوال گائے...
16/01/2023

🐂 پاکستان کا ریڈ گولڈ - ساہیوال گائے 🐂

کیا آپ کو ساہیوال گائے کے پہچان ہے؟
اگر نہیں ہے تو پڑھیں اور جانیں
ساہیوال گائے(ریڈ گولڈ)

ساہیوال نسل کا اصل وطن صوبہ پنجاب کا علاقہ ساہیوال، فیصل آباد اور جھنگ ضلع ہے اپنی اچھی اور اعلٰی خصوصیات کی وجہ سے پورے پاکستان میں پھیل چُکی ہےاور بالخصوص سرگودھا ، میانوالی، لیہ، کوٹ ادو، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، خوشاب، مٹھہ ٹوانہ، چوک اعظم، اور چوک مُنڈا کے علاقوں میں بکثرت پائی جاتی ہے
حکومتی سطح پر اس نسل کی بہتری کیلئے کوئ خاص توجہ نہیں دی گئی اور جو کام کیا گیا وہ بھی بھی صرف کاغذات کا پیٹ بھرنے کیلئیے اور فنڈز اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈالنے کیلئے پریکٹیکل کوئ خاص ریسرچ نہیں کی گئی مگر کچھ شوقین اور اس نسل کے دلدادہ لوگوں کی وجہ سے یہ نسل بالکل ختم ہونے سے بچ گئی ہے مگر اس کی اصل نسل بھی کچھ مخصوص فارمرز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور حکومت نے تو اپنے کسانوں کو فریژن و جرسی جیسی ٹرک کی بتیوں پیچھے لگا دیا یہ جانتے بوجھتے بھی کہ ولائیتی نسل کی مینیجمنٹ ایک عام کسان کے بس کی بات نہیں اور ساتھ ساتھ ساہیوال کو مکس کروا کر اپنی اس نسل کی تباہی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی
اس نسل پر جو فارمر کام کر رہے ہیں یا اس نسل کو بچانے کی تگ و دو کر رہے ہیں اُن کی لسٹ فوٹو کی شکل میں بمعہ فون نمبر شیئر کر دی ہے نئے اور شوقین ان میں سے کسی کیساتھ بھی رابطہ کر سکتے ہیں اِن میں سے ایک بڑا نام “ سردار محمد آفتاب احمد خان” کا ہے جن کی گائیں “وٹو” نسل سے جانی و پہچانی جاتی ہیں اُن کی مشہور گائے “ملکہ” نے ۲۰۱۲۶ میں ریکارڈ دودھ دیا جو کہ ۳۳:۱۷ کلو گرام ہے۔ جانوروں کی بیماریوں اور ان کے علاج کے متعلق رہنمائی کے لئے کوی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔

پہچان
اس کا رنگ لال بادامی، اناری یا گہرا بُھوراہوتا ہے بہت ہی کم اناری یا ہلکا سبز بھی دیکھنے میں آیا ہے جسم میں کہیں کہیں اور کسی کسی میں سفید دھبے بھی پائے جاتے ہیں جو کہ بہت ہی کم ہوتے ہیں اِن کا جسم سڈول، چہرا لمبوترا، ماتھا چوڑا، سینگ درمیانے و نوکدار اور اُوپر اُٹھے ہوئے، کوہان،لٹکتے کان، ڈھیلی ڈھالی جِلد، جسم آگے سے نیچا اور پچھلے پُٹھے اونچے، ناف بڑی و کشتی نما، گردن کی جھالر موٹی اور اگلی ٹانگوں کے درمیان تک، اگلے دونوں تھن پچھلے تھنوں کی نسبت تھوڑے بڑے اور دیکھنے میں برابر فاصلہ پر، لمبی دُم پاؤں کے کُھروں تک اور دُم کے آخر میں کالے بالوں کا گُچھا

نَر بیل کے پُٹھے ، گردن اور کندھے ڈارک براؤن ، بھاری کوہان اور سینگ موٹے ہوتے ہیں

جسمانی وزن
نَر جانور کا اوسط وزن 450سے 590کلو گرام تک ہوتا ہے
مادہ جانور کا اوسط وزن 320 سے 370 کلوگرام تک ہوتا ہے
ساہیوال نسل کی بچھڑی تئیس سے چھبیس ماہ کی عمر میں ہیٹ پر آجاتی ہے

دودھ کی اوسط پیداوار چھ ہزار کلوگرام تک ریکارڈ کی گئی ہے پاکستان کے سب موسموں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بیماریوں کے خلاف اچھی قوتِ مدافعت رکھتی ہے۔ مزید معلومات كے لئے فیس پیج Malumat-Ul-Hewanat l کو وزٹ کریں شکریہ!

Address

Tank, KPK
Tank
29400

Telephone

+923080727777

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malumat-Ul-Hewanat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Malumat-Ul-Hewanat:

Share

Category