17/07/2026
1۔ جی ڈی پی گروتھ (GDP Growth) — ملکی ترقی کی رفتار
ماضی کا حال: عمران خان کے دورِ حکومت کے آخری سال میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 6.0% تھی، جو کہ ایک بہترین اور تیز رفتاری کو ظاہر کرتی ہے۔
موجودہ صورتحال (2026): اب یہ شرح کم ہو کر 3.7% پر آ چکی ہے۔
حقیقی فرق: معیشت میں استحکام لانے کی کوشش تو کی جا رہی ہے، لیکن ترقی کی رفتار ماضی کے مقابلے میں کافی سست ہے، جس کی وجہ سے نئے روزگار اور کاروباری مواقع کم ہو رہے ہیں۔
2۔ کل ملکی قرضہ (Total Public Debt) — روپے کا بوجھ
ماضی کا حال: 2018 میں یہ قرضہ 24.9 ٹریلین تھا جو عمران خان کے دور کے اختتام (2022) پر بڑھ کر 44.3 ٹریلین روپے ہوا تھا۔
موجودہ صورتحال (2026): پچھلے چار سالوں میں یہ قرضہ ہولناک حد تک چھلانگ لگا کر 83.2 ٹریلین روپے پر پہنچ چکا ہے۔
حقیقی فرق: موجودہ دور میں روپے کی قدر گرنے اور پرانے قرضوں پر بھاری سود دینے کی وجہ سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضے کا بوجھ اس وقت پاکستان پر ہے۔
3۔ بیرونی قرضہ (External Debt) — ڈالرز کا قرض
ماضی کا حال: 2018 میں بیرونی قرضہ 75.3 ارب ڈالر تھا، جو 2022 تک بڑھ کر 110.6 ارب ڈالر بنا۔
موجودہ صورتحال (2026): اب پاکستان کا کل بیرونی قرضہ بڑھ کر 130.0 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو رہا ہے۔
حقیقی فرق: بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافے اور ان کی واپسی کے دباؤ کی وجہ سے ملک میں ڈالرز کی مانگ ہمیشہ زیادہ رہتی ہے، جس کا سیدھا اثر روپے کی کمزوری پر پڑتا ہے۔
4۔ فی کس آمدنی اور قوتِ خرید (Per Capita Income & Inflation)
ماضی کا حال: 2022 میں ایک عام پاکستانی کی سالانہ ظاہری آمدنی 1,725 ڈالر تھی۔
موجودہ صورتحال (2026): کاغذات اور اعدادوشمار کے مطابق یہ آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر دکھائی دے رہی ہے۔
حقیقی فرق (مہنگائی کا جن): اگرچہ ڈالر میں آمدنی زیادہ لگ رہی ہے، لیکن تصویر میں موجود "مہنگائی کا جن" اور شاپنگ کارٹ یہ واضح کرتے ہیں کہ ملک میں بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ عوام کی حقیقی قوتِ خرید (Purchasing Power) پہلے سے بہت کم ہو چکی ہے۔ یعنی ظاہری آمدنی بڑھنے کے باوجود عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھا ہے۔