02/06/2026
ہماری سندھڑی آم کی ہوم ڈیلیوری سٹارٹ
ٹاپ کلاس سندھڑی آم جو کاربائیڈ فری ہیں آپکو دس کلو اور پانچ کلو کی پیلنگ میں ملینگے گھر کے دروازے پر آرڈربُک کروانے کے لیے ابھی واٹس ایپ کریں
ایک بھی دانہ خراب ہونیکی صورت میں مکمل پے منٹ واپس کرینگے ۔ ان شاءالل
cash on delivery Available
0303 0477771
پاکستانی آم اپنے ذائقے کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے ان آموں کا ذائقہ بھی اچھا ہے۔
آم کھاتے ہوئے مرزا غالب کا مشہور قصہ یاد آ گیا۔
ایک بار حکیم رضی الدین خان نے جو کہ آم نہیں کھاتے تھے انہوں نے گدھے کو آم کی ٹوکری کے پاس سے گزرتے دیکھا جس نے اسے سونگھ کر چھوڑ دیا۔ حکیم صاحب بولے مرزا دیکھو، آم تو گدھے بھی نہیں کھاتے۔
مرزا غالب نے فوراً جواب دیا بے شک گدھے آم نہیں کھاتے۔
پطرس بخاری کا ماننا تھا کہ آم کے معاملے میں انسان کو تھوڑا خود غرض ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک آم کی دعوت دراصل ایک امتحان ہوتی ہے جہاں آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ کو دوست عزیز ہے یا آم۔
پاکستان کے مشہور ڈرامہ نگار اور مزاح نگار انور مقصود اکثر آموں کو سیاست سے جوڑتے ہیں۔ ان کا ایک جملہ بہت مشہور ہے
ہمارے ملک میں آم اور عام آدمی دونوں ہی بہت زیادہ پائے جاتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ آم کو چوسا جاتا ہے اور عام آدمی کو نچوڑا جاتا ہے۔