01/10/2024
ڈاکٹر ذاکر نائک : تعارف
18 اکتوبر 1965ء کو بمبئی میں پیدا ہونے والے ذاکر نائیک پیشے کے لحاظ سے تو ایک .MBBS ڈاکٹر ہیں لیکن دعوت دین اور مختلف مذاہب میں PhD کی ڈگری مصر کی یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ 1991ء میں بمبئی میں اسلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی زبان میں لکنت بھی ہے اور وہ اکثر دعائے موسوی ،رب اشرح لی صدریَ َََِِ.....’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے (کہ لوگ) میری بات کو سمجھ لیں‘‘ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی لکنت زدہ زبان میں ایسی تاثیر ڈالی کہ اس نے سارے عالم میں اسلام کی مٹھاس پھیلا دی۔
20 سال میں وہ تمام براعظموں کے اکثر ملکوں میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں۔
یکم اپریل 2000 کو امریکہ میں ان کا عیسائیوں کے نامی عالم ولیم کیمبل کے ساتھ کئی گھنٹے طویل مناظرہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ جس کا عنوان ’’قرآن اور بائیبل، سائنس کی روشنی میں‘‘ تھا۔ جسے ایک امریکی ٹی وی چینل پر براہ راست دکھایا گیا تھاجس کے بعد کم از کم 34 ہزار لوگوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا اس کے بعد ہر جگہ انہیں ’’تقابل ادیان‘‘ کا سب سے بڑا ماہر سمجھا جانے لگا اور ہر جگہ انہیں دعوت دین کے لئے بلایا جانے لگا۔ جس سے بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کو فکر لاحق ہوئی کہ وہاں بھی لوگ ان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنا شروع تھے۔ یوں 21جنوری 2006ء کو بھارت میں ہندوؤں کے سب سے بڑے عالم روی شنکر کے ساتھ ان کا ’’اسلام میں تصور خدا اور ہندو مذہب‘‘ کے موضوع پر مناظرہ ہوا تو انہوں نے شنکر کو تھوڑی ہی دیر میں بے بس کر دیا ۔یہ منظر دیکھ کر کتنے ہی ہندو مسلمان ہو گئے۔
اگلے سال یعنی 2007ء میں انہوں نے بمبئی میں سالانہ 10روزہ ’’امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد شروع کیا جس میں دنیا بھر سے مبلغین اسلام جو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھی تھے، آنا شروع ہوئے۔ وہ مذاہب عالم کا اسلام کے ساتھ تقابل پیش کرتے اور بے شمار لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیتے۔ یہ سلسلہ 2012ء تک جاری رہا، جب اس کانفرنس میں ریکارڈ 10لاکھ لوگ شریک ہوئے تو بھارتی انتہا پسند ہندو سماج ہل کر رہ گیا۔ انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ اور سالانہ کانفرنس کے خلاف تحریک شروع کر کے اسے رکوا دیا۔
مگر ڈاکٹر ذاکر کی دعوت کا سلسلہ ان کے Peace TV، ویڈیو ریکارڈنگز، تحریروں، انٹرنیٹ اور غیر ملکی دوروں کے ذریعے جاری رہا۔ Peace TV کی Viewer شپ 10کروڑ سے تجاوز کر گئی
انہوں نے 2006میں پیس ٹی وی انگلش کا آغاز کیا توجلد ہی یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا چینل بن گیا جو دنیا کے 200سے زائد ملکوں میں دیکھا جا رہا ہے ، اس کے اب بھی 25فیصد ناظرین غیر مسلم ہیں۔انہوں نے 2011ء میں بنگلہ جبکہ 2015ء میں چینی زبان میں چینل کی نشریات کا آغاز کیا۔
ڈاکٹر ذاکر کے لئے اس سے پہلے مشکل مرحلہ اس وقت آیا جب جون2010ء میں انہوں نے کینیڈا اور برطانیہ کے دورے کی تیاری کی تویہاں موجود قادیانی لابی نے حکومتوں سے شکایت کی کہ یہ مبلغ قادیانیوں اور مقامی حکومتوں کے لئے خطرہ ہیں، یوں انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔
2010میں ہی بھارتی نشریاتی ادارے ’’انڈین ایکسپریس‘‘نے انہیں ملک کی 90 بااثر شخصیت میں شامل کیا۔
2011سے 2014 تک امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے انہیں دنیا کی 500 بااثر ترین شخصیات میں مسلسل برقرار رکھا۔ انہیں خدمات کے اعزاز میں29 جولائی 2013ء کو انہیں متحدہ عرب امارات نے 2013ء کی بہترین مسلم شخصیت قرار دے کر ’’بین الاقوامی قرآن ایوارڈ‘‘ دیا انہیں ملائشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ ، شارجہ ایوارڈ اور ’’شاہ فیصل ایوارڈ مل چکے ہیں
مگر انکا اصل ایوارڈ یہ ہے کہ 2020 میں الجزیرہ نیوز کی ریسرچ کے مطابق 2016 سے 2020 تک 11 لاکھ غیر مسلم کو مسلمان بنایا ۔
۔ھندوستان کے پنڈتوں نے ان کے خلاف مہم میں مسلم علماء کو استعمال کرکے ان کے خلاف فتوے شائع کیے ۔اور حکومت نے چلاوطنی پر مجبور کیا ۔ ملائیشیا کے سربراہ حکومت مہاتیر محمد نے دعوت دی اور ملائیشن شہریت دے دی ۔ اور یوں ملائیشیا منتقل ھوکر اپنی دعوتی کام کو جاری رکھے ھوئے ھیں ۔ اللہ پاک ان کی عمر میں برکت ڈال دے ۔ اور اسلام کی دعوت کے لیے زندہ سلامت رکھے آمین
ڈاکٹر ذاکر نائک 30 ستمبر کو پاکستان آ رہے ہیں