Esafest

Esafest Import & Export Services, Fresh Fruits & Vegetables,
Rice, Dry Fruits and Himalayan Pink Salt

PAKISTANI MANGO IS OUR CLAIM TO FAME & PIÈCE DE RÉSISTANCEAlhumdulillah. Esafest  Mango Export 2026Pre-Bookings started ...
17/04/2026

PAKISTANI MANGO IS OUR CLAIM TO FAME & PIÈCE DE RÉSISTANCE

Alhumdulillah.

Esafest Mango Export 2026
Pre-Bookings started with 💛
For inquiries & Bookings.
+1 (786) 414 2014
+923222037777

When they say ‘stock up for a week’… we say stock up on mangoes 🥭😉The countdown to mango season has begun 🥭We’re gearing...
24/03/2026

When they say ‘stock up for a week’… we say stock up on mangoes 🥭😉

The countdown to mango season has begun 🥭
We’re gearing up to export top-grade, farm-fresh mangoes to international markets.
If quality matters to you — let’s connect before the season starts.

[email protected]
00923222037777
www.esafest.com

East or West.Esafest Mangoes are the best. Book your orders now. Message ESAFEST on WhatsApp. https://wa.me/17864142014
02/08/2024

East or West.
Esafest Mangoes are the best.

Book your orders now.

Message ESAFEST on WhatsApp. https://wa.me/17864142014

18/07/2024

Be Fruitfull

Buy and Sell Domains with Dan.com. Discover millions of domain names available for sale. Dan.com keeps you safe.

"رنگ باز لاہوری"کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور والوں کو *"رنگ باز"* کیوں کہتے ہیں؟چلیئے آپکو بتاتے ہیں!شہنشاہ اکبر اور شاہ جہ...
17/07/2024

"رنگ باز لاہوری"
کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور والوں کو *"رنگ باز"* کیوں کہتے ہیں؟

چلیئے آپکو بتاتے ہیں!

شہنشاہ اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں لاہور نیل کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی تھا۔ شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر ہندوستان میں نیل کی پہلی منڈی قائم کی۔
یہ منڈی اکبر کے نام پر *اکبری منڈی* اور اس سے ملحق علاقہ *رنگ محل* کہلایا۔ لاہور کے مضافاتی علاقے موجودہ *ساہیوال* میں میلوں نیل کے پودے تھے۔ اسی نسبت سے اسے آج بھی *نیلی بار* کہتے ہیں. لوگ نیل کے پودوں کا عرق نکالتے، بڑی بڑی کڑاہیوں میں ڈال کر پکاتے، اس کا پاؤڈر اور ڈلیاں بنائی جاتی تھیں۔ پھر ٹوکریوں اور بوریوں میں بھر کر اکبری منڈی پہنچ کر بکتیں۔

پھر یہ وہاں سے بمبئی اور کولکتہ کے فرانسیسی اور اطالوی تاجر انہیں خرید لیتے۔ بحری جہازوں میں بھر کر یہ نیل اٹلی کے ساحلی شہر *جینوا* پہنچ جاتا۔ یہ سویٹزرلینڈ کا شہر Geneva نہیں بلکہ اٹلی کا قدیم شہر Genova ھے۔جینووا نامی شہر فرانسیسی شہر *نیم*، کے قریب تھا۔ نیم شہر *ڈی نیم* بھی کہلاتا ہے جہاں ہزاروں کھڈیاں لگی تھیں۔ ان پر موٹا سوتی کپڑا بُنا جاتا جو *سرج* کہلاتا تھا۔ کپڑا بن کر پھر جینووا پہنچتا جہاں گورے اس پر لاہوری نیل کا رنگ چڑھاتے، کپڑا نیلا ہو جاتا تھا. پھر یہ کپڑا درزیوں کے پاس پہنچتا، درزی اس سے مزدوروں، مستریوں اور فیکٹری ورکرز کے لیے پتلونیں سیتے. وہ پتلونیں بعد ازاں جینووا شہر کی وجہ سے *جینز* کہلانے لگیں۔

جینز پتلونیں دنیا بھر میں مشہور ہو گئیں۔ ڈی نیم شہر کے تاجروں نے جوش حسد میں اپنے کپڑے کو بھی *ڈی نیم* کہنا شروع کر دیا۔ ڈی نیم آہستہ آہستہ *’’ڈینم‘‘* بن گیا۔ جبکہ جینز اور ڈینم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہو کر ڈینم جینز بن گئے۔

جینز کے تین عناصر تھے،
1۔ ڈی نیم کا کپڑا،
2۔ لاہور کا نیل اور
3۔ جینوا کے درزی۔
مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو جینز نہ بن سکتی تھی۔ اگر بنتی بھی تو کم از کم نیلی نہ ہوتی. جینز کا نیلا پن لاہور کی بدولت تھا۔ آج بھی انگریزی کی پرانی ڈکشنریوں میں نیل کا نام لاہوری ملے گا۔ گورے اس زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے۔ یہ رنگ بعد ازاں انڈیا کی مناسبت سے انڈیگو بن گیا۔

فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ڈچ نیل خریدنے کے لئے ہندوستان آتے تھے۔ برطانوی افیون پینے کے لئے آتے تھے مگر پھر پورا ہندوستان ہتھیا لیا۔ لیکن یہ بہت بعد کی باتیں ہیں۔ ابھی اس دور کی بات ہے جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا۔ تب یہ پاک و ہند میں لاہوری یا انڈیگو کہلاتا تھا۔ یہ ہزاروں میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جینوا پہنچتا، جینز کا حصہ بن کر ساری دنیا میں پھیل جاتا تھا۔

پھر لاہور کے نیل کو نظر لگ گئی۔ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا تو یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا۔ یوں نیل کی صنعت زوال پذیر ہو گئی۔ نیل لاہوری نہ رہا مگر لاہور کے شہری آج بھی *رنگ باز* ہیں۔ لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کولکتہ کے تاجروں نے دیا تھا۔

ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی. فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا۔ جیسے پتنگ بنانے والے پتنگ باز، کبوتر پالنے والوں کو کبوتر باز اور اس مناسبت سے رنگ بیچنے والے *رنگ باز* ہو گئے۔ چنانچہ کولکتہ اور ممبئی کے تاجر نیل کی صنعت سے وابستہ لاہوریوں کو *’’رنگ باز‘‘* کہنے لگے۔ اس زمانے میں کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا *لاہور رنگ باز* ہو گیا اور یہ رنگ بازی آج بھی لاہوری مزاج میں زندہ ھے۔

May the Almighty Allah bless you with a life full of cheers and success. Eid al Adha Mubarak 2024 to you and your family...
16/06/2024

May the Almighty Allah bless you with a life full of cheers and success. Eid al Adha Mubarak 2024 to you and your family.

31/05/2024

Follow me on LinkedIn:

May your day off be as satisfying as your dedication at workHappy Labour Day!
01/05/2024

May your day off be as satisfying as your dedication at work

Happy Labour Day!

رمضان کا چاند مبارک ہو  اللہ پاک اس مہینے کی برکت سےہمیشہ  اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ڈھیروں خوشیاں اور آسانیاں دے آمی...
11/03/2024

رمضان کا چاند مبارک ہو اللہ پاک اس مہینے کی برکت سےہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ڈھیروں خوشیاں اور آسانیاں دے آمین

BEING EXPORTER F PAKISTANI MANGO IS OUR CLAIM TO FAME & PIÈCE DE RÉSISTANCEAlhumdulillah. Esafest  Mango Export 2023 sta...
06/06/2023

BEING EXPORTER F PAKISTANI MANGO IS OUR CLAIM TO FAME & PIÈCE DE RÉSISTANCE

Alhumdulillah. Esafest Mango Export 2023 started with 💛
For inquiries & Bookings.
+923477347777
+923222037777

we Strive hard to achieve excellence. No Matter Who or Where you Are!! We deliver a whole world of Nourished Novelty .

Address

Valencia Town
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Esafest posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Esafest:

Share