Roshni ka Rasta

  • Home
  • Roshni ka Rasta

Roshni ka Rasta Ao sb mil kr Allah ko Razi krty ha apni Akhrat sunwarny ki ak adna si kosish krty ha

10/01/2025

ڈیجیٹل کیمرے سے بنائے جانے والے مناظر تصویر ہیں یا عکس ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

کیمرہ ڈیجیٹل ہو یا نان ڈیجیٹل دونوں سے حاصل ہونے والے مناظر تصویر ہی کہلائیں گے، اگر وہ تصویر ذی روح کی ہے تو شرعا حرام اور نا جائز ٹھہرے گی ۔ کیونکہ ان کیمروں سے تصویر حاصل کرنے کا بنیادی اصول وہی ہے جو اولین کیمرہ کی ایجاد کے وقت تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان تصاویر کو محفوظ کرنے کے طریقہ میں کچھ فرق آیا ہے ۔ پرانے کیمرہ کے ذریعہ تصویر کو فیتے پر نقش کرکے محفوظ کیا جاتا تھا اور پھر اسے کیمائی عمل سے گزار کر کسی کاغذ، کپڑے یا گتے پر تصویر کو اتار لیا جاتا تھا ۔ اور اس جدید ڈیجیٹل کمیرہ میں کسی بھی منظر کی روشنیوں کو ہندسوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر اس محفوظ شدہ معلومات کی مدد سے نئی روشنیاں پیدا کرکے اصل جیسا منظر بنا کر سکرین پر ظاہر کیا جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے ڈیجیٹل تصویر کو کھینچنے والا اور اسے سکرین پر لانے والا دونوں ہی مصور ٹھہرتے ہیں ۔ پہلی مرتبہ تصویر کھینچنے والا معلم وامام اور اسکے بعد اسے اپنی کسی بھی ڈیوائس کی سکرین پر لانے والا تلمیذ و مقتدی، مصور ہونے میں دونوں برابر ہیں، فرق صرف اتنا کہ پہلے نے معلومات اکھٹی کیں اور بعد والے نے اپنی مشین کو ان معلومات کی مدد سے روشنیاں جمع کرکے تصویر بنا کر سکرین پر پیش کرنے کا حکم دیا ۔
ان مناظر کو عکس قرار دینا بالکل غلط ہے، کیونکہ عکس، صاحب عکس کے تابع ہوتا ہے ۔ جونہی صاحب عکس غائب ہو عکس بھی غائب ہو جاتا ہے، کیونکہ عکس میں ہوتا یوں ہے کہ جب کسی چیز پر جو روشنی پڑتی ہے وہی روشنی اپنی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے ۔ جبکہ ان تصاویر میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جنہیں فناء ہوئے اک زمانہ بیت چکا ہے ۔ کیونکہ ان ڈیجیٹل تصاویر میں روشنیوں کو برقی لہروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور یہ لہریں رموز (کوڈز مثلا 111100010010000100) کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہیں ، اور جب ضرورت ہو تو انہیں رموز کی مدد سے نئی برقی لہریں پیدا کی جاتی ہیں اور اصل منظر کے مشابہ منظر پیدا کیا جاتا ہے ۔ یعنی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ روشنی اصل منظر پر پڑ کر منعکس ہونے والی روشنی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ روشنی اپنی اصلی حالت پر برقرار رہتی ہے، لہذا اسے عکس قرار دینا سراسر بے انصافی اور عدم واقفیت کا نتیجہ ہے ۔
اور تصویر کی حرمت کے لیے شریعت اسلامیہ جو وجہ بیان فرمائی ہے وہ ان جدید تصاویر میں قدیم تصویروں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ لہذا یہ جدید تصاویر پرانی ہاتھ سے بنائی جانے والی تصویروں کی نسبت زیادہ سخت حرام ہیں ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالى نے فرمایا :
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيخْلُقُوا حَبَّةً وَلْيخْلُقُوا ذَرَّةً
[ صحيح بخاري كتاب اللباس باب نقض الصور (5953)]
اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق جیسی تخلیق کرنا چاہتا ہے، یہ کوئی دانہ یا ذرہ بنا کر دکھائیں ۔
مزید فرمایا :
أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِینَ يضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ
[صحيح بخاري كتاب اللباس باب ما وطئ من التصاوير (5954)]
قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقالی کرتے ہیں۔
یعنی اللہ سبحانہ وتعالى کو اپنی مخلوق کی نقل اتارنا ہی ناگوار ہے ۔ جب نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان جاری کیا اس وقت تصاویر ہاتھ سے بنائی جاتی تھیں اور وہ اصل کے اتنی زیادہ مشابہہ نہ ہوتی تھیں جتنی کہ دور جدید کی تصاویر ہیں ۔ جب ایسی تصاویر جو اصل سے تھوڑی بہت یا کسی حد تک مشابہت رکھتی ہوں وہ حرام ہیں تو ان تصاویر کی حرمت کتنی شدید ہوگی جو اصل تقریبا کلی مطابقت رکھتی ہیں !
البتہ غیر ذی روح اشیاء کی نقل اور شبیہ تیار کرنے کی اللہ نے اجازت دی ہے ۔ اسے یونہی سمجھ لیں جیسے کسی بھی سافٹ ویر کے فل ورژن کی کاپی کرنا ہر کمپنی کی طرف سے ممنوع ہوتا ہے جبکہ ٹرائل ورژن کی جتنی بھی کاپی کر لی جائے اس پر کاپی رائٹ کا قانون حرکت میں نہیں آتا ۔ ذی روح اشیاء اللہ کی کمال صنعت گری کا شہکار ہیں سو اللہ تعالى نے انکی نقل اتارنے، تصویر بنانے، شبیہ تیار کرنے سے سختی سے منع فرما دیا ہے ۔
هذا والله تعالى أعلم وعلمه أكمل وأتم ورد العلم إليه أسلم والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم

10/01/2025

📍 *’’تین عظیم نصیحتیں‘‘*

شیخ الاسلام، ابن قیم رحمہ اللہ (٧٥١هـ) فرماتے ہیں:
"تین باتیں ایسی ہیں، جنہیں بعض سلف اپنے ساتھیوں کو لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ اگر بندہ انہیں اپنے دل کی تختی پر نقش کرلے اور سانسوں کی تعداد کے برابر دہراتا رہے تب بھی ان کا کچھ حق ہی ادا کر سکے گا۔ وہ باتیں یہ ہیں:
1۔ جس نے اپنی باطن کی اصلاح کی، اللہ اس کی ظاہر کو سنوار دے گا۔
2۔ جس نے اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کیا، اللہ لوگوں کے ساتھ اس کے تعلق کو درست کر دے گا۔
3۔ جس نے اپنی آخرت کے لیے عمل کیا، اللہ اس کی دنیا کی پریشانیوں میں کافی ہو جائے گا۔"
(الرسالة التبوكية، صـ ٩٢)

10/01/2025

*🌴مُحبِ اُردُو

*کچھ ایسی مفت اور حیرت انگیز دوائیں ہیں*
*جن کے استعمال سے بیماریاں سے بچا جا سکتا ہے-* جیسے:
1. ورزش بھی ایک دوا ہے۔
2. صبح کی سیر ایک دوا ہے۔
3. روزہ ایک دوا ہے۔
4. گھر والوں کے ساتھ کھانا بھی ایک دوا ہے۔
5۔ ہنسی ایک دوا ہے۔
6۔ گہری نیند ایک دوا ہے۔
7۔ پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا ایک دوا ہے۔
8 خوش رہنا ایک دوا ہے۔
9. خاموشی بھی بعض صورتوں میں دوا ہے۔
10۔ لوگوں کی مدد کرنا بھی ایک دوا ہے
11- آپکے اچھے اور مخلص دوست دوائیوں کا اسٹور ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر نماز سو دواؤں کی ایک دعا ہے
آزما کر دیکھ لیں۔۔۔۔۔

10/01/2025
01/08/2023

*Virtual Book Cafe for moms 2023*

📙📘📚📖📒

*Reclaim your heart*
*By Yasmeen Mujahed*
کا اردو خلاصہ ویڈیو لیکچر کی صورت میں پیش کیا۔

*کتاب کا تعارف*

اس کتاب میں تمام وہ تجربات ہیں جن کا ہم روز سامنا کرتے ہیں۔کتاب پڑھ کر آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ آپ اپنے ذاتی تجربات کے بارے میں پڑھ رہے ہیں اور آپ کو ان کے حل مل رہے ہیں۔یہ کتاب اپنے آپ کو تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب ہر رشتہ ہر چیز فضول ہو جاتی ہے سوائے آپ کے اور وہ کنکشن جو اس ٹائم آپ کا اللّٰہ تعالی سے بن جاتا ہے کتاب کو پڑھنے کے بعد ہر انسان الگ طرح سے اس کو اپنے تجربات کی بنیاد پر الگ طرح سے لے گا۔ یہ کتاب آہستہ آہستہ پڑھنے والی ہے تاکہ آپ اس کو ہضم کر سکیں ،اس کو سمجھ کر اس پر عمل کر سکیں۔ اس کتاب میں درج زیل اسباق ہیں۔

⬅️ لگاؤ
⬅️ محبت
⬅️مشکلات
⬅️ خدا سے تعلق
⬅️ عورت کا مقام
⬅️ شاعری

⬅️ *لگاؤ*

*لوگ ایک دوسرے کو کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟*

انسان ایک معاشرتی جانور ہے ہمیں اپنے والدین اولاد دوستوں اور شوہر سے لگاؤ ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم دوسرے لوگوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مگر کسی بھی وجہ سے ہمیں لوگ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے جس کے ساتھ ہم جتنا مخلص ہوتے ہیں وہ ہمیں چھوڑ دیتا ہے۔ یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ انسان جس کے ساتھ ہمیں لگاؤ ہوتا ہے یا تو وہ ہماری امیدوں پر پورا نہیں اترتا یا ہم اس پر اپنی امیدوں کا بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں، تو لوگ ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ دنیا عارضی ہے۔ یہاں موجود ہر رشتے عارضی ہیں۔ ہر کسی کی امیدیں الگ ہوتی ہیں ۔جب ہمارا دل کبھی بھی دکھتا ہے یا ہمیں تکلیف ہوتی ہے تب ہم اللّٰہ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالی سے ہمارا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ساری امیدیں اللہ تعالی سے ہی رکھنی چاہیے۔ دنیا کے رشتوں سے بھی محبت کریں خواب دیکھیں مگر کسی بھی چیز کو اللہ تعالی سے اوپر نہ رکھیں ۔جب ہم کسی چیز یا کسی انسان کو خدا پر برتری دیتے ہیں تو اللہ تعالی ہمیں اسی سے تکلیف دے کر واپس اپنی طرف جوڑتا ہے۔

*لوگ ہمیں چھوڑ دیتے ہیں لیکن کیا وہ واپس آئیں گے؟*

بعض دفعہ وہ انسان جو آپ کو چھوڑ گیا یا تو وہی آپ کو دوبارہ ملے گا یا اس سے بہتر اللہ نے آپ کے لیے سوچا ہے۔

قران کی آیت ہے ۔

*تم نہیں جانتے تمہارے لیے کیا بہتر ہے*۔

ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ جو چیز یا ہمارا خواب یا ہمارا پسندیدہ انسان جو ہم سے لے لیا گیا ہے وہ ہمارے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ ہم اسی کا رونا روتے رہتے ہیں اور ان تمام نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو اس کے بدلے ہمیں ملی ہیں۔ اس سب میں آپ کا کامل یقین اللہ پر ہونا چاہیے کہ وہ جو لے رہا ہے وہ آپ کے لیے ٹھیک نہیں تھا اور جو وہ آپ کو دے رہا ہے وہ آپ کے لیے سب سے بہترین ہے ۔

*On filling the inner hole and coming home.*

*ہمارے اندر خالی پن ہے۔*

جب آپ کا رشتہ اللّٰہ تعالی سے کمزور ہوتا ہے تو ہر چیز ہر رشتہ موجود ہونے کے بعد بھی آپ کے اندر خالی پن رہتا ہے ۔ہم اللہ تعالی کو ہر چیز پر جب تک برتری نہیں دیں گے یہ خالی پن ختم نہیں ہوگا۔

*Emptying the vessel*

ہمیں تمام دنیاوی خواہشات نکال کر خدا سے لگاؤ لگانا ہوگا۔ اللہ تعالی ہمیں ہر نعمت دیتے ہیں۔ اولاد ،خوراک، فون یا کوئی بھی چیز ہم ان پر خدا کا شکر کرنے کے بجائے ان کو اللہ تعالی پر فوقیت دیتے ہیں۔ ایسے کرتے ہیں جیسے ان چیزوں کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے ،مر جائیں گے۔خدا کو بھول جاتے ہیں ۔دل پر جہاں آپ کو اللہ کو رکھنا چاہیے وہاں ہم دنیاوی خواہشات اور انسانوں کو رکھتے ہیں۔ جب آپ دل میں اللہ تعالی کو سب سے اوپر رکھیں گے تب آپ کو سکون کل ملے گا اور دل مطمئن رہے گا ۔

*For the love of the gift.*

اللہ تعالی نے ہمیں گفٹ دیے ہیں ہم پر اللہ کی رحمتیں ہیں۔ گفٹ ہیں 👇
لوگ ، قابلیت ، دولت، رشتے اور بہت کچھ۔ ہم دنیاوی کام کے بعد اللہ کا ذکر اور نماز قران پڑھتے ہیں۔ دنیا کی چیزیں تو ختم ہو جائیں گی کیونکہ یہ عارضی ہے جبکہ اللہ کی محبت دائمی ہے۔

*Peace on a rooftop*.

سب ملنے کے بعد بھی سکون نہیں ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق میں ہی سکون ہے .اس لیے پہلے ہمیں دعا کرنی چاہیے پھر کوشش۔ اگر وہ چیز نہ ملے تو بھی شکوہ شکایت نہیں بلکہ صبر کرنا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اس سے بہتر انشاءاللہ ہمیں ملے گا یا ہمیں آخرت میں ملے گا۔

*The Ocean of dunya۔*

جب آپ یہ سمجھیں گے کہ یہ دنیا مسافر خانہ ہے اور کسی بھی لمحے یہ دنیا ختم ہو سکتی ہے تو دُنیا کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہیے مگر ہمیں اپنے پیدا کرنے کا مقصد نہیں بھولنا چاہیے

*Take back your heart.*

ہمیں اپنے دل کو خالی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس میں اللہ تعالی کی محبت کو ڈال سکیں اور اس بات کو سمجھ سکیں کہ ہمیں اللہ تعالی نے کیوں پیدا کیا ہے ؟
*Chapter 02*

*Escaping the worst prison*.

*محبت* ہمیں محبت ہوتی ہے والدین سے ،اولاد سے ،دولت سے، انسان سے۔ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں اس کو اتنا شدید کر لیتے ہیں کہ اس کی محبت میں اللہ تعالی کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تو ہم خود کو ایسی جیل میں بند کر دیتے ہیں جس میں کوئی رہائی نہیں ہوتی، بس تکلیف ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنی کوششوں کا صلہ یہیں ملے۔ اگر سب کچھ ہمیں یہیں مل جائے گا تو پھر آخرت میں کیا ہوگا۔ کہیں نہ کہیں ہم بھی غلط ہوتے ہیں اور جب ہمارے ساتھ کچھ برا ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا لیکن جب اچھا ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم ڈیزرو کرتے تھے، ہم اسی لائق تھے۔ ہم بیلنس نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں اس cage سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

*02 :*
*Is this Love that I am feeling.*

ہم اپنے لگائو کو محبت سمجھتے ہیں۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہم سے محبت کرے۔ ہماری کل دنیا کل کائنات وہی شخص یا وہی چیز ہوتی ہے۔ اگر ہمیں ایسا رسپانس نہ ملے تو ہرٹ ہو جاتے ہیں تو یہ اٹیچمنٹ ہے کیونکہ محبت ہیلدی ریلیشن شپ ہے اور یہ ہمارے لیے مثبت تبدیلی لاتا ہے۔
محبت میں یک طرفہ محبت نہیں ہوتی ،دونوں طرف سے ہوتی ہے ۔

*03 : Love is in the air.*

ہم محبت کو فزیکل تھنگز میں ناپتے ہیں۔ کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے تو آپ اس کا پیمانہ دنیاوی چیزوں سے لگانے لگتے ہیں کہ وہ انسان آپ کو کتنی اہمیت ،وقت اور دنیاوی چیزیں فراہم کرتا ہے۔ ہم لوگوں کے لیے ہر چیز کرنی شروع کر دیتے ہیں لیکن اللہ تعالی کا سوچے بغیر۔ ہمیں اللہ کے بارے میں سب سے پہلے سوچنا چاہیے اور ہم سب سے آخر میں اپنے معبود کا سوچتے ہیں۔ صرف اسلامی عقائد کو پورا کرنا آپ کی اللہ تعالی کے لیے محبت کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ آپ کا اللہ پر بھروسہ اعتماد کتنا ہے، آپ اللہ تعالی کا صبر اور شکر کتنا کرتے ہیں؟ کیونکہ عقائد کو مکمل کر لینے سے آپ اللہ تعالی کے ساتھ ایک عارضی تعلق تو جوڑ لیتے ہیں لیکن ایک مستقل تعلق قائم کرنے کے لیے آپ کا اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط ہونا چاہیے۔

*04: The search for love.*

اللہ تعالی نے ہمارے اندر محبت کی ضرورت رکھی ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے ۔اس لیے اللہ تعالی محبت کا امتحان تعلقات سے لیتا ہے جن سے ہم جڑے ہوتے ہیں۔ آپ ان تعلقات کے لیے اللہ کو بھلا بیٹھتے ہیں ۔اللہ کے لیے ان تعلقات کو چھوڑنا یا پھر ان تعلقات کے لیے اللہ کو بھلا دینا حل نہیں ہے بلکہ ان دونوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اصل حل اور ذمہ داری ہے۔ چیزوں کے درمیان بیلنس کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

*05 : This is Love.*

دنیا میں بدلنے کا عمل کبھی رکنے والا نہیں ہے ۔ لوگ ،رشتے، وقت، حالات سب بدل جاتے ہیں۔ اگر کچھ نہیں بدلتا تو وہ اللہ تعالی ہیں۔ اللہ تعالی ہماری ہر وقت ضروریات پوری کرتے ہیں اور انسان ہر وقت انہیں خیالات میں الجھا ہوتا ہے کہ ہمیں فلاں چیز کیوں نہیں ملی کیونکہ اس چیز کا ملنا آپ کے لیے کوئی بہتری پیدا نہیں کر سکتا ۔ہمیں وہی ملتا ہے جو ہمارے حق میں بہتر ہو۔ اللہ تعالی کی محبت مستقل رہنے والی چیز ہے۔
وہ سچی محبت ہے جس کے لیے انسان کو جدوجہد کرنا بہت لازمی ہے ۔

*06 : Fall in love with the real thing.*

جب آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو وہ انسان آپ جیسا ہی ہوتا ہے نامکمل لیکن ہم اس انسان کو پرفیکٹ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جب آپ مشکلات میں ہوتے ہیں تو دوسرے بھی کسی نہ کسی کام میں الجھے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی چیز کو ہو بیٹھ کر پریشان ہوتا ہے تو کوئی کسی چیز کو پا لینے کے لیے پریشان ہوتا ہے۔ اس لیے آپ جیسے لوگ وہ محسوس نہیں کروا سکتے جو آپ محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کام وہی کر سکتا ہے جو آپ سے سپیریئر ہو اور آپ سے سپیریئر صرف اللہ تعالی ہے اس لیے ہمیں اپنے رب سے مضبوط رشتہ قائم کرنا چاہیے ۔

*07: A successful marriage: the missing link.*

قرآن میں ارشاد ہے ۔

*میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں*
مرد کی بنیادی ضرورت عزت اور عورت کی بنیادی ضرورت پیار ہے۔ عورت کا مرد کو عزت دینا اور مرد کا عورت سے محبت کرنا ہی رشتہ کو قائم و دائم رکھ سکتا ہے ۔اگر عورت یا مرد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد بھی نتائج اچھے نہ پا رہے ہوں تو اللہ تعالی نے عورت کے لیے خلع اور مرد کے لیے طلاق کا حق رکھا ہے۔ لیکن ایک دوسرے کو سمجھنا اور برداشت کرنا ہی ایک رشتے کو کامیاب بنا سکتے ہیں ۔ آپ کا اپنا 100 پرسنٹ دینا ہی آپ کے راستے آسان بنا سکتا ہے لیکن پھر بھی آپ کو ایسا محسوس ہو کہ اب یہ رشتہ نہیں چل سکتا تو آپ ایگزٹ ڈور اختیار کر لیں تاکہ آپ کو کسی بات کا افسوس نہ ہو ۔

*03 *Hardship*

*The only shelter in the Strom .*

ہر انسان کی زندگی میں مشکل وقت ضرور آتا ہے اور ایک بار نہیں ہر بار۔ جب جب آپ سوچیں گے کہ اب اس سے زیادہ مشکل وقت نہیں آئے گا تب تب آپ خود کو کسی اور مصیبت میں پائیں گے۔ لیکن اگر آپ یہ سوچیں کہ یہ مسائل دیگر مصیبتوں سے بچانے آئے ہیں تو یقینا خود کو الجھا ہوا پانے کے بجائے سلجھا ہوا پائیں گے۔ جب انسان پر مصیبت آتی ہے تو وہ لوگوں سے اس کا ذکر کرتا ہے اور تھوڑی دیر وہ اسے سن بھی لیتے ہیں لیکن ایسا وقت آئے گا جب کو لوگ سننا چھوڑ دیں گے تب آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کو لوگوں کو مسائل بتانے کے بجائے اس رب سے ذکر کرنا چاہیے جس کے پاس آپ کے مسائل کا حل ہو۔ وہی ہے جو آپ کی مشکلات آسانی میں بدل سکتا ہے۔
کیونکہ اللہ تعالی ہمیشہ سن رہے ہوتے ہیں اور ان کا جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ آپ کے حق میں بہترہے ۔مصائب آپ کے لیے ایک شیلٹر کی طرح ہیں ۔وہ آپ کو دیگر چیزوں سے محفوظ رکھنے کے لیے آتے ہیں ۔ آپ پہلے انسان نہیں جو ان مسائل سے گھرے ہوئے ہیں آپ سے پہلے آنے والے تمام لوگ یہاں تک کہ انبیاء بھی مصیبت و مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور آپ کے بعد آنے والے انسانوں کو بھی اسی راستے سے گزرنا ہوگا۔ یہ سب آپ کو اللہ تعالی کے قریب رکھنے یا پھر قریب لانے کے لیے آتے ہیں ۔

*Seeing your home in Jannah :On seeing divine help*

جب آپ کو لوگ تکلیف دیں تو ان کے خلاف بغض رکھنے کے بجائے انہیں معاف کرنے کا سوچیں اور جب آپ اپ یہ سوچیں کہ آپ نے معاف نہیں کر سکتے تو انہیں صرف اللہ کی خاطر معاف کر دیں۔ اس لیے معاف کریں کیونکہ آپ معاف ہونا چاہتے ہیں قیامت کے دن۔ آپ پہ رحمت ہوگی اللہ تعالی کی اگر آپ لوگوں پر رحم کریں گے۔
مشکلات اللہ سے جوڑتی ہیں۔
ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ جو بھی مشکل آئی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے ۔ ہم اگر اس پر صبر کریں گے تو چیزیں ہمارےلیے آسان ہو جائیں گی۔

*Hurt by other :How to cope and heal.*

پیغمبروں سے زیادہ کوئی کامل انسان نہیں ہو سکتا لیکن پھر بھی انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح اللہ تعالی ہر انسان کو مسائل سے گزارتا ہے تاکہ وہ اسے اپنے قریب کر سکے۔

*The dream of life.*

مسائل کسی غلط کام کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر بار آپ برے ہوں اور تبھی آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے اور یہ بھی نہیں کہ اگر کوئی انسان اچھا ہو تو اس کے ساتھ ہمیشہ اچھا ہی ہو۔ جو لوگ اچھے ہوتے ہیں اللہ تعالی ان سے مسلسل کوئی نہ کوئی امتحان لیتا رہتا ہے ۔کیونکہ کبھی کبھار وہ بھی اپنے راستے سے بھٹک جاتے ہیں اور انہیں دوبارہ سیدھے راستے پر لانے کے لیے اللہ تعالی کوئی نہ کوئی مشکل یا کسی مسائل سے انہیں گزارتا ہے تاکہ ان کو پتہ لگ جائے کہ ہمیں اس یقینا یہ راستہ غلط ہے ہمیں اس طرف نہیں جانا۔ کیونکہ ایک انسان ہمیشہ اور ہر وقت اچھا نہیں رہ سکتا۔ کبھی نہ کبھی اس کے دل میں کوئی نہ کوئی وسوسہ پیدا ہوگا جس کی وجہ سے وہ بھٹکے گا ۔

*Close doors and the illusion that blind us.*

ہمارے اوپر جو بھی مصیبت آتی ہے اس میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے پر ہمیں سمجھ میں نہیں آرہی ہوتی۔ حضرت خضر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ قرآن سے تفصیلاً پڑھیے۔

*Pain loss and the path to God.*

آپ کا اللہ تعالی پہ توکل اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ آپ کو مشکل وقت میں بھی ان مسائل
میں کوئی راستہ نظر آئے ۔ایسا راستہ جو آپ کو اللہ تعالی سے قریب اور اس مسئلے سے دور لے کر جائے . جب جب آپ اپنی زندگی میں کچھ کھو دیتے ہیں کوئی موقع ،کوئی نوکری یا پھر کوئی کمپٹیشن جس میں آپ آپ نے حصہ لیا تھا تو آپ سوچتے ہیں کہ اب آپ کے لیے دروازے پوری طریقے سے بند ہو چکے ہیں لیکن آپ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک دروازہ آپ کی اچھائی کے لیے بند ہوا تھا۔ یقیناً کوئی ایسا دروازہ آپ کے لیے کھلا ہوگا جو آپ کو پوری طرح سے ایک بہتر انسان بنانے کے سفر پر قائم اور دائم رکھے گا ۔ لیکن شاید انسان صرف انہی چیزوں پر ہمیشہ توجہ دیتا ہے جو عارضی طور پر اس کو خوش کر سکے اور وہ بھول جاتا ہے کہ شاید وہ جو چیز جو اسے عارضی طور پر نہ مل سکی وہ اس کی اپنی بہتری کے لیے ہو۔

*A believer's response to hardship.*

اللہ تعالی قران کریم میں فرماتے ہیں کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
صرف یہ پڑھنا نہیں بلکہ اس پر یقین ہونا ضروری ہے۔ جس انسان کا یقین اللہ تعالی پر مضبوط ہو وہ یہ جانتا ہے کہ ان مسائل سے یقیناً اس کو کوئی نفع حاصل ہوگا۔ ان مشکل حالات میں آپ اپ کا اللہ تعالی پر کامل و مضبوط بھروسہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ صرف اور صرف آپ کی بہتری کے لیے ہے.

*This life is prisoner paradise.*

یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے. جہاں آپ نے عارضی طور پر اپنے اعمال پر کام کرنا ہے۔ ایک ایسا قید خانہ ہے جو دکھنے میں بہت خوبصورت ہے لیکن یہاں ہم صرف اور صرف اپنے لیے اعمال اکٹھا کرنے بھیجے گئے ہیں۔ اگر آپ اس کو صرف اپنی زبان سے نہیں بلکہ دل سے بھی مانیں گے کہ اس دنیا میں کیے گئے ہر عمل کا مجھے صلہ ملے گا تو یقینا آپ برے راستے پر چلنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرنے کو ترجیح دیں گے اور آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ ہر عمل کی ہمیں سزا و جزا دنیا میں نہیں ملنی بلکہ اس کے لیے ایک مخصوص دن مقرر ہے جو کہ آخرت کا دن ہے .

*Chapter :04 Relationship with God.*

*Looking for God.*

انسان کو ہر وقت کسی نہ کسی چیز کو کھونے کا ڈر لگا رہتا ہے وہ چاہے کوئی انسان ہو کوئی رتبہ ہو یا پھر کوئی چیز اور یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یقینا کوئی ایسی طاقت یقینا موجود ہے جو ان تمام چیزوں کو تھامے ہوئے ہیں اور انہیں سنبھال کے رکھ رہی ہے ۔وہ صرف اور صرف اللہ تعالی ہی کی ذات ہے جو چیزوں کو بدل سکتی ہے ۔جو چیزوں کو ڈھال سکتی ہے اور جو چیزوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیشہ یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ چیزیں جو آپ کو پسند ہیں یا پھر وہ انسان جو آپ کو پسند ہے وہ کبھی آپ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ آپ سے الگ ہوتا ہے یا آپ سے چھین لیا جاتا ہے تو اس میں آپ کی ہی بہتری ہوتی ہے ۔وہ آپ کو کسی ایسے مصیبت سے بچانے کے لیے دیا جاتا ہے جو آپ کو محفوظ رکھے گا اور اس طرح آپ اپنے محبوب کے قریب رہتے ہیں۔ آپ اسی پر صرف ڈیپینڈ کر سکتے ہیں ۔ کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جو ہمیشہ کے لیے رہے چاہے وہ اچھا وقت ہو یا پھر برا وقت ۔

*Salah: Life is forgetten purpose۔*

آپ کو نماز کی اہمیت کا اندازہ یہیں سے ہو جائے گا کہ اللہ تعالی نے صرف اور صرف نماز کا پیغام دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس معراج پر بلایا تھا ۔ قرآن میں بھی کئی مقامات پر نماز کی اہمیت کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ
نماز ہی صرف ایسی چیز ہے جو مومن اور منافق کے بیچ فرق کرواتی ہے.

*Salah and the worst kind of theft.*

نماز کی اہمیت کا ذکر اتنی بار قران میں آیا ہے اور ہم بس وہی چھوڑ کے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ہم بہت سارے ایسے ایکسکیوزز بنا لیتے ہیں جیسے بچے چھوٹے ہیں، بچوں کے کام ہیں ،کھانا بنا رہی تھی، نماز نہیں پڑھ سکی، کام کر رہی تھی نماز نہیں پڑھ سکتی اور شیطان ایسے وسوسے ہمارے دل میں ڈال کر ہمیں مجبور کر دیتا ہے کہ ہم بہانے بنائیں اور نماز سے اپنی جان چھڑائیں ۔یہ چھوڑنے کے بعد بھی ہم مطمئن ہوتے ہیں کہ ہمارا جو اللہ تعالی سے تعلق ہے وہ بالکل مضبوط ہے۔ ہمیں اس پر یقین ہے اور ہم مسلمان ہیں ۔ ہم یہ بھول بیٹھتے ہیں کہ ہم خود محنت کر کے مسلمان نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالی کی یہ ہم پر رحمت تھی کہ ہم ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ اگر وہ چاہتا تو ہمیں کسی کافر کے گھر میں بھی پیدا کر سکتا تھا ۔ ہم نے اج تک کوئی مشقت نہیں کی خود کو مسلمان بنانے کے لیے بلکہ ہم پر یہ رحمت نازل ہوئی اللہ تعالی کی طرف سے کہ ہم اس مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ہم صرف اس لیے مسلمان ہیں کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد مسلمان ہیں۔ آپ کو بائی چانس مسلمان تو پیدا کیا گیا ہے لیکن آپ کو اس دنیا میں آنے کے بعد بائی چوائس مسلمان بننا ہوتا ہے جس میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں ۔ کیا شیطان آپ پر اتنا حاوی ہے کہ آپ کو اللہ تعالی نے صرف پانچ بار اپنے سامنے دن میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے اور آپ ان پانچوں بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس ملاقات سے منہ پھیر لیتے ہیں اور پھر بھی مطمئن ہوتے ہیں کہ ہم سچے مسلمان ہیں ۔ جب آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو آپ ان سے بار بار ملنے کی خواہش رکھتے ہیں تو اگر آپ اللہ تعالی سے سچ میں محبت کرتے ہیں تو اس بلاوے پر جاتے کیوں نہیں جو اس نے خود آپ کو دیا ہوتا ہے ۔

*A Secred Conversation.*

تہجد کے وقت اللہ آخری آسمان پر آتے ہیں۔ اللہ خود سنتے ہیں پر اس وقت ہم سو رہے ہوتے ہیں۔
نماز ایک مسلمان کے لیے بالکل ایسے ہی ضروری ہے جیسے ایک انسان کے لیے کھانا لیکن ہم سب سے پہلے اسی چیز کو ترک کر کے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر آپ اس کو آج تک کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب آپ اس سوچ کو اپنے آپ اپنے پر حاوی کر دیں کہ بھئی میں تو کبھی نماز ٹائم پہ پڑھتی ہی نہیں تھی ۔ اب میرے پڑھنے کا فائدہ ہی نہیں ہوگا ۔اللہ تعالی مجھے معاف نہیں کریں گے۔ اللہ تعالی رحمان و رحیم آپ جتنی بار معافی مانگیں گے، جتنی بار توبہ کریں گے ،اتنی بار اللہ تعالی کی رحمت آپ پر ہو گی۔ تو یہ سوچنے کی بجائے کہ مجھے کبھی معافی نہیں ملے گی آپ اپنے اعمال کو درست کریں۔ اچھے اعمال بجا لائیں ۔ خود کو نماز کا پابند بنائیں اور جتنے گناہ آپ کر چکے ہیں ان کے لیے توبہ اور استغفار کرتے رہیں۔

*The darkest hour and the coming of dawn.*
جب ہمارا ایمان کمزور ہوتا ہے تو اللہ پاک رمضان لے آتے ہیں۔ رمضان میں نماز، روزے، قرآن کی تلاوت اور تراویح پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ہم خود کو بہتر کرتے ہیں رمضان گزر جانے کے بعد ہم واپس اپنے حال پر آ جاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو ہم ویسے ہی رہیں تو سکون ملے گا۔

*We Buried a man today.*
جب بندہ مرتا ہے تو دنیا کا سفر اس کا ختم ہو جاتا ہے اب وہ اللہ تعالی سے ملنے چلا جاتا ہے۔ موت ہمیں خدا سے قریب کرتی ہے ۔جب ایسے شخص کو دیکھیں تو یہ سوچنا چاہیے کہ ایک دن ہمیں بھی مرنا ہے اور ہم بھی اللہ تعالی سے ملنے جائیں گے۔
*Why are not my dua being answered۔*

بہت سارے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت دعا مانگی ،ہم نے افطار کر کے دعا مانگی، کیا لیکن ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئی۔ وہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کام شاید آپ کے لیے بہتر نہ ہو ۔اللہ تعالی نے اگر آپ کی کوئی دعا قبول نہیں کی اس کا یقیناً کوئی نہ کوئی مقصد ہوگا۔ دیکھیں ایسے وقت میں آپ کو یا تو اپنی دعا بدل لینی چاہیے یا اس دعا کے مانگنے کا طریقہ بدلنا چاہیے کہ یا اللہ اگر یہ چیز میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو اسے میرے حق میں بہتر فرما ۔ اگر پھر بھی آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی دعا ہی بدل لیں کیونکہ اگر اس کا جواب نہیں مل رہا آپ کے رب سے تو یہ یقینا اس میں آپ کی بھی بہتری ہوگی.

*Face book : The hidden danger.*

فیس بک کا دور ہے۔ لائک اور سبسکرائب کی دوڑ ہے ۔ فریڈم آف سپیچ ہے۔ ہمیں کچھ بھی پوسٹ کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ لوگوں پر کیسے اثر کرے گا ۔میرے سٹیٹس کا لوگوں پر کیا اثر ہوگا۔

*Tawakkal : Hope and striving۔*

اللہ پر مکمل یقین اور توکل ہونا چاہیے ۔ کوشش کریں پھر جو ملے اس پر مطمئن رہیں .

*Awakening*

ہم نماز نہیں پڑھتے تو ہمیں اپنے ایمان کو جگانے کی ضرورت
ہے۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے چاہيں۔ فرائض پڑھیں۔ فرض روزے رکھیں۔ یہ تمام کام استقامت کے ساتھ کرنے چاہیں ۔

*Women Status*
*Women empowerment*

عورت کو اللہ نے خود عزت دی دنیا کے سٹینڈرڈ سے اللہ کا بنایا ہوا سٹیٹس بلند ہے۔

*A letter To the culture that raised me.*

آج کے دور میں عورت جسم کی نمائش کرتی ہے۔ ڈھانپتی نہیں اور مرد سے کمزور ہے۔ اللّٰہ نے عورت کو عزت, مقام اور مرتبہ دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ خوبصورتی ظاہر کہاں کرنی ہے یعنی صرف شوہر کے لیے۔ قیمتی چیزیں لاک میں ہوتی ہیں۔

*A women's reflection on leading prayer*

اللہ تعالی نے عورت کو طاقت دی ہے کہ وہ بچہ پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالی نے عورت کو یونیک بنایا اور عورت کو حقوق دیے اگر اس کو حقوق نہ ملے تو اپنے حقوق کے لیے ضرور لڑے ۔عورت کو جائیداد میں حصہ دیا۔ شوہر پر فرض ہے کہ وہ عورت کی عزت کرے۔ اللہ تعالی نے اپنی محبت کو بھی ایسے ظاہر کیا کہ وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ جنت کو ماؤں کے قدموں تلے رکھ دیا ۔ عورت کمزور بالکل نہیں ہے۔

*Menhood and the facade of being hard.*

آج کی عورت فلم ڈرامہ دیکھ کر اپنا نظریہ بنا لیتی ہے کہ وہ مرد ہیرو ہے جو عورت کو ہراس کرے، جو کڈنیپ کرے وہ ہیرو ہے۔ جبکہ اللہ نے عورت کو پیدا کیا اور یہ کہا کہ مرد عورت سے محبت کرے اور عورت مرد کی عزت کرے۔
*Ummah*

*Drop the prefix.*

آج کے دور میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کیا جا رہا ہے۔ انہیں فرقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ فرقوں میں بٹ رہے ہیں اور کمزور ہو رہے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کو دین کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ثبوت دینا چاہیے۔ آپس میں لڑنا نہیں چاہیے اور دین کی بنیاد دین کی اصل سے واقف ہونا چاہیے۔

*Be Muslim only in Moderation.*

دنیا میں کوئی بھی واقعہ ہو کچھ بھی ہو سب مسلمانوں پر ڈال دیا جاتا ہے ۔بعض دفعہ ہم بیلنس نہیں کر پاتے۔ ہم چیزوں کو سطحی نظر سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بھی ٹھیک ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔ سب کی ہاں ہاں ملاتے ہیں اس طرح منافقت ہو جاتی ہے ۔

*Unspeak Tragedy and condition of our ummah.*

فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے پھر بھی ہم کیوں کچھ نہیں کر سکتے ۔اس لیے کہ ہم سب متحد نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مسلمان آپس میں متحد ہوں۔ ہم سب نے دیکھنا ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری کیا ہے ۔اللہ تعالی نے ہمیں ہر میدان میں سرخرو کیا ہے۔ لیکن ہمارے یقین کو پختہ ہونا چاہیے۔ ہمیں دنیا کے سپر پاور طاقتوں سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنے اللہ پر پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ وہ انشاءاللہ ہر میدان میں سرخرو کرے گا۔

جتنی مشکلات آتی ہیں وہ ہمیں نرم کرنے کے لیے اور اللہ تعالی سے ہمارے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے آتی ہیں ۔

طالب دعا
ا

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roshni ka Rasta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Grocery Store?

Share