24/07/2024
کاجو کا درخت Anacardiaceae خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ سدا بہار درخت ہے جو 12 میٹر تک بلند ہوتا ہے۔ اس کی پتّیوں کے باہر کی جانب ایک گنبد نُما تاج یا سائبان ہوتا ہے جہاں اس کے پھول اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا پھل گردے کی شکل کا بیج ہوتا ہے اور یہ 3 سینٹی میٹر لمبا اور 1.2 سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑے برتن نُما ‘ ڈنٹھل دار اور پھولے ہوئے پھل سے منسلک ہوتے ہیں جو کاجو ایپل (cashew apple) کہلاتا ہے اور اس پھل کی شکل ناشپاتی سے ملتی جلتی ہے۔ کاجو ایپل کا رنگ چمکدار لال سے پیلا ہوتا ہے۔ یہ نرم اور رسیلا ہوتا ہے۔ اس کے چھلکے کا رنگ سرخی مائل بھورا ہوتا ہے۔ جب اس کے گودے کا چِھلکا اتارا جاتا ہے تو یہ کاجو (یا کاجو کی گِری) کہلاتا ہے۔ یہ تجارتی مقاصد کے تحت ہندوستان اور برازیل میں بکثرت کاشت کیا جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کے خیال میں خشک میووں میں چکنائی اور حرارے بہت زیادہ ہوتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ خشک میوے اگر اعتدال سے استعمال کیے جائیں تو بے حد فائدہ دیتے ہیں۔ اگر ہم گری دار میووں کا استعمال ترک کر دیں گے تو پھر ہم پروٹین، معدنیات اور مانع تکسید حیاتین سے محروم ہو جائیں ۔ کاجو جنوبی بھارت کے جنگلوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کے درخت کی بلندی دس سے بارہ میٹر تک ہوتی ہے۔ اس درخت سے زرد مائل رنگ کا گوند نکلتا ہے۔اس کی شاخوں سے چار انگشت ٹوپی جیسی کلی نکلتی ہے۔ پھر اس میں مخروطی شکل کا پھل لگتا ہے۔ جس کی پیندی چوڑی ہوتی ہے۔اس پھل کے نیچے سے دو رگیں دو خطوں کی طرح نکلتی ہیں۔ان دونوں کے درمیان دو بیج بندھے رہتے ہیں جن کی شکل گودے جیسی ہوتی ہے۔پتلے چھلکوں کے اندر سفید مینگ سی ہوتی ہے۔جس کا مزا نہایت شیریں اور لذت سے بھرپور ہوتا ہے
اس کے چھلکے سے تیل نکلتا ہے۔ اس کا رنگ سیاہ اور مزا تلخ ہوتا ہے۔جسے جلد پر لگانے سے چھالے پڑ جاتے ہیں مگر لکڑی کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں گائے کے قیمے جتنا فولاد ہوتا ہے۔اسے کھانے سے جسم میں خون کی کمی دور ہو جاتی ہے۔ کاجو میں جست بھی پایا جاتا ہے جو جسم کی معمول کی افزائش کے لیے مفید ہے۔ یہ جسم کے مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ تاہم ہائی بلڈ پریشر یا دل کے مریض افراد نمکین کاجو سے پرہیز کریں۔ کاجو میں تانبا اور مینگنیز بھی خوب ہوتا ہے۔ ہہ عضلات کے لیے اچھا اثر ڈالتا ہے
اس سے جسم کی تھکن دور ہوتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کاجو اور دیگر گری دار میووں کے استعمال سے وزن کم کرنے میں مد ملتی ہے۔ حالانکہ اس میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے۔ سو گرام کاجو میں 600 حرارے اور 60 گرام چکنائی ہوتی ہے۔