new.islamic page

new.islamic page Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from new.islamic page, Grocers, Karachi.

پاکستان کے حالات سیاسی تبصرہایران جنگ شروع ہونے کے بعد اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کفایت شعاری کیلئے بعض اقدامات ک...
08/04/2026

پاکستان کے حالات سیاسی تبصرہ
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کفایت شعاری کیلئے بعض اقدامات کیے ہیں لیکن یہ کافی نہیں کیونکہ حکومت کے مالیاتی نظام کا بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہ منہدم ہونے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ اس نے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 610 ارب روپے کم جمع کیے ہیں۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر کوئی ایسی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی جس کے ذریعے ملک میں رائج بے تحاشا سرکاری اخراجات اور مراعات کے کلچر کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے یا کم از کم اس میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
سرکاری اخراجات آمدن سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے عوام کو تو کفایت شعاری کا بہت درس دیا لیکن خود فضول خرچیاں کرتی رہی۔ مثال کے طور پر گزشتہ تین برسوں میں وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 65 فیصد اضافہ ہوا‘ جو افراطِ زر کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ سرکاری مراعات کے اس کلچر کی جڑیں نہایت مضبوط ہو چکی ہیں حالانکہ ملک اس کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ سیاسی رہنما اور ریاستی اہلکار اکثر عوامی وسائل کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ وہ اربوں روپے ایسے کاموں پر خرچ کر دیتے ہیں جن سے عام شہریوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا‘ بلکہ اس کے برعکس عوام کو اپنی جیب خالی کرنا پڑتی ہے تاکہ مراعات یافتہ طبقے کی عیش و عشرت برقرار رہ سکے۔
کفایت شعاری کیلئے بڑے اور تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے اقدامات کی اہمیت کا اندازہ ہم اپنی قومی معیشت کی زبوں حالی سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارا مجموعی ملکی قرض (اندرونی اور بیرونی ملا کر) ٹیکس سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن کے مقابلے میں 650فیصد زیادہ ہے جبکہ ہمارے جیسے معاشی حجم رکھنے والے 20ممالک کا اوسط 214فیصد ہے۔ ہمیں آئندہ چار برسوں میں تقریباً 100ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کرنا ہے‘ جو ہماری برآمدی آمدن کے 265 فیصد کے برابر ہے جبکہ پاکستان جیسے معاشی حجم کے ممالک میں یہ شرح 64 فیصد ہے۔ اس قرض پر سالانہ سود کی ادائیگی 3.6 ارب ڈالر ہے‘ جو 2022ء کے بعد سے 81 فیصد بڑھ چکی ہے۔ سود اور اصل زر کی واپسی مجموعی طور پر سالانہ برآمدی آمدن کا تقریباً 42 فیصد بنتی ہے۔ چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سٹیٹ بینک میں 12.5 ارب ڈالر بطور سیف ڈپازٹ جمع کروا رکھے ہیں۔ ان تین ممالک سمیت دیگر ممالک سے دوطرفہ قرض تقریباً 34 ارب ڈالر ہے‘ جو ہمارے کل بیرونی قرض کا 38 فیصد بنتا ہے۔ قرضوں کی اس دلدل سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومتیں اپنے اخراجات میں کمی کریں اور اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں۔ آئیے اب سرکاری اخراجات کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
ضرورت سے بڑا وفاقی ڈھانچہ: اٹھارہویں ترمیم کے تحت متعدد ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کا حجم مسلسل بڑھتا گیا ہے۔ اس وقت وفاق کے پاس 42 ڈویژنز‘ 400 سے زائد محکمے اور تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ملازمین ہیں۔ اگر نام نہاد خودمختار اداروں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد گیارہ لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان میں سے کئی ادارے قیمتی کمرشل زمینوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا سے گزرنے پر متعدد ایسے سرکاری ادارے دکھائی دیتے ہیں جنہیں عجیب و غریب نام دیے گئے ہیں‘ اور شاید ہی کوئی واضح طور پر بتا سکے کہ وہ عملی طور پر کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے اداروں کے فرائض غیرضروری یا متروک ہو چکے ہیں۔ حکومت نئی نئی ایجنسیاں قائم کرتی ہے اور ملازمتیں پیدا کرتی ہے جبکہ غیر ضروری ادارے ختم نہیں کیے جاتے کیونکہ ان سے فائدہ اٹھانے والے عناصر ان کی بندش کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مالی سال 2024-25ء میں وفاق اور صوبوں نے 65 سے زائد نئے ادارے قائم کیے یا پرانے اداروں میں توسیع کی۔ سیاستدان ڈویژنز کے انضمام کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ کم ڈویژنز کا مطلب کم وزارتی عہدے ہیں‘ جبکہ بیوروکریسی بھی اس لیے مزاحمت کرتی ہے کہ سیکریٹری سطح کی اسامیوں میں کمی سے اختیارات اور مراعات متاثر ہوتی ہیں۔
صوبائی حکومتوں کی ابتری: دوسری جانب صوبائی حکومتیں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے والے دفاتر کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ یہاں افسران کو مختلف قسم کے الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ ملازمین کی فہرست میں غیرہنر مند چپڑاسیوں‘ چوکیداروں‘ ڈرائیوروں اور کلرکوں کی بھرمار ہے جبکہ حقیقی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی کمی ہے۔ پنجاب میں 2000ء میں 22 محکمے تھے‘ جو اَب بڑھ کر 48 ہو چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پنشن کا مجموعی بوجھ 3500 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے‘ جس میں 2600 ارب روپے ان سرکاری کاروباری اداروں اور جامعات کا بوجھ بھی شامل ہے جن کی ضمانت حکومت نے لے رکھی ہے۔
ریگولیٹری اداروں کی بھرمار اور ترقیاتی فنڈز کا ضیاع: ملک میں حکومت کے قائم کردہ ایک سو سے زائد ریگولیٹری ادارے موجود ہیں‘ جن کی وجہ سے مارکیٹ کا قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے‘ مارکیٹ فورسز کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں ملتا‘ معاشی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں اور کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ خودمختار اداروں کے نقصانات‘ سبسڈی کے اخراجات اور سرکاری املاک کی حقیقی مارکیٹ ویلیو سے فائدہ نہ اٹھانے کے منفی اثرات بالآخر وفاقی حکومت کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر سال ایک ہزار ارب روپے سے زائد رقم ایسے کاموں پر خرچ ہو جاتی ہے جو پہلے ہی صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں یا ایسے منصوبوں اور اداروں پر لگائی جاتی ہے جن کی ذمہ داری صوبوں کو اٹھانا چاہیے۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے بہتر اور زیادہ مؤثر متبادل طریقے بھی موجود ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی جاتی۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک اور اہم عامل یہ ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرتی رہتی ہے‘ جن کے فوائد اور نقصانات کا کوئی مؤثر جائزہ لینے کا نظام موجود نہیں۔ یہ منصوبے بظاہر کم لاگت سے شروع کیے جاتے ہیں حالانکہ ابتدا ہی میں واضح ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی مدت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہو گا۔ مثال کے طور پر نیلم جہلم منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 85 ارب روپے تھا‘ جو بڑھ کر 800 ارب روپے تک جا پہنچا‘ اور اب یہ منصوبہ بند پڑا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ایئرپورٹ کا ابتدائی تخمینہ 150ا رب روپے تھا‘ جو بڑھ کر تقریباً ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔ منصوبوں کی منظوری کے ساتھ ہی اعلیٰ عہدوں پر عملہ تعینات کر دیا جاتا ہے جبکہ گاڑیاں‘ فون اور لیپ ٹاپ جیسے وسائل اصل کام شروع ہونے سے پہلے ہی خرید لیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ منصوبے برسوں تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت اس وقت ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 1300سے زائد ہے‘ جنہیں مکمل کرنے میں 14سے 15سال درکار ہوں گے اور اس کے باوجود ہر سال نئے منصوبے شامل کیے جاتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر کیسے بنایا جائے اور حکومت کے اخراجات اور آمدن میں توازن کیسے قائم کیا جائے‘ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس پر ہم آئندہ گفتگو کریں گے۔
آج کا کالم
دنیا نامہ
شاہد کاردار
7 April 2026

پاکستانی معیشت کب سدھرے گی؟وفاقی حکومت نے عوام الناس کے لیے پٹرول کا پروانۂ موت جاری کرنے کے بعد کمال مہربانی سے اسے عم...
08/04/2026

پاکستانی معیشت کب سدھرے گی؟
وفاقی حکومت نے عوام الناس کے لیے پٹرول کا پروانۂ موت جاری کرنے کے بعد کمال مہربانی سے اسے عمر قید میں بدل دیا ہے‘ لیکن کم از کم 70 فیصد آبادی بھاری قیمتوں کے پہاڑ تلے دب کر بدستور کراہ رہی ہے۔ ایک نہیں‘ کئی ماہرینِ اقتصادیات و مالیات سے گفتگو ہوئی ہے۔ ان سب کی رائے یہ تھی کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کے عالمی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وسیع تر آبادی پر وہ بوجھ لاد دیا ہے جسے برداشت کرنے کی اس کے اندر ہرگز کوئی سکت نہ تھی۔ ہمیں تو یہ نوید سنائی گئی تھی کہ پاکستان کے جھنڈے والے بیس آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دیا گیا۔ حکومت نے خود اعتراف کیا کہ ہمارے پاس وافر پٹرول اور ڈیزل موجود ہے‘ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یکایک یہ کیسے ہو گیا کہ سابقہ قیمتوں پر خریدے گئے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے کا اضافہ کر دیا گیا؟ اس طرح پٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ احساس سے عاری اور ناسمجھ وزیروں اور مشیروں نے یہ مشورہ دیا کہ یہ اچھا موقع ہے کہ تیل کے بحران کو عذر بنا کر اپنے اگلے پچھلے سارے خسارے دم توڑتے عوام سے وصول کر لیے جائیں؟ جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کیا گیا اضافہ کئی گنا زیادہ تھا۔
بعد ازاں‘ جمعۃ المبارک اور ہفتے کی درمیانی شب حکومت نے پٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لٹر کمی کر دی جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اس دوران ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں 30 فیصد اور بعض روٹس پر 50 فیصد تک اضافہ کر لیا ہے۔ عام آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ لیوی کیا ہے؟ لیوی بھی ایک طرح کا ٹیکس ہے جو حفظِ ماتقدم کے طور پر پٹرول اور ڈیزل پر اس لیے عائد کیا جاتا ہے تاکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں محفوظ کردہ وسائل استعمال کرکے قیمتوں کو ایک حد سے نہ بڑھنے دیا جائے۔ 80 روپے فی لٹر کمی کے باوجود یہ اضافہ بالکل ناروا اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ چھوٹے شہروں اور دیہات تک میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس دوران حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹے بڑے لوڈرز اور ٹرکوں کو کچھ ریلیف دینے کا وعدہ کیا ہے۔
دیکھیے بندۂ مزدور و مجبور کو اگلے چند دنوں میں کوئی ریلیف ملتا ہے یا ان پر کوئی نئی افتاد آن پڑتی ہے۔ یہ تو ایک وقتی صورتحال ہے‘ مگر گزشتہ تین چار دہائیوں سے ہم نے جو روش اختیار کر رکھی ہے‘ اس سے ہماری معیشت کبھی ترقی کے راستے پر نہیں آ سکتی۔ ہماری معیشت کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہماری معیشت قرض در قرض اور سود در سود کے دائرے میں گھوم رہی ہے۔ ہمارے ماہرینِ اقتصادیات بنیادی نوعیت کے فیصلے کر کے اس منحوس دائرے سے باہر نکلنے کی کوئی تدبیر اختیار کرنے کی نہ صلاحیت رکھتے ہیں نہ ارادہ۔ ہم قرض کی مے پیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ رنگ لائے گی ہماری 'شہ خرچی‘ ایک دن۔ اگر ایک جملے میں اپنے جملہ اقتصادی عوارض کو بیان کیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ ہماری آمدنی کم اور ہمارا خرچ بہت زیادہ ہے‘ بلکہ ہمارے حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات اور ان کے ٹھاٹ باٹ کو آئی ایم ایف والے یا دیگر غیرملکی دیکھتے ہیں تو وہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسے حکمران ہیں جو قرض کی دولت سے شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ہمارے بجٹ کا سارا خسارہ ٹیکسوں یا آمدنی بڑھا کر پورا کرنے کے بجائے مزید قرضے لے کر پورا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری برآمدات بہت کم ہیں۔ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہم ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ اگر آپ فیصل آباد میں بند ہو جانے یا بہت کم پیداوار پر آ جانے والی ٹیکسٹائل ملوں کے اعداد و شمار اکٹھے کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ ملیں بھی بوجوہ اپنی استعداد سے بہت کم کپڑا بنا رہی ہیں اور ہماری برآمدات بہت کم ہو گئی ہیں۔ ہم قرض کم کرنے کے بجائے مزید قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی رقم نئے نئے معاشی منصوبے شروع کرنے اور نئے کارخانے لگانے کے بجائے پہلے سے لیے گئے قرضوں کا سود ادا کرنے اور اللوں تللوں میں اڑا دی جاتی ہے۔
جون 2023ء میں ہمارے ذمے 71 کھرب روپے کا قرضہ واجب الادا تھا۔ دسمبر 2025ء میں یہ بڑھ کر تقریباً 79 کھرب ہو گیا۔ 2023ء میں ہمارے ذمے تقریباً 131ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا جو کم ہونے کے بجائے دسمبر 2025ء میں 138 ارب ڈالر ہو گیا۔ موجودہ حکومت بیرونی قرضوں کے ساتھ ساتھ ملکی بینکوں سے بھاری شرح سود پر بڑے بڑے قرضے لے کر ڈنگ ٹپا رہی ہے۔ عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 فیصد پاکستانی خطِ غربت سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی یومیہ آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے۔ شدید مہنگائی میں آبادی کے اتنے بڑے حصے کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ان کے بچے بدترین غذائی قلت کی بنا پر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت جب سے آئی ہے بڑی بڑی بیرونی سرمایہ کاری کے سبز باغ تو دکھا رہی ہے مگر سرمایہ کاری کے بجائے قرضوں میں بے تحاشا اضافہ کرتی جا رہی ہے۔
عید کے دنوں میں ایک دو ایسی مجالس میں شرکت کا موقع ملا کہ جہاں ہمارے معاشی احوال سے براہِ راست متعلق چند شخصیات موجود تھیں۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارے نام نہاد اقتصادی ماہرین بیرونی سرمایہ داروں کے سامنے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمومی فائدوں کا ایک عام آدمی کی طرح ذکر تو کرتے ہیں مگر فنی لحاظ سے سرمایہ کاری کے منصوبوں کی فزیبلٹی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘ لہٰذا ایم او یوز سے آگے بات نہیں بڑھتی۔ متحدہ عرب امارات نے ہمیں بھاری شرح سود پر صرف دو ارب ڈالر کا قرضہ سٹیٹ بینک میں سیف ڈپازٹ کے طور پر دے رکھا تھا‘ وہ بھی انہوں نے واپس مانگ لیا ہے۔ قرض دینے والا جب چاہے اپنی رقم واپس طلب کر سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی عرب دنیا میں آنیاں جانیاں محض سیر سپاٹے تک محدود رہی ہیں اور وہ کوئی بڑی سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہے ہیں۔
اب تو امریکہ نے دنیا کو ایران سے تیل خریدنے کی خود اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت ملتے ہی بھارت نے ایران سے تیل منگوانا شروع کر دیا۔ اب ہمیں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے زیرِ التوا منصوبے کو بلا تاخیر مکمل کر لینا چاہیے۔ نیز ایران سے سستا تیل بھی منگوانا شروع کر دینا چاہیے۔ ہماری معاشی حالت تب سدھرے گی جب ہماری حکمران اشرافیہ سدھرے گی۔ ہم اپنے حکمرانوں سے سیکنڈے نیوین ممالک کے سائیکل سوار حکمران بننے کی توقع تو نہیں رکھتے مگر کم از کم انہیں جنوبی ایشیا کے حکمرانوں جیسی سادگی تو اپنا لینی چاہیے۔ ہمارے حکمرانوں اور ان کے اقتصادی مشیروں کو یہ تو معلوم ہونا چاہیے کہ قرضوں کی دلدل میں دھنس کر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
آج کا کالم
دنیا نامہ
7 April 2026
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا اور کوئی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا دیا جاتا‘ ت...
08/04/2026

اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا اور کوئی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا دیا جاتا‘ تو پاکستان کی حکومت نے اس سلسلے میں کیا حفاظتی قدم اٹھانا تھا؟ میں نے یہ سوال حسبِ معمول اپنے سیاسی اور سماجی مرشد شاہ جی سے کیا۔ شاہ جی مسکرائے‘ ان کا مسکرانا اب ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ کبھی وہ طنزیہ مسکراتے ہیں‘ کبھی وہ استہزائیہ مسکراہٹ سے ہمیں نوازتے ہیں اورکبھی وہ صرف مسکراہٹ برائے مسکراہٹ کے فارمولے کے تحت ہمیں مسکرا کر دکھاتے ہیں‘ سو ہم شاہ جی کے مسکرانے پر توجہ کیے بغیر شاہ جی کی گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک دو لمحے کا توقف کیا‘ پھر کہنے لگے: اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا کوئی واقعہ ہوتا اور کوئی ہوائی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا جاتا اور وہ عمارت منہدم ہو جاتی تو حکومتِ پاکستان نے آئندہ کیلئے ایسے واقعات کے سدباب کیلئے فوری طور پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دینی تھی۔ ہمارے ہاں ایسے واقعات اور مستقبل میں ان کے سد باب کیلئے حکومتی اقدامات اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
اب ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کا جو بحران پیدا ہوا ہے‘ اس پر بہت سے ممالک نے مختلف قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ اس وقت سب سے مسئلہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی سپلائی میں مشکل پیش آرہی ہے۔ یہ مسائل مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے حل کیلئے انہوں نے جو اقدامات کئے ہیں اس میں سب سے اہم چیز‘ جس کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ آرام‘ سہولت اور آسانی دی جائے۔ مثلاً میلبورن (آسٹریلیا) سے میری بیٹی نے بتایا کہ جیسے ہی یہ مسئلہ عوام کی مشکل کا باعث بنتا دکھائی دیا تو وکٹوریا سٹیٹ کی حکومت نے پوری ریاست میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ بشمول بس‘ ٹرین اور ٹرام کا سفر عوام کیلئے مفت کر دیا۔ بعد میں ویسے تو پنجاب حکومت اور دیکھا دیکھی سندھ حکومت نے بھی یہ اعلان کیا ہے لیکن پاکستان کی حکومت کا جو فوری ردِ عمل تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں موٹروے پر گاڑیوں کی رفتار میں کمی کر دی گئی اور چالانوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ میں نے جو یہ کہا ہے کہ موٹروے پر سپیڈ کم کر دی اور چالان بڑھا دیے گئے تو اس سلسلے میں یہ ہوا کہ موٹروے پر LTV یعنی لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل جس میں کار‘ جیپ اور اسی قسم کی دیگر چھوٹی فور ویل گاڑیاں ہیں‘ ان کی حد رفتار 120 کلو میٹر سے کم کرکے 100 کلو میٹر کر دی گئی اور HTV یعنی ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کی رفتار 110سے کم کرکے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کر دی گئی۔ حکومت کا خیال تھا کہ اس طرح رفتار کم کرنے سے پٹرول کی بچت ہو گی‘ کھپت کم ہو گی اور فی لٹر گاڑی کی مائلیج بڑھ جائے گی‘ چلیں کسی حد تک یہ بات ٹھیک بھی ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو پا رہا۔ میں حالیہ دنوں میں کئی دفعہ موٹروے پر سفر کر چکا ہوں۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ لوگوں کو جہاں بھی شک ہو کہ یہاں سپیڈ چیک کیمرہ ہو گا‘ وہاں وہ رفتار کم کر لیتے ہیں اور جہاں ان کو یقین ہو کہ کیمرہ نہیں ہے تو وہ اپنی ساری تاخیر کی کسر نکال لیتے ہیں یعنی جس جگہ پہ ان کو کیمرہ ہونے کا شک ہو وہاں وہ اپنی رفتار کم کر کے 100کلو میٹر کے لگ بھگ کر لیتے ہیں لیکن اس جگہ سے آگے نکلتے ہی وہ اپنی رفتار 140کر کے ساری کسر اور تاخیر نکال لیتے ہیں۔
موجودہ صورتحال کو ہم حکومت کیلئے Blessing in disguise کہہ سکتے ہیں۔ اس ملک میں عوام پر جب بھی کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اس کو بہانہ بنا کر ٹیکس‘ کرائے میں اضافہ اور اپنی چیزوں کی قیمت بڑھا دیتی ہے۔ اس میں حکومت کو پیسے بچتے ہیں اور عوام کی جیب کٹ جاتی ہے۔ اب حکومت نے موٹر وے پر رفتار کم کرنے کے ساتھ ہی ایک اور بڑا مزیدار بندوبست کیا ہے۔ رفتار چیک کرنے والے سپیڈ کیمرے جو پہلے پورے سفر میں دو یا تین جگہوں پر ملتے تھے‘ اب ان کی تعداد ملتان سے اسلام اباد کے راستے میں کم از کم دس ہو چکی ہے۔ فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک برسوں سفر کے دوران مجھے کوئی کیمرے والا نظر نہیں آیا لیکن اب موٹر وے کے اس حصے پر دو تین جگہوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک کیمرہ بھیرہ انٹرچینج سے ایک کلو میٹر پہلے کیمرہ لگا ہوا تھا اور دوسرا اس سے محض ایک کلو میٹر بعد لگا ہوا تھا۔ عام طور پہ جب لوگ انٹرچینج کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو ان کا خیال ہوتا ہے کہ اب چیکنگ نہیں ہو گی اور وہ رفتار زیادہ کر لیتے ہیں۔لیکن انٹرچینج سے نکلتے ہی دوبارہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔ پچھلے اور اگلے انٹر چینج کے درمیان میں بھی کیمرے والا بیٹھا ہوا ہے۔ حکومت نے رفتار کم کی تھی تو اس کا بنیادی مقصد پٹرول کی کھپت کم کرنا تھا لیکن ہوا یہ ہے کہ لوگ اوسطاً اسی رفتار پر گاڑیاں چلا رہے ہیں جو رفتار کم کرنے سے پہلے تھی لیکن اب حکومت کو چالان کی مد میں وصول ہونے والی رقم کم از کم تین چار گنا بڑھ چکی ہے۔
اب بندہ کس کس چیز کو روئے کہ اس دوران سرکار نے ٹول ٹیکس میں بھی اضافہ کر دیا۔ ٹول ٹیکس پٹرول سے نہیں چلتا؛ البتہ گاڑیاں ضرور پٹرول سے چلتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ لوگ مہنگا پٹرول اس لیے خرید رہے ہیں کہ حکومت اس پہ لیوی اور کئی قسم کے ٹیکس وصول کر رہی ہے لیکن ٹول ٹیکس کا پٹرول سے کوئی براہِ راست لین دین نہیں ہے۔ گاڑیوں کی رفتار بھلے کم کروائیں کہ اس سے پٹرول کی بچت ہو گی۔ تاہم اگر آپ کاخیال ہے کہ ٹول میں اضافے سے لوگ کم سفر کریں گے تو جنہوں نے مجبوراً سفر کرنا ہے وہ کریں گے۔ پٹرول کی قیمت جتنی ہو چکی ہے اس پر کوئی بندہ فضول اور غیرضروری سفر کی ہمت ہی نہیں کر سکتا۔ اب صرف وہی جائے گا جو از حد مجبور ہے لیکن سرکار ان مجبوروں سے ٹول ٹیکس نچوڑنے کے فکر میں ہے۔ سرکار نے یہ اضافہ فی الحال تو موخر کر دیا گیا ہے مگر کب تک ؟ حالات جیسے ہی نارمل ہوئے یہ اضافہ دوبارہ لاگو کر دیا جائے گا۔ ایک طرف پٹرول کی قیمت تو دوسری طرف چالان بڑھ گئے ہیں۔ اس ہنگامہ ہائے دار و گیر میں پنجاب حکومت نے فی بھینس 30روپے روزانہ کا گوبر ٹیکس لگا دیا ہے۔ کیا بھینس بھی پٹرول پہ چل رہی ہے جس کے استعمال پر ٹیکس لگایا گیا؟ بعد میں بھد اڑی تو تردید فرما دی۔ دنیا میں حکومتیں گوبر سے بائیو گیس بناتی ہیں‘ انرجی پیدا کرتی ہیں‘ ہمارے ہاں گوبر پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ سرکار کو جس چیز میں بھی کسی پاکستانی کو چار پیسے کا فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہے اس نفع کو اپنے کھاتے میں ڈال لیتی ہے۔
شاہ جی سے پوچھا کہ یہ جو آبنائے ہرمز سے تیل سے لدے ہوئے بیس جہاز پاکستانی جھنڈے لگا کر بخیروخوبی پُرامن طریقے سے گزرے ہیں‘ اب اس کے بعد تو پاکستان میں تیل کی ریل پیل ہو جانی چاہیے۔ خلیج فارس سے آنے والا پٹرول نزدیک ترین اور سستا پڑتا ہے تو قیمتیں کیوں آسمان پر پہنچ گئی ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے: تمہارا کیا خیال ہے کہ جو پاکستانی جھنڈے لگے جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر رہے ہیں پاکستان آ رہے ہیں تو آپ بھولے بادشاہ ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ پاکستانی جھنڈوں والے جہاز جو تیل لائے ہیں وہ سارے کا سارا تیل ٹرمپ کو بھجوا دیا گیا ہو۔ میں نے کہا کہ شاہ جی! بقول وفاقی وزیر بیرسٹر عقیل پاکستان میں تو صرف دو جہاز آئے ہیں‘ باقی اٹھارہ کہاں چلے گئے ہیں؟ کہنے لگے: ممکن ہے سرکار نے یہ اٹھارہ جہاز آگے بیچ کر نفع کما لیا ہو۔ ان برے حالات میں پیدا گیری کا موقع اگر مل ہی گیا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے؟ ہماری حکومت جہاز پر اپنا جھنڈا لگا کر جو رسک لے رہی ہے‘ اس کا حق ہے کہ اس پر ٹیکس یا نفع وصول کرے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا کوئی حساب کتاب بھی ہے؟ شاہ جی کہنے لگے کہ تم سے تو ملتان کے پرائیویٹ لفٹروں کا حساب نہیں لیا گیا اور چلے ہو تیل کے جہازوں کا حساب لینے۔ بندے کو اپنی اوقات کے مطابق بات کرنی چاہیے۔
روزنامہ دنیا
آج کا کالم
خالد مسعود خان
7 April 2026

ایک عبرتناک تصویر آج   کا   کالم روزنامہ دنیا April 7 2026محمد اظہارالحقکہنے کو یہ محض ایک تصویر ہے! محض ایک فوٹو گراف!!...
08/04/2026

ایک عبرتناک تصویر

آج کا کالم
روزنامہ دنیا
April 7 2026
محمد اظہارالحق

کہنے کو یہ محض ایک تصویر ہے! محض ایک فوٹو گراف!! لیکن یہ تصویر ملک کی نامرادی‘ تیرہ بختی اور بدنصیبی کی تفصیل ہے۔ ایسی تفصیل جو کئی صفحوں پر نہیں‘ کئی داستانوں پر نہیں‘ کئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ کتابیں بھی ایسی جو کئی جلدوں میں‘ کئی حصوں میں ہوں!
اس شرمناک تصویر میں ایک نوجوان‘ جو ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے‘ ایک معروف‘ عمر رسیدہ‘ سیاستدان سے مصافحہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو سب اچھا ہے۔ مصافحہ کرنے پر کوئی پابندی ہے نہ یہ ایسا فعل ہے جس پر معترض ہوا جائے۔ بلکہ مصافحہ عالمی کلچر کا ایک جزو ہے۔ لاس اینجلس سے لے کر یورپ‘ ایشیا اور افریقہ سے ہوتے ہوئے ٹوکیو تک سب ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ تاہم تصویر صرف مصافحے پر مشتمل نہیں‘ اس میں کچھ اور بھی ہے اور یہ ''کچھ اور‘‘ ہی ہے جو سب کچھ ہے۔
تصویر میں نوجوان سربراہ کے ہمراہ دو معمر سیاستدان ہیں۔ ایک کی عمر 74 برس ہے۔ وہ کھڑا ہے‘ ہاتھ اس طرح باندھ رکھے ہیں جیسے نماز میں قیام کے دوران باندھے جاتے ہیں۔ دوسرا سیاستدان 76 سال کا ہے۔ اس نے ہاتھ تو نہیں باندھے ہوئے‘ مگر چہرے سے مجسمِ ریشہ خطمی لگ رہا ہے۔ نوجوان کی عمر 38سال ہے۔ 38کو دو سے ضرب دیجیے‘ جواب کیا آیا ہے؟ جواب 76 ہے۔ یعنی ایک سیاستدان کی عمر‘ نوجوان کی عمر سے دو گنا ہے۔ دونوں سیاستدانوں نے اپنی جوانی پارٹی کو دی۔ جدوجہد میں عمر گزاری۔ مقدمات کا سامنا کیا۔ جلسے کیے۔ جلوس نکالے۔ ماریں کھائیں۔ پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ اپنے گھر والوں کو نظر انداز کیا۔ دن رات‘ ہفتے مہینے سال پارٹی کے امور سلجھائے۔ سفر کیے۔ کبھی کراچی‘ کبھی لاہور‘ کبھی کوئٹہ‘ کبھی اسلا م آباد اور کبھی دبئی!! یہاں تک کہ ان کے بال سفید ہو گئے۔ وہ بوڑھے ہو گئے۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ یہ نوجوان پارٹی کا سربراہ بن گیا۔ یہ سفید سر والے‘ بے حد تجربہ کار‘ گرم و سرد چشیدہ اور سیاست میں کئی گنا زیادہ علم رکھنے والے بوڑھے‘ نوجوان کی اقتدا میں‘ خمیدہ کمر کھڑے ہو گئے! درباری کے درباری ہی رہے!
اس بدقسمتی اور جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق میں صرف ایک پارٹی نہیں‘ پاکستان کی تمام بڑی‘ قابلِ ذکر پارٹیاں ملوث ہیں۔ (ہم ان پارٹیوں کی بات کر رہے ہیں جو ووٹ لیتی ہیں اور جن کے نمائندے پارلیمنٹ میں موجود ہیں) جس معمر سیاستدان سے نوجوان مصافحہ کر رہا ہے وہ بھی اپنی جماعت کا خاندانی سربراہ ہے۔ یہ سربراہی اسے اپنے مرحوم والد کے بعد وراثت میں ملی۔ اب اس کا فرزند یہ وراثت سنبھالنے کی تربیت حاصل کر رہا ہے۔
وراثت‘ پیری مریدی میں ہو یا سیاست میں‘ بادشاہی میں ہو یا مسجد کی امامت میں‘ ہمیشہ میرٹ کُش ہوتی ہے۔ بادشاہوں نے زندگیاں خرچ کر کے‘ زخم کھا کھا کر‘ جنگیں جیت کر‘ سلطنتیں بنائیں۔ مگر ان کے نااہل وارثوں نے ان سلطنتوں کو یوں بکھیرا کہ سلطنتیں قصۂ پارینہ ہو گئیں۔ ایک خدا رسیدہ‘ نیک بزرگ درگاہ میں انتقال کرتا ہے تو اس کا بیٹا گدی پر بیٹھ جاتا ہے جس کا دین سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ مسجد کا امام انتقال کرتا ہے تو اس کا بیٹا مصلّے پر کھڑا ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس نازک ذمہ داری کی قطعاً اہلیت نہیں رکھتا۔ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں بھی وراثت کی بنیاد پر چل رہی ہیں! ہم نے جن ملکوں سے جمہوریت لی‘ وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ سے لے کر امریکہ تک سیاسی پارٹیوں میں وراثت کا تصور ہی ناپید ہے۔ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے۔ پارٹیوں پر خاندانی وراثت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ چند برس بعد پارٹی کا سربراہ تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک اور پارٹی ممبر سربراہ ہو جاتا ہے۔ یہ صرف پاکستان میں ہے کہ پارٹیوں پر تیس تیس‘ چالیس چالیس سال سے ایک ہی خاندان قابض ہے۔ پہلا سربراہ دنیا سے گیا تو بیٹی پارٹی کی سربراہ بنی۔ پھر داماد اور اب نواسا!! دوسری پارٹی کوئی بڑا منصب خاندان سے باہر جانے ہی نہیں دیتی۔ کسی پر اعتماد نہیں! کبھی بھائی چیف منسٹر بنتا ہے کبھی بھتیجا اور کبھی بیٹی! ایک بھائی وزارتِ عظمیٰ پر تین بار رہ چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد دوسرا بھائی وزیراعظم بن جاتا ہے۔ایک اور پارٹی جو تبدیلی کا جھنڈا لہرا کر میدان میں آئی تھی‘ اس پر بھی بیس پچیس سال تک ایک ہی شخص کی ڈکٹیٹرشپ رہی۔ پارٹی کے اندر الیکشن ہوا تو الیکشن کرانے والوں کی چھٹی ہو گئی۔ اب پارٹی پر بہن کی حکومت ہے۔
ترس آتا ہے اُن کارکنوں پر جن کی عمریں جلسہ گاہوں میں دریاں بچھانے‘ کرسیاں لگانے اور سٹیج بنانے میں کٹ جاتی ہیں۔ چلتی گاڑیوں کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ ہوائی اڈوں پر استقبال کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ مخالفین سے لڑائیاں کرتے ہیں۔ گالیاں کھاتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ حالانکہ پارٹی سربراہ اور دیگر اہلِ خاندان کو ان کے نام تک نہیں معلوم! ان کی صورتوں سے آشنا نہیں! رحم آتا ہے ان سیاستدانوں پر جن کی زندگیاں پارٹی کا کام کرتے بیت گئیں۔ زندانوں میں گئے۔ ان پر حملے ہوئے۔ اہلِ خانہ نظر انداز ہوئے مگر ان میں سے کوئی وزیراعلیٰ بن سکتا ہے نہ وزیراعظم کے منصب کیلئے اس کے نام پر غور ہو سکتا ہے۔ سفید بالوں کے ساتھ‘ زندگی بھر کے تجربے کے ساتھ‘ کبھی انہیں دختر نیک اختر کے دربار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے تو کبھی نواسے کے پیچھے چلنا پڑتا ہے۔
کون سی جمہوریت؟ کیسی جمہوریت؟ جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں اپنی پارٹی کے سربراہ کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔ اس سے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ اس کے سامنے پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیاں شیڈو کابینہ بناتی ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کے ا یم این اے یا ایم پی اے ہر وزیر کے مقابلے میں ایک ایک قلم دان کے انچارج بنتے ہیں۔ آج اگر مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی حکومت میں ہیں تو اپوزیشن یعنی تحریک انصاف شیڈو کابینہ بناتی ۔ حکمران پارٹی کے وزیر خزانہ کے مقابلے میں اپوزیشن ایک ممبر کو شیڈو وزیر خزانہ بناتی۔ یہ شیڈو وزیر خزانہ‘ وزیر خزانہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا اور اپنی طرف سے متبادل پالیسیاں پیش کرتا۔ تصور یہ ہے کہ کل جب اپوزیشن اقتدار میں آئے گی تو یہ شیڈو وزیر خزانہ اصل وزیر خزانہ بنے گا اور اُن پالیسیوں کو عملی جامہ پہنائے گا جو اس نے شیڈو وزیر خزانہ کی حیثیت سے پیش کی تھیں۔ ان سب کاموں کیلئے محنت درکار ہے۔ اپوزیشن کو ٹھوس کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح تجارت‘ تعلیم‘ پٹرولیم‘ توانائی اور دیگر امور کیلئے شیڈو وزیر مقرر کیے جاتے ہیں جو رات دن محنت کر کے بتاتے ہیں کہ جب وہ حکومت میں آئے تو کیا کیا پالیسیاں نافذ کریں گے۔ ہماری جمہوریت میں اپوزیشن بھی محنت کرنے کیلئے تیار نہیں! اس کا کام نعرے لگانا‘ پارلیمنٹ میں ہنگامے بپا کرنا‘ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا اور بجٹ کی دستاویزات کو پھاڑ دینا ہے۔ برسر اقتدار وزیروں کو کھلی چھٹی ہے۔ وزیروں کو معلوم ہے کہ کوئی شیڈو وزیر ان کا تعاقب کر رہا ہے نہ کوئی ٹھوس تنقید ہی کر سکتا ہے۔ سب کا ایک ہی کام ہے۔ پارٹی کے سربراہ کو‘ جو مالک کی طرح ہے‘ ہر حال میں خوش رکھنا ہے۔ اس پورے خاندان کو خوش رکھنا ہے جو پارٹی پر تیس چالیس سال سے قابض ہے۔ اکبر آئے یا جہانگیر یا شاہجہان‘ پارٹی خاندان ہی میں رہنی ہے۔ اس لیے بادشاہ کو بھی خوش رکھنا ہے اور شہزادوں شہزادیوں کو بھی!! بادشاہ خاندان ہی سے بنے گا۔ درباری درباری ہی رہیں گے! اشارۂ ابرو کے منتظر رہیں گے۔ کبھی انہیں لندن طلب کیا جائے گا کبھی دبئی! اقبال نے کہا تھا: خرد کو غلامی سے آزاد کر۔ جوانوں کو پیروں کا استاد کر! مگر یہاں حساب الٹا ہے۔ بوڑھے استاد ہیں جو جوانوں کو بادشاہی کے گر بتاتے ہیں۔ یہ وہ بوڑھے استاد ہیں جو خود ہمیشہ درباری رہتے ہیں۔

سارا مسئلہ سارا فساد اسرائیل کا ہےیہ نکتہ نہ سمجھیں تو اس جنگ کو سمجھنا محال ہو جاتا ہے۔ اسرائیل نے تو حملہ کیا لیکن امر...
08/04/2026

سارا مسئلہ سارا فساد اسرائیل کا ہے
یہ نکتہ نہ سمجھیں تو اس جنگ کو سمجھنا محال ہو جاتا ہے۔ اسرائیل نے تو حملہ کیا لیکن امریکہ کو اس حملے میں شامل کرنا یہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کمال ہے۔ ایک لحاظ سے یہ حملہ اس نے بیچا کہ حملہ ہوا اور قیادت کا صفایا ہو گیا تو اسلامی ریاست ختم ہو جائے گی۔ اب ٹرمپ کیا امریکہ اس جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں۔ ٹرمپ جنگ بندی چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر اور وہ شرائط ایسی ہیں کہ ایران مانے تو اس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ سمجھوتا تو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتا ہے اور امریکہ جو ایران سے مانگ رہا ہے وہ گھٹنے ٹیکنا‘ ناک رگڑنا اور رسوا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھول دو‘ تیل بردار جہازوں کو گزرنے دو اور 45دن بعد دیکھیں گے کہ اگلا مرحلہ کیا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھل جائے تو ایران کے ہاتھ رہ کیا جاتا ہے۔ اور جہاں تک اگلے مرحلے کی بات ہے امریکہ اور اسرائیل نے دنیا کو ثا بت کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے کی گئی کوئی بھی بات قابلِ یقین اور قابلِ اعتبار نہیں۔ لیکن امریکہ مُصر ہے کہ انہی شرائط پر جنگ بندی کرو نہیں تو تمہارا حشر کر دیا جائے گا۔
اس فارمولے کے پیچھے ساری سوچ اسرائیل اور امریکہ میں موجود صہیونی لابی کی ہے۔ اسرائیل جنگ بندی نہیں
کالم ایاز میر
روزنامہ دنیا
8 April 2026

06/10/2024

Quran Kareem
Best sound of quran

Hourth touching quran
new.islamic page
ا

‏اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○ 🥀
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○ 🖤.




•🔴 Beautiful





New.isl Discretionخود میرے نبی نے بات یہ بتادی لانیی بعدیخُدا اور اُس کے فرشتے آپ ﷺ پر دُرود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔۔...
05/10/2024

New.isl
Discretion
خود میرے نبی نے بات یہ بتادی لانیی بعدی
خُدا اور اُس کے فرشتے آپ ﷺ پر دُرود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔۔!! تم بھی اُن ﷺ پر دُرود و سلام بھیجو۔۔۔!! 🌸

‏اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○ 🥀
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○ 🖤.




•🔴 Beautiful





new.islamic page Discretionخُدا اور اُس کے فرشتے آپ ﷺ پر دُرود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔۔!! تم بھی اُن ﷺ پر دُرود و سلا...
05/10/2024

new.islamic page
Discretion

خُدا اور اُس کے فرشتے آپ ﷺ پر دُرود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔۔!! تم بھی اُن ﷺ پر دُرود و سلام بھیجو۔۔۔!! 🌸

‏اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○ 🥀
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○ 🖤.




•🔴 Beautiful





05/10/2024

دو لوگوں سے مجھے سخت نفرت ہے

new.islamic page
Pakistani village 6274

゚ ゚viralシ

اللہ تعالیٰ ہمیں درست رہنمائی کے ساتھ نوازے
22/09/2024

اللہ تعالیٰ ہمیں درست رہنمائی کے ساتھ نوازے


Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when new.islamic page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category