15/03/2026
#عہدہ ختم ہوا #خدمت کا سفر نہیں
بلدیاتی نظام میں بطور چیئرمین ویلج کونسل غنڈی 2 میری چار سالہ مدت آج اختتام کو پہنچ گئی ہے۔
سب سے پہلے میں اپنے ویلج کونسل غنڈی 2 کے تمام #عوام کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور مجھے چار سال کے لیے اپنا نمائندہ منتخب کیا۔
میں اپنی #جماعت کا بھی بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس ذمہ داری کے قابل سمجھا اور اس میدان میں اتارا۔ ان شاہین صفت جوانوں نے میری کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا، جس پر میں ان سب کا دل سے ممنون ہوں۔
بلدیاتی انتخابات کے وقت سیاسی کارکنوں اور عوام الناس نے اس نظام سے بہت سی توقعات وابستہ کی تھیں، لیکن بدقسمتی سے جنہوں نے ماڈل بلدیاتی نظام کا وعدہ کیا تھا وہی اس نظام کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔ حتیٰ کہ تاریخی اقدام کرتے ہوئے اپنی سالانہ بجٹ کے 25 فیصد حصے میں سے ایک پائی بھی بلدیاتی اداروں کو نہیں دی گئی۔
یوں ہمارا چار سالہ دور احتجاج اور دھرنوں میں گزر گیا۔ ہم نے اپنے عوام کے حقوق کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج تک برداشت کیا، لیکن اس کے باوجود چار سال بغیر ترقیاتی فنڈ کے گزر گئے۔
اس ساری صورتحال کے باوجود، مجھ سے جو کچھ بھی بغیر فنڈ کے اپنے عوام کے لیے ممکن تھا، میں نے بھرپور کوشش کی۔ میں نے ہر محاذ پر اپنے عوام کے لیے آواز اٹھائی، ہر مشکل مرحلے میں ان کا ساتھ دیا، اور جہاں بھی قوم کو ہماری ضرورت پڑی ہم نے صفِ اوّل میں کھڑے ہونے کی کوشش کی۔
بلدیاتی نمائندوں کے پاس ڈیتھ سرٹیفکیٹ، برتھ سرٹیفکیٹ اور نکاح نامہ جاری کرنے کے اختیارات تھے، جو براہِ راست عوامی ضرورت سے متعلق معاملات تھے۔ ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق عوام کو اس حوالے سے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ جہاں غیر قانونی طور پر پانچ سے دس ہزار روپے تک وصول کیے جاتے تھے، الحمد للّٰہ ان چار سالوں میں کوئی ایک روپیہ بھی ثابت نہیں کرسکتا کہ ہمارے دفتر نے کسی سے لیا ہو۔ بلکہ جتنا ممکن تھا ہم نے عوام کو سہولت دینے کی کوشش کی اور زیادہ تر ذمہ داریاں کونسل ممبران کے ذریعے ادا کیں تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ان سب کے باوجود انسان کمزور ہے۔ میں بھی اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے ویلج کونسل کے تمام عوام سے معذرت خواہ ہوں۔ اگر کسی بھی وجہ سے آپ کے حق میں مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو، یا میں آپ کی اس طرح خدمت نہ کر سکا ہوں جو آپ کا حق تھا، یا میری وجہ سے آپ کو کسی قسم کی تکلیف پہنچی ہو تو اس پر میں دل سے #معافی کا طلبگار ہوں۔ امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے۔
الیکشن کے وقت میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ چاہے ہمیں کچھ ملے یا نہ ملے، لیکن اگر کچھ بھی ملا تو وہ آپ کی دہلیز تک بغیر کسی خیانت کے پہنچاؤں گا۔ الحمد للّٰہ میں نے اس وعدے کو نبھانے کی پوری کوشش کی ہے اور کسی کو نظر انداز نہیں کیا۔ جو جس کا حق تھا وہ اسی طرح اس تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
میں چونکہ ایک سیاسی کارکن ہوں اور سیاسی کارکن کو خدمت کے لیے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا الحمد للّٰہ اپنے علاقے کے لیے چیئرمین شپ سے پہلے بھی جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے فنڈز اور اختیارات ختم کر کے ہمیں ناکام دکھانے کی کوشش کی تاکہ عوام ہم سے مایوس ہو جائیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ عوام اس ظالمانہ رویے کا جواب ضرور دیں گے اور ایک دن میدان میں انہیں شکست دے کر اس ظلم کا بدلہ لیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
آپکا خادم مولانا نورالامین حقانی
سابقہ چیئرمین ویلج کونسل غنڈی 2 جمرود