Mulna Hafiz Kashif Ali Tansvi Noori

Mulna Hafiz Kashif Ali Tansvi Noori Islamic History

06/04/2026

*طوطے کی موت*

ایک بزرگ نوجوانوں کو جمع کرتے اور انہیں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی دعوت دیا کرتے تھے ۔
انہوں نے ایک مسجد کو اپنا مرکز بنایا ہوا تھا، چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں تک میں ان کی یہ دعوت چلتی تھی۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس مبارک دعوت کی توفیق دے دے، اس کے لئے یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔
ایک نوجوان جو ان بزرگوں کی مجلس میں آ کر کلمہ طیبہ کا شیدائی بن گیا تھا، ایک دن ایک خوبصورت طوطا اپنے ساتھ لایا اور اپنے استاذ کو ہدیہ کر دیا۔ طوطا بہت پیارا اور ذہین تھا۔ بزرگ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ جب سبق کے لئے آتے تو وہ طوطا بھی ساتھ لے آتے۔ دن رات ’’ لا الہ الاا للہ ، لا الہ الا اللہ ‘‘ کی ضربیں سن کر اس طوطے نے بھی یہ کلمہ یاد کر لیا۔
وہ سبق کے دوران جب’’ لا الہ الاا للہ ، لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا تو سب خوشی سے جھوم جاتے۔

ایک دن وہ بزرگ سبق کے لئے تشریف لائے تو طوطا ساتھ نہیں تھا، شاگردوں نے پوچھا تو وہ رونے لگے۔ بتایا کہ کل رات ایک بلی اسے کھا گئی۔ یہ کہہ کر وہ بزرگ سسکیاں لے کر رونے لگے۔ شاگردوں نے تعزیت بھی کی، تسلی بھی دی، مگر ان کے آنسو اور ہچکیاں بڑھتی جا رہی تھیں ۔
ایک شاگرد نے کہا؛ حضرت میں کل اس جیسا ایک طوطا لے آؤں گا، تو آپ کا صدمہ کچھ کم ہو جائے گا۔ بزرگ نے فرمایا! بیٹے میں طوطے کی موت پر نہیں رو رہا، میں تو اس بات پر رات سے رو رہا ہوں کہ وہ طوطا دن رات ’’ لا الہ الاا للہ ، لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا تھا، جب بلی نے اس پر حملہ کیا تو میرا خیال تھا کہ طوطا
لا الہ الا اللہ پڑھے گا، مگر اس وقت وہ خوف سے چیخ رہا تھا اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہا تھا۔ اس نے ایک بار بھی ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ نہیں کہا، وجہ یہ کہ اس نے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کا رٹا تو زبان سے لگا رکھا تھا، مگر اسے اس کلمے کا شعور نہیں تھا۔ اسی وقت سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کہیں ہمارے ساتھ بھی موت کے وقت ایسا نہ ہو جائے۔ موت کا لمحہ تو بہت سخت ہوتا ہے۔ اس وقت زبان کے رٹے بھول جاتے ہیں اور وہی بات منہ سے نکلتی ہے جو دل میں اُتری ہوئی ہو ۔
ہم یہاں دن رات ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کی ضربیں لگاتے ہیں، مگر ہمیں اس کے ساتھ ساتھ یہ فکر کرنی چاہیئے کہ یہ کلمہ ہمارا شعور بن جائے، ہمارا عقیدہ بن جائے۔ یہ ہمارے دل کی آواز بن جائے۔ اس کا یقین اور نور ہمارے اندر ایسا سرایت کر جائے کہ ہم موت کے وقت جبکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونے والی ہوتی ہے ہم یہ کلمہ پڑھ سکیں۔ یہی تو جنت کی چابی اور اللہ تعالیٰ سے کامیاب ملاقات کی ضمانت ہے۔
بزرگ کی بات سن کر سارے نوجوان بھی رونے لگے اور دعاء مانگنے لگے کہ یا اللہ یہ کلمہ ہمیں طوطے کی طرح نہیں، حضرات صحابہ کرام اور حضرات صدیقین و شہداء کی طرح دل میں نصیب فرما دیجیئے۔۔۔۔

ختم شدہ

06/04/2026

ایک واقعہ جس نے سوچ بدل دی۔۔۔۔
ایک دن فجر کی نماز پڑھ کر نکلا تو ایک مسجد سے فوتیدگی کا اعلان ہوا۔ موسم خراب تھا اور مسجد کے سپیکر میں بھی شاید کوئی خرابی تھی، اس لیے اعلان پوری طرح سمجھ نہ آ سکا۔

ابھی گھر نہیں پہنچا تھا کہ واٹس ایپ میسج کی اطلاع آئی۔ میسج میں فوتیدگی کی خبر تھی۔ نام پڑھ کر دل بہت رنجیدہ ہو گیا۔

چونکہ شوگر کی وجہ سے اکثر صبح سویرے بھوک محسوس ہوتی ہے، اس لیے چائے کے ساتھ ایک کیک رس لیا، چائے پی، اور پیدل ہی فوتیدگی والے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، موسم بھی کافی سرد تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو گھر کے باہر دس بارہ لوگ کھڑے تھے، جن میں سے اکثر محلے دار تھے۔

فوتیدگی رات تقریباً دس بجے ہوئی تھی، اور میت دوسرے شہر سے دیر رات پہنچی تھی۔ گھر درمیانے سائز کا تھا اور بیٹھک بھی اسی کا حصہ تھی۔

میں نے غور کیا کہ مرگ والے گھر کے تمام مرد مہمان بھی باہر ہی کھڑے تھے۔

مجھے بہت افسوس ہوا۔ اتنا بڑا محلہ، بڑے بڑے گھر، مگر کسی ایک کو بھی یہ احساس نہ ہوا کہ وہ اس غمزدہ گھر کا سہارا بنتا۔ کم از کم باہر سے آئے ہوئے مغموم مردوں کے لیے اپنی بیٹھک ہی کھول دیتا۔

کچھ دیر میں خاموشی سے یہ منظر دیکھتا رہا۔ میت کے لواحقین شدید صدمے میں تھے، وہ بالکل نڈھال ہو چکے تھے۔

اچانک دل میں ایک جذبہ موجزن ہوا۔ میں نے مرحوم کے ایک بیٹے کو ایک طرف لے جا کر کچھ امور کی اجازت لی۔ وہ میری بات سن کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، میں نے اسے دلاسہ دیا اور حوصلہ دیا۔

پھر ایک ٹینٹ سروس والے دوست کو فون کیا، اسے صورتحال بتائی اور فوری انتظام کی درخواست کی۔

اللہ اس دوست کو جزائے خیر دے، اس نے آدھے گھنٹے کے اندر مرگ والے گھر کے باہر مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ ٹینٹ لگا دیے اور نیچے دری وغیرہ بھی بچھا دی۔

احبابِ گرامی!

محلہ دراصل ایک گھر کی مانند ہوتا ہے۔ پڑوسیوں کے حقوق اس قدر اہم ہیں کہ صحابہ کرامؓ کو گمان ہونے لگا تھا کہ شاید انہیں وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا۔

بالخصوص فوتیدگی کے موقع پر تو سب سے پہلے محلے داروں کو اطلاع ملتی ہے، اس لیے ان پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر تعاون کریں اور جس حد تک ممکن ہو، غمزدہ خاندان کا سہارا بنیں۔

یہاں چند اہم اقدامات پیش ہیں جو ہمیں ایسے مواقع پر ضرور کرنے چاہئیں:

👈 کرنے کے کام
١۔ خبر ملتے ہی اس دن کی اپنی مصروفیات ترک کر دیں۔

٢۔ فوراً فوتیدگی والے گھر اپنے اہلِ خانہ کے ہمرا جائیں، تاکہ آپ مردوں کو حوصلہ دے سکیں اور آپ کی اہلیہ خواتین کو دلاسہ دے سکے۔

٣۔ تعزیتی الفاظ کہنے کے بعد فوراً انہیں کہیں: “میں حاضر ہوں، کسی بھی قسم کی خدمت میرے ذمہ لگا دیں۔”

٤۔ ان کے گھر کے باہر ہلکی پھلکی صفائی کر کے، اپنے گھر سے اور دیگر گھروں سے چارپائیاں لا کر ڈال دیں۔

٥۔ پانی کا ایک کولر اور دو چار گلاس ایک میز پر رکھ دیں۔

٦۔ اگر فوتیدگی رات کو ہوئی ہے تو صبح اپنے گھر میں چائے تیار کریں اور اس گھر کے مرد حضرات کو اپنی بیٹھک میں بٹھا کر چائے اور رس کا ناشتہ کروائیں۔

٧۔ چائے بناتے ہوئے کچھ مقدار بغیر چینی کے بھی نکال لیں، تاکہ اگر کوئی شوگر کا مریض ہو تو وہ پی سکے۔

٨۔ خواتین کو فوتیدگی والے گھر میں ہی کسی ایک طرف بٹھا کر چائے پلانے کا انتظام کریں۔

٩۔ گرمیوں میں سو ڈیڑھ سو روپے کی برف لا کر اندر بھجوا دیں۔

١٠۔ مرگ والے گھر میں ایک دو کلو دودھ ابال کر بھیج دیں، تاکہ اگر کوئی دودھ پیتا بچہ ہو تو اس کے لیے فیڈر وغیرہ بن سکے۔

١١۔ اگر مرگ والے گھر میں کوئی دائمی مریض ہو تو اس کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کریں۔

١٢۔ اگر اس گھر میں شوگر کا مریض ہو تو اسے وقت پر کھانا اپنے گھر سے کھلا دیں، یا بسکٹ وغیرہ لا کر دے دیں۔

١٣۔ اگر مرگ والے گھر میں جانور ہوں تو ان کی خوراک کا بندوبست کریں۔

١٤۔ اگر گرمیوں کا موسم ہو تو مرگ والوں کے مشورے سے ٹینٹ/کنات بھی منگوا دیں۔

١٥۔ اگر سردیوں کا موسم ہو تو محلے میں کسی کی بیٹھک کھلوا کر وہاں مہمانوں کے لیے رات کا انتظام کر دیں۔

١٦۔ گرمیوں میں چارپائیاں، کھیس اور تکیے اکٹھے کر کے مرگ والے گھر پہنچا دیں۔

١٧۔ یہ سامان اکٹھا کرتے ہوئے ان پر مالکان کے نام لکھ لیں تاکہ پہچان رہے اور واپسی میں آسانی ہو۔

١٨۔ مسجد میں اعلانات کروانے میں مدد کریں۔

١٩۔ گنجائش کے مطابق کچھ رقم لے جا کر مرگ والے گھر والوں کو بطور قرضِ حسنہ یا امداد دے دیں۔

٢٠۔ مرگ والے گھر کے مہمانوں کو سنبھالنے میں مدد کریں۔

٢١۔ جب میت کو گھر سے لے کر چلے جائیں تو گھر کے باہر پڑے سامان (پنکھے، کرسیاں، تکیے، واٹر کولر وغیرہ) کی حفاظت کے لیے خود یا کسی سمجھدار بچے کو بٹھا دیں۔

٢٢۔ جنازے کے بعد کچھ محلے والے تدفین میں بھرپور حصہ لیں۔

٢٣۔ اکثر لواحقین شدتِ غم سے نڈھال ہوتے ہیں، اگر کوئی زیادہ روتا ہوا یا کمزور دکھائی دے تو اس کا ہاتھ تھامیں اور اسے سہارا دیں۔

٢٤۔ اگر فوتیدگی گرمیوں میں ہوئی ہو تو قبرستان میں قبر کے قریب سایہ دار جگہ پر پانی کا ایک کولر رکھ دیں، تاکہ تدفین میں آنے والے لوگ پانی پی سکیں۔

٢٥۔ قبرستان میں کھدائی کرنے والوں کے لیے چائے پانی وغیرہ کا بھی خیال رکھیں۔

٢٦۔ جب تدفین ہو جائے تو قبرستان سے واپس آ جائیں، اور اگر مہمانوں کے کھانے اور ٹھہرنے کا انتظام ہو چکا ہو تو اب آپ فارغ ہیں۔

٢٧۔ جب مہمان چلے جائیں تو محلے سے اکٹھی کی گئی چارپائیاں، تکیے وغیرہ واپس کرنے میں مدد کریں۔

٢٨۔ تین دن تک مختلف اوقات میں مرگ والے گھر جاتے رہیں اور کچھ دیر بیٹھ کر دلجوئی کرتے رہیں۔

٢٩۔ مرگ والے گھر میں کھانے پینے سے حتیٰ الامکان گریز کریں، بلکہ اپنے گھر سے کھا کر آئیں۔

٣٠۔ اگر آپ کے ہاں کوئی فنکشن (جیسے شادی وغیرہ) ہو تو حتیٰ الامکان تاریخ آگے بڑھا دیں۔

٣١۔ اگر تاریخ آگے بڑھانا ممکن نہ ہو تو کم از کم جنازے تک اپنی تقریبات روک دیں۔

٣٢۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو شور شرابہ، لائٹنگ اور غیر ضروری نمائش سے اجتناب کریں۔

٣٣۔ اگر مرگ والے گھر کی موٹر وغیرہ خراب ہو جائے تو اپنے گھر سے پانی فراہم کریں۔

٣٤۔ اپنی ذات سے جتنا سکون اور فائدہ آپ اس گھر کو پہنچا سکتے ہیں، ضرور پہنچائیں
پیچھے نہ ہٹیں۔

احبابِ گرامی!
اگر ہم صرف ایک دن کے لیے بھی اپنے محلے دار کے غم کو اپنا غم سمجھ لیں، اس کے دکھ میں شریک ہو جائیں، تو یقین جانیے نہ صرف ایک ٹوٹا ہوا دل سنبھل جاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری دنیا و آخرت بھی سنوار دیتا ہے۔
یہی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو معاشرے کو زندہ اور دلوں کو جوڑتے ہیں۔

آخری گزارش

یہ تحریر سب کی بھلائی کی نیت سے لکھی گئی ہے۔
آپ بھی بھلائی کی نیت سے اسے شیئر کر دیں۔

شکریہ۔

21/02/2026
20/02/2026

*🌹🤲🏻﷽🤲🏻🌹*

*🌹رمضان عبادات کے ساتھ صحت کا خیال🌹*
ہر مسلمان کو سال بھر رمضان المبارک کا انتظار رہتا ہے۔ عبادت کا ماہ،پرہیز کا ماہ۔احتیاط کا ماہ۔اس ماہ کی آمد ہر کسی کے طرز زندگی کو بدل دیتی ہے۔سونے اور جاگنے سے کھانے تک ۔زندگی بدل جاتی ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ رمضانِ المبارک کا بابرکت مہینہ آتے ہی مسلمانوں کے کھانے پینے کے معمولات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انتیس سے تیس دنوں پر مشتعمل یہ عرصہ دن نکلنے سے دن ڈھلنے تک ایک خاص طرزِ عمل کا متقاضی ہوتا ہے، جسمانی اور روحانی پاکیزگی کے حصول کی خاطر اللہ کے وضع کردہ احکامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے خود کو جسمانی اور روحانی طور پر تندرست رکھنا بے حد ضروری ہے۔

عبادات اور فرائض کی ادائیگی اسی صورت ممکن ہو پاتی ہے جب انسان جسمانی طور پر تندرست ہواور یہ تو آپ نے سن رکھا ہوگا کے صحت زندگی ہے۔ رمضان میں چونکہ عام معمول سے ہٹ کر ایک نظم و ضبط کی پابندی ہوتی ہے تو یہ جہاں فائدہ مند ہے ونہیں اگر جسم کو صحیح مقدار میں غذائیت نہ ملے تو وہ کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں رمضان میں ایک دم سے چٹ پٹے کھانے کی بھر مار ہو جاتی ہے اور دسترخوانوں کو سجانے کی غرض سے پکوان تو بنائے جاتے ہیں مگر اس بات کا بلکل خیال نہیں رکھا جاتا کے وہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کئے گئے ہیں یا نہیں۔ ماہر غذائیت کا کہنا ہے کہ تلی چیزوں کا زیادہ استعمال ہمارے جسم میں چکنائی کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو کے چربی میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور اکثر لوگوں کا وزن رمضان میں پہلے کی نسبت مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ بےترتیبی سے کھاتے ہیں جبکہ معدے کی مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں جن میں سرِفہرست بدہضمی اور گیس ہوتی ہے۔

خیال رہے یہاں جو بات سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایک ماہ کے لیے جب آپ صرف چٹ پٹے اور گھی میں ڈوبے ہوئے کھانوں پر ہی انحصار کرنے لگ جائیں گے تو اس سے ناصرف آپ معدے کے مسائل کا شکار ہوں گے بلکہ اس سے وزن میں بھی اضافہ ہو گا۔ معدے کو اس قدر چٹ پٹی چیزوں کی عادت نہیں ہوتی اور جب سارے دن کی بھوک پیاس کے بعد ایک دم معدہ ایسے کھانوں سے بھر جائے تو اس کے عمومی اثرات تو لازم ہیں جبکہ بہت سے تحقیقی مقالہ جات اس بات کی اہمیت کو درست ثابت کرتے ہیں کے روزہ صحت کے لئے بہترین عمل ہے اور سادہ غذاء اس عمل کو موثر ترین بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہر غذائیت کے مطابق صبح سحری کے وقت سے افطاری تک دن بھر معدہ خالی رہنے اور پانی نہ پینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس کو دور کرنے کا بہترین طریقہ بعد از افطار پانی کا مناسب مقدار میں استعمال ہے۔

سنت ِ رسول ﷺ کی رو سے دیکھا جائے تو کھجور سے روزہ افطار کرنا پسندیدہ ترین عمل ہے جس سے جسم کو توانائی حاصل کرنے میں بھی مدد ملتی ہےاور اس میں موجود غذائی اجزاء جسم کو طاقت بھی دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں خود کو بیماریوں سے بچانے کے لئے احتیاط کے ساتھ ساتھ امیونٹی کی بھی اشد ضرورت ہے جس کا سب سے اہم ذریعہ خوراک یعنی ہماری غذاء ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دعا کے ساتھ ساتھ رمضان کے مہینے کی بابرکت اور پُر نور ساعتوں میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی غرض سے اپنی صحت کا خیال رکھیں اور متوازن غذاء کا استعمال کریں.

19/02/2026

جوامام داڑھی ایک مشت سے کم کرے تو اس پر کیا حکم ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص اپنی داڑھی کو ایک مشت سے کم کرتا ہے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟ سائل:فخرالزمان عطاری(تحصیل وزیر آباد ضلع گجرانوالہ ڈاکخانہ ساروکی چیمہ)

جواب: .... داڑھی منڈوانا ،یاایک مشت سے کم کروانا ناجائز و گناہ ہےاور ایسا شخص فاسقِ معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ ِ تحریمی ہےیعنی پڑھنا گناہ اور پڑھ لی ہو تو اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔

18/02/2026

🚨 *الرٹ*🚨

*مختلف فیک لنکس پر کلک کرنے کی وجہ سے ابھی تک کافی دوستوں کے موبائل ہیک ہو چکے ہیں.*

یہ مختلف لنکس مفتی اسماعیل پیکج ، رمضان پیکج ، 40GB انٹرنیٹ اور دیگر قسم کی بمپرز آفرز کی مد میں مختلف واٹس اپ گروپس میں گردش کر رہے ہیں۔

یاد رہے !!!
ہیکرز آپ کی تصاویر ، ویڈیوز اور موبائل نمبرز کا کسی بھی وقت غلط استعمال کر سکتے ہیں ۔
اس میسج کو اپنے تمام دوستوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں ۔ تاکہ کسی کا ڈیٹا ہیک نہ ہو جائے ۔
♥️ 🌐 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

17/02/2026

سعودی عرب میں رمضان کا چاند 🌙 نظر آ گیا ہے
پاکستانی عوام بھی جمعرات کو پہلے روزے کی تیاری پکڑ لے

Address

Hujra Shah Muqeem
Hujra
56170

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mulna Hafiz Kashif Ali Tansvi Noori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category