26/04/2026
اس وقت دنیا میں مصنوعی ریچارج کے حوالے سے بھارت سب سے آگے ہے۔ جہاں لاکھوں ریچارج سٹرکچر موجود ہیں۔ صرف گجرات میں 5 لاکھ سے زیادہ ایسے ڈھانچے ہیں اور پورے ملک میں مزید 1 کروڑ 10 لاکھ بنانے کا منصوبہ ہے۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی کل مصنوعی ریچارج صلاحیت کا 31 فیصد صرف بھارت کی 5 ریاستوں کے پاس تھا اور 26 فیصد امریکہ کے پاس۔ بھارتی حکومت اور NGOs نے مون سون کے پانی کو روک کر خشک سالی والے علاقوں میں داخل کرنے کے لیے percolation tanks پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور "مصنوعی ریچارج" کے ماسٹر پلان کے تحت شہری و دیہی علاقوں میں مزید 1 کروڑ 10 لاکھ سٹرکچر 10 ارب ڈالر کی لاگت سے بنائے جائیں گے۔
جرمنی 9 فیصد صلاحیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جہاں 1870 سے پہلے سے شہری پانی کی سپلائی کے لیے bank filtration استعمال ہو رہی ہے۔ فن لینڈ، کوریا، عمان، قطر اور سپین میں مصنوعی ریچارج کی شرح 8 فیصد سالانہ سے زیادہ ہے۔
1960 کی دہائی سے مصنوعی ریچارج پر عمل درآمد 5 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے، لیکن یہ زیرِ زمین پانی کے نکالنے کی رفتار سے کم ہے۔ اس وقت مصنوعی ریچارج ان ممالک میں نکالے جانے والے زیرِ زمین پانی کا تقریباً 2.4 فیصد ہے
عالمی سطح پر کل نکالے گئے پانی کا موجودہ ریچارج کی کل مقدار صرف 1 فیصد بنتا ہے۔
تو سوال یہ نہیں کہ دنیا ریچارج کے حوالے سے کیا کررہی ہیں
سوال یہ ہے کہ جب بھارت 1 کروڑ سٹرکچر بنا رہا ہے، جرمنی 150 سال سے کر رہا ہے، تو ہمیں بھی بڑھ چڑھ کر یہ کام شروع کردیا چاہیے
تحریر صلاح الدین