20/06/2026
اب وقت ھوگیا کہ اسرائیلی مصنوعات کا نہیں اسرائیلی مصنوعات رکھنے والی دوکان کا بائیکاٹ کریں۔آج کل بائیکاٹ مہم کو غیر مؤثر کرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔۔ مثلاً
1- اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو صرف فوڈ برینڈ کا ہی کیوں، بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بھی ہونا چاہیے۔
2- ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ فلاں فلاں پروڈکٹس اس را ئیل یا اس کے حامیوں کی ہے، کیونکہ پاکستان میں اکثر چیزیں بلا تحقیق آ گے شیئر کر دی جاتی ہیں۔۔
3- بائیکاٹ کا سب سے زیادہ نقصان ہمارے اپنے لوگوں کا ہے کیونکہ ان ریسٹورنٹس اور فرنچائزز کے بند ہونے سے بہت سارے مقامی ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے
مندرجہ بالا اعتراضات کو دیکھتے ہوئے چند باتیں غور طلب ہیں۔۔پہلی بات ہی کہ فیسبک، انسٹاگرام، یوٹیوب وغیرہ وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے آپ مظلوم کی آواز دور تک پہنچا سکتے ہیں اور ظالم کے ظلم کا پردہ چاک کر سکتے ہیں، عام الفاظ میں کہیں تو یہ بھی ایک طرح کے جنگی ہتھیار ہیں جنہیں حکمت عملی سے استعمال کر کے اچھے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں، اور جنگ میں جنگی ہتھیار چاہے دشمن کے ہی ہوں انہیں دشمن کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔لیکن کیا KFC کھا کر آپ دشمن کا کوئی نقصان کر سکتے ہیں ؟؟؟
دوسری بات یہ کہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کون کون سی پروڈکٹ اس ر ا ئیل کی ہے تو اس کے لیے فل س طین کے ایک Developer نے No Thanks نامی ایپلیکیشن تیار کر دی ہے جس کے ذریعے آپ بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ کون سی پروڈکٹ اس را ئیلی ہے۔۔
تیسرا اہم نکتہ یہ کہ اس را ئیلی پروڈکٹس کے بائیکاٹ سے پاکستانی انویسٹر اور ملازمین کا نقصان ہوگا۔۔لیکن یہ بھی ایک بہانہ ہی ہے۔۔۔اگر کوئی انویسٹر اس اعلان کے ساتھ KFC یا میکڈونلڈ وغیرہ سے اپنی پارٹنر شب ختم کر دے کہ میرا ریسٹورنٹ یہی رہے گا لیکن میں ایک پاکستانی برینڈ کے نام سے کاروبار آگے بڑھاؤں گا اور KFC یا میکڈونلڈ کو رائلٹی کی مد میں ایک پیسہ بھی یہاں سے نہیں ملے گا۔۔۔تو مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح اس کے ملازمین بے روزگار ہوں گے یا اس کے کاروبار کا نقصان ہوگا۔۔۔ لوگوں کو کسی کی بلڈنگ یا کھانے سے سروکار نہیں، لوگ اس وقت صرف ظالم افواج کو سپورٹ کرنے والے برانڈز کے خلاف ہیں۔
اس کے علاؤہ اس اعتراض کا ایک الزامی جواب یہ بھی ہے کہ جب کسی غیر قانونی بلڈنگ کو گرایا جاتا ہے تو تب یہ بات کیوں نہیں کی جاتی کہ ملازمین بے روز