31/10/2024
مسئلہ بلکل واضح اور سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر کے مینوفیکچرز، صنعت کار اور تاجر یہاں تک کہ ریہڑی پر بھنے چھولے بیچنے والا لڑکا بھی اپنے خرچ اور منافع کے تعین کے بعد اپنے مال کی قیمت خود طے کرتا ہے۔۔۔کسی کو وارہ لگے تو خریدے ورنہ گزر جائے۔۔۔۔جبکہ ایک کسان غلہ منڈی میں آڑھتیوں کے بیج اپنا مال ڈھیر کر کے عاجز نظروں سے اس بات کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اسکے مال کا ریٹ لگائیں۔
اس مسلے کا حل کیا ہے؟
کسان ایسی فصلیں لگائے جنکی شیلف لائف زیادہ ہو۔ تاکہ لوگ اسکی محتاجی کا فائدہ اُٹھانا بند کریں۔
لہسن بنا کسی پراسیسنگ کے سال بھر آرام سے رہ لیتا ہے۔
سرسوں سے فقط تیل نکال لیا جائے تو کئی سال تک محفوظ بن جاتی ہے۔ گندم، جوار، باجرہ اور مکئی اگر جانوروں کو کھلا کر گوشت میں تبدیل کر لی جائے تو کیا کہنے۔
الغرض محتاجی سے نکل کر خوشحالی کو جاتے کئی رستے ہیں۔۔۔ضرورت صرف روائتی سوچ کو بدلنے کی ہے۔