11/03/2026
پہلے تقریباً پانچ روزوں تک سحری کے بعد میں گیس، تیزابیت اور بدہضمی کا شکار رہا۔ ابتدا میں میں یہی سمجھتا رہا کہ شاید کھانے پینے کے معمولات تبدیل ہونے کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
حالانکہ میں ڈاکٹر کے تجویز کردہ معدے کے کیپسول بھی استعمال کر رہا تھا، لیکن اس کے باوجود معدے کی بےکلی ختم نہ ہوئی۔
ایک دن میں رمضان شریف میں اذانِ مغرب کے بعد نماز کے لیے کیے جانے والے دس، پندرہ یا بیس منٹ کے وقفے کی شرعی حیثیت اور دلائل تلاش کر رہا تھا۔
دراصل ہماری ایک مسجد میں رمضان شریف کے علاوہ مغرب کی اذان اور جماعت کے درمیان زیادہ سے زیادہ تیس سے چالیس سیکنڈ کا وقفہ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر وضو کرنے والے نمازی بھی تکبیرِ اولیٰ سے محروم رہ جاتے ہیں، اور اذان کی آواز سن کر مسجد آنے والے نمازیوں کے لیے تو پہلی رکعت تک پہنچنا بھی ممکن نہیں رہتا۔
لیکن رمضان شریف میں پہلی تراویح کے بعد ہی نوٹ لگا دیا جاتا ہے کہ جماعت اذان کے پندرہ منٹ بعد ادا کی جائے گی، تاکہ نمازی آسانی سے جماعت کے ساتھ شامل ہو سکیں۔ نجانے کیوں باقی مہینوں میں چند منٹ کے وقفے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔
بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے۔ جب میں اس موضوع پر مواد تلاش کر رہا تھا تو اچانک میرے سامنے سنن ابی داؤد کی ایک حدیث مبارکہ آ گئی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"نِعْمَ سُحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ"
“کھجور مومن کی بہترین سحری ہے۔”
(سنن ابی داؤد: 2345)
میرے لیے بھی، شاید آپ کی طرح، یہ حدیث مبارکہ باعثِ حیرت تھی۔
ہم میں سے اکثر لوگ کھجور کو صرف افطاری کی چیز سمجھتے ہیں۔ رمضان آتا ہے تو دسترخوان پر کھجور رکھی جاتی ہے، روزہ کھولا جاتا ہے اور بس… معاملہ ختم۔ لیکن آقا کریم ﷺ کے فرمانِ ذی شان کے مطابق کھجور تو سحری کی بھی ایک بہترین غذا ہے۔
یہاں یہ عقدہ بھی کھلا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سحری کا مطلب بھاری بھرکم کھانا ہے۔ زیادہ روٹیاں، سالن اور چاول کھا لیے جائیں تاکہ دن بھر طاقت رہے۔ لیکن سنتِ نبوی ﷺ ہمیں ایک سادہ، بابرکت اور صحت مند راستہ دکھاتی ہے۔
چنانچہ میں نے اسی دن سے سحری کا کھانا ہلکا پھلکا کر کے اس کے ساتھ کھجور کھانا شروع کر دی۔
اور واقعی ایک عجیب فرق محسوس ہوا۔
جہاں ایک طرف فرمانِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی برکت سے دل میں ایک خاص نورانیت اور سکون محسوس ہوا، وہیں جسمانی طور پر بھی کئی فوائد ظاہر ہوئے۔
میں نے دیکھا کہ سحری میں کھجور کھانے سے:
✓شوگر لیول زیادہ خراب نہیں ہوتا
✓بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے
✓دن میں شدید بھوک نہیں لگتی
✓منہ کی بدبو کم ہو جاتی ہے
✓کھٹی ڈکاریں اور تیزابیت نہیں ہوتیں
✓دن میں نقاہت محسوس نہیں ہوتی
✓نظامِ ہضم اور اخراج بہتر ہو گیا
✓ازدواجی قوت میں بھی نمایاں بہتری محسوس ہوئی
✓اور میرا فروزن شولڈر کا مسئلہ، جس میں دائیں کندھے اور کہنی میں درد تھا، اس میں بھی واضح کمی آ گئی۔
گویا ایک چھوٹی سی سنت میں صحت کے کتنے راز چھپے ہوئے ہیں۔
اصل میں کھجور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک مکمل غذا ہے۔ اس میں قدرتی مٹھاس، فائبر، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فوری توانائی دینے والے اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اسی لیے عرب کے لوگ صدیوں سے اسے بنیادی غذا کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
👈کھجور کا استعمال
میں نے رمضان شریف میں سحری کے وقت کھجور تین طریقوں سے استعمال کی:
1۔ رات کو تین دانے (حسبِ خواہش) دودھ میں بھگو کر رکھ دیے، سحری میں کھجور کھا لی اور دودھ پی لیا۔
2۔ سیب، امرود اور کھجور کو باریک باریک کاٹ کر اس میں تھوڑا دیسی گھی اور تھوڑا شہد ملا کر کھا لیا۔
3۔ ایک پیالہ دہی لے کر اس میں کھجور باریک کاٹ کر شامل کی اور چمچ سے دہی کھا لیا۔
احبابِ گرامی!
آپ جانتے ہیں کہ میں ہائی شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہوں، میں پچھلے پندرہ دن سے سحری میں کھجور استعمال کر رہا ہوں۔ نیت یہ تھی کہ فرمانِ نبوی ﷺ میں پوشیدہ رحمت اور برکت کو تلاش کیا جائے۔
تو جب پوری طرح تسلی ہو گئی تو اب آپ کے سامنے یہی تجویز لے کر آیا ہوں۔ چنانچہ آپ بھی سحری میں کھجور کا استعمال کریں، ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔
مزید شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ساتھ ساتھ اپنی شوگر اور بلڈ پریشر بھی مانیٹر کرتے رہیں۔
آخری گزارش:
یہ تحریر سب کی بھلائی کی نیت سے لکھی گئی ہے۔
آپ بھی بھلائی کی نیت سے شیئر کر دیں۔
شکریہ۔
11 مارچ 2026