31/05/2026
شیخ المشائخ حضرت مولانا حافظ انوارالحق حقانی صاحب مدظلہ العالی کی استقامت، صبر، حوصلے اور عزیمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔
حضرت نے اپنی زندگی میں ایسے ایسے المناک اور دل دہلا دینے والے سانحات دیکھے ہیں جنہیں برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
اپنے ادارے میں اپنے والد گرامی کا جنازہ اٹھایا، پھر اپنے ادارے کے استاد حضرت شیخ نصیب خان صاحب کا جنازہ اٹھایا جن کے جسمِ مبارک کو ظالموں نے بے دردی سے چھلنی کر دیا تھا۔ اس کے بعد اپنے بھائی کا جنازہ اٹھایا جو درجنوں وار سہہ کر شہ_ادت کے مقام پر فائز ہوئے۔ پھر اپنے بھتیجے کا جنازہ اٹھایا جو بم دھ_ماکے کا نشانہ بنا۔ اس کے بعد اپنے مدرسے کے استاد حضرت شیخ ادریس صاحب کا جنازہ اٹھایا جنہیں ظالموں نے گولیوں سے لہولہان کر دیا تھا۔ پھر اپنے ایک استاد حضرت مفتی سیف اللہ صاحب کا صدمہ برداشت کیا اور ان کا جنازہ بھی اٹھایا۔
یہ سب ایسے زخم ہیں جو پہاڑوں کو بھی ہلا دیتے ہیں ، لیکن حضرت مہتمم صاحب نے ہر آزمائش میں صبر، استقامت اور توکل علی اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔
میری کمزور رائے کے مطابق اگر کوئی دوسرا شخص ان پے در پے سانحات سے دوچار ہوتا تو شاید ہمت ہار بیٹھتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مہتمم باباجی صاحب کو غیر معمولی صبر، حوصلہ اور ثابت قدمی عطا فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حافظ انوارالحق حقانی صاحب مدظلہ العالی کو صحت کاملہ، عافیتِ دائمہ، طویل عمر اور مزید دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے تمام غموں کو اجر عظیم میں تبدیل فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ حضرت کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ رب العزت انہیں سلامت رکھے، ان کے سایۂ شفقت کو قائم و دائم فرمائے، اور انہیں مزید عزت، برکت اور استقامت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
صدائے حق میڈیا