madarsa faizane madina misbahul uloom madani nager bakhotoli

madarsa faizane madina misbahul uloom madani nager bakhotoli Hafiz Jawed Raza attari

27/01/2025
02/10/2024

بچپن کا واقعہ

سلطان صلاح الدین ایوبی ابھی نوعمر ہی ہیں کہ ‘عیسائی فوجیں ”رہا“پر قبضہ کرکے مال واسباب لوٹ کر عورتوں کو پکڑ لے جاتی ہیں ۔یہ ظلم دیکھ کر یہ نوعمر صلاح الدین ایک ترکی بوڑھے کو لے کر سلطان عماد الدین زنگی کے پاس پہنچتے ہیں ۔عیسائیوں کے مظالم سے بادشاہ کو آگاہ کرتے ہیں ‘اس کی اسلامی حمیت اور غیرت کو بیدار کرتے ہیں اور رو رو کر مدد کے لیے فریاد کرتے ہیں۔

نیک دل بادشاہ کو ان حالات کا علم ہوتا ہے تو وہ تمام فوجیں جمع کرتا ہے ۔انہیں ”رہا“کے حالات سناتا اور جہاد پر ابھارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ”کل صبح میری تلوار رہا کے قلعے پر لہرائے گی ‘تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا ؟“ یہ اعلان سن کرتمام فوجی حیران رہ جاتے ہیں کہ یہاں سے ”رہا“۹۰ میل کی دوری پر ہے ‘راتوں رات وہاں کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟یہ تو کسی طرح ممکن نہیں ۔تمام فوجی ابھی غور ہی کررہے تھے کہ ایک نو عمر لڑکے کی آواز گونجتی ہے ”ہم بادشاہ کا ساتھ دیں گے۔“ لوگوں نے سراٹھاکر دیکھا تو ایک نوعمر لڑکا کھڑاتھا‘ بعضوں نے فقرے چست کیے کہ ”جاؤ میاں کھیلوکودو! یہ جنگ ہے بچوں کا کھیل نہیں ۔“سلطان نے یہ فقرے سنے تو غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا بولا:”یہ بچہ سچ کہتا ہے‘اس کی صورت بتاتی ہے کہ یہ کل میرا ساتھ دے گا ۔یہی وہ بچہ ہے جو ”رہا“سے میرے پاس فریاد لے کر آیاہے ‘اس کا نام صلاح الدین ہے ۔“ یہ سن کر فوجیوں کو غیرت آتی ہےسب تیار ہوجاتے ہیں اور اگلے روز دوپہر تک رہا پہنچ کر حملہ کردیا ۔گھمسان کی جنگ ہوئی ‘عیسائی سپہ سالاربڑی آن وبان کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا ‘سلطان نے اس پر کاری ضرب لگائی مگر لوہے کی زرہ نے وار کو بے اثر بنادیا ،عیسائی سپہ سالار نے پلٹ کر سلطان پر حملہ کیا اور نیزہ تان کر سلطان کی طرف پھینکنا ہی چاہتا ہے کہ صلاح الدین کی تلوار فضامیں بجلی کی طرح چمک اٹھی اور زرہ کے کٹے ہوئے حصہ پر گر کر عیسائی سپہ سالار کے دوٹکڑے کرکے رکھ دیئے ۔عیسائی سپہ سالار کے موت کے گھاٹ اترتے ہی عیسائی فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور ”رہا“پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔

یادرہے کہ داستان ایمان فروشوں کی التمش کا سلطان صلاح الدین ایوبی کے زمانے پر لکھا ہوا بہت مشہوراردو ادبی ناول ہے۔التمش صاحب نے جن مؤرخوں کی تحریروں سے تفصیلی واقعات حاصل کئے ہیں ۔ ان میں ہیرلڈلیمب، لین پول، ولیم آرٹ ٹائر ، قاضی بہاء الدین شداد، محمد فریدابوحدید، اینٹنی ویسٹ، واقدی، ہتّی،جنرل محمد اکبر خاں، رنگروٹ،موئیر،سراج الدین، اسدالاسدی، الاطہر، سسٹن،بالڈون اور چند گمنام تاریخ داں بھی شامل ہیں۔

التمش صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت نورالدین زنگی علیہ الرحمۃ نے اسے (صلاح الدین) جنگی چالیں سکھائیں ملک کے انتظامات کے سبق دیئے اور ڈپلومیسی میں مہارت دی ۔ اس تعلیم و تربیت نے اس کے اندر وہ جذبہ پیدا کردیا کہ جس نے آگے چل کر اسے صلیبیوں کے لئے بجلی بنادیا ۔ اوائل جوانی میں ہی اس نے وہ ذہانت اور اہلیت حاصل کرلی تھی جو ایک سالار اعظم کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

حضرت نورالدین زنگی علیہ الرحمہ (استاذصلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ) کون تھے اور کس عقید ے تعلق رکھتے تھےاسلئے بہتر یہ ہے کہ پہلے ان کے بارے میں بتایا جائے تاکہ علم میں مزید اضافہ ہو ....

سلطان العادل حضرت نورالدین محمودزنگی علیہ الرحمہ

ملک عادل نور الدین ابو القاسم محمود ابن الملک الاتا بک قسیم الدولہ عماد الدین ابی سعید زنگی الملقب بالشہید بن الملک آقسنقر الاتابک بقسیم الدولہ الترکی السلجوقی مولاہم ۔آپ 17 شوال 511ہجری اتوار کے روز طلوع آفتاب کے وقت حلب میں پیدا ہوئے اور اپنے والدمحترم کی کفالت میں پرورش پائی جو حلب ، موصل اور دیگربہت سے بڑے بڑے شہروں کے حکمراں تھے اور قراٰن کریم ، شہسواری اور تیر اندازی سیکھی اور آپ شجاع ، بلند ہمت ، نیک نیت اور بڑے عزت داراور واضح دیندار آدمی تھے۔آپ حنفی المذہب تھے اور علماء اور فقراء سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کا اکرام و احترام کرتے تھے۔ (البدایہ والنہایہ جلد12 صفحہ 360)

والد کے انتقال کے بعد آپ نےحکومت سنبھالی اور اپنے ملک میں سنیت کو اجاگر کیا اور بدعت کو ختم کیا اور حی علی الصلواۃ حی علی الفلاح کی آذان دینے کا حکم دیا ، حالانکہ آپ کے باپ اور دادا کی حکومتوں میں ان دونوں کلمات سے آذان نہ دی جاتی تھی ، صرف حی علی خیر العمل کی آذان دی جاتی تھی کیونکہ رفض کا شعار وہاں نمایا ں تھا۔(ایضاً)

حضرت نور الدین زنگی بہادری میں اپنے باپ کی طرح تھے۔ واقعہ بہت مشہور ہےکہ ایک مرتبہ جنگ میں نورالدین کو دشمنوں کی صف میں بار بار گھستے دیکھ کر اس کے ایک مصاحب قطب الدین نے کہا : ”اے ہمارے بادشاہ! اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالئے اگر آپ مارے گئے تو دشمن اس ملک کو فتح کرلیں گے اور مسلمانوں کی حالت تباہ ہوجائے گی“۔ نورالدین نے یہ بات سنی تو اس پر بہت ناراض ہوا اور کہا : ”قطب الدین! زبان کو روکو، تم اللہ کے حضور گستاخی کررہے ہو۔ مجھ سے پہلے اس دین اور ملک کا محافظ اللہ کے سوا کون تھا؟“۔

آپ نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ شروع میں نورالدین کا دارالحکومت حلب تھا۔ 549ہجری میں اس نے دمشق پر قبضہ کرکے اسے دارالحکومت قرار دیا۔ اس نے صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عیسائیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی سیف الدین غازی اور معین الدین کی مدد سے ناکام بنا دیں اور بیت المقدس سے عیسائیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔
محمد جاوید رضا عطاری
کشنگنجوی بہار

30/09/2024

ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو
امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں

مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے
کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے
اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے
امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں
اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں
ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی
تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان
جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے
رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں
تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں
کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے
وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی
اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض......

بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے
بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں
حیرت کی بات ہے
کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں
لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ھے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں.
یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاھی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے.
اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ھے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا
لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا
اس حقیقت کے پشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ
بعض اوقات صرف ایک دو افراد یا مقتدیوں کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں"
میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ھونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ مجھ جیسے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں
لیکن میرے بھائیو!
کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ھے
اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ھوتے ہیں
ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ:
جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی:
اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ
اے اللّٰہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا
لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔
لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟
جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے
(صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)

آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے
ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں
لیکن اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
محمد جاوید رضا عطاری

30/09/2024

|سلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

مدرسہ فیضان مدینہ مصباح العلوم مدنی نگر باکھوٹولی

پسند_کی_شادی
میرے مطابق بھاگ کر شادی کرنا بلکل غلط ہے جس سے 90 فیصد لوگ چند مہینوں یا چند سالوں کے بعد ناکام ہو جاتے ہیں اگر پسند کی شادی کرنی ہو تو والدین کی رضامندی ضروری ہے کسی بھی طریقے سے ان کو راضی کیا جائے اگر پھر بھی نہیں ہوتا تو ایک دوسرے کو اپنے راستے جدا کرنے چاہیے کیونکہ پسند کی شادی میں بلوچی رسم کے مطابق 70 فیصد موت کا خطرہ 24گھنٹے رہتا ہے دوسرا پیسے کی تیسرا جن کو بگا لایا ان کی ضروریات کی کیونکہ اس لڑکی نے اپنے خاندان کو چھوڑا آپ کو بہتر سمجھ کر اور راستے میں نوجوان بڑھوں کی پریشر یا قوم کی پریشر سے لڑکی واپس کرتے ہیں اور سماج میں لڑکی کی کوئی اہمیت نہیں رہتا بھاگ کر شادی کرنے میں 80 فیصد نقصان لڑکی کو ہوتا ہے اس لئے کسی بھی صورت میں بھاگ کر شادی کرنا نامناسب رویہ ہے

لڑکی_کی_والدین
لڑکی کو یہ سوچنا ضروری ہے کہ بچپن سے میرے لئے نیندیں حرام کرنے والی ماں باپ پر کیا گزرے گئی جو خود بھوکا رہے بدحال رہے دنیا کے تمام معاملات کا سامنا کیا آپ کی بہترین پرورش کرنے کے لئے اس بھائی پر کیا گزرے کی جب ان کے دوست کہے گے آپ کی بہن کیسے بھاگ گئی
کیا ایسے انمول رشتوں کو کوئی چھوڑ کی ناواقف کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرسکتا ہے افسوس
بچپن میں کیسے پیار سے آپ کو پالا ہوگا والدین نے آج اس پر کیا گزری ہوگی آپ نے ہمیشہ کے لئے والدین اور بھائی پر داغ لگا دی ایک بار بھی نہیں سوچا

لڑکے_کے_والدین
میں مولوی ہادی بخش صاحب کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ میرا استاد ہے اس نے مجھے ناظرہ پڑھایا کیا اس نے آپ کو اس دن کے لئے پیدا کیا کہ آپ ان کے لئے مشکلات پیدا کرو وہ سارا دن مسجدوں کا صفائی کرکے بچوں کو دین کی تعلیم فراہم کرتے تھے جو ملتا وہ آپ لوگوں کو کھلاتے تھے آج ان پر گیا گزرے گئی اگر آپ کو کچھ ہوا ان کا بڑھاپے کا سہارا کون ہوگا بےپناہ محبت کرنے والی ماں کی ممتا سے بھی یہ لڑکی آپ کو عزیز ہوگیا جس کے لئے آپ نے تمام خاندان کو مشکلات میں ڈالا

بچپن_سے_منگنی_کا_رسم
ہمارے ہاں آج بھی منگی بچپن سے کی جاتی ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی پلیز یہ نظام کو ختم کیا جائے یہ وہ نظام ہے جس سے گھر خوشحال ہو نے کے بجائے بدحالی کی طرف گامزن ہوتا ہے شادی کے بعد لڑکا کو لڑکی پسند نہیں آتا تو وہ دوسری شادی کرتا ہے جس سے پہلی والی بیوی کو نوکری سے بھی کم سمجھا جاتا ہے جیسے قید میں ہو یہ ایک ظلم ہے جس سے اس دنیا میں بھی گھر کے رونقیں ختم ہو جاتی ہیں اور اگلے جہاں میں بھی حساب کتاب کا سامنا کرنا پڑھے گا
اور ہمارے ہاں آج بھی بیوی کو لائف پاٹنر نہیں بلکے نوکرانی سمجھا جاتا ہے گھر میں وہ عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ حقدار ہے اگر عزت دینگے تو لوگ کیا کہے گے یہی خوف لگا رہتا ہے اور ہم بے سکونی کا شکار ہیں پلیز خود کو بدلے لوگ کیا کہے رہے ان کا پروا نہ کریں معاشرے میں ہر عورت کا ایک مقام ہے اسے وہ ملنا چاہیے اگر وہ مقام نہیں ملے گا تو ظاہر ہے فساد پیدا ہوگے جس سے گھر کی سارے رونقیں ختم ہو جاتی ہے جیسے پاکستان کے حالات ہیں ہمارے گھروں میں بھی کچھ اس طرح ہیں

لڑکی_کو_بیچ_کرپیسہ_لینا
ہمارے ہاں آج بھی لڑکیوں کو فروخت کیا جاتا ہے یہ ایک نامناسب رسم ہے جس سے لڑکی کی رضامندی نہیں پوچھیں جاتی بس ابو نے یا بھائی نے جو فیصلہ کیا وہ ماننا پڑھے گا یہ غلط ہے کیونکہ اس گھر میں لڑکی کو رہنا ہے ان کی رضامندی لازمی ہے کیونکہ ہمارا اسلام بھی اس چیز کی اجازت دیتی ہے کہ دونوں کی رضامندی لازمی ہے پلیز اپنے بہنوں بیٹیوں کو فروخت کرنے کے بجائے ان کی رضامندی سے شادی کروائی جائے تاکہ وہ آگے بہتر زندگی گزار سکے پیسوں میں بیچو گے نوکرانی بن کے رہے گئی ان کی رضامندی سے دوگے رانی بن کے رہے گئی

غلط_فیصلہ
ہمارے ہاں لڑکے اور لڑکی کی شادی جلدی نہیں کی جاتی جس سے وہ غلط فیصلہ کرلیتے ہیں اور بھاگ کر شادی کرتے ہیں جس سے دونوں فیملیز کو مشکلات اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑھتا ہے والدین سوچتے ہیں قابل ہو جائے یا پڑھائی پورا کریں تب شادی کریں گے اس وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں پلیز لڑکا اور لڑکی بالغ ہو جائے ان کی شادی کروائی جائے تاکہ ایسے مسائل پیش نہ آئیں

نوٹ
یہ میں نے اپنا خیالات پیش کیئے ہوسکتا ہے میں اپنے جگہ درست ہوں آپ کے مطابق درست نہ رہوں

کاپی

محمد جاوید رضا عطاری کشنگنجوی۔ بہار

18/07/2024

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
مدرسہ فیضانِ مدینہ مصباح العلوم مدنی نگر باکھوٹولی کشنگنجوی (بہار)

پہلے خلیفہ سے ليكر 80 سال تک کسی نے بھی اپنے بچوں کا نام علی حسن حسین فاطمہ سوآئے اھل بیت کے نہی رکھا اتنا ظلم کیا گیا ہے اھل بیت پر یہان تک دشمنی تھی کہ نام بھی نہی رکھتے تھے اولاد رسول ﷺ کے تاریخ اٹھا کر کوئی بھی پڑھ سکتا ہے اور یہ چیلنج ہے ان 80 سال میں کوئی نام دکھا دے علی حسن حسین فاطمہ
اور ایک محب تھی مولا کی 80 سال کے بعد اس نے اپنے بیٹے کا نام حسن رکھا جو بسرا کی تھی اس لئے اس کو حسن بسری کے نام سے پہچانا جاتا ہے
کتنی سچائی ہے اس پوسٹ میں یاد رہے میں فیس بک سے کاپی پیسٹ کر کے نہیں چھوڑا ہوں اب اسے کتنی سچائی کتنی نہیں ہے اگر کوئی جواب دے سکتا ہے تو دے لیکن ادب اور اخلاق کے دائرے میں فالتو کے کمینٹ سے پرہیز کریں خدا کے واسطے

💞💞💞میں فقیر حافظ جاوید رضا عطاری 💕💞💕💞

◦•●◉✿بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم✿◉●•◦ مدرسہ فیضانِ مدینہ مصباح العلوم مدنی نگر باکهوٹو لی*المدد مولی حسین**فاطمہ زہرا کے چ...
17/07/2024

◦•●◉✿بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم✿◉●•◦
مدرسہ فیضانِ مدینہ مصباح العلوم مدنی نگر باکهوٹو لی
*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*
==💚🤍💚
شبیر نے کربل میں اسلام بچایا ہے
ناموس رسالت پر گھر بار لٹایا ہے
اللہ تعالی کی تھی اِس میں رضا بیشک
اِس واسطے دنیا کو یہ کر کے دکھایا ہے

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

قربان رہِ حق میں سب کر دیا تن من کو
نانا کی محبت میں کٹوایا ہے گردن کو
احسان نہ بھولیں گے یہ تیرا جہاں والے
سینچا ہے لہو دے کر تُو دین کے گلشن کو

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

شبیر ہے نام اُس کا حیدر کا دلارا ہے
جو فاطمہ زہرا کے آنکھوں کا ستارہ ہے
سالار اُسے دنیا کہتی ہے شہیدوں کا
سلطان مدینہ کا وہ پیارا نواسہ ہے

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

تقدیر پہ اتراؤ گر سچے حسینی ہو
باطل سے نہ گھبراؤ گر سچے حسینی ہو
ملنا ہے اگر تم کو سلطان شہیداں سے
کربل کو چلے جاؤ گر سچے حسینی ہو

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

جن کے لئے جنت سے آیا ہے حسیں جوڑا
جبریل جھلاتے تھے آ کر کے اُنہیں جھولا
اک میں ہی نہیں بلکہ اِس عالم امکاں میں
سرکارِ مدینہ کا ہر ایک گدا بولا

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

آؤ در زہرا پر تم جھولی کو پھیلاؤ
حیدر کے دلاروں کا فیضان سدا پاؤ
خالی نہیں جاتا ہے سائل کوئی اُس در سے
◦•●◉✿بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم✿◉●•◦

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*
==💚🤍💚
شبیر نے کربل میں اسلام بچایا ہے
ناموس رسالت پر گھر بار لٹایا ہے
اللہ تعالی کی تھی اِس میں رضا بیشک
اِس واسطے دنیا کو یہ کر کے دکھایا ہے

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

قربان رہِ حق میں سب کر دیا تن من کو
نانا کی محبت میں کٹوایا ہے گردن کو
احسان نہ بھولیں گے یہ تیرا جہاں والے
سینچا ہے لہو دے کر تُو دین کے گلشن کو

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

شبیر ہے نام اُس کا حیدر کا دلارا ہے
جو فاطمہ زہرا کے آنکھوں کا ستارہ ہے
سالار اُسے دنیا کہتی ہے شہیدوں کا
سلطان مدینہ کا وہ پیارا نواسہ ہے

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

تقدیر پہ اتراؤ گر سچے حسینی ہو
باطل سے نہ گھبراؤ گر سچے حسینی ہو
ملنا ہے اگر تم کو سلطان شہیداں سے
کربل کو چلے جاؤ گر سچے حسینی ہو

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

جن کے لئے جنت سے آیا ہے حسیں جوڑا
جبریل جھلاتے تھے آ کر کے اُنہیں جھولا
اک میں ہی نہیں بلکہ اِس عالم امکاں میں
سرکارِ مدینہ کا ہر ایک گدا بولا

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

آؤ در زہرا پر تم جھولی کو پھیلاؤ
حیدر کے دلاروں کا فیضان سدا پاؤ
خالی نہیں جاتا ہے سائل کوئی اُس در سے
منہ مانگی مرادیں سب اک آن میں بھر لاؤ

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

جب تیر سے مارا ہے ظالم ترے لشکر نے
مسکایا ہے کربل میں اک چھوٹے سے اصغر نے
چھے ماہ کے بچے پر کچھ بھی نہ رحم کھایا
یہ کیسا ستم ڈھایا کمبخت ستمگر نے

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

مشہودرضا کو بھی خیرات عطا کر دیں
لبہائے مقدس سے جام اپنے لگا کر دیں
حسنین کے اے بابا ہے واسطہ زہرا کا
اب وادیئ کربل میں للہ بُلا کر دیں

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*
===💚🤍💚===

✍🏻 فقیر مشہودرضاقادری بلرام پوری مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

جب تیر سے مارا ہے ظالم ترے لشکر نے
مسکایا ہے کربل میں اک چھوٹے سے اصغر نے
چھے ماہ کے بچے پر کچھ بھی نہ رحم کھایا
یہ کیسا ستم ڈھایا کمبخت ستمگر نے

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*

جاوید رضا عطاری کو بھی خیرات عطا کر دیں
لبہائے مقدس سے جام اپنے لگا کر دیں
حسنین کے اے بابا ہے واسطہ زہرا کا
اب وادیئ کربل میں للہ بُلا کر دیں

*المدد مولی حسین*
*فاطمہ زہرا کے چین*
===💚🤍💚===

✍🏻 محمد جاوید رضا عطاری کشنگنجوی بہار

16/07/2024

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
مدرسہ فیضانِ مدینہ مصباح العلوم مدنی نگر باکھوٹولی
آج کل ائیر پورٹ پر میں نے اکثر مسافروں کو دیکھا ہے کہ وہ بار بار اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ یا تو ہاتھ میں ہی پکڑے رکھتے ہیں یا پھر کسی جیب یا بیگ میں رکھا ہو تو بار بار چیک کرتے رہتے ہیں کہ موجود ہے نہیں، کہیں گم تو نہیں ہو گیا کیونکہ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ جہاز میں سوار ہونے تک کئی بار چیک ہوتا ہے اور پھر جہاز سے اترتے ہی پھر سے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر غلطی سے کہیں یہ گم ہو جائیں تو فلائٹ میں سوار نہیں ہو سکیں گے۔
ایسا ہی کچھ ہمارے ایمان اور عملِ صالحہ کا حال ہے۔ یہی ہمارے پاسپورٹ اور ٹکٹ ہیں جو جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ بار بار ہم چیک کرتے رہیں کہ ہمارے ایمان کی کیا صورت حال ہے اور ہمارے اعمال کیسے ہیں۔ خود سے سوال لازمی کیجیے کہ کیا جو فرائض اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائے ہیں وہ ہم پورے کر رہے ہیں؟ چاہے وہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد میں سے۔ شروعات نماز سے کیجیے کہ سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال ہوگا۔
آخرت کے لیے اپنا پاسپورٹ اور اپنا ٹکٹ آج ہی چیک کیجیے۔
ہہ ایک یاد دہانی ہے جو سب سے پہلے میرے اپنے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا ایمان سلامت رکھے آمین.
محمد جاوید رضا عطاری کشنگنجوی (بہار)

Address

Kishanganj Bazar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when madarsa faizane madina misbahul uloom madani nager bakhotoli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category