Madarsa sultaniya Ashraful Uloom nauron bakhira Sant Kabir Nagar

Madarsa sultaniya Ashraful Uloom nauron bakhira Sant Kabir Nagar Madarsa Sultaniya Ashraful Uloom Nauron Bakhira Sant Kabir Nagar

22/12/2025

والدین کے لیے چند اہم اور بنیادی اصول پیشِ خدمت ہیں:

(1) نیت کی اصلاح
جب ہم اپنے بچوں کو قرآنِ مجید حفظ کرواتے ہیں تو اس کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔
دنیا کی عزت، شہرت یا نام کے بجائے دل میں اخلاصِ نیت ہو کہ ہم اپنے بچے کو اللہ کی رضا کے لیے حافظِ قرآن بنا رہے ہیں۔
والدین کی سب سے پہلی ذمہ داری یہی ہے کہ اپنی نیت کو خالص رکھیں۔

(2) اساتذہ کے ساتھ تعاون
بچوں کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں ہمیشہ اساتذہ کے ساتھ تعاون کیا جائے۔
قرآنِ مجید کا سبق، سبقی اور منزل جو ادارہ یا استاد مقرر کرے، اسی کے مطابق محنت کی جائے اور گھر میں یاد کروانے کی کوشش کی جائے۔

بسا اوقات بعض والدین یہ چاہتے ہیں کہ بچے کا قرآنِ مجید جلد از جلد مکمل ہو، اس لیے وہ استاد کے مقرر کردہ سبق سے زیادہ یاد کروانے پر زور دیتے ہیں۔
جبکہ مدرسے کے اندر پڑھانے والا استاد بہتر طور پر جانتا ہے کہ طالب علم کی ذہنی کیفیت اور ذہنی استطاعت کتنی ہے اور وہ کتنا سبق کر سکتا ہے۔

اس لیے والدین کو تعلیمی و تربیتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے بچنا چاہیے اور اساتذہ و ادارے کی بات پر اعتماد کرنا چاہیے۔
ہاں، اگر والدین محسوس کریں کہ بچہ مزید حفظ کر سکتا ہے تو استاد یا ادارے سے مشورہ کر کے مشترکہ فیصلہ کیا جائے۔

(3) گھر کا دینی ماحول
گھر کا ماحول دینی ہونا بے حد ضروری ہے۔
ٹی وی، موبائل اور اسکرین کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیے کیونکہ ان چیزوں کے زیادہ استعمال سے ذہن متاثر ہوتا ہے اور قرآنِ مجید کو یاد رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

(4) وقت کی پابندی
مدرسے کے آنے جانے کے اوقات کی پابندی کی جائے۔
بچوں کو وقت پر مدرسہ پہنچایا جائے، رات کو وقت پر سلایا جائے اور نمازوں کے اوقات کی مکمل پابندی کروائی جائے۔
وقت کی پابندی ہر معاملے میں نہایت ضروری ہے۔

(5) روزانہ تعلیمی کیفیت دریافت کرنا
اگر طالب علم روزانہ گھر آتا ہے تو والدین میں سے کم از کم کوئی ایک فرد بچے سے اس کی تعلیمی کیفیت کے بارے میں ضرور پوچھے:
آج کیا سبق پڑھا؟
سبق، سبقی اور منزل کتنی سنائی؟

اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچے نے محنت کی ہے یا سستی کی ہے۔
اگر بچہ ہفتے یا مہینے بعد آتا ہے تو جب بھی آئے اس سے اس کی تعلیمی کیفیت ضرور پوچھی جائے۔

(6) حوصلہ افزائی
بچوں کی اچھی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی ضرور کی جائے۔
مثلاً اگر کسی بچے نے ایک پارہ پچیس دن میں مکمل کیا اور اگلا پارہ بیس یا بائیس دن میں مکمل کیا تو اس کی تعریف کی جائے۔
اسی طرح امتحانات میں اچھی کارکردگی پر بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
حسبِ توفیق انعام یا گھر میں معمولی سی دعوت بھی حوصلہ بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

(7) بلا عذر چھٹی نہ کروانا
بلا وجہ اور بلا عذر بچوں کو چھٹی نہ کروائی جائے۔
بیماری یا مجبوری کی صورت میں چھٹی ہو سکتی ہے، لیکن بازار جانا، شادی یا دیگر معمولی مصروفیات کی وجہ سے بار بار چھٹی کروانا بچے کے سبق اور منزل دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے کہ بلا ضرورت چھٹی سے بچیں۔

(8) مدرسہ اور اساتذہ سے رابطہ
والدین کو چاہیے کہ مدرسہ اور اساتذہ سے مسلسل رابطے میں رہیں۔
کم از کم مہینے میں ایک مرتبہ ضرور ملاقات کریں۔
اس سے بچے کی کمزوریاں اور اچھی کارکردگی دونوں والدین کے علم میں رہیں گی اور تعلیم و تربیت مزید بہتر ہو سکے گی۔

یاد رکھیں!
قرآنِ مجید حفظ کرنا صرف بچے کا سفر نہیں بلکہ یہ والدین اور پورے گھرانے کا دینی سفر ہے۔
اگر والدین تعاون کریں گے اور توجہ دیں گے تو ان شاء اللہ بچوں کی تعلیم بھی بہتر ہوگی اور تربیت بھی۔

Address

Nauron Bakhira Sant Kabir Nagar
Khalilabad

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 3pm
Thursday 9am - 3pm
Saturday 9am - 3pm
Sunday 9am - 3pm

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madarsa sultaniya Ashraful Uloom nauron bakhira Sant Kabir Nagar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category