Hasan Riyaz

Hasan Riyaz لَا إلَهَ إلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ

مفتی محمد حسن میواتی
( دارالعلوم محمدیہ میل کھیڑلا )

30/04/2026
28/04/2026

ہزاروں لیٹر دودھ ندی میں بہایا گیا

28/04/2026

یہ سب وہ عورتیں ہیں جن کو فنانشیل انڈیپینڈینس (معاشی خود مختاری) کی چکی میں جھونک دیا گیا ہے۔ ان سب کے بچے کیسے پل رہے ہوں گے ہم آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔
وقت کا پہیہ واپس نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔ لیکن یہ ظلم ہے۔ ۔ ان کو اپنے گھروں میں پرسکون ہونا چاہیے تھا۔ ۔ اور مردوں کو کام کرنا چاہیے تھا
کاش فیمنز،م کی تحریک یہ ہوتی کہ مرد جہاں جہاں گھر بیٹھی عورت کو حقوق نہیں دے رہا وہ دلوائے جائیں ۔ ۔۔ نہ کہ مرد کی جگہ کام کیا جائے

28/04/2026

مولانا کلیم الدین صدیقی صاحب (فک اللہ اسرہ) میڈیکل چیک اپ کے دوران

28/04/2026

جب چاند سے زمین کی پہلی مرتبہ رنگین تصویر لی گئی

تعلیمی سفر میں وقت کا صحیح استعمال کامیابی و کامرانی کے لیے شاہ کلید
27/04/2026

تعلیمی سفر میں وقت کا صحیح استعمال کامیابی و کامرانی کے لیے شاہ کلید

27/04/2026

*بتان رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا*
*نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی ، نہ افغانی*

27/04/2026

بتان رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی ، نہ افغانی

مشترکہ بیاننئی دہلی: 27؍ اپریل 2026 ہندوستان کے آئین میں دفعہ 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ دف...
27/04/2026

مشترکہ بیان

نئی دہلی: 27؍ اپریل 2026
ہندوستان کے آئین میں دفعہ 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ دفعہ 30 کے تحت مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وطن عزیز میں دینی مدارس ہمارے مذہبی اقدار کے تحفظ کا اہم ترین ذریعہ ہیں اور آئین ہند نے ان حقوق کو بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کے طور پر تسلیم کیا ہے؛ اس لیے ان کی حفاظت ملت اسلامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مدارس نے ملک کی آزادی اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ نفرت انگیز سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والے بعض عناصر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی مدارس اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، گزشتہ دنوں اتراکھنڈ حکومت ایک بل لے کر آئی ہے ، جس کے تحت تمام مدارس کو سرکاری تعلیمی بورڈ میں رجسٹر کرانا لازمی قرار دیا جا رہا ہے اور آئندہ تعلیمی بورڈ یہ بھی طے کرے گا کہ مذہب سے متعلق کیا تعلیم دی جائے اور کیا نہیں، نیز نصاب بھی وہی ہوگا ، جو حکومت کی طرف سے مقرر کیا جائے گا۔
ہمارا ماننا ہے کہ یہ قانون آئین میں دی گئی ضمانتوں اور بنیادی حقوق کے سراسر خلاف ہے؛ بلکہ ایک سیکولر ریاست سے جو توقع کی جاتی ہے، اس سے بھی متصادم ہے؛ اس لیے اس کی مخالفت کرنا اور آئین میں دی گئی مدارس کی آزادی کو برقرار رکھنا پوری ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں تمام ملی تنظیمیں آپ کے ساتھ ہیں اور مدارس کا بھر پور ممکنہ تعاون کریں گی، اس معاملے میں کچھ مقدمات اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

▪️ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ )
▪️ حضرت مولانا سید ارشد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند )
▪️ حضرت مولاناسید محمود اسعد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند )
▪️ حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی (صدر مجلس اتحاد ملت)
▪️ محترم جناب سید سعادت اللہ حسینی (امیر جماعت اسلامی ہند )
▪️ حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری بورڈ )
▪️ حضرت مولاناسید بلال عبدالحی حسنی ندوی (سکریٹری بورڈ )
▪️ حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی (صدر جمعیت اہل حدیث ہند)

Address

Meel Kherla Bharatpur
Bharatpur
321204

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hasan Riyaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category