Desi mood

Directions

Desi mood 🎉 Online jobs Available 💯🎉

05/06/2026

Exercise is best for health

04/06/2026

Straching exercise on homework out

ملکہ ناولپہلی قسطمیں اپنے خاندانی نام کی ہیبت، آباؤ اجداد کی چھوڑی ہوئی بے پناہ دولت اور ڈھاکہ کے متمول معاشرے میں اپنے ...
04/06/2026

ملکہ ناول
پہلی قسط

میں اپنے خاندانی نام کی ہیبت، آباؤ اجداد کی چھوڑی ہوئی بے پناہ دولت اور ڈھاکہ کے متمول معاشرے میں اپنے ارفع و اعلیٰ مقام کے زعم میں ڈوبا ہوا ایک ایسا خود پسند نوجوان تھا جس کے لئے دنیا کی ہر نایاب آسائش اور انسانی وجود محض ایک حقیر اشارے کی مار تھے۔ میرا گہرا تعلق بنگلہ دیش کے دارالحکومت کے ایک انتہائی بااثر، مقتدر اور جاہ و جلال والے کاروباری خاندان سے تھا، جہاں روز و شب کی گردش ریشمی پردوں کی سرسراہٹ، دنیا کی مہنگی ترین اسپورٹس گاڑیوں کے انجنوں کی گرج اور اشرافیہ کی ان عالی شان، مدہوش کن پارٹیوں کے گرد گھومتی تھی جہاں اخلاقیات دم توڑ دیتی ہیں۔

میری ہٹ دھرمی، کبر و نخوت اور خود پرستی کا یہ عالم تھا کہ میں عام انسانوں کو ان کی تذلیل کرتے ہوئے محض اپنے سماجی مرتبے اور دولت کے ترازو سے ناپتا تھا، اور اس خنک شام سندر بن کے اس لامتناہی اور پراسرار خطے کے نجی دورے کا واحد مقصد بھی کسی ہمدردی کے تحت نہیں بلکہ محض اپنی نئی پرائیویٹ تفریح گاہ کی تعمیر کے لئے زمین کا شاہانہ معائنہ کرنا تھا تاکہ اپنی ہوسِ ملکیت کو تسکین دے سکوں۔

سرخ و سفید رنگت، چوبیس سال کی بھرپور اور کسرتی عمر، گہری بھوری آنکھیں جن میں حاکمیت کا نشہ جھلکتا تھا، اور چہرے پر جمی شیو میرے اس سراپا کو مزید جلال بخشتی تھی جو ہر دیکھنے والے کو مرعوب کر دیتا تھا۔ میری ظاہری شخصیت اٹلی کے بنے ہوئے مہنگے برانڈڈ ریشمی ملبوسات، قیمتی کلف، اور بائیں کلائی پر چمکتی پچاس لاکھ ٹکا مالیت کی نایاب ڈائل والی گھڑی کے ایک ایسے مغرور اور تکبر آمیز حلیے سے عبارت تھی جو دشتِ تنہائی میں بھی میرا رعب قائم رکھتی۔

مگر اس چمکتے ہوئے جاہ و جلال کے اندرونی رخ پر، میں ایک ایسے مہیب حسیاتی ہیجان، روحانی کھوکھلے پن اور شدید نفسیاتی تنہائی کا شکار تھا جسے عارضی طور پر مٹانے کے لئے میں اکثر خطرناک اور بے باک مہم جوئیوں کا سہارا لیتا تھا۔ یہی حد سے بڑھی ہوئی مہم جوئی کی لایعنی پیاس مجھے اس سیاہ شام اپنے نجی چارٹرڈ طیارے میں سندر بن کے ان مہیب، دلدلی اور ممنوعہ گہرے حصوں کے اوپر کھینچ لائی تھی جہاں موت کے خوف سے کوئی عام انسان جانے کا وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔

گہرے، دم گھٹتے ہوئے سیاہ بادلوں کے غبار اور مہیب دھند میں گھرا ہوا ہمارا چھوٹا سا پوش پرائیویٹ طیارہ اس وقت بنگال کی کھاڑی کے نمکین، تند و تیز اور جادوئی افق پر کسی بے رحم طوفان کے رحم و کرم پر موجود ایک سوکھے پتے کی طرح بری طرح کانپ رہا تھا۔ میں فرسٹ کلاس کی نرم، سفید مخملی نشست پر نیم دراز، جرمن ساختہ تیز الکحل کی تلخی کو زبردستی اپنے حلق میں اتارتے ہوئے ہنس رہا تھا اور کھڑکی کے شیشے سے باہر پھیلی اس لامتناہی کالی سیاہی کو گھور رہا تھا جہاں رہ رہ کر کڑکنے والی کالی بجلی رات کے مہیب چہرے پر ایک عارضی لرزہ پیدا کر دیتی تھی۔

میرے اردگرد بکھرا ہوا عیش و عشرت کا یہ سحر انگیز سامان، قیمتی اطالوی چمڑے کے چمکتے ہوئے صوفے، خالص صندل کی لکڑی سے مزین کیبن کی دیواریں اور نایاب بلوریں گلاس اچانک مجھے ایک خوبصورت، دم گھٹتا ہوا طلسماتی قید خانہ محسوس ہونے لگے کیونکہ کاک پٹ سے مائیک پر ابھرنے والی کپتان کی کپکپاتی آواز میں شامل شدید اعصابی ارتعاش نے یہ واضح کر دیا تھا کہ سندر بن کے ان اندھے اور پراسرار مینگروو جنگلات کے اوپر ہم زندگی کی آخری اور سب سے ہولناک بازی کھیل رہے ہیں۔

مائیک پر ہونے والی کپتان کی اس آخری، خوفزدہ اور نیم مردہ سرگوشی کے ساتھ ہی طیارے کے دونوں دائیں اور بائیں انجنوں نے یکے بعد دیگرے ایک ہولناک، کان پھاڑ دینے والے دھماکے کے ساتھ دم توڑ دیا اور اندرونی برقی لائٹس کے یکلخت بجھتے ہی پورا عالیشان کیبن ایک اندھے، چیختے ہوئے لایعنی کنویں میں تبدیل ہو گیا۔

ہوا کے شدید دباؤ کے سیکنڈوں میں بدلتے ہی کھڑکیوں کے باہر گرجتے ہوئے بادلوں اور آندھی کا مہیب شور کیبن کے اندر تک اس طرح گونجنے لگا جیسے ہزاروں شیاطین ہنس رہے ہوں، اور صندل کی لکڑی کی دلفریب خوشبو جلتے ہوئے بارود اور پگھلتے ہوئے لوہے کی تیز، زہریلی بو میں بدل گئی۔ توازن کھوتے ہی جہاز کا رخ نہایت خوفناک رفتار کے ساتھ سیدھا نیچے زمین کی طرف ہوا، اور چند لمحے پہلے تک عیش و عشرت کا گہوارہ بنا ہوا وہ پورا شاہانہ ماحول چند سیکنڈوں کے اندر موت کے ایک ایسے سنسنی خیز، بھیناک اور روح فرسا منظرنامے میں تبدیل ہو گیا جہاں دولت کی کوئی اوقات نہیں رہی تھی۔

گرتے ہوئے نجی جہاز کی کششِ ثقل کی لرزہ خیز رفتار نے میرے پورے وجود کو سیٹ کے چمڑے کے ساتھ اس طرح بے رحمی سے جکڑ دیا تھا جیسے کوئی نادیدہ، غضبناک دیو مجھے پاتال کی سب سے تاریک گہرائیوں میں کھینچ رہا ہو اور کانوں کے پردے پھاڑتی ہوئی ہوا کی لامتناہی سنسناہٹ نے میرے تمام اعصاب کو ہمیشہ کے لئے شل کر دیا تھا۔ دھات کے آپس میں ٹکرانے، طیارے کے ٹوٹتے ہوئے پرزوں کے ہچکولوں اور کیبن میں ادھر ادھر اڑتی ہوئی قیمتی کرسٹل کی اشیاء کے باہم ٹکرانے کے شور کے بیچ مجھے اپنی حتمی موت کا سرد لمس اپنے چہرے پر رینگتا ہوا صاف محسوس ہوا، جہاں میری سانسیں حلق کی گہرائیوں میں کسی پتھر کی طرح جم گئیں اور آنکھوں کے سامنے بیتے چوبیس سالوں کے ماضی کی تمام عیاشانہ رعنائیاں ایک دھندلا سا، آخری استعارہ بن کر گھوم گئیں۔ بلندی اب تیزی سے ختم ہو رہی تھی، جہاز کے اڑتے ہوئے پروں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں اور نیچے سندر بن کا وہ مہیب، گہرا دلدلی سمندر اپنے ہزاروں درختوں کے نوکیلے بازو پھیلائے ہمارے گوشت اور پوست کے استقبال کے لئے تشنہ کام کھڑا تھا۔

اچانک ایک انتہائی زوردار، ریڑھ کی ہڈی کو جھنجھنا دینے والے جھٹکے کے ساتھ ہمارا طیارہ سندر بن کے ان دیکھے، بلند و بالا صنوبر کے درختوں کے گھنے اور مہیب چھتر سے ٹکرایا، جہاں لوہے کی دھات اور جاندار لکڑی کا وہ خونی تصادم شروع ہوا جس نے اندھیرے میں آگ کی سرخ چنگاریوں کے بھیانک کینوس بکھیر دیے۔ صنوبر اور مینگروو کی مضبوط، نوکیلی شاخیں کھڑکیوں کے موٹے شیشوں کو تارتار کرتی ہوئی کیبن کے اندر تک داخل ہوئیں، ریشمی پردوں کو پرزے پرزے کرتی گئیں اور، ایک آخری الوداعی دھماکے نے مجھے ہوش و حواس سے بیگانہ کر کے لامتناہی، گہرے اندھیرے کی گہرائی میں پھینک دیا۔

پورا طیارہ تاش کے پتے کی طرح کئی حصوں میں بکھر کر جنگل کی دلدلی مٹی میں جا گرا۔
ہوش کی نامعلوم سرحد پر واپس لوٹنے کا وہ پہلا سفر ایک شدید، جلتے ہوئے جہنمی عذاب جیسا تھا جہاں میری بائیں پسلیوں اور دائیں ٹانگ سے اٹھنے والا تڑپا دینے والا درد پورے جسم کے رگ و پشے میں پگھلے ہوئے سرخ سیسے کی طرح سرایت کر رہا تھا۔ جب میں نے اپنی بوجھل، نیلے نشانات اور جمے ہوئے خون سے اٹی ہوئی پلکیں بڑی مشکل سے کھولیں تو چاروں طرف سندر بن کی قدیم، دشت ناک اور ویران خاموشی کا خوفناک راج تھا جسے صرف دور کہیں بہتے ہوئے دریا کے نمکین پانی کی مدہم لہریں اور کسی نامعلوم پرندے کی دلدوز چیخیں توڑ رہی تھیں۔

طیارے کا ملبہ ایک کٹی پھٹی خونی لاش کی طرح اس کیچڑ زدہ دلدلی زمین پر بکھرا پڑا تھا، جس کی جلی ہوئی دھات سے اٹھنے والا کالا، زہریلا دھواں ناریل کے جھلسے ہوئے درختوں اور جڑی بوٹیوں کی تیز خوشبو کے ساتھ مل کر فضا میں ایک عجیب، گھٹتا ہوا حبس پیدا کر رہا تھا، اور میں اپنی برانڈڈ قمیض کے چتھڑے پہنے، مٹی کے فرش پر شدید زخمی حالت میں تنِ تنہا پڑا تھا۔

میں نے اپنی بقا کی حیوانی جبلت کے تحت، درد سے بلبلاتے ہوئے، اپنے خاک اور سیاہ مٹی میں لت پت ہاتھوں کو زمین پر ٹکایا اور خود کو اس سلگتے ہوئے جہنم اور تپتی ہوئی دھات سے دور کھینچنے کی تگ و دو شروع کی، جہاں ہر رینگتے ہوئے انچ پر سندر بن کی گیلی مٹی میرے کمزور پڑتے وجود کو نگلنے کے لئے بے تاب دکھائی دیتی تھی۔ میں رینگتا ہوا طیارے کے کیبن کے اس حصے تک پہنچا جو ٹوٹ کر ایک طرف گرا تھا، جہاں عیش و عشرت کا سامان اب کچرے کا ڈھیر بن چکا تھا؛ وہاں پیاس کی شدت سے میرے خشک ہوتے ہوئے ہونٹ اور حلق کسی ریگستان کی طرح تپ رہے تھے۔

میں نے ملبے کی خاک چھانتے ہوئے بائیں ہاتھ کی ٹوٹی ہوئی انگلیوں کے باوجود ایک کچلے ہوئے بیگ کو اپنی طرف کھینچا، جس کے اندر سے خوش قسمتی سے منرل واٹر کی ایک آدھی سلامت بوتل اور فرسٹ ایڈ کٹ کا ایک چھوٹا سا چمڑے کا پاؤچ میرے ہاتھ آ گیا، جو اس وقت دنیا کے تمام خزانوں سے بڑھ کر تھا۔
اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پانی کی چند بوندیں حلق میں ٹپکانے کے بعد، میں نے اپنی آستین کے چتھڑے کو پھاڑ کر اس منرل واٹر سے گیلا کیا اور اپنے چہرے، ماتھے اور آنکھوں کے گرد جمے ہوئے اس کثیف، گہرے سرخ خون اور مٹی کو صاف کرنا شروع کیا جو میری بصارت کو دھندلا رہے تھے۔

زخموں کے صاف ہوتے ہی جب صاف پانی کی بوندیں میری کھلی ہوئی جلد پر پڑیں تو درد کی ایک ایسی لرزہ خیز لہر اٹھی کہ میرے حلق سے ایک دبی ہوئی چیخ نکل گئی، لیکن میں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے کٹ میں موجود جراثیم کش مائع کو اپنی پسلیوں اور ٹانگ کے گہرے زخم پر انڈیل دیا تاکہ تعفن نہ پھیلے۔

سندر بن کی وہ نمکین ہوا جس میں رطوبت، مچھلی اور سڑتی ہوئی نباتات کی بو رچی ہوئی تھی، میرے ان صاف ہوتے ہوئے زخموں کو مزید جھلسا رہی تھی، اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مجھے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس جنگل کی تاریکی اب میری زندگی کی آخری پناہ گاہ بننے جا رہی ہے۔

شام کے الوداعی سائے اب تیزی سے پھیل کر سندر بن کے اس گھنے خطے کو ایک پراسرار، کالی قید میں تبدیل کر رہے تھے اور میری کلائی پر بندھی قیمتی، ٹوٹ چکی گھڑی کے ڈائل پر اب پورن ماشی کے چاند کی پہلی چمکدار روشنی منعکس ہونے لگی تھی۔ چاند کی اس دودھیا چمک نے صنوبر کے وشال درختوں کے پتوں سے چھن کر جنگل کے ویران، گیلے فرش پر چاندی کے مبہم اور علامتی استعارے بکھیر دیے تھے، جس سے ماحول کی گہرائی مزید بھیانک اور سحر انگیز ہو گئی تھی۔

درد کی ایک اور شدید، اعصاب شکن لہر نے مجھے دوبارہ اسی درخت کے تنے کے پاس نڈھال ہو کر گرنے پر مجبور کر دیا، جہاں بیٹھ کر میں نے اپنی آستین سے چہرے پر رستا ہوا تازہ خون صاف کیا اور اپنی بے بس، تھکی ہوئی آنکھوں کو اس مہیب تنہائی اور رات کے پھیلتے ہوئے سنسنی خیز سناٹے کے حوالے کر دیا۔

04/06/2026

Sadgi mein bhi fitness mumkin hai 🏋️‍♀️ Asan desi home workout motivation!
:

03/06/2026

Desi Housewife Fitness Goals! ✨ Ghar baithay khud ko fit aur active banayein.

Address

Melbourne, VIC

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desi mood posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share