25/01/2026
اللہ پر یقین کی طاقت — حضرت عمر فاروقؓ اور دریائے نیل
بھائیو اور بزرگو!
ذرا سوچئے… ایک پورا شہر، ایک عظیم دریا، اور لوگوں کا یقین کس پر تھا؟
رسم پر… انسان پر… قربانی پر…
مگر اللہ پر نہیں۔
مصر کے لوگ کہتے تھے:
“جب تک ایک لڑکی کو دریائے نیل میں قربان نہ کیا جائے، نیل نہیں بہتا۔”
یہ جہالت تھی…
یہ شرک تھا…
یہ انسانیت کی توہین تھی…
جب یہ بات امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچی تو آپؓ نے فرمایا:
اسلام انسان کو بچانے آیا ہے، قربان کرنے نہیں۔
حضرت عمرؓ نے نہ فوج بھیجی، نہ رسم ماننی،
بس اللہ پر یقین کے ساتھ ایک خط لکھا۔
اے سننے والو!
وہ خط کیا تھا؟
وہ توحید کا اعلان تھا!
“اے نیل! اگر تو خود بہتا ہے تو مت بہہ،
اور اگر اللہ واحد کے حکم سے بہتا ہے تو ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے بہا دے۔”
اور پھر کیا ہوا؟
وہ نیل…
جس کے لیے سالہا سال معصوم لڑکیاں قربان کی جاتی رہیں…
اللہ کے ایک حکم سے موجزن ہو گیا!
یہ پیغام ہے میرے بھائیو!
رزق نیل سے نہیں آتا
بارش بادل سے نہیں آتی
عزت عہدے سے نہیں ملتی
سب کچھ صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
آج ہم بھی تو نیل نہیں پوج رہے؟
کبھی پیسے کو
کبھی موبائل کو
کبھی انسان کو
ہم کہتے ہیں:
“یہ نہ ہوا تو میرا کام نہیں چلے گا”
ارے!
جس اللہ نے نیل کو بہایا،
وہ تمہاری مشکل کیوں حل نہیں کرے گا؟
بس شرط ایک ہے…
یقین!
اللہ ہمیں سچا یقین عطا فرمائے،
شرکِ خفی سے بچائے،
اور اپنے اوپر کامل بھروسہ نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔