20/10/2025
ہماری سنہری تاریخ
مولانا اعظم طارق کا ایک واقعہ
اسلام آباد پارلیمنٹ کے لاجز میں بیٹھے ہوئے تھے کیا خوب منظر دیکھتے ہیں ایک شخص بطورِ تحفہ کے بہت ساری مٹھائی، کپڑے، خوشبو، فروٹ، اور زیرو میٹر گاڑی کی چابی پیش کرنے کے لیے حاضر ہوتا ہے
اور عرض کرتا ہے کہ! حضرت میرا جو بیٹا افریقہ کی ریاست "گھانا" میں قید تھا کیس کی صورتحال کے پیشِ نظر اسے 18 سے 20 سال قید گزارنی تھی مگر آپ کی ایک کال کی برکت سے رات مغرب کے وقت پانچ دن کے اندر اندر وہ واپس پاکستان اپنے گھر اسلام آباد پہنچ چکا ہے ۔
ابھی یہ شخص شکریہ ادا کرکے اٹھا نہیں تھا کہ جنوبی پنجاب کے اک قیدی کے لاٹھی ٹیکتےبوڑھے والد و بھائی فریاد لے کر حاضر ہوئے ۔۔ عرض کیا حضرت ہمارا مدمقابل 16 لاکھ روپے لیکر صلح کے لیے تیار ہے اللہ کا واسطہ ہے کچھ کریں ہمارا بیٹا سزائے موت سے بچ جائے گا ۔
حضرت نے اس روتے بوڑھے باپ کو پانی پیش کرتے ہوئے سر اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا ۔
اورساتھ ہی تحفے میں نئی گاڑی پیش کرنے والے صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا جو گاڑی آپ مجھے تحفہ میں دینا چاہتے ہیں وہ کہاں ہے۔۔؟
اس شخص نے بڑی خوشی اور جلدبازی میں عرض کیا حضرت ساتھ لیکر آیا ہوں وہ نی