19/09/2025
میرا صحتمند ہمسایہ۔۔۔۔۔۔
میرا نام صائمہ ھے میری عمر چوبیس سال ھے میں بچپن
سے شادی تک کسی کے ساتھ اپنے جذبات شئیر نہیں کرتی تھی میں سیل بند تھی جب میری شادی ھوئی اور پھر آیا میری زندگی میں بدلاؤ جو میں بیان کرونگی
گھر میں پلی پڑھی تھی یہ نہ تو کوئی خاص مذہبی گھرانہ تھا جہاں بہت زیادہ سختی برتی جا رہی ہو اور نہ ہی آزاد خیال کہ جو مرضی کرو اور کوئی پوچھ تاچھ نہیں
والد کام پر جاتے شام کو گھر لوٹ آتے اماں گھریلو کاموں میں مصروف رہتیں یونہی زندگی ایک ہی ڈگر پر چل رہی تھی مہروکی بھی بہت زیادہ سہیلیاں نہیں تھیں سکول کا سب کچھ سکول میں رہ جاتا اور گھر آ کر والدہ کے ساتھ گھرکے کاموں میں ہاتھ بٹا دیتی البتہ ابا جی کے لیے رات کی چائے مہرو نے ہی بنانی ہوتی تھی
سکول ختم ہوا تو نہ مہرونے کسی کالج میں جانے کے لیے تگ و دو کی اور نہ ہی گھر میں کسی نے پوچھا کہ آگے کی پڑھائی کا کیا کرنا ہے یوں وہ کالج بھی نہ جاسکی
ماں نے مہرو کو گھر کے کاموں میں مشغول کر لیا اور جیسے ہی پہلا رشتہ آیا مناسب دیکھ بھال کے بعد مہروکے لیے فوراً ہاں کردی
شادی کے بعد بھی مہرو کی زندگی کچھ خاص نہیں بدلی خاوند اچھا تھا خیال رکھتا تھا بہت زیادہ نکتہ چینی بھی نہیں کرتا تھا معمول کی زندگی گزر رہی تھی کہ ایک دن اچانک ایک بھونچال سا آ گیا
ہوا یوں کہ ایک قریبی عزیز کی مہندی کھ موقع پر مہرو پیچھے سٹور روم میں کپڑے بدلنے گئی سٹور روم کا دروازہ نہیں تھا اس لیے مہرونے بلب آن نہیں کیا قمیض اتار کر ایک طرف رکھی ہی تھی کہ اچانک اسکا نندوئی کمرے میں داخل ہوا وہ ہڑبڑا کر رہ گئی اس اچانک آمد نے جیسے اسکے اوسان ہی خطا کردیئے
دوسری طرف دیکھا کے نندوئی کا بھی یہی حال تھا وہ چند ثانیے مبہوت کھڑا رہا اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی اس نے آگے بڑھ کر مہرو کی گردن کے پیچھے ہاتھ ڈال کر بالوں سے پکڑا گردن پر بوسہ دیا ساتھ ہی اسکی گال ہر اپنے ہونٹ رکھ دیئے
مہرو نے جھٹکے سے اس سے اپنا آپ چھڑایا اور قمیض اٹھا کر پہننے لگی اتنی دیر میں اسکا نندوئی بھی تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا جب تک دوبارہ حال میں آئی تو اس کے اوسان خطا تھے وہ قطعی اجنبیت سے سب پر نظریں دوڑا رہی رھی جیسے اسے اپنے چور کی تلاش ہو کہیں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ دیکھ کر وہ طمانیت سے ایک طرف صوفے ہر بیٹھ گئی اسکی آنکھیں بند تھیں اور وہی منظر اس کی نظروں میں با