30/07/2025
عورت اور مرد میں کیا فرق ہے؟
✍️ :تحریر ( انیس الرحمن سومرو )
Press3866gmail.com
03033866390
عورت اور مرد دو الگ جسم، مگر ایک ہی روح کے آئینے۔ قدرت نے ان دونوں کو مختلف صفات، احساسات، اور ذمہ داریوں کے ساتھ پیدا کیا، لیکن انسان نے فرق کو فوقیت میں بدل دیا۔
ہم آج بھی اس سوال کے گرد گھوم رہے ہیں کہ "عورت اور مرد میں کیا فرق ہے؟" حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے: "کیا انسان ہونے میں کوئی فرق باقی ہے؟"
عورت کو صدیوں سے کمزور سمجھا گیا، حالانکہ وہی ماں ہے جو ایک نسل کو جنم دیتی ہے، وہی بہن ہے جو غیرت کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہی بیوی ہے جو زندگی کا ساتھی بنتی ہے، اور وہی بیٹی ہے جو رحمت کہلاتی ہے۔
عورت کو کبھی گڑیا کہا گیا، کبھی بوجھ۔ مگر کیا مرد نے کبھی سوچا کہ وہ جو راتوں کو جاگ کر بچوں کو دودھ دیتی ہے، کیا وہ کمزور ہو سکتی ہے؟ وہ جو اپنے خواب قربان کر کے شوہر کے خواب پورے کرتی ہے، کیا وہ ناقص العقل ہو سکتی ہے؟
عورت اور مرد میں فرق صرف جسمانی ساخت کا ہے، شعور کا نہیں۔ عورت کا احساس زیادہ گہرا ہے، جذبہ زیادہ خالص ہے، اور قربانی کی حد بے مثال ہے۔ اگر مرد طاقت کی علامت ہے، تو عورت صبر کی پہچان ہے۔
مگر افسوس، یہ معاشرہ عورت کے صبر کو کمزوری سمجھ بیٹھا ہے۔
آج بھی عورت کو معاشرتی "قواعد" اور جھوٹی "روایات" کی صلیب پر چڑھایا جاتا ہے۔
کبھی وہ پسند کی شادی کرنے پر قتل کر دی جاتی ہے۔
کبھی اسے غیرت کے نام پر دفنا دیا جاتا ہے، اور وہ غیرت صرف مرد کی ہوتی ہے، عورت کی نہیں۔
کبھی وہ سسرال کے طعنوں سے گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہے، کیونکہ جہیز کم لائی تھی۔
کبھی وہ بیٹی پیدا کرنے کی سزا میں جلیل کی جاتی ہے، گویا اولاد کا تعین عورت کے اختیار میں ہو۔
کبھی وہ تعلیم کے حق سے محروم رکھی جاتی ہے کہ لڑکی کو صرف گھر سنبھالنا ہے۔
کہاں گئی وہ تعلیم جسے ماں کی گود سے شروع ہونا تھا؟
کہاں گئی وہ عزت جو عورت کے قدموں تلے جنت کے وعدے سے جڑی تھی؟
کہاں ہے وہ "اسلامی معاشرہ" جہاں عورت کو پردہ کا حکم تو یاد ہے، مگر اس کے حقوق بھلا دیے گئے؟
یہ معاشرہ عورت کو مجسمہ بنا کر پوجتا ہے، لیکن زندہ عورت سے خوفزدہ رہتا ہے۔
ہر سال ہزاروں عورتیں صرف اس لیے قتل کر دی جاتی ہیں کہ انہوں نے "چپ" رہنے سے انکار کر دیا۔
وہ بولیں، سوچیں، یا خواب دیکھیں — تو یہ سماج انہیں خاموش کرا دیتا ہے، اکثر ہمیشہ کے لیے۔
اب وقت