Anees ur rahman soomro

Anees ur rahman soomro My Official page
Chairman / al rahman
Press culb rajan pur kalan

21 August 1961
21/08/2025

21 August 1961

21/08/2025
یومِ آزادی… خوشیاں یا خود فریبی کا دن تھا تحریر : ( انیس الرحمن سومرو ) Press3866@gmail com0303386639014 اگست 1947… برصغ...
16/08/2025

یومِ آزادی… خوشیاں یا خود فریبی کا دن تھا

تحریر : ( انیس الرحمن سومرو )
Press3866@gmail com
03033866390

14 اگست 1947… برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں، ہجرتوں، اور خون کی سرخی سے لکھی گئی ایک تاریخ کا دن۔تھا اس دن کا مقصد صرف جھنڈے لہرانا یا ترانے بجانا نہیں تھا، بلکہ ایک خواب کی تعبیر تھی — ایک ایسی مملکت جہاں مسلمان اپنی دینی، ثقافتی اور سیاسی آزادی کے ساتھ جی سکیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کا وجود اسلام کے اصولِ عدل، مساوات، اور اخوت پر مبنی ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے ہے۔ دو قومی نظریہ اسی مقصد کا نچوڑ تھا، جس میں مذہبی آزادی، ثقافتی تحفظ، سیاسی خودمختاری، اور معاشی خود انحصاری شامل تھے۔

مگر آج، جب ہم 78واں یومِ آزادی مناتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس خواب کی تعبیر کو پا سکے ہیں؟ ہمارا پہلا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں مسلمان آزادانہ طور پر اپنی شریعت اور دینی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں، مگر آج ہمارے حالات ایسے ہیں کہ ہم اپنے ہی مذہبی مراکز کے تحفظ میں ناکام ہیں۔ حالیہ "مدنی مسجد" اور مزید 50 مساجد کو گرانے کا متنازع فیصلہ، اور کئی دیگر مذہبی معاملات میں اغیار کی پالیسیوں کی پیروی، ہمارے اس مقصد پر سوالیہ نشان ہیں۔ ہم اس ملک میں بھی اپنے دین کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں، جس کے قیام کا بنیادی مقصد ہی مذہبی آزادی تھا۔

دو قومی نظریہ کا دوسرا ستون ثقافتی بقا تھا، مگر آج دفتروں میں اردو زبان کو سرکاری حیثیت میں استعمال کرنا تو دور، ہماری تعلیم، میڈیا اور روزمرہ گفتگو بھی غیرملکی زبانوں کی غلامی میں ہے۔ ہمارے کھانے، رہن سہن، لباس اور تہوار مغربی اثرات سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ اصل پاکستانی یا اسلامی رنگ تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنی زبان، اپنی روایات، اور اپنی پہچان کو خود پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

سیاسی خودمختاری کا مطلب تھا کہ عوام کی رائے سے منتخب حکومتیں آئیں جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کریں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے حکمران وہی ہوتے ہیں جو باہر سے "منظور شدہ" ہوں۔ فیصلے واشنگٹن، لندن اور دیگر دارالحکومتوں میں ہوتے ہیں، اور ہمارے وزیر اعظم و وزراء صرف منظوری لینے کے لیے جھکتے ہیں۔ عوام کی خواہشات، وعدے، اور منشور سب کاغذی رہ جاتے ہیں، جبکہ پالیسیاں بیرونی مفادات کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔

ہم نے سوچا تھا کہ پاکس

عورت اور مرد میں کیا فرق ہے؟✍️ :تحریر ( انیس الرحمن سومرو )  Press3866gmail.com 03033866390عورت اور مرد دو الگ جسم، مگر ...
30/07/2025

عورت اور مرد میں کیا فرق ہے؟

✍️ :تحریر ( انیس الرحمن سومرو )
Press3866gmail.com
03033866390

عورت اور مرد دو الگ جسم، مگر ایک ہی روح کے آئینے۔ قدرت نے ان دونوں کو مختلف صفات، احساسات، اور ذمہ داریوں کے ساتھ پیدا کیا، لیکن انسان نے فرق کو فوقیت میں بدل دیا۔

ہم آج بھی اس سوال کے گرد گھوم رہے ہیں کہ "عورت اور مرد میں کیا فرق ہے؟" حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے: "کیا انسان ہونے میں کوئی فرق باقی ہے؟"

عورت کو صدیوں سے کمزور سمجھا گیا، حالانکہ وہی ماں ہے جو ایک نسل کو جنم دیتی ہے، وہی بہن ہے جو غیرت کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہی بیوی ہے جو زندگی کا ساتھی بنتی ہے، اور وہی بیٹی ہے جو رحمت کہلاتی ہے۔

عورت کو کبھی گڑیا کہا گیا، کبھی بوجھ۔ مگر کیا مرد نے کبھی سوچا کہ وہ جو راتوں کو جاگ کر بچوں کو دودھ دیتی ہے، کیا وہ کمزور ہو سکتی ہے؟ وہ جو اپنے خواب قربان کر کے شوہر کے خواب پورے کرتی ہے، کیا وہ ناقص العقل ہو سکتی ہے؟

عورت اور مرد میں فرق صرف جسمانی ساخت کا ہے، شعور کا نہیں۔ عورت کا احساس زیادہ گہرا ہے، جذبہ زیادہ خالص ہے، اور قربانی کی حد بے مثال ہے۔ اگر مرد طاقت کی علامت ہے، تو عورت صبر کی پہچان ہے۔

مگر افسوس، یہ معاشرہ عورت کے صبر کو کمزوری سمجھ بیٹھا ہے۔
آج بھی عورت کو معاشرتی "قواعد" اور جھوٹی "روایات" کی صلیب پر چڑھایا جاتا ہے۔

کبھی وہ پسند کی شادی کرنے پر قتل کر دی جاتی ہے۔

کبھی اسے غیرت کے نام پر دفنا دیا جاتا ہے، اور وہ غیرت صرف مرد کی ہوتی ہے، عورت کی نہیں۔

کبھی وہ سسرال کے طعنوں سے گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہے، کیونکہ جہیز کم لائی تھی۔

کبھی وہ بیٹی پیدا کرنے کی سزا میں جلیل کی جاتی ہے، گویا اولاد کا تعین عورت کے اختیار میں ہو۔

کبھی وہ تعلیم کے حق سے محروم رکھی جاتی ہے کہ لڑکی کو صرف گھر سنبھالنا ہے۔

کہاں گئی وہ تعلیم جسے ماں کی گود سے شروع ہونا تھا؟
کہاں گئی وہ عزت جو عورت کے قدموں تلے جنت کے وعدے سے جڑی تھی؟
کہاں ہے وہ "اسلامی معاشرہ" جہاں عورت کو پردہ کا حکم تو یاد ہے، مگر اس کے حقوق بھلا دیے گئے؟

یہ معاشرہ عورت کو مجسمہ بنا کر پوجتا ہے، لیکن زندہ عورت سے خوفزدہ رہتا ہے۔

ہر سال ہزاروں عورتیں صرف اس لیے قتل کر دی جاتی ہیں کہ انہوں نے "چپ" رہنے سے انکار کر دیا۔
وہ بولیں، سوچیں، یا خواب دیکھیں — تو یہ سماج انہیں خاموش کرا دیتا ہے، اکثر ہمیشہ کے لیے۔

اب وقت

ٹک ٹاکر اور کچھ ٹپس تحریر:( انیس الرحمن سومرو ) Press33866gmail.com03033866390یہ دور جدید ہے ، ہم نئی نسلوں کو اس کی جدت...
12/07/2025

ٹک ٹاکر اور کچھ ٹپس
تحریر:( انیس الرحمن سومرو )
Press33866gmail.com
03033866390

یہ دور جدید ہے ، ہم نئی نسلوں کو اس کی جدت اپنانے سے روک نہیں سکتے ، انہیں بہرحال آگے بڑھنا ہی ہے اور ان وسائل کا استعمال بھی کرنا ہے کہ جن کے استعمال سے دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن اس ترقی کی درست سمت کا تعین اپنی اصل بنیادوں سے جوڑ کر جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کر کے ہمیں انہیں دینا ہے ۔

اس حوالے سے ہمارا بھی کچھ فرض بنتا ہے کہ ہمارے طریقہ تربیت کو بھی ترقی کرنا ہوگی ورنہ ہم اپنی اعلی اقدار صرف اپنے سینوں ہی سے چمٹائے جدید ترقی سے دور رکھ کر اندر ہی سنبھالے نٸ نسلوں سے بہت پیچھے رہ جاٸیں گے اور وہ ان کے بنا ہی آگے نکل جاٸیں گی إإ اور ہم سے بھی بہت دور ہو جاٸیں گی اور ہم اپنے کمزور وجود کے ساتھ تنہا رہ جائیں گے ۔

جب ہم انہیں ترقی کے اس سفر پر انہیں آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتے تب ہم انہیں انکی کچھ حدود کا احساس ضرور دلا سکتے ہیں کہ جنہں پار کر لینے پر انکے ڈوب جانے کا خطرہ واضح ہوتا ہے ۔

ہر درست راستے کے انتخاب سے آگہی نٸ نسل کو اپنے اساتذہ سے اور اس پر تائید اپنے معاشرے سے ملتی ہے ۔پس وہیں پر انہیں بہترین راہنماٸ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور اس ضرورت کو بھی آج سوشل میڈیا کے استعمال سے پورا کیا جاسکتا ہے ۔ اور ٹک ٹاک صرف بچے ہی نہیں بڑے اور بزرگ افراد بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ استعمال کر رہے ہیں۔

نٸ نسلوں کو ہر حوالے سے بنیادی تعلیم اور تربیت بے شک ماں کی گود سے ہی ملتی ہے کہ انکے بھروسے جڑے ہوتے ہیں ۔ لیکن اس تربیت کے قاٸم رہنے کا انحصار گھریلو ماحول ، دوستوں کی گیدرنگ ، اہل علاقہ ، خاندان اور قابل بھروسہ افراد کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزاٸ اور حوصلہ شکنی پر بھی ہوتا ہے ۔

اچھا اور معیاری ادب بھی اس حوالے سے اپنا بھر پور کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ وہ روشنی مہیا کرتا ہے کہ جس کی مدد سے نٸ نسلوں کو اپنے " مقدس اور عظیم مقاصد " کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے ۔ جیسے ہر پلیٹ فارم پر اپنی پسند کو ہاٸ لاٸیٹ کیا جاتا ہے ویسے ہی دین اسلام کی اس دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ضروریات کو بھی ہاٸ لاٸیٹ کیا جاسکتا ہے کہ ہر پاکیزہ سوچ کو اپنی منزل کا یقین وہاں سے مل سکتا ہے۔

پس روشنی اسے ہی درکار ہوتی ہے کہ جنہیں آگے بڑھنے کے لے اس کی ضرورت محسوس ہوت

دختر کوٹ سبزل رانا اقراء طارقرانا اقراء طارق کو مبارکباد پیش کرتا ہوں رحیم یار خان کی تاریخ میں پہلی بار کوٹ سبزل کی ایک...
12/07/2025

دختر کوٹ سبزل
رانا اقراء طارق
رانا اقراء طارق کو مبارکباد پیش کرتا ہوں
رحیم یار خان کی تاریخ میں پہلی بار کوٹ سبزل کی ایک بیٹی رانا اقراء طارق بطور ایس ایچ او تھانہ سی ڈویژن رحیم یار خان تعینات۔۔

بہترین دوستتحریر : ( انیس الرحمن سومرو ) Press3866gmail.com 03033866390 موجودہ دور میں کوئی کسی کا نہیں ہے _آج کی نوجوان...
10/07/2025

بہترین دوست
تحریر :
( انیس الرحمن سومرو )
Press3866gmail.com
03033866390
موجودہ دور میں کوئی کسی کا نہیں ہے _آج کی نوجوان نسل ماں باپ سے دور اور دوست احباب سے بہت قریب ہے
اس عمر میں ہمیں ایسا لگتا ہے کہ دوستوں سے زیادہ مخلص کوئی نہیں ہوتا مگر آپ کا دوست تب تک ہی آپ کا اپنا ہے جب تک آپ اس کو اپنے راز نہیں بتاتے جب وہ آپ کی ہر کمزوری سے واقف ہو جاتا ہے تب اس کا اصلی چہرہ سامنے آتا ہے
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دوستی ایک بہترین رشتہ ہے مگر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی مسکراہٹ سے جلتے ہیں اور آپ سے آپ کی خوشیاں چھیننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں الغرض ہم کسی پر بھی آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کر سکتے
ہماری سب سے بہترین دوست ہماری ماں ہوتی ہے
ماں وہ ہستی ہے جو کبھی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی
والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد سے دوستانہ رویہ رکھیں تا کہ بچے اپنے دل کی ہر بات انہیں بتا سکیں

حکومت کو چاہیے تمام پٹرول پمپوں پہ بڑے بڑے سائن بورڈ لگوا دیں ، جس پر لکھ ہو ، "گھبرانا نہیں ہے"پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں...
02/07/2025

حکومت کو چاہیے تمام پٹرول پمپوں پہ بڑے بڑے سائن بورڈ لگوا دیں ، جس پر لکھ ہو ، "گھبرانا نہیں ہے"

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ناقابل برداشت ہے ، حکومت اس اضافے کا جواز بتاۓ یا اضافہ واپس لے ۔۔۔

( اظہار افسوس )
28/06/2025

( اظہار افسوس )

Address

Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anees ur rahman soomro posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category