RAS Foods

RAS Foods کھاو وہی جو آئے راس
100% Natural & Organic Products

23/10/2026

خالص گھی اور شہد آخری دفعہ کب کھایا تھا

خالص شہد دستیاب ہے 4800 per kg
17/10/2026

خالص شہد دستیاب ہے

4800 per kg

سلفر فری انجیر Order Now 0308 7274758
11/10/2026

سلفر فری انجیر
Order Now
0308 7274758

Fresh Ghee Stock
07/10/2026

Fresh Ghee Stock

04/10/2026

ایک راز کی بات بتاؤں؟

ہمارے کاروبار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والا نہ تو ہمارا کوئی کمپیٹیٹر ہوتا ہے، نہ کوئی کسٹمر، نہ دوست اور نہ ہی کوئی رشتہ دار۔

بلکہ وہ ہم خود ہوتے ہیں، جو اپنی ہی کچھ عادتوں کی وجہ سے اپنے کاروبار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہر سگریٹ پینے والا اور ہر نشہ کرنے والا یہ جانتا ہے کہ وہ جو چیز استعمال کر رہا ہے، وہ اس کے لیے نقصان دہ ہے، لیکن پھر بھی اپنی عادت کی وجہ سے اسے دہراتا رہتا ہے۔

بالکل اسی طرح کاروبار میں بھی ہماری کچھ عادتیں نشے کی طرح بن جاتی ہیں۔

ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان سے کاروبار کو نقصان ہو رہا ہے، لیکن پھر بھی ہم انہیں روزانہ دہراتے رہتے ہیں۔

جیسا کہ:

1. ہر گاہک کو ادھار دینا — نقصان دہ

2. حساب کتاب نہ لکھنا — نقصان دہ

3. صرف ایک ہی سپلائر پر انحصار کرنا — نقصان دہ

4. ہر گاہک کو خوش کرنے کی کوشش کرنا — نقصان دہ

5. بغیر حساب کے مال خرید لینا — نقصان دہ

6. منافع کے بجائے صرف سیل دیکھنا — نقصان دہ

7. مقابلے میں قیمت بلاوجہ کم کرنا — نقصان دہ

8. ذاتی اور کاروباری پیسہ آپس میں ملانا — نقصان دہ

9. خراب گاہک کو بار بار ادھار دینا — نقصان دہ

10. پرانے مال کو وقت پر کلیئر نہ کرنا — نقصان دہ

11. ملازمین پر مکمل انحصار کرنا — نقصان دہ

12. مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کو نظرانداز کرنا — نقصان دہ

13. ہر نئی چیز دیکھ کر فوراً سرمایہ لگا دینا — نقصان دہ

14. کاروبار کی آمدنی کو فوراً ذاتی خرچ میں لگا دینا — نقصان دہ

15. نقصان چھپانے کے لیے مزید پیسہ لگاتے رہنا — نقصان دہ

16. ہر کام خود کرنے کی کوشش کرنا — نقصان دہ

17. گاہک کے ساتھ غصے میں بحث کرنا — نقصان دہ

18. کاروبار میں روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے اخراجات کو نظرانداز کرنا — نقصان دہ

19. صرف پرانے تجربے پر چلتے رہنا اور نئی چیزیں نہ سیکھنا — نقصان دہ

20. کاروبار میں منافع آتے ہی غیر ضروری خرچ بڑھا دینا — نقصان دہ

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں ان غلطیوں کا پتا نہیں ہوتا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں پتا ہونے کے باوجود ہم اپنی عادت نہیں بدلتے۔

اس کا حل یہ ہے کہ اپنی ان عادتوں کی ایک فہرست بنائیں، ان میں سے سب سے زیادہ نقصان دہ عادت کو پہلے ختم کریں اور ہر ہفتے اپنے کاروبار کا جائزہ لیں کہ کون سی عادت دوبارہ دہرائی گئی۔

کاروبار صرف نئی نئی چیزیں کرنے سے نہیں بچتا، بلکہ بعض اوقات اپنی نقصان دہ عادتیں چھوڑنے سے بھی بچتا ہے۔

اگر آپ کاروبار، پیسہ کمانے، پیسہ بچانے اور کاروبار کو بہتر طریقے سے چلانے کے بارے میں ایسی عملی باتیں پڑھنا چاہتے ہیں تو پیج کو فالو کریں اور یہ تحریر کسی کاروباری دوست کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تحریر میاں نعیم اختر
کاروباری باتیں بزنس موٹیویشن

آپ کے خیال میں ایک کاروباری شخص کی وہ کون سی عادت ہے جو اسے معلوم ہونے کے باوجود وہ روزانہ دہراتا رہتا ہے؟

Season first ....! Allhamdulilah
30/09/2026

Season first ....! Allhamdulilah

28/09/2026

کیا آپکے علاقے میں ٹھنڈ آ گئی ہے؟

*اپنی سردیوں کو قیمتی بنائیں — اپنے علاقے کی پیداوار کو کاروبار بنائیں* ہمارے بہت سے علماء کرام ایسے علاقوں سے تعلق رکھت...
25/09/2026

*اپنی سردیوں کو قیمتی بنائیں — اپنے علاقے کی پیداوار کو کاروبار بنائیں*

ہمارے بہت سے علماء کرام ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل اور قیمتی پیداوار سے نوازا ہے۔ کہیں بہترین خشک میوہ جات پیدا ہوتے ہیں، کہیں خالص شہد دستیاب ہے، کہیں زیتون کی پیداوار ہے، کہیں انجیر، اخروٹ، بادام اور دیگر سردیوں میں استعمال ہونے والی مفید غذائیں وافر مقدار میں موجود ہیں۔

میری گزارش ہے کہ اس موسمِ سرما کو صرف موسم نہ سمجھیں، اسے ایک کاروباری موقع سمجھیں۔

ذرا اپنے علاقے پر نظر ڈالیں اور معلوم کریں:

ہمارے علاقے کی اصل پیداوار کیا ہے؟
کون سی چیز یہاں آسانی سے اور نسبتاً کم قیمت میں دستیاب ہے؟
اس چیز کی پاکستان کے دوسرے شہروں میں کتنی طلب ہے؟
وہاں اس کا مارکیٹ ریٹ کیا ہے؟
اور ہم اپنے علاقے سے مناسب قیمت پر خرید کر اسے دوسرے علاقوں تک کیسے پہنچا سکتے ہیں؟

یہی دراصل ایک سادہ مگر مؤثر کاروباری ماڈل ہے۔

مثلاً اگر آپ کے علاقے میں بادام، اخروٹ، انجیر، کشمش یا دیگر خشک میوہ جات پیدا ہوتے ہیں تو آپ صرف اپنے علاقے کی دکان تک محدود نہ رہیں۔ دوسرے شہروں میں موجود دکانداروں، ہول سیلرز، آن لائن سیلرز اور اپنے جاننے والوں سے رابطہ کریں اور وہاں کی طلب معلوم کریں۔

اسی طرح اگر آپ کے علاقے میں خالص شہد پیدا ہوتا ہے تو اس کی خریداری، معیار، پیکنگ اور دوسرے شہروں تک ترسیل کا کام کیا جا سکتا ہے۔

اگر علاقے میں زیتون یا زیتون کا تیل دستیاب ہے تو اس کے معیار، خالص پن، پیکنگ اور مارکیٹ تک رسائی پر کام کیا جا سکتا ہے۔

ایک دلچسپ مثال ہمارے سامنے موجود ہے

ہمارے علاقے بہاولپور میں اسی طرح دیگر بڑے شہروں میں سردیوں کے موسم میں ہمارے پشتون بھائی کوئٹہ، پشاور اور دیگر علاقوں سے خشک میوہ جات، انجیر، بادام، اخروٹ، زیتون کا تیل اور دیگر اشیاء لے کر آتے ہیں۔

کئی حضرات فٹ پاتھ پر بیٹھ کر یا ٹھیلے لگا کر یہ چیزیں فروخت کرتے ہیں اور الحمدللہ اچھا سیزن گزار کر واپس اپنے علاقوں کو چلے جاتے ہیں۔

ذرا غور کریں!

وہ اپنی مقامی پیداوار کو دوسرے شہر تک لے کر آتے ہیں، یہاں مارکیٹ بناتے ہیں، گاہک تلاش کرتے ہیں اور اپنی محنت سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

تو پھر ہم اپنے علاقوں کی پیداوار کو اپنے ملک کے دوسرے شہروں تک کیوں نہیں پہنچا سکتے؟

علماء کرام کے لیے ایک عملی بزنس آئیڈیا

آپ میں سے جو حضرات پہاڑی، زرعی یا ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں یہ چیزیں آسانی سے دستیاب ہیں، وہ اس موسم میں ایک چھوٹا سا تجربہ ضرور کریں۔

مثلاً:

خشک میوہ جات → انجیر → شہد → زیتون کا تیل → اخروٹ → بادام → کشمش → دیگر مقامی پیداوار

پہلے ایک یا دو چیزوں سے آغاز کریں۔
بڑی سرمایہ کاری کے بجائے چھوٹے پیمانے پر خریداری کریں، مارکیٹ کا جائزہ لیں، معیار برقرار رکھیں، اچھی پیکنگ کریں اور دوسرے شہروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

اپنے موبائل فون کو صرف سوشل میڈیا دیکھنے کے لیے استعمال نہ کریں؛ اسے مارکیٹ تلاش کرنے کا ذریعہ بنائیں۔

WhatsApp پر تصاویر بھیجیں، قیمت معلوم کریں، دکانداروں سے رابطہ کریں، مختلف شہروں کے ریٹس نوٹ کریں اور آرڈر ملنے کے بعد مال روانہ کریں۔

کاروبار کا اصول بہت سادہ ہے:

جہاں چیز پیدا ہوتی ہے وہاں قیمت نسبتاً کم ہو سکتی ہے، اور جہاں اس کی طلب زیادہ ہو وہاں بہتر قیمت مل سکتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

- معیار میں کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔
- خالص چیز کو خالص ہی بیچیں۔
- وزن اور پیمائش درست رکھیں۔
- مارکیٹ ریٹ پہلے معلوم کریں۔
- پیکنگ صاف ستھری اور مناسب رکھیں۔
- آمدورفت اور دیگر اخراجات کو حساب میں شامل کریں۔
- پہلے چھوٹے پیمانے پر تجربہ کریں۔
- گاہک کا اعتماد حاصل کریں اور اسے برقرار رکھیں۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص بڑی دکان کھولے یا لاکھوں روپے لگائے۔

اور علماء کرام کے لیے یہ ایک خوبصورت موقع بھی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے لوگوں، کسانوں، شہد پیدا کرنے والوں، باغبانوں اور چھوٹے پروڈیوسرز کو مارکیٹ سے جوڑنے کا ذریعہ بنیں۔

*میری گزارش*

اپنے علاقے میں بیٹھ کر صرف یہ نہ سوچیں کہ یہاں روزگار کے مواقع کم ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق عطا فرمائے، اور ہماری محنت کو ہمارے لیے، ہمارے علاقوں کے لوگوں کے لیے اور ہمارے معاشرے کے لیے نفع بخش بنائے۔

*

ایک شخص سے پوچھا گیا:"آپ کے پاس کتنی دولت ہے؟"وہ مسکرایا اور بولا:"جب میرے گھر والے ایک دسترخوان پر بیٹھ کر سکون سے کھان...
22/09/2026

ایک شخص سے پوچھا گیا:

"آپ کے پاس کتنی دولت ہے؟"

وہ مسکرایا اور بولا:

"جب میرے گھر والے ایک دسترخوان پر بیٹھ کر سکون سے کھانا کھاتے ہیں، تو میں خود کو امیر سمجھتا ہوں۔"

سچ تو یہ ہے کہ دولت صرف بینک بیلنس کا نام نہیں۔

اصل دولت وہ گھر ہے جہاں محبت ہو،
دعائیں ہوں،
اور دسترخوان پر خالص رزق موجود ہو۔

آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم بہت کچھ کما رہے ہیں، لیکن کہیں نہ کہیں وہ سکون کھوتے جا رہے ہیں جو اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں ملتا تھا۔

RAS Foods کی کوشش صرف مصنوعات فروخت کرنا نہیں، بلکہ آپ کے دسترخوان تک خالص اور معیاری چیزیں پہنچانا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں، رزق اور رشتوں میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔ ❤️

اگر آپ اپنے خاندان کے ساتھ روزانہ ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں تو "الحمدللہ" ضرور لکھیں۔

📞 آرڈر کے لیے:
0308-7274758

RAS Foods
"کھاؤ وہی، جو آئے راس"

کچھ ذائقے صرف زبان پر نہیں، دل میں بھی رہ جاتے ہیں۔بچپن میں جب سردیوں کی صبح ہوتی تھی تو گھر کے کسی کونے سے شہد کی شیشی ...
21/09/2026

کچھ ذائقے صرف زبان پر نہیں، دل میں بھی رہ جاتے ہیں۔

بچپن میں جب سردیوں کی صبح ہوتی تھی تو گھر کے کسی کونے سے شہد کی شیشی ضرور نکلتی تھی۔ کبھی دودھ میں مل جاتا، کبھی روٹی پر لگ جاتا، اور کبھی امی ایک چمچ ہاتھ میں دے کر کہتیں:

"کھا لو، طبیعت اچھی رہے گی۔"

اس وقت شاید ہمیں اس کی قدر نہ تھی، لیکن آج وہی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد آتی ہیں۔

مصروف زندگی میں بھی کچھ روایات ایسی ہیں جو ختم نہیں ہونی چاہئیں۔ خالص شہد انہی روایات میں سے ایک ہے۔

آپ کو شہد سے جڑی بچپن کی کوئی یاد ہے؟

کمنٹس میں ضرور شیئر کریں، شاید آپ کی یاد کسی اور کے چہرے پر بھی مسکراہٹ لے آئے۔ ❤️

📞 آرڈر کے لیے:
0308-7274758

RAS Foods
"کھاؤ وہی، جو آئے راس"

Address

P/o Chak 56p Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RAS Foods posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category