24/09/2026
سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستانی حکام عمران خان کو جیل میں ہی مرتا دیکھنا چاہتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سنگین داغ ہوگا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن نے عمران خان کی رہائی کی براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا ’’اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں‘‘۔
بورس جانسن نے دعویٰ کیا کہ 73 سالہ سابق وزیراعظم کو ایک چھوٹی، نم زدہ اور کیڑوں سے بھری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے، انہیں کئی کئی دن قید تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کتابوں، اخبارات، ملاقاتوں اور مناسب ورزش تک رسائی بھی محدود رہی ہے۔
کوٹھڑی میں بیت الخلا بھی شامل ہے، صرف 6 فٹ چوڑی اور 8 فٹ لمبی ہے اور اس میں کوئی کھڑکی نہیں۔ بورس جانسن کے مطابق بعض اوقات لائٹس بند کردی جاتی ہیں جس کے باعث عمران خان کو کئی کئی دن اندھیرے میں گزارنا پڑتا ہے۔
بورس جانسن نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ظاہر کیے اور دعویٰ کیا کہ ناقص اور تاخیر سے کیے گئے طبی علاج کے بعد ان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہوچکی ہے، عمران خان کو ان حالات میں قید ہوئے تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے
بورس جانسن نے عمران خان کے خلاف مقدمات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے نزدیک سابق وزیراعظم کو جیل میں رکھنے کی اصل وجہ کرپشن نہیں بلکہ ان کی سیاسی طاقت اور غیر معمولی عوامی مقبولیت ہے۔
انہوں نے عمران خان کے شاندار کرکٹ کیریئر اور 1992 کے ورلڈ کپ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں پاکستان بلکہ دنیا کے عظیم ترین کرکٹ ہیروز میں سے ایک قرار دیا۔
عمران خان نے کوئی غلط کام کیا یا وہ کرپٹ ثابت ہوئے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ خدشہ ہے کہ رہائی کی صورت میں وہ ایک مرتبہ پھر زبردست عوامی حمایت کے ساتھ انتخابی میدان میں واپس آسکتے ہیں۔
بورس جانسن نے عمران خان کے دور حکومت کے اقدامات کی تعریف بھی کی، سلیمان خان اور قاسم خان کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برطانوی پاسپورٹ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے لیے پاکستان آنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بورس جانسن نے عمران خان کے معاملے پر برطانوی حکومت کے ردعمل کو بھی ناکافی قرار دیا۔
Disclaimer: This content is for informational and news purposes only.