Pagal larki

Pagal larki I will upload short videos on this

سوہنی مہیوالاٹھارویں صدی عیسوی سلطنتِ مُغلیہ کے آخری دَور میں دریائے پنجاب کے کنارے واقع شہر گُجرات میں ایک کُمہار کے گھ...
28/10/2025

سوہنی مہیوال

اٹھارویں صدی عیسوی سلطنتِ مُغلیہ کے آخری دَور میں دریائے پنجاب کے کنارے واقع شہر گُجرات میں ایک کُمہار کے گھر میں ایک خُوبصُورت لڑکی سوہنی پَیدا ہُوئی۔ اُس دَور میں بُخارا اور دہلی کے درمیان کارواں گُجرات میں سے گُزرتے تھے۔
جَب سوہنی تھوڑی بڑی ہُوئی تو وہ باپ کے کام میں اُس کی مدد گار بن گئی اور مٹی سے بنائے ہُوئے برتنوں کو سجانے اور سنوارنے کا کام کرنے لگی۔ اِن کی دُکان دریا کے پاس رام محل کے قریب تھی۔ جُونہی نئی صُراحیاں اور مٹی کے پیالے بن کر چرخی سے اُتارے جاتے وہ اُن پر خُوبصُورت نقش و نگار بناتی اور پھِر اُنھیں بیچنے کے لِئے دوکان میں سجا دیتی۔
ایک دفعہ کا ذِکر ہَے کہ ایک امِیر تاجر شہزادہ عِزت بیگ بُخارا (ازبکستان) سے کاروبار کے سِلسلے میں پنجاب آیا اور گُجرات میں ٹھہرا۔ یہاں اُس کی نظر ایک دوکان میں سوہنی پر پڑی اور وہ پہلی ہی نظر میں اُس کا دِیوانہ ہو گیا۔ چنانچہ اُس کو صِرف ایک نظر دیکھنے کے لِئے وہ ہر روز پانی کے برتن اور مگ خریدنے اُس کی دوکان پر آنے لگا۔ سوہنی بھی اُسے اپنا دِل دے بیٹھی۔
عِزت بیگ نے کارواں کے ساتھ واپس بُخارا جانے کی بجائے سوہنی کے باپ کی ملازمت کر لی۔ وہ اُس کی بھینسوں کو بھی چرانے کے لِئے باہر لے جاتا۔ چنانچہ جلد ہی وہ ہر جگہ مہر یا مہیوال (بھینسوں کا چرواہا) کی حیثیت سے مشہُور ہو گیا۔
سوہنی اور مہیوال کی محبت کے چرچے عام ہونے لگے اور سوہنی کے گھر والوں کے لِئے بدنامی کا باعث بننے لگے۔ خاندان کے لِئے یہ بات کِسی طَور قابلِ قبُول نہ تھی کہ اُن کی لڑکی کی شادی کِسی باہر کے لڑکے سے ہو۔ چنانچہ اُس کے والدین نے فوری طَور پر اپنے خاندان کے ایک لڑکے سے اُس کی شادی کا اِنتظام کر لِیا۔ آخر کار بارات آگئی اور بے بس سوہنی ڈولی میں بیٹھ کر اپنے کُمہار دُولہا کے گھر چلی گئی۔
عِزت بیگ نے دِلبرداشتہ ہو کر ویرانوں کا رُخ کِیا اور آبادی سے باہر ایک فقیر جیسی زِندگی گُزارنے لگا۔ آخر دِل کے ہاتھوں مجبور ہو کروہ دریا کے کنارے ایک کُٹیا میں رہنے لگا ۔ دریا کے دوسرے کنارے پر سوہنی تھی۔ آدھی رات کو جب سَب گہری نیند میں ہوتے دونوں دریا کنارے مِلتے۔ عِزت بیگ دریا کے کنارے پر آ جاتا اور سوہنی پکؔے گھڑے پر تَیر کر اُس سے مِلنے آتی۔
عِزت بیگ باقاعدگی سے اُس کے لِئے ایک مچھلی پکڑ کر لاتا۔ کہا جاتا ہَے کہ ایک دفعہ دریا میں طغیانی کے باعث عِزت بیگ مچھلی نہ پکڑ سکا چنانچہ اُس نے اپنی ران کا ایک ٹُکڑا کاٹ کر اُسے سوہنی کے لِئے بھُون لِیا۔ کھاتے ہُوئے پہلے تو سوہنی کو پتہ نہ چلا لیکن پھِر اُس نے عِزت بیگ سے کہا کہ آج مچھلی کا ذائقہ بہت مختلف ہَے۔ جَب اُس نے اپنا ہاتھ اُس کی ٹانگ پر رکھا تَب اُس پر وہ راز کھُلا۔ اِس واقعہ کے بعد اُن کی محبت مزید گہری ہو گئی۔
اِس دوران اُن کے چھُپ چھُپ کر مِلنے کی افواہیں ہر طرف گردش کرنے لگیں۔ ایک دِن اُس کی ایک نند نے چھُپ کر اُس کا پِیچھا کِیا اور وہ جگہ دیکھ لی جہاں سوہنی نے گھڑا چھُپایا ہُوا تھا۔ اُس نے اپنی ماں یعنی سوہنی کی ساس کو بتا دِیا۔ سوہنی کا خاوند کاروبار کے سِلسلے میں کہیں دُور گیا ہُوا تھا۔ دونوں عورتوں نے خود سے فیصلہ کر لیا کہ کیا کرنا چاہئیے۔ اگلے دِن سوہنی کی نند نے موقع دیکھ کر پکے گھڑے کی جگہ ایک کچا مٹی کا گھڑا رکھ دِیا جِسے ابھی بھٹی میں نھیں رکھا گیا تھا۔
اُس رات جَب سوہنی اُس کچے گھڑے پر تیرنے لگی تو گھڑے کی مٹی پانی میں حل ہونے لگی چنانچہ گھڑا ٹُوٹ پھُوٹ کر پانی میں بہہ گیا اور سوہنی دریا میں ڈُوب گئی۔ دوسری طرف دریا کے کنارے عِزت بیگ نے جب سوہنی کو ڈُوبتے دیکھا تو اُس نے سوہنی کو بچانے کے لِئے دریا میں چھلانگ لگا دی اور خود بھی دریا میں ڈُوب گیا۔
یُوں موت نے دونوں محبت کے متوالوں کو ہمیشہ کے لِئے ایک دوسرے سے مِلا دِیا۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی کے قریبی پہاڑ پر ایک مارخور رہتا تھا- اس مارخور نے وہ پہاڑ اس لئے چنا تھا کیونکہ اس پہاڑ ...
26/10/2025

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی کے قریبی پہاڑ پر ایک مارخور رہتا تھا- اس مارخور نے وہ پہاڑ اس لئے چنا تھا کیونکہ اس پہاڑ پر بہت سے چھوٹے بڑے زہریلے سانپ رہتے تھے جو اپنی خبیث حرکتوں سے دوسرے جنگلی جانوروں اور انسانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے ...

جیسا کہ آپ تمام اراکین دستک جانتے ہیں کہ، مارخور سانپ کھا جاتا ہے تو ان سانپوں کا وہ شکار کیا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ پہاڑ پر بسنے والی انسانی آبادی اور تمام مخلوقات میں وہ مارخور مقبول ہوتا گیا۔ لوگ اسے نجات دہندہ سمجھنے لگے، اور اس سے پیار کرنے لگے۔ دوسری طرف سانپوں میں کھلبی مچی ہوئی تھی۔ وہ دن رات مارخور کو ڈسنے کا سوچتے رہتے۔ مگر جیسے ہی کوئی اسکے قریب آتا مارا جاتا۔ پھر جب کوئی سانپ مار خور کے ہاتھوں مارا جاتا تو یہ بات انکے خاندانوں میں بڑی عزت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ جب کسی سانپ کے مرنے کی خبر آتی تو سب سانپ خوب روتے، آنسو بہاتے، اور مرنے والے سانپ کے دوستوں اور رشتےداروں کی تو اچھی خاصی مشہوری ہوجاتی تھی کہ بیچارہ ظلم کے خلاف سچائی کی جدوجہد کرتا مارا گیا ...

عزیز دوستو اب آہستہ آہستہ جب ان سانپوں نے دیکھا کہ مارخور کو براہ راست مقابلہ کر کے مارنا ناممکن ہے تو، انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا۔ ایک مارخور اب ہر سانپ کے پیچھے تو نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ وہ ایک سانپ کو مارخور کے سامنے بھگائیں گے جب وہ اسکا پیچھا کرے گا اتنے میں دوسرے سانپ انسانی بستی میں داخل ہو کر انسانوں کو تنگ کیا کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب مارخور کی موجودگی کے باوجود انسانی بستی اور دوسری معصوم جنگلی مخلوقات میں سے روز کوئی نہ کوئی سانپ کے کاٹنے سے مرنے لگا ...

لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جانے لگا۔ کوئی کہتا کہ مارخور کو مار دو خوامخواہ یہ یہاں رہ رہا ہے۔ اسکے رہنے کا کیا فائدہ جب یہ کچھ کر نہیں سکتا- کوئی کہتا کہ اسکو ذبح کر دو اسکے سینگ بیچ دیں گے۔ جنگلی جانور بھی بہت پریشان تھے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارا پیارا مارخور ان سانپوں کو دیکھ نہیں پا رہا ...

میرے باشعور قارئین کرام ایسے میں کچھ برفانی لومڑیاں جو مارخور کا گوشت کھانے کے خواب دیکھتی تھیں اور ہمیشہ ناکام رہتی تھیں میدان میں آگئیں۔ انہوں نے مارخور کے خلاف پوری مہم ہی چلا ڈالی۔ ہر طرف شور مچنے لگا کہ مارخور کا کیا فائدہ ...؟ مارخور بیچارہ دن رات محنت سے اپنے کام پر لگا رہتا۔ اسے خبر ہی نہ تھی کہ اس سے پیار کرنے والی مخلوقات اب اسکی دشمن بنتی جا رہی ہے۔ اسکے خلاف سازشیں سنتی ہے اور اسکے دشمنوں کی ہر بات کا یقین کرتی جا رہی ہے۔ اب مارخور تک بھی وہ نفرت پہنچنے لگی تھی اور اسے نظر آرہا تھا کہ اسکا وہاں رہنےکا اب کوئی فائدہ نہیں ...

عزیز دوستو اداس دل کے ساتھ ایک رات مارخور بستی کے قریبی ویرانے کی طرف جانے والے راستے پر بیٹھا تھا۔ کہ اس نے کچھ سانپ دیکھے مارخور کی بھوک تو کب کی مٹ چکی تھی، اس نے انکا پیچھا نہیں کیا اب سانپوں کو بڑی حیرت ہوئی کہ یہ پیچھے کیوں نہیں آرہا ہے اگر یہ جلدی نہ آیا تو بستی میں جانے والے سانپوں کو دیکھ لے گا اور انکا پول کھل جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ سانپ شور مچانے لگے جان بوجھ کر اسکے آس پاس منڈلانے لگے- مارخور کو یہ بات کچھ عجیب لگی وہ حقیقت جاننے سونے کا بہانہ کرنے لگا۔ اب ان سانپوں نے سوچا کہ شاید اب ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں رہا کیونکہ اسکو اب اسکے چاہنے والوں کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ تو انہوں نے اس پر آوازیں کسنا شروع کر دیں اور خوشی سے ناچنے لگے۔ ناچتے ناچتے دوسرے سانپ بھی انکے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے اور کچھ سانپ موقع عنیمت جانتے ہوئے بستی میں داخل ہونے لگے۔ جنہیں مارخور نے دیکھ لیا۔ اب اسکی سمجھ میں ساری بات آگئی۔ اس نے نہایت پھرتی سے قریبی سانپوں کو ختم کیا اور بستی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سانپوں کی گردن دبوچ لی ...

قابل قدر دوستو کہا جاتا ہے کہ اس رات سینکڑوں سانپ مارے گئے، اور برفانی لومڑیاں جو مارخور کے مرنے کے انتظار میں رالیں ٹپکا رہی تھیں پھر سے بھوکی رہ گئیں۔ سنا ہے کہ آج بھی اس علاقے میں سانپ ان مرنے والے سانپوں کی یاد میں موم بتیاں جلاتے ہیں اور لومڑیاں دوسری تمام مخلوقات میں خوب بن ٹھن بال کٹا کر جاتی ہیں اور مارخور کے خلاف باتیں کرتی ہیں اور اس رات والے واقعے کو مارخور کی حیوانیت، ظلم اور درندگی بتاتی ہیں۔ کچھ انکا یقین کر لیتے ہیں اور کچھ انہیں مار کر بھگا دیتے ہیں۔ لیکن سانپ آج بھی جب اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو وصیت کر کے نکلتے ہیں کہ :
" اگر مجھے کچھ ہوا تو اسکا ذمےدار صرف اور صرف مارخور ہوگا
منقول

❤️🙏❤️

۔۔
۔۔
۔۔
Suggested for you

Address

Multan
Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pagal larki posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category