Zari Dunya

Zari Dunya Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zari Dunya, Farmers market, Multan.
(1)

زرعی دنیا: جدید زراعت، بہترین فصلوں کی کاشت اور کسانوں کی تکنیکی رہنمائی کے لیے آپ کا قابلِ بھروسہ پلیٹ فارم۔ اس پیج پر فراہم کردہ معلومات کا مقصد خالصتاً کاشت کاروں کی معاونت ہے؛ اس کا کسی بھی قسم کی پبلک سیکٹر یا حکومتی بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے!

01/05/2026

صوبہ سندھ کے موسم کی صورتحال:
محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں شدید گرم اور خشک موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 3 مئی تک صوبے کے وسطی اور بالائی علاقوں میں ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث جامشورو، دادو، شہید بینظیر آباد، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر جیسے اضلاع میں دن کا درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہ سکتا ہے۔

کراچی ڈویژن کے لیے اگلے تین دنوں کی پیش گوئی کے مطابق، یکم مئی سے 3 مئی تک موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب صبح کے وقت 55 سے 75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ہفتے کے روز (2 مئی) کو گرم و خشک موسم کے ساتھ کبھی کبھار تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر ہوا کی سمت جنوب مغرب اور مغرب کی جانب رہے گی۔

01/05/2026

کپاس ۔۔ ملکی معیشت کی جان ❤️

*کپاس کے سینے میں جمخانہ کلب، تحقیق کے دل پر خاموش وار*!ضلعی انتظامیہ ملتان کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ سنٹر...
01/05/2026

*کپاس کے سینے میں جمخانہ کلب، تحقیق کے دل پر خاموش وار*!

ضلعی انتظامیہ ملتان کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے قریب ہی پنجاب کا کپاس کا تحقیقی ادارہ اور ایک زرعی تعلیمی درسگاہ بھی کپاس کی تحقیق پر کام کر رہے ہیں، اس لیے سی سی آر آئی ملتان کی زمین پر جمخانہ کلب بنا دینے سے تحقیق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ دلیل بظاہر سادہ مگر حقیقتاً نہایت کمزور اور زمینی و سائنسی حقائق کے برعکس ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ پنجاب کا ادارہ ہو یا کوئی وفاقی یا صوبائی تحقیقی ادارہ؛ کپاس کے میدان میں سب کا کردار اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ہم پلہ تاریخی، قومی اور عالمی سطح کی حیثیت رکھتے ہیں؟ کیا ان کے پاس وہ دہائیوں پر محیط تحقیق، وہ مسلسل سائنسی تسلسل، وہ جینیاتی مواد (جرم پلازم) اور وہ کامیاب اقسام موجود ہیں جو سی سی آر آئی ملتان کی پہچان رہی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ سی سی آر آئی ملتان نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر کپاس کی تحقیق میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی بھی محدود تجرباتی دائرہ رکھنے والے ادارے کو متبادل کے طور پر پیش کرنا زمینی حقائق سے صرف نظر کے مترادف ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا ایک تعلیمی درسگاہ کسی مخصوص، ہمہ وقت فعال تحقیقی ادارے کا متبادل بن سکتی ہے؟ یونیورسٹیاں بنیادی طور پر تدریس، ڈگری پروگرامز اور محدود تحقیقی سرگرمیوں کے لیے ہوتی ہیں، جبکہ سی سی آر آئی جیسے ادارے اپنی مکمل توجہ صرف ایک فصل کپاس پر مرکوز رکھتے ہیں۔ یہاں تحقیق کوئی ضمنی سرگرمی نہیں بلکہ واحد مقصد اور سائنسی بنیاد ہوتی ہے۔

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مذکورہ زرعی درسگاہ ایک نسبتاً نیا ادارہ ہے، جس کی عمر ابھی ایک دہائی بھی مکمل نہیں ہوئی۔ اب تک اس کے نام پر کوئی نمایاں کپاس کی ورائٹی سامنے نہیں آئی، نہ ہی کپاس کی قومی پیداوار میں اس کا کوئی واضح یا قابلِ ذکر کردار دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس سی سی آر آئی ملتان کی دہائیوں پر محیط خدمات، کامیاب اقسام اور کسانوں سے براہِ راست جڑا ہوا نظام اس کی سائنسی و عملی اہمیت کا واضح ثبوت ہیں۔

یہاں ایک اور اہم پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محدود وسائل اور کم افرادی قوت کے باوجود پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی اور اس کے ذیلی ادارے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ انہی محدود حالات میں بھی اس نظام نے اہم پیش رفت دکھائی ہے، جس کی نمایاں مثالیں سیٹو 547 اور کریسس 682 جیسی اقسام ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال 2025 میں کپاس کی پیداوار، برداشت اور موافقت میں اپنی صلاحیت منوائی ہے۔ گزشتہ سیزن پنجاب میں سیٹو 547 لاکھوں ایکڑ پر کاشت ہوئی اور کاشتکاروں میں بے پناہ مقبول رہی، جبکہ 2026 میں اس کے مزید پھیلاؤ کے قوی امکانات ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ قسم اپنے بہترین نتائج کے باعث گندم کے بعد ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھری ہے۔

اسی طرح سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ سکرنڈ، سندھ کی کپاس کی قسم کریسس 682 گزشتہ سال سندھ میں 40 فیصد سے زائد رقبے پر کاشت ہوئی۔ مزید یہ کہ کپاس کی یہ نئی قسم بی ٹی کریسس 682 کو حال ہی میں باقاعدہ طور پر پلانٹ بریڈر رائٹس عطا کیے گئے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ وسائل، تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام کا ہے۔

مزید برآں، ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے مجوزہ انضمام سے کپاس کی تحقیق ایک مرکزی چھتری کے تحت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس طرح تحقیق کے بکھرے ہوئے نظام کو یکجا کر کے قومی سطح پر ایک مربوط، مؤثر اور سائنسی بنیادوں پر استوار حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکتی ہے، جو کپاس کی بحالی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ اصل ضرورت ادارے ختم کرنے کی نہیں بلکہ انہیں ایک مضبوط نظام کے تحت جوڑنے کی ہے۔

مزید برآں، اگر کپاس سے وابستہ تمام ادارے واقعی مؤثر انداز میں کام کر رہے ہوتے تو ملک میں کپاس کی پیداوار مسلسل زوال کا شکار کیوں ہوتی؟ حقیقت یہ ہے کہ تحقیق کے مرکزی اداروں کو کمزور کیا گیا، وسائل محدود کیے گئے اور پالیسی سطح پر سنجیدگی کا فقدان رہا۔ اس خلا کو بعض اوقات غلط بیانیے اور سطحی دلائل سے پر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اصل مسئلہ سائنسی تسلسل کے ٹوٹنے کا ہے۔

عام عوام کے ذہنوں میں مختلف فورمز پر سوشل میڈیا پر یہ بیانیہ پروپیگنڈہ بنایا گیا کہ پی سی سی سی ایک ناکام ادارہ ہے ،کوئی کام نہیں کرتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی سی سی سی کے اندر سنگین مالی مشکلات اور انتہائی قلیل افرادی قوت و وسائل کا عام لوگوں کو پتا ہی نہیں وہ بس سنی سنائی باتوں اور پروپیگنڈہ پر یقین کرلیتے ہیں۔ اور اگر باقی ادارے کام کر رہے ہیں تو پھر گرتی ہوئی کپاس کی پیداوار کا زمہ دار اکیلا پی سی سی سی کیوں ہے؟ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے خلاف پروپیگنڈہ ناکام ہو گا، انشاللہ ۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ تحقیقی ادارے ایک دن میں نہیں بنتے۔ یہ دہائیوں کی محنت، مسلسل تجربات اور سائنسی ارتقاء کے بعد ایک مضبوط بنیاد قائم کرتے ہیں۔ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اسی تسلسل اور سائنسی روایت کا امین ہے۔ اسے جمخانہ میں تبدیل کرنے کی سوچ نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ قومی زرعی مفاد کے بھی خلاف ہے۔

اگر واقعی کپاس کی بحالی مقصود ہے تو اداروں کا تقابل کر کے ایک کو کمزور کرنے کے بجائے سی سی آر آئی ملتان جیسے مرکزی تحقیقی ادارے کو مضبوط کیا جائے، اس کے وسائل بڑھائے جائیں اور اس کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ تعلیمی ادارے معاون ہو سکتے ہیں، مگر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان جیسے تحقیقی ادارے کا متبادل ہرگز نہیں۔

منقول

سونا ڈی اے پی کی قیمت 15 ہزار روپے سے اوپر چلی گئی ہے ۔۔۔ کسان بیچارہ کیا کرے، کہاں جائے:  اینگرو فرٹیلائزر کی جانب سے ڈ...
30/04/2026

سونا ڈی اے پی کی قیمت 15 ہزار روپے سے اوپر چلی گئی ہے ۔۔۔ کسان بیچارہ کیا کرے، کہاں جائے:

اینگرو فرٹیلائزر کی جانب سے ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 350 روپے فی بوری کا حالیہ اضافہ کسانوں کے لیے معاشی بوجھ میں ایک ایسے وقت میں اضافہ ہے جب وہ پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں، بیجوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ڈیزل کے اخراجات کی وجہ سے دیوار سے لگے ہوئے ہیں۔ ڈی اے پی کی قیمت میں یہ اچانک اضافہ براہِ راست خریف کی فصلوں، خاص طور پر کپاس کی پیداواری لاگت کو متاثر کرے گا، جس سے فی ایکڑ خرچہ کسان کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ کپاس پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر کھاد جیسی بنیادی ضرورت کا مہنگا ہونا کسانوں کو اس کے استعمال میں کمی پر مجبور کر سکتا ہے، جس کا منطقی نتیجہ فصل کی کم پیداوار اور معیار میں گراوٹ کی صورت میں نکلے گا۔ کسان پہلے ہی منڈیوں میں اپنی اجناس کے مناسب نرخ نہ ملنے کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں، اور ایسے میں پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ زراعت کو ایک نقصان دہ سودا بنا رہا ہے جو نہ صرف دیہی معیشت بلکہ قومی فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کھاد ساز کمپنیوں کے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کروائیں اور کسانوں کو ریلیف فراہم کریں۔

30/04/2026

ماحول دوست کاشتکاری کو فروغ دینے اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کے پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت 60 فیصد سبسڈی پر سپر سیڈر/پاک سیڈر کی فراہمی کے لیے کسانوں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ یہ سبسڈی صوبے کے 35 اضلاع میں دستیاب ہوگی، جن میں لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، چنیوٹ، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، ساکرپتن، اوکاڑہ، بھکر شامل ہیں۔ ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، کوٹ ادو، مظفر گڑھ اور اٹک۔ اس سلسلے میں، درخواست گزار کے پاس کم از کم 65 ہارس پاور کی صلاحیت والا ٹریکٹر ہونا ضروری ہے۔ کاشتکار نے پہلے کسی ضلع سے پاک سیڈر/سپر سیڈر کے لیے سبسڈی حاصل نہیں کی ہو گی۔ ایک خاندان کا صرف ایک فرد اس سبسڈی کا اہل ہوگا۔ اس کے علاوہ، سبسڈی وصول کنندہ دوسرے کسانوں/خدمات فراہم کرنے والوں کو کرائے پر مشینری فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ مزید برآں، الاٹمنٹ لیٹر جاری ہونے کے 10 دنوں کے اندر منظور شدہ فرموں/کمپنیوں کے ساتھ بکنگ لازمی ہوگی۔
خواہشمند کاشتکار درخواست فارم محکمہ زراعت پنجاب کی ویب سائٹ www.agripunjab.gov.pk سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں یا متعلقہ سنٹر پر متعلقہ ایگریکلچر آفیسر (توسیع) کے دفتر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) یا متعلقہ ضلع میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئر کے دفتر سے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ مکمل شدہ درخواست فارم، CNIC کی کاپی اور ٹریکٹر کی ملکیت کے ثبوت کے ساتھ، 15 جون 2026 تک ان تمام متعلقہ دفاتر میں جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

30/04/2026

شعبہ پیسٹ وارننگ ،محکمہ زراعت پنجاب کے تحت 47 کروڑ روپے کی لاگت سے پیسٹ سرویلینس سکواڈز قائم کیے گئے ہیں جو فیلڈ میں جا کر فصلوں پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملوں کی بروقت تشخیص کریں گے اور کاشتکاروں کو مؤثر کنٹرول کے حوالے سے رہنمائی فراہم کریں گے۔ پہلے مرحلہ میں ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژنز میں ان سکواڈز کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ تحصیل کی سطح پر 65 گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں جن میں جدید تشخیصی کِٹس موجود ہیں۔ اس پروگرام کے تحت 105 پلانٹ پروٹیکشن اسسٹنٹس بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ سکواڈز کی کارکردگی کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔

فروری- مارچ اگیتی کپاس پر پھول آنے پر اقدامات:فروری-مارچ کاشتہ اگیتی کپاس پر پھول آنے کا مرحلہ (45-60 دن بعد کاشت) انتہا...
29/04/2026

فروری- مارچ اگیتی کپاس پر پھول آنے پر اقدامات:

فروری-مارچ کاشتہ اگیتی کپاس پر پھول آنے کا مرحلہ (45-60 دن بعد کاشت) انتہائی حساس ہوتا ہے۔جس میں پودے کی غذائی ضروریات اور دیکھ بھال دوگنی ہو جاتی ہے۔ اس مرحلے پر کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ پانی کے وقفوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ نمی کی کمی یا زمین کا سخت سوکھا لگنے سے پھول اور ڈوڈیاں بڑے پیمانے پر گر سکتی ہیں، لہٰذا زمین کی ضرورت کے مطابق ہلکی اور بروقت آبپاشی کو یقینی بنائیں۔ پودے کی بڑھوتری اور پھل کے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے نائٹروجن کی باقی اقساط کے ساتھ پوٹاش (اگر ابتدائی طور پر نہیں دیا تو 15 دن کے وقفے سے آدھی بوری فی ایکڑ) کا استعمال کریں۔ جبکہ پھولوں کو جھڑنے سے روکنے اور زیرگی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے بوران کا فولیئر سپرے نہایت معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس دوران رس چوسنے والے کیڑوں، بالخصوص سفید مکھی اور تھرپس کے ساتھ ساتھ گلابی سنڈی کی کڑی نگرانی (پیسٹ اسکاؤٹنگ) کریں اور معاشی حد عبور ہونے کی صورت میں محکمہ زراعت توسیع کے آفیسران یا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے زرعی ماہرین کے مشورے سے مناسب زہروں کا انتخاب کریں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں تاکہ پودے کو دستیاب خوراک میں کوئی شراکت دار نہ رہے اور گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے سپرے ہمیشہ ٹھنڈے وقت میں کریں تاکہ پودا کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہ ہو۔

نوٹ: تمام سپرے ٹھنڈے وقت (صبح یا شام) میں کریں تاکہ پودے پر گرمی کا اضافی دباؤ نہ پڑے۔

پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC) کے لیے یہ ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ ہے کہ اس کے تحقیقی نظام کے تحت سنٹرل کاٹن ریسرچ ...
29/04/2026

پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC) کے لیے یہ ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ ہے کہ اس کے تحقیقی نظام کے تحت سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ سکرنڈ (سندھ) کی تیار کردہ کپاس کی نئی قسم Bt. CRIS-682 کو حال ہی میں باقاعدہ طور پر سرٹیفکیٹ آف پلانٹ ورائٹی پروٹیکشن (Plant Breeder Right) عطا کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ادارے کی سائنسی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی روشن دلیل بھی ہے کہ قومی سطح پر کی جانے والی تحقیق عالمی معیار پر پوری اتر سکتی ہے۔

یہ کامیابی دراصل برسوں کی مسلسل محنت، عزم اور سائنسی مہارت کا نچوڑ ہے، جس نے پاکستان کے کپاس کے شعبے کو ایک نئی امید اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ PCCC کے پلیٹ فارم سے ہونے والی یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ اگر تحقیق کو درست سمت، وسائل اور سرپرستی میسر ہو تو ملک زرعی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔

28/04/2026

کاشتکار بھائیو اس وقت اگیتی/ موسمی کپاس کی کیا صورتحال ہے؟ آپ کو کیا کیا مسائل درپیش ہیں۔ اپنی اپنی رائے دیں۔ شکریہ

28/04/2026

کپاس کے کھیت میں دھان کی پرالی سے کی گئی ملچنگ اور اس کے فوائد

شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران کپاس کے کھیتوں میں دھان کی پرالی سے کی جانے والی ملچنگ ایک مؤثر حفاظتی ڈھال ہے۔ اس عمل می...
28/04/2026

شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران کپاس کے کھیتوں میں دھان کی پرالی سے کی جانے والی ملچنگ ایک مؤثر حفاظتی ڈھال ہے۔ اس عمل میں زمین کی سطح کو دھان کی پرالی، فصلوں کی باقیات یا نامیاتی مواد سے ڈھانپ دیا جاتا ہے، جس سے سورج کی براہِ راست تپش مٹی تک نہیں پہنچ پاتی اور زمین کا درجہ حرارت واضح طور پر کم رہتا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مٹی میں موجود نمی زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے اور پانی کے بخارات بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے، نتیجتاً آبپاشی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور پانی کی بچت ممکن ہوتی ہے۔

ملچنگ کے ذریعے جڑی بوٹیوں کی افزائش بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے کیونکہ زمین کی سطح پر روشنی کی رسائی محدود ہو جاتی ہے، جس سے غیر ضروری گھاس پھوس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہی نامیاتی تہہ مٹی میں تحلیل ہو کر اس کی زرخیزی، ساخت اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے کپاس کے پودے کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور فصل نسبتاً زیادہ متوازن نشوونما حاصل کرتی ہے۔

اس طریقہ کار کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ شدید گرمی کے دوران مٹی کا درجہ حرارت معتدل رہنے سے پودے پر حرارتی دباؤ کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کلیوں کا جھڑنا، چھوٹی ٹینڈوں کا ضیاع اور نشوونما میں رکاوٹ جیسے مسائل میں واضح کمی آتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک سادہ، کم لاگت اور مؤثر زرعی حکمتِ عملی ہے جو کپاس کی پیداوار اور فصل کی صحت دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں یہ تجربات کئی سالوں سے کئے گئے ہیں اور کامیاب نتائج کے حامل ہیں۔

مئی تا جون شدید گرمی: کپاس کی کلیوں اور پیداوار کو لاحق خطرات اور بچاؤ کی حکمت عملی:پاکستان میں کپاس کی اگیتی فصل جو فرو...
28/04/2026

مئی تا جون شدید گرمی: کپاس کی کلیوں اور پیداوار کو لاحق خطرات اور بچاؤ کی حکمت عملی:

پاکستان میں کپاس کی اگیتی فصل جو فروری-مارچ یا پھر موسمی اپریل کے ابتدائی دنوں میں کاشت کی گئی ہے، وہ فصل مئی اور جون کے دوران کلیوں کی تشکیل اور پھول آنے کے اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے یا ہوگی۔ محکمہ موسمیات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی اور جون میں ملتان، بہاولپور، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، سکھر، خیرپور، نواب شاہ، حیدرآباد، بدین، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو آدم، جیکب آباد، شکارپور، لاڑکانہ، کوئٹہ کے نواحی زرعی علاقے، نصیرآباد، جعفرآباد اور صحبت پور میں درجہ حرارت معمول سے 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے جبکہ بعض مقامات پر شدید گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت ب52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان پودوں کے لیے خطرناک ہے جو 30 سے 45 دن کی عمر میں کلیوں کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہے ہیں کیونکہ اس مرحلے میں پودا مستقبل کی پیداوار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا ہے۔ شدید گرمی سے کلیوں کا گرنا، پولن کا کمزور ہونا، ناقص فرٹیلائزیشن اور چھوٹی ٹینڈیوں کا گرنا بڑھ جاتا ہے جس سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

اگیتی کپاس کے کاشتکاروں کو شدید گرمی کے دباؤ سے فصل کو محفوظ رکھنے کے لیے پانی کے وقفوں کو 5 سے 7 دن تک کم کر دینا چاہیے تاکہ مٹی کی نمی مسلسل برقرار رہے اور پودے کا اندرونی درجہ حرارت مستحکم رہے۔ کلیوں کی تشکیل سے پھول آنے تک کا مرحلہ کپاس کے لیے سب سے حساس ہوتا ہے اس دوران پانی کی کمی کلیوں کے گرنے کا باعث بنتی ہے۔ آبپاشی کا بہترین وقت مغرب سے ذرا پہلے شام یا صبح سویرے ہو جب زمین ٹھنڈی ہو۔ دوپہر کی تپش میں پانی لگانے سے جڑوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شدید گرمی میں پودے کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے پوٹاشیم نائٹریٹ کا پتوں پر سپرے ایک مؤثر ڈھال کا کام کرتا ہے جو کلیوں کے گرنے کو کم کرتا ہے اور گرمی کے دباؤ میں پودے کو مدد دیتا ہے۔ امائنو ایسڈز کا استعمال پودے کو ماحولیاتی دباؤ سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ہومک ایسڈ جڑوں کی گہرائی اور نمی جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ زنک اور بوران جیسے چھوٹے غذائی اجزاء کا پتوں پر سپرے چھوٹے ٹینڈوں کی مضبوطی اور ان کے ٹھہراؤ کے لیے مفید ہے۔ اس کے برعکس نائٹروجن یا یوریا کھاد کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ پودے کو نرم اور لگژری بنا دیتا ہے جس سے وہ گرمی کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔

جڑی بوٹیوں کو مکمل طور پر ختم کریں کیونکہ یہ پودے کا پانی اور غذائی اجزاء چھین کر دباؤ بڑھاتی ہیں۔ گرم اور خشک موسم میں تھرس اور سفید مکھی کے حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لیے باقاعدہ کیڑوں کی نگرانی کریں اور بروقت مناسب اقدامات کریں۔ تمام پتوں پر سپرے صرف ٹھنڈے اوقات میں یعنی صبح سویرے یا شام کے وقت کریں تاکہ پتوں کو جلن نہ ہو۔

اگیتی فصل میں گرمی کا اثر جلد پڑتا ہے اس لیے ابتدائی مراحل میں ہی پانی اور غذائی توازن برقرار رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو نشوونما کنٹرول کرنے والے مناسب مادوں کا استعمال کر کے غیر ضروری پتوں کی نشوونما کو کنٹرول کریں تاکہ پودا پھل دینے کے مراحل پر زیادہ توجہ دے۔ مٹی کی نمی کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھیں کیونکہ شدید گرمی میں پانی کے بخارات بننے کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے۔

کاشتکاروں کو مشورہ ہے کہ وہ کپاس کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ زراعت کے مقامی زرعی توسیعی افسران یا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان سے رابطہ رکھیں اور ماہرین کی سفارشات پر ہی عمل کیا جائے۔ موسم کی تازہ ترین پیشگوئیوں پر نظر رکھیں۔ بروقت اور درست اقدامات سے اس سال بھی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

Address

Multan
MULTAN-60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zari Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zari Dunya:

Share

Category