MALIK Sajid Islamic videos page

MALIK Sajid Islamic videos page اسلامی ویڈیوز معلومات کیلیے فالو کریں

15/06/2026

حضرت جابر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ پہلی سیڑھی پر رونق افروز ہوئے تو فرمایا: آمین، یوں ہی دوسری اور تیسری سیڑھی پر آمین کہی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی حضور ﷺ اس تین بار آمین کہنے کا کیا سبب ہوا۔۔!! تو فرمایا ﷺ:

جب میں ﷺ پہلی سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل علیہ السّلام حاضر ہوئے اور عرض کیا بدبخت ہوا وُہ شخص کہ جِس نے رمضان المُبارک پایا پھر رمضان المُبارک نکل گیا اور وہ بخشا نہ گیا۔ میں ﷺ نے کہا: آمین۔

دوسرا بدبخت وُہ شخص ہے جس نے اپنی زندگی میں والدین کو یا ایک کو پایا اور انہوں نے (خدمت کے سبب) اُسے جنّت میں نہ پہنچایا (یعنی وُہ ان کی خدمت کر کے جنّت حاصل نہ کرسکا) میں ﷺ نے کہا: آمین۔

تیسرا وُہ شخص بدبخت ہے جس کے پاس آپ ﷺ کا ذکر ہوا اور اس نے آپ ﷺ پر درُود پاک نہ پڑھا، تو میں ﷺ نے کہا: آمین۔

(رواہ البخاری، القول البدیع، ص 142)🌹❤️

14/06/2026

ڈاکٹر مصطفی محمود لکھتے ہیں:
تم قبر میں ہزاروں سال تک کیا کرو گے؟
میں تمہیں ایک طریقہ بتاتا ہوں جو میرے ساتھ
بہت کارآمد ثابت ہوا اور جس سے میں اپنے اللہ سے
تعلق پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے لگا ہوں۔
قبر خوفناک ہے، ظاہر ہے کہ نیک لوگوں کے علاوہ۔
میں نے اس کے بارے میں سوچا، اور اب میری عمر 54 سال ہے، اور میں دنیا سے اور اس کی چیزوں سے تنگ آ چکا ہوں۔ اچھا، تو جب میں قبر میں جا کر اکیلا رہوں گا، سینکڑوں ہزاروں سال تک، تو میں کیا کروں گا؟

کیا تم نے کبھی اس کا تصور کیا ہے؟

اس لیے میں نے مندرجہ ذیل طریقے پر عمل کرنا شروع کیا:

دیکھو میں مر جاؤں گا، اور میرے پاس ایک خالی، بالکل تاریک قبر ہوگی۔

اس قبر کو سامان کی ضرورت ہوگی، لہٰذا میں ہر استغفار کو تصور کرنے لگا جیسے میں اسے اپنے قبر کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ وہاں میرا انتظار کرے اور میرے تنہائی کا ساتھی بنے۔

اللہ کی قسم، میں مذاق نہیں کر رہا۔

میں نے اپنی قبر کو مکمل ڈیکوریٹ کر دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

قبر کے ایک کونے کو میں ہزاروں تسبیحات سے بھر رہا ہوں۔

یہاں میرے سر کے قریب کم از کم 300 ختم قرآن ہوں گے جو میرے لیے آرام دہ بستر کا سبب بنیں گے۔

ہر رکوع کو میں یہ تصور کر کے ادا کرتا ہوں کہ میں اسے قبر میں اپنا ذخیرہ بنا رہا ہوں۔

ہر کوئی مجھے چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلا جائے گا، اور میں اکیلا رہ جاؤں گا شاید ہزاروں سالوں تک۔ میرے بچے چند سالوں میں مجھے بھول چکے ہوں گے۔

لہذا، مجھے قبر میں ساتھیوں، روشنیوں، اور جنت کے جیسے مناظر کی ضرورت ہوگی۔

میں تسبیحات، ذکر، قرآن، نماز اور صدقہ سب کو اپنے ساتھ تصور کرتا ہوں کہ وہ میرے دوست ہوں گے، میرے ساتھ وہاں ہنس رہے ہوں گے اور باتیں کر رہے ہوں گے۔

نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا میں نے اپنے معمولات کا ایک اہم عمل بنا لیا ہے، یہ وہاں ہماری محفلوں میں بھی شامل ہوگا ٹھنڈے پانی کی طرح، خوبصورت لباس کی طرح۔

میں یہ چاہتا ہوں کہ میری قبر کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے بھی زیادہ خوبصورت زندگی ہو۔ ان شاء اللہ۔

کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں وہاں جا کر غیبت، چغلی، حسد اور دیگر دنیاوی گناہوں کے نتیجے میں بدبو دار کپڑوں، دیمک لگے فرنیچر اور سخت پتھریلے بستر کے بجائے اپنی قبر کو بہترین چیزوں سے آراستہ کروں۔

میں نے دنیا میں اپنا گھر بنانے کے لیے ساری زندگی جان توڑ محنت کی لیکن یہ گھر تو میرے ورثاء کا ہوجائے گا، اصل میں تو میری ساری محنت اپنے لیے ہے ہی نہیں، سارے فائدے تو اور لوگ اٹھائیں گے۔ تو میں نے سوچا کہ بس بہت ہوگیا ہے، مجھے اپنا گھر بنانا ہے جہاں صرف میں ہی ہوں گا اور ایک طویل عرصہ گزارنا ہے۔

اگر میرے تمام اعمال دنیا کی ضروریات کے لیے تھے اور اپنی قبر کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، تو پھر تو میرے قبر والے گھر کے لیے سوائے عذاب کے فرنیچر، مستقل اندھیرے، اور سخت حساب کے کچھ بھی نہ ہوگا۔ اور میں ایسے گھر میں اکیلا کیسے رہوں گا!

میری آپ کو بھی نصیحت یہ ہے کہ آج سے:

اپنی قبر کو اپنا بینک اکاؤنٹ بناؤ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ڈپازٹ کرو اور لانگ ٹرم والی پالیسی لو۔

اپنی عبادات کا خوب خیال رکھو۔ اللہ کی قسم، جب تم قبر میں ہوگے، تو تم مجھے وہاں سے بھی شکریہ ادا کرو گے۔

اپنی قبر کے گھر کا اس دنیا کے گھر سے زیادہ خیال رکھو۔

ابھی تم اپنے گھر والوں کے درمیان ہو، پہن رہے ہو، کھا پی رہے ہو، آرام سے گھر والوں کے درمیان سو رہے ہو، اور تمہیں تمہاری تمام ضروریات میسر ہیں، پھر بھی تم اپنے حالت سے نالاں رہتے ہو، ہر وقت کوئی نہ کوئی شکایت کرتے رہتے ہو۔

تو سوچو جب تم زمین کے نیچے ہوگے اور سینکڑوں ہزاروں سالوں کے لیے ہوگے تو وہاں تمہارے ساتھ کون ہوگا؟

تمہارے پسندیدہ سیاستدان، کھلاڑی، اداکار، تاجر۔۔۔۔۔ یہ تو تمہیں یہاں بھی نہیں جانتے اور نہ ہی انہیں تمہاری اتنی فکر ہے، تم ہی ان سب کے پیچھے بیوقوفوں کی طرح اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔

تمہارے وہ بچے جن کی شادیوں پر تم لاکھوں روپے فضولیات پر خرچ کردیتے ہو، یقین کرو یہ خرچ تمہارے لیے وبال بن چکا ہوگا، اور بچے مکر جائیں گے کہ ہمارے باپ نے اور ہماری ماں نے خود ہمارے لیے بھی اور اپنے لیے بھی مصیبت کھڑی کی ۔ اس لیے آج سے اپنی جان کی فکر کرواپنا خیال خود

اےاللہ ، ہمیں حسن خاتمہ عطا فرما۔
AAAMIN AAAMIN AAAMIN

اے اللہ، ہماری آخرت کو بہتر بنا دے اور ہمیں قبر کے عذاب سے بچا۔
AAAMIN AAAMIN AAAMIN YA ALLAH

اے اللہ، ہمیں اپنا ذکر، شکر، اور حسن عبادت کی توفیق عطا فرما تاکہ تو ہم پر اپنی رضا اور جنت الفردوس میں نعمتیں نازل کرے، جہاں ہم تیرے نبی محمد ﷺ کی صحبت میں ہوں، جن پر بے شمار درود و سلام ہو۔
AAAMIN AAAMIN AAAMIN YA ALLAH sum AAAMIN

تو پھر اپنا گھر بنانا شروع کریں۔

14/06/2026

🌳*مقام اہل بیت*🌹

اہل بیت سے اور سیدنا امام حسن و سیدنا امام حسین رضوان اللہ عنھما سے اور ان کے والدین سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

*ان سے محبت کو ہم عبادت سمجھتے ہیں۔*

🌹 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

*حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔*

🌹آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے

ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

*"یا اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور جو ان سے محبت کرے تو ان سے بھی محبت کر۔"*

🌹ایک بار عشاء کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس جانے لگے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک شخص ملا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کرنے لگا پھر وہ چلا گیا
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سے چلنے لگے۔
میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا

"تم کون ہو؟
میں نے عرض کیا
حذیفہ
اور ان کو سارا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تو میرے اور میری والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور پھر فرمایا

*"کیا تم نے اس شخص کا دیکھا جو تھوڑی دیر پہلے مجھ سے گفتگو کر رہا تھا"*

میں نے عرض کیا

"جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے دیکھا ہے"

تو فرمایا

جانتے ہو یہ کون ہے؟
یہ آسمان سے آنے والا وہ فرشتہ ہے جو آج سے پہلے کبھی زمین پر نازل نہیں ہوا ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے اجازت لے کر مجھے سلام کرنے کے لیے آیا اور یہ خوشخبری دینے کے لیے کہ
*حسن و حسین رضی اللہ عنہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور جناب فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔"*

🌳حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
*"اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا تھا کہ تم سے محبت کرنے والا مومن اور تم سے نفرت کرنے والا بعض رکھنے والا مسلمان نہیں منافق ہوگا۔"*

🌹آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ اور مکہ کے درمیان ایک مقام پر خطبہ ارشاد فرمایا اور خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور اس کے بعد وعظ و نصیحت کی اور اس کے بعد فرمایا

"لوگو میری بات توجہ سے سنو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ میں ایک بشر ہوں ایک انسان ہوں، وہ وقت قریب ہی آنے والا ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے پیغام لانے والا پیغام لائے گا۔ موت کا پیغام آئے گا اور میں فوت ہو جاؤ گا۔

"میں تم میں دو بڑی عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ،
ان میں سے پہلی اللہ
کی کتاب ہے قرآن پاک ، ہدایت اسی میں ہے روشنی اسی میں ہے۔
اللہ کی اس کتاب کو پکڑ لو اور مضبوطی سے تھام لو

اور دوسری چیز جو میں چھوڑ کے جارہا ہوں وہ میرے اہل بیت ہیں۔
میرے اہل بیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ان کے حقوق ادا کرتے رہنا۔"

🌳آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطھرات ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے نواسیاں ، سب کا ایک خاص مرتبہ خاص ایک مقام ہے۔

🌷

*🌈بسم الله الرحمن الرحيم*

🌹 *اَللَّھُمَّ اغْفِرْلِاُمَّۃِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدِِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلِّمْ.......*🌹

*"یااللہ! ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.کی ساری امت کی مغفرت فرمادے."*

آمین 💝💝

اپنی دعاؤں میں پوری
امت کو شامل کریں.

🌹🌳🤲🏻🌳🌹

11/06/2026

*"ماں کا پلّو"*
"*ماں کا پلّو" اسکول میں ٹیچر نے کہا: “اپنی ماں کے پلّو پر ایک مضمون لکھو۔” ایک طالبِ علم نے ماں کے پلّو کے بارے میں اتنا خوبصورت مضمون لکھا کہ وہ دل کو چھو لینے والا ہے۔ ماں کا پلّو ہمیشہ اُس کی باوقار شخصیت کی پہچان رہا ہے۔ اسی پلّو سے وہ چولہے سے گرم برتن اُتارتی تھی۔ اسی سے بچوں کا پسینہ اور آنسو پونچھتی، اُن کے کان صاف کرتی اور چہرے صاف کرتی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد جب ماں اپنے پلّو سے بچوں کا منہ صاف کرتی، تو بچوں کو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی*۔

*کبھی اگر بچے کی آنکھ میں گرد چلی جاتی، تو ماں اپنے پلّو کو مروڑ کر باریک سا بناتی، اپنی سانس سے گرم کرتی اور نرمی سے آنکھ پر لگا دیتی — اور نہ جانے کیسے درد خود بخود ختم ہو جاتا۔ ماں کی گود میں سونے والے بچے کے لیے اُس کی گود بستر ہوتی تھی اور اُس کی چادر یا پلّو لحاف۔ جب گھر میں کوئی اجنبی مہمان آتا، تو بچے ماں کے پلّو کے پیچھے چھپ جاتے۔ اور جب شرم محسوس کرتے، تو اسی پلّو سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے۔ باہر جاتے وقت بچے ماں کے پلّو کو پکڑ کر چلتے تھے — وہی اُن کی رہنمائی کرتا تھا*۔

*جب تک بچے کے ہاتھ میں ماں کا پلّو ہوتا، اُسے لگتا جیسے پوری دنیا اُس کی مٹھی میں ہے۔ سردیوں میں ماں اپنے پلّو سے بچے کو ہر طرف سے لپیٹ کر سردی سے بچاتی تھی۔ اور موسلا دھار بارش میں یہی پلّو چھتری بن کر بچے کو بھیگنے سے محفوظ رکھتا تھا۔ یہی پلّو ہاتھ پونچھنے کے تولیے کا کام بھی کرتا تھا۔ ماں اپنے پلّو میں درختوں کے نیچے گرے ہوئے پھل اور خوشبودار پھول بھی جمع کر لیتی تھی۔ اسی سے گھر کا سامان صاف کیا جاتا تھا۔ ماں کے پلّو کی گرہ ایک چلتی پھرتی بینک یا خزانہ ہوتی تھی*۔

*کبھی کبھی بچوں کو اُس میں بندھے ہوئے چند سکے بھی مل جاتے، جو کسی نعمت سے کم نہ تھے۔ ماں کا پلّو، دوپٹہ یا چادر ایک جادوئی احساس تھا — ایک ایسا احساس جسے آج کی نسل شاید کبھی سمجھ نہ سکے۔ یہ تحریر اُن تمام ماؤں کے نام جنہوں نے اپنے، دوپٹے یا چادر کے سائے میں بچوں کو محبت، تحفظ اور سکون دیا*۔ 💐
جن کے والدین حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خیر والی لمبی زندگی عطا فرمائے ۔
اولاد کا سکھ دیکھنا نصیب فرمائے ۔
جن کے والدین دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ ان کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔
اپنا خیال رکھیں اور ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
محمدsajid

11/06/2026

قرآن کا آغاز ہوتا ہے "الحمدللہ رب العالمین"۔ یہ آیت مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے، گویا کہ اگر میرے ذہن کے کسی کونے میں یہ خیال آ جائے (نعوذ باللہ) کہ یہ انسانی کلام ہے، وہ کیونکر آ سکتا ہے؟ اتنا جامع انداز، سبحان اللہ العظیم!

وجہ یہ ہے کہ جو جس خوشبو کے لئے قرآن کھولتا ہے، وہی خوشبو میسر آ جاتی ہے، بھلے گلاب کی خوشبو لے، یا گل یاسمین کی خوشبو لے، یا پھر موتیا کی۔ خوشبوئیں بکھیر رہا ہے، بکھیرتا رہے گا تاقیامت۔

چلیں ذرا اب اس آیت کے الفاظ پہ غور کرتے ہیں۔ پہلا لفظ "الحمد" اس میں پہلے استغراق کا "ال" آتا ہے، گویا کائنات میں جتنی تعریفیں ممکن ہیں، جتنی تعریفیں کبھی کی گئی ہیں، جتنی تعریفیں آج ہو رہی ہیں اور جتنی قیامت تک ہوں گی، ان سب کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔

آپ کسی پھول کی خوبصورتی کی تعریف کریں، کسی ماں کی محبت کی تعریف کریں، کسی ستارے کی چمک یا کسی کہکشاں کی عظمت کی تعریف کریں، درحقیقت آپ بالواسطہ اس ذات کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں جس نے حسن کو حسن بنایا، محبت کو محبت بنایا، عقل کو عقل بنایا اور نظم کو نظم بنایا۔

اب ذرا لفظ "حمد" پہ آئیں۔ یہاں لفظ مدح نہیں آیا۔ مدح کسی بھی چیز کی تعریف کو کہتے ہیں، خواہ وہ بے جان ہو یا جاندار، حقیقی خوبی پر ہو یا مبالغے پر۔ لیکن حمد صرف اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی کے اختیاری کمالات، اس کی عظمت، اس کی حکمت اور اس کے حسن کے اعتراف میں محبت اور تعظیم کے ساتھ کی جائے۔

لفظ "رب" پہ تدبر کریں ذرا۔۔۔ رب صرف پیدا کرنے والے کو نہیں کہتے۔ رب وہ ہے جو پیدا بھی کرے، سنبھالے بھی، پرورش بھی کرے، ہر لمحہ نگرانی بھی کرے اور اپنی مخلوق کو تدریج کے ساتھ اس کے کمال تک بھی پہنچائے۔ ایک بچہ ماں کے رحم میں ایک حقیر سے خلیے کی صورت میں وجود پاتا ہے۔ پھر اس کے جسم کا ہر عضو بنتا ہے، اس کے لیے غذا کا انتظام ہوتا ہے، اس کی نشوونما ہوتی ہے اور وہ دنیا میں آ جاتا ہے۔ یہ نظم "رب" ہونے کی گواہی ہے۔

اگلا لفظ ہے "ال" جو تمام کے تمام کو ظاہر کرتا ہے، پھر آتا ہے لفظ "عالمین" جس کی وسعت سائنس، فلسفہ، منطق و عقل کو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ڈبو دینے کے لئے کافی ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے "العالم" نہیں فرمایا بلکہ "العالمین" فرمایا، یعنی صرف ایک جہان نہیں، تمام جہان۔ مادیت کا دعویٰ یہ ہے کہ حقیقت صرف مادہ ہے۔ جو چیز حواس یا آلات کے ذریعے محسوس نہ کی جا سکے وہ یا تو موجود نہیں یا اس کے وجود کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن ماہرینِ فلکیات اعتراف کرتے ہیں کہ پوری قابلِ مشاہدہ کائنات صرف چند فیصد ہے۔ باقی کائنات کا بڑا حصہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر مشتمل ہے، جن کی اصل حقیقت ابھی تک انسان نہیں جانتا۔

انسان ان کے اثرات دیکھتا ہے لیکن ان کی ماہیت نہیں جان سکتا۔ یعنی سائنس خود یہ کہہ رہی ہے کہ حقیقت کا ایک بڑا حصہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ "العالمین" لفظ بتا رہا ہے کہ تمہارا علم حقیقت کی حد نہیں، حقیقت تمہارے علم سے کہیں بڑی ہے۔ صرف یہی مادی کائنات نہیں، بلکہ بے شمار عالم ہیں: فرشتوں کا عالم، جنات کا عالم، ارواح کا عالم، برزخ کا عالم، آخرت کا عالم، اور وہ عالم جن کا نام بھی انسان نہیں جانتا۔

انسان آسمان کی طرف نظر اٹھاتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ اربوں نوری سال پھیلی ہوئی کہکشائیں اس کی عقل کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ یہ سب کچھ بھی صرف "العالمین" کے ایک گوشے کا حصہ ہے۔ تم صرف ایک چھوٹے سے سیارے پر رہنے والی ایک محدود مخلوق ہو، جبکہ تمہارا رب تمام جہانوں کا رب ہے۔

انسان کا دماغ تین ڈائمنشنز کو سوچنے کا عادی ہے، یعنی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی۔ وقت کو ہم چوتھی ڈائمنشن کہتے ہیں، لیکن ہم اسے بھی دیکھ نہیں سکتے، صرف اس کے گزرنے کو محسوس کرتے ہیں۔ اب اگر واقعی اس سے آگے مزید ڈائمنشنز ہوں، 11 ڈائمنشنز تو ان کا مکمل تصور کرنا انسانی ذہن کے لیے ناممکن ہے۔

قرآن کا جملہ “رب العالمین” ایک بالکل مختلف زاویہ کھول دیتا ہے۔ “عالمین” کسی ایک کائنات یا ایک نظام تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہر وہ ممکن دائرۂ وجود شامل ہو جاتا ہے جو اللہ کی تخلیق میں ہے، چاہے وہ ہماری دیکھی ہوئی کائنات ہو یا وہ جو ابھی انسانی علم سے مکمل طور پر پوشیدہ ہو۔ انسان جب غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ابھی کائنات کے ایک انتہائی چھوٹے سے حصے کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ سکا، تو پھر پورے “عالمین” کا احاطہ کرنا تو اور بھی ناممکن ہے۔

10/06/2026

*صَلَّى عَلَيْكَ اللهُ يَا بَدْرَ الدُّجَى*🌹
*يَا خَيْرَ خَلْقِ اللهِ دُمْتَ كَرِيمًا*🌹

اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر درود بھیجے، اے تاریکی کی راتوں کے چمکتے چاند!
اے اللہ کی تمام مخلوق میں سب سے بہتر، آپ ہمیشہ عزت و کرم والے رہیں۔

*نَرْجُوكَ رَبِّي قُرْبَهُ فِي جَنَّتِكَ*
*صَلُّوا عَلَيْهِ وَأَحْسِنُوا التَّسْلِيمَا!*

اے میرے رب! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کا قرب اپنی جنت میں عطا فرما۔
ان (ﷺ) پر درود بھیجو اور خوبصورت انداز میں سلام پیش کرو!

🩵🤍🫧
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ،،

03/09/2024
03/09/2024

عالم برزخ

عالم برزخ کونسا عالم ہے ؟ اور کہاں ہے؟ اور دنیا و آخرت کے درمیان قرار پانے والے اس عالم کو ثابت کرنے کی کیا دلیل ہے؟
کیا برزخ سب کے لئے ہے یا خاص گروہ کے لئے ہے؟

آئیے قرآن اور حدیث صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح سے دیکھتے ہیں

لفظ ”برزخ“ لغوی لحاظ سے دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو کہاجا تا ہے اس کے بعد ہر دو چیز کے درمیان حائل ہونے والی چیز کو برزخ کہا جانے لگا، اسی وجہ سے دنیا و آخرت کے درمیان قرار پانے والے عالم کو ”برزخ“ کہا جاتا ہے۔
اس عالم کو کبھی ”عالمِ قبر“ یا ”عالمِ ارواح“ بھی کہا جاتا ہے ، اس پر قرآن کریم کی بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض اس معنی میں ظاہر ہیں اور بعض واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔
آیہٴ شریفہ:

Address

Mohala Qabool WALA
Lodhran

Telephone

+923055450786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MALIK Sajid Islamic videos page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MALIK Sajid Islamic videos page:

Share