15/06/2026
حضرت جابر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ پہلی سیڑھی پر رونق افروز ہوئے تو فرمایا: آمین، یوں ہی دوسری اور تیسری سیڑھی پر آمین کہی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی حضور ﷺ اس تین بار آمین کہنے کا کیا سبب ہوا۔۔!! تو فرمایا ﷺ:
جب میں ﷺ پہلی سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل علیہ السّلام حاضر ہوئے اور عرض کیا بدبخت ہوا وُہ شخص کہ جِس نے رمضان المُبارک پایا پھر رمضان المُبارک نکل گیا اور وہ بخشا نہ گیا۔ میں ﷺ نے کہا: آمین۔
دوسرا بدبخت وُہ شخص ہے جس نے اپنی زندگی میں والدین کو یا ایک کو پایا اور انہوں نے (خدمت کے سبب) اُسے جنّت میں نہ پہنچایا (یعنی وُہ ان کی خدمت کر کے جنّت حاصل نہ کرسکا) میں ﷺ نے کہا: آمین۔
تیسرا وُہ شخص بدبخت ہے جس کے پاس آپ ﷺ کا ذکر ہوا اور اس نے آپ ﷺ پر درُود پاک نہ پڑھا، تو میں ﷺ نے کہا: آمین۔
(رواہ البخاری، القول البدیع، ص 142)🌹❤️