09/05/2026
مجھے یہ تحریر اپنے لئے بہترین لگی سوچا سب کے ساتھ شئیر کر دوں
'اللہ سے بہترین گمان رکھیں', یہ سن تو رکھا ہے، لیکن مطلب کیا ہے اس کا؟ کیسے رکھا جاتا ہے بہترین گمان؟ کیسے پتہ چلے کہ اللہ سے بہترین گمان رکھا ہوا ہے ہم نے؟
فرض کریں آپ کی امی آپ کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہتی ہیں۔ آپ کو بالکل نہیں پتہ کہ کہاں جانا ہے۔ آپ پوچھتے ہیں۔ کہتی ہیں، ارے بیٹھو تو سہی، کہیں نہ کہیں تو جائیں گے ہی۔ اور آپ مطمئن ہو کے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ کو خوف تو کیا، ہلکا سا شک بھی نہیں ہوتا کہ آپ اتنے clueless ہیں تو وہ کہیں آپ کو اغوا ہی نہ کر لیں۔ کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دیں۔ چاہے نہیں معلوم کہ کہاں لے کر جائیں گی، لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ جہاں بھی لے کر جائیں گی وہ ٹھیک جگہ ہی ہو گی۔
آپ کے اپنی ماں پر اس قدر بھروسے کی کیا وجہ ہے؟
ایک تو یہ کہ آپ کو ماں کی نیت پر، اس کے خلوص پر شک نہیں۔
دوسرا یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ جو وہ کر رہی ہیں، آپ کو چاہے زیادہ ڈیٹیل نہیں پتہ لیکن ماں کو پتہ ہے۔
اب جب زندگی کے سفر میں ہم کچھ نہیں جانتے کہ اگلا موڑ کیا آنے والا ہے تو اللہ پر بہترین گمان کیسے؟
ایک تو اللہ کی رحمت اور محبت پر کسی طرح کا شک نہیں۔ وہ اللطیف ہے، الولی ہے۔
دوسرا یہ کہ اس کا علم کامل ہے۔ وہ العلیم، الخبیر ہے۔
تو چاہے ہمیں معلوم نہ بھی ہو کہ زندگی ہمیں کہاں لے کر جا رہی ہے، زندگی کے تمام تر معاملات کی پلاننگ کرنے والا رب جس کے فیصلوں میں علم بھی ہے اور حکمت بھی، اور جو ہم سے محبت بھی بہت رکھتا ہے، وہ ہمارے ہر معاملے میں خیر ہی خیر رکھے گا۔
اسی بات کو ایک اور زاویے سے سمجھیں۔
سائیکالوجی میں ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے: self fulfilling prophecy۔ یعنی جیسی توقع آپ کسی سے رکھتے ہیں، آپ کا عمل خود بخود اس توقع سے مطابقت رکھتا ہے اور پھر نتائج بھی اس مناسبت سے ملتے ہیں۔ گویا اس میں تین چیزیں ہیں:
۱۔ توقع
۲۔ توقع کے حساب سے عمل
۳۔ عمل کے مطابق نتیجہ
نفسیات دانوں نے ایک تجربہ یوں کیا کہ کچھ بچوں کو رینڈم لی کچھ کلاس رومز میں شامل کیا اور ٹیچرز کو ان میں چند بچوں کے بارے میں کہا کہ یہ gifted بچے ہیں۔ یعنی بے حد ذہین۔ بچوں کو ایسا کچھ نہ بتایا گیا، نہ ہی وہ گفٹڈ تھے۔ بس ٹیچرز کو بتایا گیا۔
جن بچوں کو ٹیچرز گفٹڈ سمجھتے تھے، انہیں مشکل سوال بھی حل کرنے کو دے دیتے اور بچے بھی کر گزرتے تھے۔ سال کے آخر میں ان بچوں کا رزلٹ باقی بچوں نسبت بہت آگے تھا۔ وجہ صرف اتنی کہ ٹیچرز کو ان بچوں سے بہترین گمان تھا، تو ان کی ان بچوں کے ساتھ محنت بھی اسی درجے کی تھی۔ جب محنت زیادہ تھی تو ظاہر ہے رزلٹ بھی بہترین آیا۔
تو اگر ہم اللہ سے بہترین گمان رکھیں تو ہمارا عمل بھی اسی حساب سے ہو گا۔ اور جب عمل اس حساب سے ہو گا تو پھر وہ جو حدیثِ قدسی ہے نا کہ "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں"، وہ بہت اچھے سے سمجھ آ جاتی ہے۔
ان سارے پزل پیسز کو آپس میں جوڑ لیں تو اللہ سے بہترین گمان رکھنے کا مطلب واضح ہو جاتا ہے۔
استفادہ: Transformed
از یاسمین مجاہد
ترجمانی: نیر تاباں