23/10/2026
روٹی کے ساتھ رکھا ہوا سو روپے کا نوٹ دیکھ کر کام والی عورت نے نظریں جھکا لیں، ’’بی بی جی، آج بھی دکان بند تھی؟‘‘ خاتون نے حیرت سے پوچھا، ’’کون سی دکان؟‘‘ عورت نے خالی ڈبا سمیٹتے ہوئے کہا، ’’وہی، جہاں سے آپ اپنے بچوں کے لیے تازہ روٹی لاتی ہیں۔‘‘ خاتون کے ہاتھ رک گئے۔ وہ روز اُسے رات کا بچا ہوا کھانا دے دیتی تھی اور سمجھتی تھی کہ ایک گھر کا پیٹ بھر رہی ہے۔ آج کھانا کم تھا تو ساتھ سو روپے رکھ دیے تھے۔ اُس نے پوچھا، ’’تمہارے بچے یہ کھانا کھا لیتے ہیں نا؟‘‘ عورت نے ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کی، ’’جی، میں گرم کردیتی ہوں۔ بس کل چھوٹی نے پوچھا تھا، امّاں، جن کے گھر تم کام کرتی ہو، اُن کے بچے بھی ہمارے والا کھانا کھاتے ہیں؟‘‘ خاتون خاموش ہوگئی۔ عورت گھبرا کر بولی، ’’آپ برا نہ مانیے گا، بچی ہے، ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔‘‘ اگلے دن چھٹی کے وقت باورچی خانے سے آواز آئی، ’’ذرا یہ ڈبا لے جانا۔‘‘ عورت نے کھولا تو اندر گرم روٹیاں اور تازہ سالن تھا۔ اُس نے بے اختیار پوچھا، ’’آج گھر میں مہمان آئے تھے؟‘‘ خاتون نے آہستہ سے کہا، ’’نہیں، آج تمہارے بچوں کا کھانا بھی اپنے بچوں کے ساتھ ہی بنایا ہے۔‘‘ عورت کچھ دیر ڈبے کو دیکھتی رہی، پھر بولی، ’’آج چھوٹی سے کہوں گی، ہاں بیٹا، آج اُن کے بچے بھی ہمارے والا کھانا کھا رہے ہیں۔‘‘ کسی کی بھوک مٹاتے ہوئے اُس کی عزت کا خیال بھی رکھیے، ضرورت مند کے بچے بھی صرف پیٹ نہیں رکھتے، دل بھی رکھتے ہیں۔