12/07/2023
*نیکی کا چسکا*
مشہور رئیس حضرت صعصعہ بن ناجیہ دروازہ رسول اللہ ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے رسول اللہﷺ ایک بات پوچھنی ہے۔ حضورﷺنےفرمایا پوچھو۔
کہنےلگےیارسول اللہ دور جاہلیت میں ہم نےجو نیکیاں کی ہیں ان کا بھی اللہ ہمیں اجر عطا کرے گا۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تو بتا تو نے کیا نیکی کی ہے؟
کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئےتھے میں اپنے تیسرے اونٹ پربیٹھ کر اپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اس پار نکل گیاجہاں پرانی آبادی تھی وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا ایک بوڑھا آدمی جانوروکی نگرانی پر بیٹھا تھا اس کو جاکرمیں نےبتایا کہ یہ دواونٹ میرے ہیں وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئےتھےتمہارے ہیں تولےجاؤانہی باتوں میں اس نےپانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کی رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا۔۔؟
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کروگےکہنےلگااگر بیٹاہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اسے زندہ دفن کرا دوں گا اس لیے کہ میں اپنی گردن اپنےدامادکے سامنے جھکا نہیں سکتا میں بیٹی کی پیدائش پر آنےوالی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا میں ابھی دفن کرا دوں گا۔
حضرت صعصعہ بن ناجیہ فرمانے لگےیارسول اللہﷺ یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا میں نے اسے کہا پھر پتہ کروبیٹی ہےکہ بیٹا ہے اس نے معلوم کیا تو پتہ چلاکہ بیٹی آئی ہے۔
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا کہنے لگا ہاں ! میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں۔
یارسول اللہﷺ وہ مجھے کہنے لگا اگر بچی تمہیں دے دوں تو تم کیا کرو گے؟
میں نے کہاتم میرےدو اونٹ رکھ لو بچی دے دو۔
کہنے لگا نہیں دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لونگا۔
حضرت صعصعہ بن ناجیہ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرےساتھ گھر بھیجویہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اسےواپس دےدیتا ہوں۔
یارسول اللہﷺ میں نے تین اونٹ دےکے ایک بچی لیں اس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیزکو دیا یہ اسے دودھ پلاتی ہے۔
یارسول اللہﷺ وہ بچی میرے داڑھی کےبالوں سے کھیلتی وہ میرے سینےسےلگتی ہے حضورﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے۔
یارسول اللہﷺ میں ڈھونڈنے لگا میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا۔
یارسول اللہﷺ میں نے360بچیوں کی جان بچائی ہے میری حویلی میں تین سوساٹھ بچیاں پلتی ہیں۔ حضورﷺ مجھے بتائیں میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا؟
کہتے ہیں۔حضورﷺ کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا میراماتھا چوم کے فرمانےلگےیہ تجھے اجر ہی تو ملا ہے رب نےتجھےدولت ایمان عطاکردی ہے۔
نبیﷺ فرمانے لگے یہ تیرا دنیا کا آجر ہےاورتیرےرسولﷺ کا وعدہ ہے قیامت کے دن رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا۔
*امام طبرانی نے اس واقعہ کو طبرانی میں لکھا ہے*