18/02/2026
غزہ: رمضان کی پہلی رات اور شیخ النقار:
شیخ حسام النقّار غزہ شریف سے تعلق رکھنے والے معروف قاری قرآن، امام اور دینی خطیب ہیں۔ وہ بالخصوص اپنی پُرسوز، اثر انگیز اور رقت آمیز تلاوت کی وجہ سے عرب دنیا اور سوشل میڈیا پر پہچانے جاتے ہیں۔ ہمارے شیخ وائل الزردؒ اور شیخ زکی حمدؒ کی آوازیں خاموش ہوگئیں، جو غزہ کی پہچان تھیں۔ مقام شکر کہ شیخ حسام النقّار بقید حیات ہیں۔ وہ غزہ میں ہی پیدا اور وہیں پروان چڑھے۔ ابتدائی تعلیم مقامی مدارس میں حاصل کی، جبکہ قرآنِ کریم حفظ کم عمری میں مکمل کیا۔ بعد ازاں تجوید و قراءات کی باقاعدہ تعلیم اپنے علاقے کے جید قراء اور مشائخ سے حاصل کی۔
غزہ کی مختلف مساجد میں امامت اور خطابت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اب تو کوئی مسجد باقی نہ رہی۔ اس لیے خیمے میں کلام پاک سنا رہے ہیں۔ عرب دنیا میں نمازِ تراویح کی امامت کے باعث ہی شہرت حاصل کی۔ وہ نوجوانوں کو حفظِ قرآن اور تجوید کی تعلیم دینے میں سرگرم ہیں۔ مقامی دینی حلقات اور قرآنی مجالس میں شرکت کرتے رہے۔
شیخ حسام النقّار کی تلاوت میں حزن و خشوع نمایاں ہوتا ہے۔ آیاتِ رحمت اور آیاتِ عذاب کی ادائیگی میں صوتی اثر انگیزی محسوس کی جاتی ہے اور سامعین پر جذباتی اور روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی تراویح کی تلاوتیں خصوصاً ان ایام میں زیادہ وائرل ہوئیں جب غزہ شدید حالات سے گزر رہا تھا۔ تب قرآن کی آواز اور پس منظر میں موجود حالات نے ان کی تلاوت کو مزید اثر انگیز بنا دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی ویڈیوز لاکھوں افراد تک پہنچیں۔ بہت سے لوگ انہیں غزہ کی مزاحمتی اور روحانی آواز کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، کیونکہ مشکل حالات میں قرآن کی تلاوت اہلِ ایمان کے لیے حوصلہ اور امید کا ذریعہ بنتی ہے۔
شیخ حسام النقّار کی پرسوز آواز، اخلاص اور غزہ کی روحانی فضا…. سب مل کر اک الگ ہی سماں باندھ دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ عالمی سطح کے بڑے اداروں سے منسلک کسی سرکاری منصب کے طور پر معروف نہیں، مگر عوامی سطح پر ان کی مقبولیت اور روحانی اثر نمایاں ہے۔
ان کی تلاوت میں وقف اور وصل کے درمیان سہل لیکن گہرا توازن ہوتا ہے۔ صوتی لچک الفاظ کے معنی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہی خصوصیات اکثر اسلوبِ تلاوت کو سننے والوں کے لیے دل و دماغ پر اثرانداز بناتی ہیں۔ شیخ حسام النقّار اگرچہ قراءات عشرہ کے ماہر ہیں۔ لیکن عام طور پر روایت حفص عن عاصم پر نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف عرب دنیا میں عام ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ رائج بھی ہے۔ ہمارے یہاں بھی۔
ان کی تلاوت میں کوئی متزلزل مخارج یا غیر روایتی تلفظ نہیں سنا جاتا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہوں نے روایتی قواعد کا مضبوط احاطہ کیا ہے۔ جبکہ نفس یعنی سانس کا انتظام اور لمبے جملوں میں آرام دہ وقف، مخصوص آیاتِ رحمت اور آیاتِ توحید میں پراثر طرزِ آواز سے سامعین پر روحانی اثر مضبوط ہوتا ہے۔ نوٹس (Pitch) اور لے ہمیشہ کنٹرولڈ اور سادہ، افراط و تفریط کم، اس سے الفاظ کے معنی بہترین طور پر واضح رہتے ہیں۔
عرب اور عجم کے قراء میں ایک فرق وقف و وصل کا بھی ہے۔ عجمی قاری چونکہ عام طور پر معانی پر دھیان نہیں دیتے، اس لیے بعض دفعہ ایسی جگہ وقف کرتے ہیں، جس سے معنی میں بڑی تبدیلی کا خطرہ ہوتا ہے۔ مگر عرب نہایت مناسب جگہ وقف کرتے ہیں۔ وقف اور وصل ایسے مقامات پر کرتے ہیں، جہاں آیت ایک مربوط معنی رکھتی ہو۔ یہ تکنیک تلاوت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
عرب قراء اپنی صوت کو معنی کے مطابق ڈھالتے ہیں جیسے آیاتِ عذاب میں خشونت یا گہرائی اور آیاتِ رحمت میں نرمی اور لچک۔ شیخ حسام بھی تلاوت میں بھی یہی صوتی ہم آہنگی کا بھر پور خیال رکھتے ہیں۔(ضیاء چترالی)