16/05/2025
ٹرمپ سے مصافحہ کرنی والی سعودی عورت کون ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ سے مصافحہ کرنی والی سعودی خاتون امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر ہے، ٹرمپ کے استقبال کے موقع پر انہوں نے سعودی ڈیزائنر ہنیدہ صیرافی کا تیارکردہ خصوصی لباس زیب تن کیا۔ ان کے رائل بلیو عبایا کے فرنٹ اور بازوؤں پر نفیس سنہری کڑھائی کی گئی ہے، جبکہ عبایا کے نیچے والے حصے پر چھوٹے چھوٹے سنہری نقش بنے ہوئے ہے، ساتھ نیلے رنگ کا سکارف بھی پہنا تھا۔ یہ برینڈ پرینکا چوپڑا، لوپیٹا نیونگو اور اردن کی شہزادی رجوا کے لیے بھی ڈرس تیار کرتی ہیں۔
ریما بنت بندر کے والد، بندر بن سلطان السعود ہے جو سابق کراؤن پرنس اور طویل مدت تک (1983 سے 2005) امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر رہے۔ ریما کی ماں، سابق سعودی بادشاہ، شاہ فیصل کی بیٹی، حیفہ بن فیصل السعود ہے۔
ریما نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا ہے۔ آپ نے میوزیم سٹڈیز میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے۔ ساتھ پیرس میں اور واشنگٹن کی مشہور سیکلر آرٹ گیلیری میں انٹرنشپ بھی کی ہے۔
شہزادی ریما پہلی سعودی خاتون ہے جو اتنے بڑے اور اہم عہدے پر فائز ہوئی۔ 2019 میں سفیر کے طور پر اپنے فرائض سنبھالتے ہوئے ٹرمپ کو اپنی اسناد پیش کرتے ہوئے ریما نے کہا تھا کہ :
"دونوں ممالک کا اتحاد ’صرف تاریخ نہیں بلکہ یہ ایک نیا مستقبل ہے۔"
اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری میں شہزادی ریما کی شرکت اور تصاویر بھی انٹرنیشنل اخبارات کی زینت بنی ہوئی تھی۔
والد کے سفارت کے بعد، 2005 میں ریاض واپس آنے پر شہزادی ریما نے پبلک و پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں کام کرنے اور خواتین کو حقوق دلانے میں بھی مصروف رہتی ہے۔ پبلک سیکٹر میں کام کرتے ہوئے شہزادی ریما کو مملکت کی جنرل سپورٹس اتھارٹی کے طور پر تعینات کیا گیا جہاں انھوں نے نہ صرف سعودی عرب کے کھیلوں کے شعبے کو بہتر بنایا بلکہ ان کی توجہ سپورٹس اور ایکسرسائز میں خواتین کی شرکت بڑھانے پر بھی مرکوز رہی ہے۔
وہ ریاض کے معروف برطانوی لگثری ڈپارٹمنٹ سٹور ہاروی نکولس کی 𝐶𝐸𝑂 بھی رہ چکی ہیں۔ آج سعودی عرب میں ہاروے نکولس کے سٹورز میں درجنوں خواتین کام کر رہی ہیں، جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جبکہ وہاں پہلے صرف مرد ملازمین تھے۔
انھوں نے سعودی خواتین کی ریٹیل سیکٹر میں شمولیت اور انہیں کام دینے کے مواقعوں اور عمل کو بہتر بنایا۔ خواتین ملازمین کی سہولت کے لیے کام کی جگہ پر ملک کی پہلی نرسری بھی بنائی جہاں خواتین کام کے دوران اپنے بچوں کو چھوڑ سکتی ہیں۔ خواتین ملازمین کو ٹرانسپورٹ الاؤنس دینے کے پروگرام کا بھی اعلان کیا، کیونکہ 2011 میں سعودی خواتین پر گاڑی چلانے پر پابندی تھی تو انہیں کام پر آنے کے لیے ٹیکسی کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔
وہ 2014 میں امریکی میگزین فوربز کی 𝑀𝑜𝑠𝑡 𝑃𝑜𝑤𝑒𝑟𝑓𝑢𝑙 𝐴𝑟𝑎𝑏 𝑊𝑜𝑚𝑒𝑛 یعنی سب سے طاقتور عرب خواتین کی فہرست میں بھی شامل تھیں۔