28/06/2025
خاندان کی عزت بچانے کے لیے میں نے اپنی آوارہ کزن سے نکاح کر لیا جو حاملہ تھی۔ مجھے اس سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے میں اسے دیکھنا بھی پسند نہ کرتا۔
ایک دن آدھی رات کو وہ درد سے تڑپنے لگی تو میں بے رحم بن گیا۔ میرے گھر والے ہی اسے ہسپتال لے کر گئے۔ ابو نے مجھے فون کر کے بلایا تو نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ہسپتال جانا پڑا۔
اس بچے کو دیکھ کر مجھے سخت غصہ آیا۔ میں اس کے ساتھ کچھ برا کرنا چاہتا تھا لیکن اچانک ہی میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی جب ابا نے میرے منہ پر رپورٹ پھینکی کیونکہ یہ بچہ تو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا بچے کا جب ڈاکٹروں نے معائینہ کیا تو پتہ چلا بچے کے دل میں سوراخ ہے اور خون کی بہت کمی تھی ابا نے مجھے کہا جب سے تمھاری شادی میری بجھتی سے ہوئی اور اس بچے کے پیدا ہونے تک تم نے اپنی بیوی کو وہ محبت ہی نہیں دی جو ایک اچھے شوہر کو دینی چاہیے تھی اپنی غلطیوں پر شرمندگی کا بوجھ اٹھائے اور تمھاری بے رخی نے سارہ کو اتنا کمزور کر دیا کہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ بھی کمزوریوں کا شکار ہو گیا اور دل کا مرض لیے ہی پیدا ہوا میں ابا کی ساری باتیں خاموشی سے سن رہا تھا اور اسپتال کے بیڈ پر لیٹی میری بیوی روتے ہوے مجھے دیکھ رہی تھی میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس میں میرا کیا قصور تھا کیوں مجھے ایسی لڑکی کے ساتھ شادی جیسے پاک بندھن میں باندھ دیا کیا جو لڑکی اس بندھن کے قابل ہی نہیں تھی ایک تو میں نے خاندان کی عزت کو پامال ہونے سے بچایا اور اپنی زندگی کے حسین خوابوں کو چکناچور کر کے اس آوارہ زلیل لڑکی سے شادی کی اور ابا مجھے کن رشتوں کو سنبھالنے کا درس دے رہے تھے حالانکہ ابا یہ بھی جانتے تھے میں کسی اور سے بے پناہ محبت کرتا تھا میں نے خاندان کی عزت اور وقار کے لیے سارہ کو اپنایا اور اپنی محبت کی قربانی دی ایک ایسی محبت کی قربانی جو ناقابل فراموش تھی میں اپنی محبت کی نظروں سے بھی گر چکا تھا میں نے عالیہ جیسی بے لوث محبت کرنے والی لڑکی کا دل توڑ کر سارہ جیسی غلیظ لڑکی سے نکاح کیا اور نتیجتاً مجھے وہ کچھ سننا پڑا جس بات کا میں جواب دے نہ تھا ابا نے مجھے غصے سے کہا یوں ہی سوچتے رہو گے یا کہیں سے خون کا بھی بندوبست کرو گے اس بچے کے لیے میں نے ابا کی بات پر سر ہلایا اور وہاں سے چل دیا اس بچے کو بچانے کے لیے جس بچے سے میرا دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں تھا بہرحال خون کا بھی بندوبست ہوگیا اور دو چار دن بعد سارہ اور وہ بچہ بھی گھر آگیے زندگی کی گاڑی دوبارا سے پٹریوں ہر آ گئی لیکن بچے کا یہ معاملہ کے اس کے دل میں سوراخ ہے اپنی جگہ پر تھا میں سارہ سے کوئی بات نہیں کرتا ایک ہی کمرے میں ہم الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور تھے میں عالیہ کو یاد کر کے اپنی گمنام زندگی میں کھویا رہتا بس یہ دعا کرتا رہتا کہ کچھ ایسا ہو جاے کے سارہ میری جان چھوڑ دے اور عالیہ میری زندگی میں لوٹ آئے دن اس سوچ میں گزرتے چلے پر سب کچھ میری سوچ کے الٹ ہوتا رہا ایک دن امی نے مجھے بلایا اور ساتھ بٹھایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوے مجھ سے میری زندگی کے متعلق پوچھنے لگی بیٹا زاھد تم اداس اداس رہتے ہو مجھے تمھاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی امی نے مجھے روتے ہوے کہا بیٹا یہ فیصلہ تمھارے ابا کا تھا میرا نہیں لیکن تمھارے ابا بھی تم سے بہت محبت کرتے ہیں پر اپنے بھائیوں سے بھی بہت محبت کرتے ہیں جب ان کی بیٹی نے یہ کارنامہ انجام دیا اور جب ان کو پتا چلا کے سارہ کے پیٹ میں ناجائز بچہ پل رہا ہے تو تمھارے چچا تمھارے ابا اور میرے پاس آئے اور تمھاری چچی نے اپنا دوپٹہ اور تمھارے چچا نے اپنی ٹوپی میرے اور تمھارے ابا کے قدموں میں رکھ دیں اور اپنی عزت کی بھیک مانگنے لگے گئے تمھارے ابا نے وہی کیا جو غیرت مند بھائی کو کرنا چاہیے تمھارا نکاح سارہ سے کروادیا بیٹا تم بھی اپنا فرض احسن طریق سے نبھاؤ اللّٰہ کے ہاں تمھیں اس کا اجر و ثواب ضرور عطا ہوگا پھر میں نے امی کی بات پر لبیک کہا اور اپنے دل کو تسلی دی اور اپنے خاندان کی عزت اور اللّٰہ کو خوش کرنے کے لیے اپنی زندگی کا آغاز کیا اور سات ماہ سے میں نے سارہ کو ایک بار بھی محبت کی نظروں سے نہیں دیکھا آج اس کے پاس محبت سے بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مخاطب ہوا اور سارہ سے معافی مانگی کے مجھے تمھارے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا ہر انسان کو جینے کا حق ہے سارہ لیکن میں نے تمھارا وہ حق تم سے چھین لیا تھا مجھے معاف کر دینا سارہ نے روتے ہوے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر مجھے گلے لگا لیا اور یہ ایسا پہلی بار ہوا جب سارہ اور میں اتنے پاس تھے وہ روے جا رہی تھی اور اس کی زبان پر یہ جملے تھے نہیں زاھد تم بہت اچھے انسان ہو تمھارے ماں باپ بھی بہت اچھے انسان ہیں میں تو کوڑے سے بھی بتر تھی تم نے مجھے پھولوں کے گلدان میں سجا دیا زاھد بھلے تم مجھ سے بات نہیں کرتے تھے لیکن جب میرے کمرے میں ہی داخل ہوتے میں بہت خوش ہوتی میں روز سوچتی کے تم سے بات کروں تمھیں یہ کہوں کے تم دوسری شادی کر لو پر تمھیں غصے میں پاکر کچھ بھی تم سے نہیں کہہ پاتی زاھد تمھیں پورا پورا حق ہے تم دوسری شادی کر لو مجھے طلاق دے دو مجھے کوئی غم نہیں میں نے بدکاری کی ہے اور اس کی سزا بھی مجھے ملنی چاہیے لیکن میں کیا کروں میری سزا پوری ہو جاے کیسے اپنے رب کو قیامت میں منہ دکھاؤں گی کیسے زاھد کیسے میں نے اسے گلے لگا کر کہا توبہ۔۔۔ تم توبہ کرو اللّٰہ تعالیٰ ضرور معاف کرے گا میں وعدہ کرتا ہوں تمھارے بچے کو اپنا نام دوں گا سارہ جلدی سے اٹھی اور اپنے اللّٰہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگی ہم دونوں نے بچے کا نام رکھا میں اپنے نام سے مشابہت رکھنے والا نام تجویز کیا عابد ہاں عابد یہ نام سارہ کو بھی بہت پسند آیا یہاں سے ہماری زندگی کی انوکھی شروعات ہوئی وقت گزرنے لگا پورے چار سال گزر گئے پر میرے ہاں کسے بچے کی ولادت نہیں ہوئی میں اچھے ڈاکٹروں سے علاج کے لیے رجوع کیا اور مجھے پتا چلا کہ میں کبھی باپ نہیں بن سکتا کیونکہ میری بوڈی میں وہ سیلز ہی نہیں تھے جس سے میں باپ بن پاتا گھر واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ سارہ کا میری زندگی میں آنا اور عابد کا مجھے ملنا یہ سب میرے لیے ہی قدرت انتظام تھا جسے میں اب آ کر سمجھا تھا میں نے سارہ کا تشکر کیا اور یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر میری شادی میری محبت سے یعنی کے عالیہ سے ہو جاتی اور بعد میں عالیہ کو پتہ چلتا کے باپ بننے کے قابل نہیں تو عالیہ بھلے ہی مجھ سے کتنی محبت کیوں نہ کرتی ہو میری زندگی میں بہت وابال کھڑے ہو جاتے جو بھی ہوا سب اجھا ہوا پھر کچھ سالوں بعد ہم نے ڈاکٹروں کی ھدایت کے مطابق عابد کے دل کے سوراخ کا بڑا آپریشن کر بھی کروا دیا جو اللّٰہ تعالیٰ کی عنایت اور کرم نوازی سے کامیاب ہوا وقت گزرتا چلا گیا اور یوں آج پینتیس برس گزر گئے عابد کی بھی شادی ہوگئی اور عابد کے ہاں بھی تین بچوں کی ولادت ہوئی اور میں بہت خوش ہوں اور اس بات یقیں میرے دل میں زیادہ مضبوط ہو چلا ہے جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔۔۔ اس کہانی کے عنوان کو میں نے پورا تو کر دیا پر میرا یقیں یہی ہے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا