kunri futures

kunri futures kunri marketing advertising

26/07/2025

اللّٰہ کی پکڑ انسان کی اکڑ ایک جھٹکے میں نکال دیتی ہے کبھی اسپتال میں جاکر دیکھو ایک مریض کروٹ لینے کے لیے بھی دوسرے کا محتاج ہو جاتا ہے

خاندان کی عزت بچانے کے لیے میں نے اپنی آوارہ کزن سے نکاح کر لیا جو حاملہ تھی۔ مجھے اس سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے میں اسے د...
28/06/2025

خاندان کی عزت بچانے کے لیے میں نے اپنی آوارہ کزن سے نکاح کر لیا جو حاملہ تھی۔ مجھے اس سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے میں اسے دیکھنا بھی پسند نہ کرتا۔
ایک دن آدھی رات کو وہ درد سے تڑپنے لگی تو میں بے رحم بن گیا۔ میرے گھر والے ہی اسے ہسپتال لے کر گئے۔ ابو نے مجھے فون کر کے بلایا تو نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ہسپتال جانا پڑا۔
اس بچے کو دیکھ کر مجھے سخت غصہ آیا۔ میں اس کے ساتھ کچھ برا کرنا چاہتا تھا لیکن اچانک ہی میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی جب ابا نے میرے منہ پر رپورٹ پھینکی کیونکہ یہ بچہ تو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا بچے کا جب ڈاکٹروں نے معائینہ کیا تو پتہ چلا بچے کے دل میں سوراخ ہے اور خون کی بہت کمی تھی ابا نے مجھے کہا جب سے تمھاری شادی میری بجھتی سے ہوئی اور اس بچے کے پیدا ہونے تک تم نے اپنی بیوی کو وہ محبت ہی نہیں دی جو ایک اچھے شوہر کو دینی چاہیے تھی اپنی غلطیوں پر شرمندگی کا بوجھ اٹھائے اور تمھاری بے رخی نے سارہ کو اتنا کمزور کر دیا کہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ بھی کمزوریوں کا شکار ہو گیا اور دل کا مرض لیے ہی پیدا ہوا میں ابا کی ساری باتیں خاموشی سے سن رہا تھا اور اسپتال کے بیڈ پر لیٹی میری بیوی روتے ہوے مجھے دیکھ رہی تھی میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس میں میرا کیا قصور تھا کیوں مجھے ایسی لڑکی کے ساتھ شادی جیسے پاک بندھن میں باندھ دیا کیا جو لڑکی اس بندھن کے قابل ہی نہیں تھی ایک تو میں نے خاندان کی عزت کو پامال ہونے سے بچایا اور اپنی زندگی کے حسین خوابوں کو چکناچور کر کے اس آوارہ زلیل لڑکی سے شادی کی اور ابا مجھے کن رشتوں کو سنبھالنے کا درس دے رہے تھے حالانکہ ابا یہ بھی جانتے تھے میں کسی اور سے بے پناہ محبت کرتا تھا میں نے خاندان کی عزت اور وقار کے لیے سارہ کو اپنایا اور اپنی محبت کی قربانی دی ایک ایسی محبت کی قربانی جو ناقابل فراموش تھی میں اپنی محبت کی نظروں سے بھی گر چکا تھا میں نے عالیہ جیسی بے لوث محبت کرنے والی لڑکی کا دل توڑ کر سارہ جیسی غلیظ لڑکی سے نکاح کیا اور نتیجتاً مجھے وہ کچھ سننا پڑا جس بات کا میں جواب دے نہ تھا ابا نے مجھے غصے سے کہا یوں ہی سوچتے رہو گے یا کہیں سے خون کا بھی بندوبست کرو گے اس بچے کے لیے میں نے ابا کی بات پر سر ہلایا اور وہاں سے چل دیا اس بچے کو بچانے کے لیے جس بچے سے میرا دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں تھا بہرحال خون کا بھی بندوبست ہوگیا اور دو چار دن بعد سارہ اور وہ بچہ بھی گھر آگیے زندگی کی گاڑی دوبارا سے پٹریوں ہر آ گئی لیکن بچے کا یہ معاملہ کے اس کے دل میں سوراخ ہے اپنی جگہ پر تھا میں سارہ سے کوئی بات نہیں کرتا ایک ہی کمرے میں ہم الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور تھے میں عالیہ کو یاد کر کے اپنی گمنام زندگی میں کھویا رہتا بس یہ دعا کرتا رہتا کہ کچھ ایسا ہو جاے کے سارہ میری جان چھوڑ دے اور عالیہ میری زندگی میں لوٹ آئے دن اس سوچ میں گزرتے چلے پر سب کچھ میری سوچ کے الٹ ہوتا رہا ایک دن امی نے مجھے بلایا اور ساتھ بٹھایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوے مجھ سے میری زندگی کے متعلق پوچھنے لگی بیٹا زاھد تم اداس اداس رہتے ہو مجھے تمھاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی امی نے مجھے روتے ہوے کہا بیٹا یہ فیصلہ تمھارے ابا کا تھا میرا نہیں لیکن تمھارے ابا بھی تم سے بہت محبت کرتے ہیں پر اپنے بھائیوں سے بھی بہت محبت کرتے ہیں جب ان کی بیٹی نے یہ کارنامہ انجام دیا اور جب ان کو پتا چلا کے سارہ کے پیٹ میں ناجائز بچہ پل رہا ہے تو تمھارے چچا تمھارے ابا اور میرے پاس آئے اور تمھاری چچی نے اپنا دوپٹہ اور تمھارے چچا نے اپنی ٹوپی میرے اور تمھارے ابا کے قدموں میں رکھ دیں اور اپنی عزت کی بھیک مانگنے لگے گئے تمھارے ابا نے وہی کیا جو غیرت مند بھائی کو کرنا چاہیے تمھارا نکاح سارہ سے کروادیا بیٹا تم بھی اپنا فرض احسن طریق سے نبھاؤ اللّٰہ کے ہاں تمھیں اس کا اجر و ثواب ضرور عطا ہوگا پھر میں نے امی کی بات پر لبیک کہا اور اپنے دل کو تسلی دی اور اپنے خاندان کی عزت اور اللّٰہ کو خوش کرنے کے لیے اپنی زندگی کا آغاز کیا اور سات ماہ سے میں نے سارہ کو ایک بار بھی محبت کی نظروں سے نہیں دیکھا آج اس کے پاس محبت سے بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مخاطب ہوا اور سارہ سے معافی مانگی کے مجھے تمھارے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا ہر انسان کو جینے کا حق ہے سارہ لیکن میں نے تمھارا وہ حق تم سے چھین لیا تھا مجھے معاف کر دینا سارہ نے روتے ہوے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر مجھے گلے لگا لیا اور یہ ایسا پہلی بار ہوا جب سارہ اور میں اتنے پاس تھے وہ روے جا رہی تھی اور اس کی زبان پر یہ جملے تھے نہیں زاھد تم بہت اچھے انسان ہو تمھارے ماں باپ بھی بہت اچھے انسان ہیں میں تو کوڑے سے بھی بتر تھی تم نے مجھے پھولوں کے گلدان میں سجا دیا زاھد بھلے تم مجھ سے بات نہیں کرتے تھے لیکن جب میرے کمرے میں ہی داخل ہوتے میں بہت خوش ہوتی میں روز سوچتی کے تم سے بات کروں تمھیں یہ کہوں کے تم دوسری شادی کر لو پر تمھیں غصے میں پاکر کچھ بھی تم سے نہیں کہہ پاتی زاھد تمھیں پورا پورا حق ہے تم دوسری شادی کر لو مجھے طلاق دے دو مجھے کوئی غم نہیں میں نے بدکاری کی ہے اور اس کی سزا بھی مجھے ملنی چاہیے لیکن میں کیا کروں میری سزا پوری ہو جاے کیسے اپنے رب کو قیامت میں منہ دکھاؤں گی کیسے زاھد کیسے میں نے اسے گلے لگا کر کہا توبہ۔۔۔ تم توبہ کرو اللّٰہ تعالیٰ ضرور معاف کرے گا میں وعدہ کرتا ہوں تمھارے بچے کو اپنا نام دوں گا سارہ جلدی سے اٹھی اور اپنے اللّٰہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگی ہم دونوں نے بچے کا نام رکھا میں اپنے نام سے مشابہت رکھنے والا نام تجویز کیا عابد ہاں عابد یہ نام سارہ کو بھی بہت پسند آیا یہاں سے ہماری زندگی کی انوکھی شروعات ہوئی وقت گزرنے لگا پورے چار سال گزر گئے پر میرے ہاں کسے بچے کی ولادت نہیں ہوئی میں اچھے ڈاکٹروں سے علاج کے لیے رجوع کیا اور مجھے پتا چلا کہ میں کبھی باپ نہیں بن سکتا کیونکہ میری بوڈی میں وہ سیلز ہی نہیں تھے جس سے میں باپ بن پاتا گھر واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ سارہ کا میری زندگی میں آنا اور عابد کا مجھے ملنا یہ سب میرے لیے ہی قدرت انتظام تھا جسے میں اب آ کر سمجھا تھا میں نے سارہ کا تشکر کیا اور یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر میری شادی میری محبت سے یعنی کے عالیہ سے ہو جاتی اور بعد میں عالیہ کو پتہ چلتا کے باپ بننے کے قابل نہیں تو عالیہ بھلے ہی مجھ سے کتنی محبت کیوں نہ کرتی ہو میری زندگی میں بہت وابال کھڑے ہو جاتے جو بھی ہوا سب اجھا ہوا پھر کچھ سالوں بعد ہم نے ڈاکٹروں کی ھدایت کے مطابق عابد کے دل کے سوراخ کا بڑا آپریشن کر بھی کروا دیا جو اللّٰہ تعالیٰ کی عنایت اور کرم نوازی سے کامیاب ہوا وقت گزرتا چلا گیا اور یوں آج پینتیس برس گزر گئے عابد کی بھی شادی ہوگئی اور عابد کے ہاں بھی تین بچوں کی ولادت ہوئی اور میں بہت خوش ہوں اور اس بات یقیں میرے دل میں زیادہ مضبوط ہو چلا ہے جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔۔۔ اس کہانی کے عنوان کو میں نے پورا تو کر دیا پر میرا یقیں یہی ہے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا

لطائف کی دُنیا: مریض کے ساتھ آیا ہوا اُس کا بیٹا نرس سے پوچھتا ھے کہ میرے ابو کا آپریشن تو آنکھوں کا ہُوا ہے لیکن پٹی ہا...
04/06/2025

لطائف کی دُنیا:

مریض کے ساتھ آیا ہوا اُس کا بیٹا نرس سے پوچھتا ھے کہ میرے ابو کا آپریشن تو آنکھوں کا ہُوا ہے لیکن پٹی ہاتھوں پر باندھ دی ہے؟

نرس ؛ ہاتھوں پر پٹی اِس لئے باندھی ھے کہ مریض فیس بک اور وہٹس ایپ استعمال نہ کرے تا کہ اُس کی آنکھیں جلدی ٹھیک ہو جائیں۔ اچھا

بند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ایک متجسس راہگیر نے ان سے ات...
02/06/2025

بند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ

ایک متجسس راہگیر نے ان سے اتنا خوش ہونے کی وجہ پوچھ لی۔

ایک بوڑھے نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا:

ہمارے پاس اس ملک کے مسائل حل کرنے کیلیئے ایک شاندار منصوبہ ہے۔

اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ساری قوم کو جیل میں ڈال دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔
اور ان سب کے ساتھ ایک گدھا بھی جیل میں ڈالا جائے۔

راہگیر نے حیرت سے دونوں کو دیکھا اور پوچھا:

ان سب کے ساتھ ایک گدھے کو کیوں قید کیا جائے؟

دونوں بوڑھوں نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا،
اور ایک بوڑھے نے دوسرے سے کہا:

دیکھا رحیمے: آگیا یقین تجھے میری بات پر،

میں نہیں کہتا تھا کہ بخدا اس قوم کے بارے میں کوئی بھی نہیں پوچھے گا۔

یادگار شخصیت: عالم چنہ آج، 2 جولائی، پاکستان کے سب سے لمبے انسان، عالم چنہ کی برسی کا دن ہے۔حاجی محمد عالم چنہ 1953 میں ...
09/07/2024

یادگار شخصیت: عالم چنہ
آج، 2 جولائی، پاکستان کے سب سے لمبے انسان، عالم چنہ کی برسی کا دن ہے۔

حاجی محمد عالم چنہ 1953 میں بچل چنہ، سہون شریف میں پیدا ہوئے، ان کا قد 7 فٹ 8 انچ (233.7 سینٹی میٹر) تھا۔ جب وہ 10 سال کے تھے تو ان کی غیر معمولی نشوونما کو ان کے خاندان نے نوٹ کیا اور یہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ وہ 26 سال کی عمر تک نہ پہنچے۔
انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا مگر ہمیشہ مسکراتے رہے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ایک منفرد جگہ بنائی۔
1989 میں انہوں نے نسیم سے شادی کی اور سہون میں عظیم صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر کام کیا۔

عالم چنہ کا انتقال 1998 میں ہوا، لیکن ان کی یادیں اور ان کی بلند قامت شخصیت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس خاص دن پر، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے سفر کو یاد کرتے ہیں۔

عالم چنہ نہ صرف اپنی لمبائی کی وجہ سے مشہور تھے بلکہ ان کی شخصیت اور عاجزی نے بھی انہیں لوگوں کے دلوں کے قریب رکھا۔ ان کا قد ان کے لیے مشکلات کا سبب بھی بنا، لیکن انہوں نے ہمیشہ ہمت اور حوصلے سے ان کا سامنا کیا۔

گینس بک آف ریکارڈ کے مطابق 1982 سے 1998 تک دنیا کا سب سے لمبا انسان ہونے کا اعزاز بھی عالم چنہ کو حاصل رہا۔

آج کے اس دن پر، ہم ان کے خاندان اور دوستوں کے ساتھ مل کر ان کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ عالم چنہ، آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے اور آپ کی کہانی ہمیں حوصلہ اور امید دیتی رہے گی۔

اللہ آپ سمیت تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، آمین۔

گرمی کی وجہ سے پنجاب حکومت کا جہلم پل پر فین لگانے کا فیصلہ زیر غور
09/07/2024

گرمی کی وجہ سے پنجاب حکومت کا جہلم پل پر فین لگانے کا فیصلہ زیر غور

ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر 50 کی دہائی میں فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئی تھی ، ایک کلب میں ا...
09/07/2024

ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر 50 کی دہائی میں فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئی تھی ، ایک کلب میں اس نے فضل محمود کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ فضل اس کے ساتھہ رقص کرے۔

1954ء کے دورۂ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ملکہ برطانیہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملکہ الزبتھہ نے فضل محمود کو دیکھہ کر فوراً کہا کہ آپ پاکستانی نہیں لگتے، آپ کی آنکھیں نیلی کیوں ہیں؟

پاکستان نے فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت اوول ٹیسٹ جیتا تو اگلے دن برطانوی اخبار نے سرخی لگائی
ENGLAND FAZZALED OUT
اس کے بعد فضل محمود ’’ اوول کے ہیرو‘‘ کہلاتے رہے۔
1955میں وزڈن نے انہیں سال کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا ۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔

ان دنوں صرف فلمی اداکارائیں اشتہارات میں اپنے حسن کا راز بتایا کرتی تھیں۔
پھر جب اس نوجوان کرکٹر کی شہرت کے ساتھہ اس کے حسن وجمال کا چرچا شروع ہوا۔ گورا چٹا نیلی آنکھوں والا فضل محمود لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ تواشتہاری کمپنیوں نے بھی فضل محمود کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہا اور یوں فضل محمود برل کریم کے اشتہار میں آکر پاکستان کے پہلے کھلاڑی ماڈل بن گئے۔

فضل محمود 18 فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے1943 سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ دس ٹیسٹوں میں کپتانی بھی کی.

پاکستان کو 1952ء میں ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ ملا اور پاکستان نے پہلا مقابلہ ہندوستان کے خلاف دہلی میں کھیلا جہاں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے کھلاڑی بوجھل دل کے ساتھہ میدان سے لوٹ رہے تھے کہ باؤنڈری لائن پر کھڑی ایک لڑکی نے کہا
"اچھا کھیلے، لیکن ہندوستان سے جیت نہیں سکتے!"۔
یہ لڑکی تھی اس وقت کے وزیراعظم ہندوستان جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی ، جو بعد میں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے پاکستان کے نائب کپتان فضل محمود ، جنہوں نے اپنی آپ بیتی"From Dusk to Dawn" میں اس کا ذکر کیا ہے۔

فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت لیا ۔
پھر فروری 1959 میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں گیری سوبرز کو آؤٹ کرکے فضل محمود ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

شاعر تک فضل محمود کی شہرت اور مقبولیت سے متاثر ہوئے۔ مجید امجد کی 1955 کی نظم ’’ آٹو گراف ‘‘ کی یہ سطریں فضل محمود کے بارے میں ہی ہیں۔۔۔

وہ باؤلر ایک ، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گھر گیا
وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
۔
فضل محمود نے کیرئر میں 34 ٹیسٹ کھیلے اور 139 وکٹیں حاصل کیں ۔
فضل محمود پولیس میں ملازم ہوئے اور ڈی آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک منہاج القران میں شامل ہوگئے۔ اس کے سیاسی بازو پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے الیکشن بھی لڑا۔

آخری عمر میں جانے کیا جی میں آئی کہ بیوی کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد عشأ سے فجر تک کا وقت داتا دربار پر گزارتے رہے۔ اپنے محلے کی مسجد میں اذان بھی دیتے تھے۔
فضل محمود کا 30 مئی 2005 کو لاہور میں انتقال ہوا، اور قبرستان مسافر خانہ، گڑھی شاہو میں سپردخاک ہوئے۔

15/08/2023

کنری چیرمین جناب حاجی شکیل احمد باجوہ صاحب کی خصوصی ھدایت پر جشن آزادی پاکستان سندھی سخافتی کھیل مل کا انعقاد (ملاکڑا.کشتی) رحمت کالونی گراونڈ کنری عمرکوٹ سندھ

05/08/2023

Pakistan independence day kunri people Various messages from the regarding August 14

04/08/2023

جنرل کونسلر جناب عمران ایف ایم بھائی کی طرف سے سنگت کو ڈنر پارٹی

01/08/2023

Chairman kunri janab haji Shakeel ahmad bajwa sahib ki janab se gy ishahiye me mehmano k liye behtreen iqram

Address

Kunri Pak Zillah Umarkot Sindh
Kunri
69160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when kunri futures posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to kunri futures:

Share

Category