10/10/2022
مقبرہ انارکلی، لاہور
ایران کا ایک سوداگر اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان آ رہا تھا کہ راستے میں ڈاکوﺅں نے اس پر حملہ کر دیا۔ ڈاکوﺅں نے سوداگر کو قتل کر دیا اور اس کی خوبرو بیٹی شرف النساء کو راجہ مان سنگھ حاکم کابل کے پاس فروخت کر دیا گیا۔ راجہ مان سنگھ نے اسے اکبر بادشاہ کے پاس تحفتاً پیش کیا۔ اکبر نے اس کے حسن سے متاثر ہو کر اسے انار کلی کا خطاب دے کر اسے دربار میں رقاصہ خاص کا درجہ دے دیا۔
شہزادہ سلیم کی نظر مظلوم کنیز انارکلی پر پڑی اور درباریوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ بیچاری انارکلی جو ایک سوداگرزادی تھی شہزادے کے سامنے ایک ایسی لڑکی جس کے اہل خانہ کو اس کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا اور وہ کنیز بنا کر فروخت کر دی گئی تھی کی کیا اوقات ہو سکتی تھی۔ تاریخ یہ بھی نتاتی ہے کہ اکبر بادشاہ خود بھی انارکلی کو پسند کرتا تھا اسی لئے اسے یہ خطاب "انارکلی" اکبر بادشاہ نے دیا تھا۔ ایک موقع پر محل میں اکبر بادشاہ کی نظر شہزادہ سلیم اور انار کلی کے درمیان مسکراہٹوں کے تبادلے پر پڑ گئی جس نے اکبر کے سلیم و انارکلی بابت شبہات کو یقین میں بدل دیا اور ظالم اکبر نے مظلوم و یتیم انار کلی کو دیوار میں زندہ چنوا دیا۔ اس موت کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک مورخ ٹیری نے لکھا کہ بادشاہ اکبر نے شہزادہ سلیم کو تخت سے الگ کرنے کی دھمکی بھی اپنی منظور نظر کنیز انارکلی کی وجہ سے دی تھی۔ بعد میں جب شہزادہ سلیم بادشاہ بنا اور "جہانگیر " کے نام سے حکومت شروع کی تو اس نے انارکلی کو جس دیوار میں چنوایا گیا تھا وہاں مقبرہ و باغ بنوایا۔
تاریخ یہاں ایک اور پہلو بھی بیان کرتی ہے کہ بظاہر تو انارکلی کو آگرہ قلعہ کی کسی دیوار میں زندہ چنوانے کے حکم اکبری کی تعمیل کر دی گئی تھی لیکن چونکہ اکبر بادشاہ نے انارکلی کی ماں سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ وہ اکبر بادشاہ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہے تو انارکلی کی ماں نے اکبر بادشاہ سے انارکلی کی زندگی مانگ لی اور انارکلی کو فتح پور سکری میں واقع ایک خفیہ بادشاہی سرنگ سے لاہور بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنی بقایا زندگی گزار کر فوت ہوئی۔
اب تاریخ کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ اس داستان کا مرکزی کردار شہزادہ سلیم اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے اس نے اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں اپنے بے شمار دوسرے مشاغل اور دلچسپیوں کا بے باکی سے ذکر کیا لیکن انار کلی کے واقعہ کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔
کنہیا لال اس بابت اپنی شہرہ آفاق کتاب ’تاریخ لاہور‘ میں لکھتے ہیں کہ ”انارکلی ایک کنیز نہایت خوبصورت اکبر بادشاہ کے محل کی تھی جس کا اصلی نام نادرہ بیگم تھا۔ بادشاہ نے باسبب اس کے کہ حسن و جمال میں لاثانی تھی اور رنگ سرخ تھا، انارکلی کے خطاب سے اس کو مخاطب کیا ہوا تھا ۔ جن دنوں بادشاہ دکھن و خاندیس کی مہموں میں مصروف تھا، یہ لاہور میں بیمار ہو کر مر گئی۔ بعض کا قول ہے کہ مسموم ہوئی۔ بادشاہ کے حکم سے یہ عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا اور باغ تیار ہوا جس کے وسط میں یہ مقبرہ تھا۔ سکھی سلطنت کے وقت باغیچہ اجڑ گیا، چار دیواری کی اینٹیں خشت فروش اس کو گرا کر لے گئے، مقبرہ باقی رہ گیا۔ اس میں جو سنگ مرمر کا چبوترہ تھا اس کا پتھر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اتروا لیا۔ قبر کا تعویذ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا گیا
تاریخ ایک تیسری کہانی بھی بیان کرتی ہے کہ مقبرہ انارکلی دراصل جہانگیر کی ایک ملکہ صاحب جمال کا مقبرہ ہے اس جگہ کے اطراف میں انار کلی باغ تھا۔ اسی مناسبت سے اس مقبرے کو انار کلی کا مقبرہ قرار دیا جاتا ہے۔
مقبرہ انارکلی کی بے توقیری و بربادی
مقبرہ انار کلی مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار تھا اور خوبصورت باغ سے گھرا ہوا تھا۔پنجاب سکھوں کے قبضہ میں چلا گیا بدنصیب انارکلی کا مقبرہ شہزادہ کھڑک سنگھ کی رہاٸش گاہ بنا دیا گیا جن سکھوں نے پنجاب پر قبضہ کر کے حکومت بنا لی تو چار سکھ پلٹنیں مقبرہ انارکلی میں ہمراہ اپنے اصطبل قیام پذیر ہو گئیں اور پھر 1849ء میں پنجاب پر انگریزوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے مقبرہ انارکلی کو سفید چونے سے ڈھک کر مقبرے پر صلیب نصب کر کے گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ بعد ازاں 1891ء میں انگریزوں نے اس مقبرے کو پنجاب ریکارڈ آفس بنا دیا اور اب یہاں سول سیکرٹریٹ پنجاب قائم ہے۔ باغ کی جگہ بہت سے دفاتر کی عمارات بھی بن چکی ہیں۔