Sadia information

Sadia information اسلام علیکم میرا نام سعدیہ ہے اور میرا تعلق جموں و کشمیر سے ہے
اور میرا پیج فالو ضرور کریں شکریہ

16/01/2024

Top viral reals

15/01/2024

Wa Kya Kamal kr diya is ne

16/10/2022

AJ ka swal

Subscribe my channel
16/10/2022

Subscribe my channel

مقبرہ انارکلی، لاہور ایران کا ایک سوداگر اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان آ رہا تھا کہ راستے میں ڈاکوﺅں نے اس پر حملہ کر دی...
10/10/2022

مقبرہ انارکلی، لاہور

ایران کا ایک سوداگر اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان آ رہا تھا کہ راستے میں ڈاکوﺅں نے اس پر حملہ کر دیا۔ ڈاکوﺅں نے سوداگر کو قتل کر دیا اور اس کی خوبرو بیٹی شرف النساء کو راجہ مان سنگھ حاکم کابل کے پاس فروخت کر دیا گیا۔ راجہ مان سنگھ نے اسے اکبر بادشاہ کے پاس تحفتاً پیش کیا۔ اکبر نے اس کے حسن سے متاثر ہو کر اسے انار کلی کا خطاب دے کر اسے دربار میں رقاصہ خاص کا درجہ دے دیا۔
شہزادہ سلیم کی نظر مظلوم کنیز انارکلی پر پڑی اور درباریوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ بیچاری انارکلی جو ایک سوداگرزادی تھی شہزادے کے سامنے ایک ایسی لڑکی جس کے اہل خانہ کو اس کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا اور وہ کنیز بنا کر فروخت کر دی گئی تھی کی کیا اوقات ہو سکتی تھی۔ تاریخ یہ بھی نتاتی ہے کہ اکبر بادشاہ خود بھی انارکلی کو پسند کرتا تھا اسی لئے اسے یہ خطاب "انارکلی" اکبر بادشاہ نے دیا تھا۔ ایک موقع پر محل میں اکبر بادشاہ کی نظر شہزادہ سلیم اور انار کلی کے درمیان مسکراہٹوں کے تبادلے پر پڑ گئی جس نے اکبر کے سلیم و انارکلی بابت شبہات کو یقین میں بدل دیا اور ظالم اکبر نے مظلوم و یتیم انار کلی کو دیوار میں زندہ چنوا دیا۔ اس موت کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک مورخ ٹیری نے لکھا کہ بادشاہ اکبر نے شہزادہ سلیم کو تخت سے الگ کرنے کی دھمکی بھی اپنی منظور نظر کنیز انارکلی کی وجہ سے دی تھی۔ بعد میں جب شہزادہ سلیم بادشاہ بنا اور "جہانگیر " کے نام سے حکومت شروع کی تو اس نے انارکلی کو جس دیوار میں چنوایا گیا تھا وہاں مقبرہ و باغ بنوایا۔
تاریخ یہاں ایک اور پہلو بھی بیان کرتی ہے کہ بظاہر تو انارکلی کو آگرہ قلعہ کی کسی دیوار میں زندہ چنوانے کے حکم اکبری کی تعمیل کر دی گئی تھی لیکن چونکہ اکبر بادشاہ نے انارکلی کی ماں سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ وہ اکبر بادشاہ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہے تو انارکلی کی ماں نے اکبر بادشاہ سے انارکلی کی زندگی مانگ لی اور انارکلی کو فتح پور سکری میں واقع ایک خفیہ بادشاہی سرنگ سے لاہور بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنی بقایا زندگی گزار کر فوت ہوئی۔
اب تاریخ کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ اس داستان کا مرکزی کردار شہزادہ سلیم اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے اس نے اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں اپنے بے شمار دوسرے مشاغل اور دلچسپیوں کا بے باکی سے ذکر کیا لیکن انار کلی کے واقعہ کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔
کنہیا لال اس بابت اپنی شہرہ آفاق کتاب ’تاریخ لاہور‘ میں لکھتے ہیں کہ ”انارکلی ایک کنیز نہایت خوبصورت اکبر بادشاہ کے محل کی تھی جس کا اصلی نام نادرہ بیگم تھا۔ بادشاہ نے باسبب اس کے کہ حسن و جمال میں لاثانی تھی اور رنگ سرخ تھا، انارکلی کے خطاب سے اس کو مخاطب کیا ہوا تھا ۔ جن دنوں بادشاہ دکھن و خاندیس کی مہموں میں مصروف تھا، یہ لاہور میں بیمار ہو کر مر گئی۔ بعض کا قول ہے کہ مسموم ہوئی۔ بادشاہ کے حکم سے یہ عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا اور باغ تیار ہوا جس کے وسط میں یہ مقبرہ تھا۔ سکھی سلطنت کے وقت باغیچہ اجڑ گیا، چار دیواری کی اینٹیں خشت فروش اس کو گرا کر لے گئے، مقبرہ باقی رہ گیا۔ اس میں جو سنگ مرمر کا چبوترہ تھا اس کا پتھر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اتروا لیا۔ قبر کا تعویذ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا گیا
تاریخ ایک تیسری کہانی بھی بیان کرتی ہے کہ مقبرہ انارکلی دراصل جہانگیر کی ایک ملکہ صاحب جمال کا مقبرہ ہے اس جگہ کے اطراف میں انار کلی باغ تھا۔ اسی مناسبت سے اس مقبرے کو انار کلی کا مقبرہ قرار دیا جاتا ہے۔
مقبرہ انارکلی کی بے توقیری و بربادی
مقبرہ انار کلی مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار تھا اور خوبصورت باغ سے گھرا ہوا تھا۔پنجاب سکھوں کے قبضہ میں چلا گیا بدنصیب انارکلی کا مقبرہ شہزادہ کھڑک سنگھ کی رہاٸش گاہ بنا دیا گیا جن سکھوں نے پنجاب پر قبضہ کر کے حکومت بنا لی تو چار سکھ پلٹنیں مقبرہ انارکلی میں ہمراہ اپنے اصطبل قیام پذیر ہو گئیں اور پھر 1849ء میں پنجاب پر انگریزوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے مقبرہ انارکلی کو سفید چونے سے ڈھک کر مقبرے پر صلیب نصب کر کے گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ بعد ازاں 1891ء میں انگریزوں نے اس مقبرے کو پنجاب ریکارڈ آفس بنا دیا اور اب یہاں سول سیکرٹریٹ پنجاب قائم ہے۔ باغ کی جگہ بہت سے دفاتر کی عمارات بھی بن چکی ہیں۔

دھاری دار لگڑبگڑ Striped Hyenaپاکستان میں پایا جانے والا دھاری دار لگڑبگڑلگڑبگڑوں کا تعلق ممالیہ جانوروں کی فیملی Hyaeni...
08/10/2022

دھاری دار لگڑبگڑ
Striped Hyena
پاکستان میں پایا جانے والا دھاری دار لگڑبگڑ
لگڑبگڑوں کا تعلق ممالیہ جانوروں کی فیملی Hyaenidae سے ہے اور دنیا بھر میں ان کی چار قِسمیں موجود ہیں جن میں سے تین قِسم براعظم افریقہ میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں دھبے دار ، بھورا ل اور آرڈولف لگڑبگڑ شامل ہیں جبکہ لگڑبگڑوں کی چوتھی قِسم براعظم ایشیاء میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی ممالک میں پائی جاتی ہے جس کا نام دھاری دار لگڑبگڑ یا striped hyena ہے۔
دھاری دار لگڑبگڑ پاکستان میں پایا جانے والا واحد لگڑبگڑ ہے یہ کتے سے ملتا جلتا ایک بڑی جسامت والا گوشت خور جانور ہے جس کا سر کافی بڑا، مضبوط جبڑے اور اگلی ٹانگیں پچھلی ٹانگوں سے بڑی ہوتی ہیں۔ اس کے نمایاں خصوصیات اس کے بڑے بڑے بال ہیں جو سر سے دم تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ جسم کا رنگ ہلکا پیلا ہوتا ہے جس پر کالے رنگ کی دھاریاں ہوتی ہیں۔
یہ عام طور پر خشک جھاڑی دار پہاڑی علاقوں میں رہنا پسند کرتا ہے جہاں یہ پہاڑوں اور ٹیلوں میں موجود غاروں اور بڑے سوراخوں میں رہتا ہے۔ پاکستان میں دھاری دار لگڑ بگڑ بلوچستان اور سندھ کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ بلوچستان اور سندھ میں عام ملتا تھا اور پختونخواہ کے کچھ علاقے میں بھی پایا جاتا تھا پچھلے دنوں پختنخواہ کے علاقے ہرہی پور میں اس کی موجودگی کی اطلاح رہی ہیں جو شاید مفروضہ ہو۔ لیکن آج کل یہ بلوچستان میں بہت کم رہ گیا ہے جبکہ سندھ سے تقریباً اس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ آج کل بھی یہ سندھ میں کیرتھر کے پہاڑی سلسلوں پر پایا جاتا ہے لیکن یہ اب یہاں بہت نایاب ہے۔ البتہ بلوچستان میں کوئٹہ شہر کے گردو نواح میں موجود پہاڑوں پر یہ اب بھی اکثر نظر آ جاتے ہیں۔لیکن پنجاب میں کہیں کہیں اس کی موجودگی کی اطلاح پاٸی جاتی ہیں لاہور شہر میں بھارت کی سرحد کے قریب سے ملے ہیں۔ پنجاب میں ضلع اٹک میں بھی یہ کبھی موجود تھا لیکن اب یہ صوبہ پنجاب سے بالکل ختم ہوچکا ہے۔ مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی موجودگی کی خبریں ہیں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہ کبھی بھی موجود نہیں رہا۔

2001 میں کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے سندھ میں کیرتھر نیشنل پارک میں دھاریدار لگڑ بگڑ کی موجودگی کے حوالے سے ایک سروے کیا کیونکہ اس علاقے میں ان کی آبادی اور ان کی ضروریات کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ کیرتھر نیشنل پارک میں لگڑبگڑ کی آخری کنفرم سائیٹنگ 1977 میں ملتی ہے۔ ڈیٹا کی عدم موجودگی ان کے تحفظ کے حوالے سے مشکلات پیدا کرتی ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ان کی کل تعداد کیا ہے۔سندھ کو مشہور سیاحتی مقام کیرتھر میں سروے میں ان کی موجودگی ظاہر ہوٸی ہے
سندھ کی نسبت صوبہ بلوچستان میں ان کی آبادی زیادہ ہے لیکن وہاں بھی یہ پہلے کی نسبت بہت کم رہ گئے ہیں۔لیکن کہا جاسکتا ہے پاکستان میں یہ نسل ناپید ہو رہی ہے جس کو بچایا جانا بہت ضروری ہے
پاکستان سے باہر دھاریدار لگڑبگڑ افغانستان، ایران، جزیرہ نما عرب اور براعظم افریقہ کے شمالی علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ بھارت میں یہ زیادہہ دکن کے علاقے میں نظر آتا ہے جبکہ افغانستان میں یہ صوبہ قندھار کے آس پاس اکثر دیکھا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ان کی کل آبادی 3000 کے لگ بھگ ہے جبکہ پاکستان میں اس کی آبادی نامعلوم ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں ان کے بارے میں عجیب و غریب قصے بھی مشہور ہیں۔ سندھ میں ان کی حوالے سے مشہور ہے کہ اس پر چڑیلیں اور جادوگر سواری کرتے ہیں۔ عرب میں ان کو غداری کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ جنات اکثر اس جانور کی شکل میں گھومتے ہیں۔ فارسی لوگ کہانیوں میں ایک ایسی عجیب الخلقت آدم خور مخلوق کا ذکر ملتا ہے جو آدھا انسان اور آدھا لگڑبگڑ (werehyena) ہوتا تھا۔

ویسے تو یہ انسان کی موجودگی سے کتراتا ہے لیکن اگر خطرہ محسوس کرے تو کبھی کبھار انسانوں پر حملہ بھی کردیتا ہے۔ اس کے علاؤہ بھیڑ بکریوں اور مرغیوں پر بھی اس کے حملوں کے واقعات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ دھاریدار لگڑبگڑوں کے انسانی قبروں کو کھود کر مردے نکال کر کھانے کے واقعات بھی اکثر رپورٹ ہوتے ہیں۔ ترکی میں کئی دیہی علاقوں میں نئی بننے والی قبروں پر بڑے بڑے پتھر رکھے جاتے ہیں تاکہ لگڑبگڑ ان کو کھود کر میت نکال نہ لیں۔

سننے میں عجیب لگتا ہے لیکن مصر میں کچھ لوگ ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ اس کے علاؤہ عرب بدو بھی ان کا گوشت میڈیسن کے طور پر مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں کچھ لوگ لگڑبگڑوں کے بچوں کو پکڑ کر سدھا لیتے ہیں اور ان سے شکار کا کام لیتے ہیں کیونکہ اگر ان کو بچپن سے ٹرین کیا جائے تو یہ بہت اچھی طرح ٹرین ہوجاتے ہیں۔

دھاریدار لگڑبگڑ عام طور پر اکیلے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ اکیلے ہی خوراک کے حصول کیلئے نکلتے ہیں اور کبھی کبھار ہی گروہ میں دیکھے گئے ہیں۔ البتہ اپنی کچھار یا غار میں یہ ایک فیملی گروہ کی شکل میں رہتے ہیں۔ بڑے بہن بھائی بعض اوقات اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے خوراک لے کر آتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ان میں ٹیریٹوریل برتاؤ کم ہی نظر آتا ہے کیونکہ یہ ایک غار میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد اسے چھوڑ دیتے ہیں اس لئے اس کا دفاع کرنے کی عموماً نوبت نہیں آتی۔

یہ ایک مردہ خور جانور ہے جو جانوروں کی آلائشوں اور مرے ہوئے جنگی جانوروں کو کھاتا ہے لیکن یہ کبھی کبھار خرگوشوں، چوہوں، چھپکلیوں اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کرتا ہے۔ اس کے علاؤہ اس کی خوراک میں پھل اور کیڑے مکوڑے وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ عام طور پر رات کو خوراک کے حصول کیلئے نکلتے ہیں اور کچرا دانوں کے پاس خوراک ڈھونڈتے ہوئے نظر آجاتے ہیں۔ یہ ایک نیم صحرائی جانور ہے جو پانی کے بغیر کئی دن گزارہ کرلیتا ہے۔
جانوروں کے تحفظ کی عالمی تنظیم آئی یو سی این کے مطابق یہ نوع خطرات سے دوچار ہے اور ان کا سٹیٹس endangered ہے۔ دنیا بھر میں ان کی کل تعداد کا تخمینہ دس ہزار لگایا گیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کو معدومی کے خطرے سے بچایا جاسکے۔

06/10/2022

03/10/2022

اسلام علیکم جی خوش آمدید میرے پیج پر

Address

Kotli
Kotli
11100

Telephone

+923445984408

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sadia information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sadia information:

Share

Category