سید ملنگ شاہ حسینی نقوی بخاری جلالی

سید ملنگ شاہ حسینی نقوی بخاری جلالی Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سید ملنگ شاہ حسینی نقوی بخاری جلالی, Grocers, A-2/3. Street/2 � house/3 Qayyumabad Karachi Est, Karachi.

18/07/2026
🚩❤️حضرت سیّد جلال الدین حسین سُرخ پوش بخاری💚🚩 ؒ                           💫✍🏻 ::  تحریر و تحقیق 📜 :::::::::: 🌹 گل سرخ سی...
17/07/2026

🚩❤️حضرت سیّد جلال الدین حسین سُرخ پوش بخاری💚🚩 ؒ 💫✍🏻 :: تحریر و تحقیق 📜 :::::::::: 🌹 گل سرخ سید شیر شاھ ملنگ حسینی نقوی بخاری جلالی🫆 🚩 🚩 🚩 🚩 🚩
© جملہ حقوق محفوظ ہیں
یہ مضمون تحقیقی و روحانی کاوش ہے،
بلا اجازتِ تحریری
کاپی، اشاعت، تدوین یا ڈیجیٹل استعمال ممنوع ہے۔
************************** 🌹 گل سرخ سید شیر شاھ ملنگ حسینی نقوی بخاری جلالی 🚩 🚩 🚩 🚩 🚩
نا م ونسب:آپ کا نام سیّد جلال الدین حسین حیدر ثانی سرخ پوش بن حضرت سیّد علی المؤید بخاری ہے۔والدہ ماجدہ کا اسم گرامی بی بی شہر بانو دختر سلطان محمود ترک
ہے ۔
کنیت و القاب:آپکی کنیت ابو احمد ابو البرکات اور قطب الاقطاب لقب حیدر، سرخ پوش، گل سرخ، میر سرخ جلال اعظم، شریف اللہ سرخ اور سیّد السادات ہے۔(خزینۃ الاصفیا ء مفتی غلام سرور ج2ص350) ۔
ولادت باسعادت: بہاول پور گزٹیر کے مطابق یکم رمضان المبارک سن 595 ہجری کوآپ پیدا ہوئے۔دورِ حاکم وقت ناصر الدین باللہ آپ صحیح النسب نقوی سادات میں سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ 18 واسطوں سےملتا ہے
آپ کی عمر جب پانچ برس کی تھی کہ کرامات کا ظہور ہونا شروع ہوا۔ بچپن سے ہی قرآن کریم کی تلاوت سے گہرا لگائو تھا اور آپ کو بہت لطف آتا، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے کوئی مجال نہیں سات سال کے ہوئے تو والد ماجد کی رحلت ہوئی ۔ مگر آپ تو تسلیم و رضا کے پیکر تھے ، آپ کی جذب مستی میں روز بروز اضافہ ہوتاگیا ، کئی کئی یوم اور لگاتار کئی گھنٹوں تک تلاوتِ قرآن کرتے رہتے۔ سرورِ کائنات ؐ سے والہانہ عشق تھا ، سرورِ کائنات ؐ کی سُنت پر دِل و جان سے عمل فرماتے اور دوسروں کو بھی سختی سے عمل کی تلقین کرتے ۔
عارفین کے مقامات میں پہلا مقام یقین اور معرفت کا ہے اور جب مقام معرفت پیدا ہو جاتا ہے تو خوف پیدا ہوتا ہے اور مقام خوف سے انسان میں زہد و تقویٰ اور صبر حاصل ہوتا ہے ، شوق اور تسلیم و رضا کا تعلق ہمیشہ محبت کے تابع ہوتا ہے ۔ اولیاء اللہ ہمیشہ انسان کی راہنمائی میں پہلا کام ان کے اندر محبت الٰہی اور معرفت کی جو جگاتے ہیں تاکہ خلق خدا راستے پر چلتے ہوئے کبھی بھٹکے نہیں اور ہر حال میں کامیاب و کامران رہے۔
آپ اپنے والد گرامی کے دست بیعت تھے اور ان کے والد بزرگوار نے اپنی زندگی میں آپ کو دستارمبارک ،جبہ و عصا ،کا سہ چوبی ، تسبیح، مصلیٰ و دیگر نعمت ہائے ظاہری و باطنی سے مشرف فرما کر نجف اشرف اور مکہ ، مدینہ کے سفر کی اجازت فرمائی۔ جب آپ واپس بخارا پہنچے تو ہلا کو خان ظالم بادشاہ نے آپ کوکہا تم کون ہو؟ آپ نے بلا تامل فرمایا میں سیّد ابن رسولؐ آخرالزماں ہوں۔ ہلاکو نے بطورِ امتحان سات دن آتش فروزاں چخہ میں بٹھائے رکھا ، لیکن آپ پر کچھ اثر نہ ہوا۔ یہ کرامت دیکھ کر ہلاکو کا لڑکا مسلمان ہو گیا اور اسی دن آپ کو قبلتہ السلام کا لقب ملا۔
ہجرت بخارا سے:اس زمانہ میں آپ مجرد مرد تھے اور شادی قبول نہ کرتے تھے ۔ ایک دن ہاتف نے ندا دی جلال الدین شادی قبول کرلو کیونکہ آپ کی پشت سے بارہ ہزار قطب پیدا ہونگے اور آپ کو آدم ثانی کے لقب سے نوازا ہے ۔ آپ نے عرض کی کہ میری اولاد عاصی ہوگی، قیامت میں شر مسار ہوں گا۔ ندا آئی اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اپنے فضل و کرم سے تیری اولاد کو بخش دے گا اور تیری اولاد سے محبت و عقیدت رکھنے والوں کو بھی بخش دے گا۔ چنانچہ آپ نے بی بی حافظہ بنت علامہ سیّد قاسم شاہ بخارا سے شادی کرلی جس کے بطن سے سیّد علی اور سیّد جعفر پیدا ہوئے۔ بحکم خداو رسولؐ ہندوستان کا سفر اختیار فرمایا۔ پہلے شہر بلوٹ میں تشریف فرماہوئے اور بادشاہ حضرت خضر ؑ دریائے چناب پر رونق افروز ہوئے۔ قوم چدھڑ کو مسلمان کیا اور شہر جلال پُور کی بنیاد ڈالی۔ قوم سیال کو مسلمان کیا اور جھنگ سیالاں کی اور بعدمیںبھکر تشریف لے گئے ، وہاں جمعہ کے دن مسجدمیں سیّد بدرالدین بھاکر ی نماز ادا کر رہے تھے جنہیں حضور کریم ؐ نے آپ کی آمد کی بشارت دے کر ایک دُختر آپ کے نکاح میں دینے کا حکم فرما رکھا تھا ۔ مگر آپ کی سیادت، نجابت ، ولایت ، فضیلت اور خدا پرستی سے متاثر ہوئے اور اپنی دُخترنیک اختر سے عقد کا ارادہ فرمایا مگر سیّد تاج الدین برادر سیّد بدرالدین آپ کی سیادت پر مطمئن نہ تھے۔ رات کو آنحضرت ؐ نے ارشاد فرمایا اور بی بی فاطمہ بنت سیّد بدرالدین کا نکاح آپ سے کر دیا گیا۔ اس بی بی کے بطن سے سیّد محمد غوثؒ تولد ہوئے اور بی بی صاحبہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر بی بی زہرا بنت سیّد بدرالدین سے شادی ہوئی اور اُن کے بطن سے سیّد احمد کبیر ؒ اور سیّد بہائوالدین معصوم تولد ہوئے۔ یہاں کچھ عرصہ رہ کر ملتان چلے گئے ۔ ( مظہر جلالی )
حضرت کی ہند میں آنے کی دیگر روایت جو انساب ِ جلالی کے مطابق حضرت کے دو فرزند سید جعفر اور سید علی ہندوستان آگئے تھے جن کو جُدا ہوئے مدّت ہوئی ان کی تلاش میں حضرت ہندوستان آئے۔ (خطہ پاک اُوچ صفحہ 222بحوالہ انساب جلالی )
آپ ملتان پہنچ کر زبدۃ الابرار حضرت شیخ بہائوالدین زکریا کے حجرہ میں داخل ہوئے جہاں آپ سے کرامت ظاہر ہوئی یہ کہ گرمی بہت تھی اور شیخ اپنے گھر میں تھے ،دل میں خیال آیا کہ’’آہ یخ بخارا ترلہ کجاو گرمئی ملتا ن کجا ‘‘ شیخ بہائوالدین زکریا نے کشف سے آپ کا ارادہ جان لیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آج بارش ہوگی1؎ نوکر سے فرمایا کہ فوراً جا کر مسجد کی صف لپیٹ لو اور صحن میں صفائی کرو۔ تعمیل ہوئی اور دوپہر کا وقت تھا ،آسمان صاف تھا ، باد ل کا نام و نشان تک نہ تھا کہ اچانک بادل گرجا ، بجلی چمکی اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی جس میں ژالہ باری اتنی ہوئی کہ بیضہ مرغ کے برابر اولوں سے صحن بھر گیا، آپ نے جی بھر کر اولے کھائے اور برتن میں جمع کر کے تبرکاً ہر خاص و عام کو عطاء فرمائے ۔ جب نماز ظہر کا وقت آیا تو شیخ تشریف لائے اورمسکرا کر فرمایا کہ’’دریں جاں ژالہ ملتان یایخ بخارا‘‘ (ملتان کا ژالہ اچھا ہے یا یخ بخارا ؟)شیخ نے فرمایا ’’ژالہ ملتان ازیخ بخارا ہزار درجہ بہتر و اولیٰ است‘‘ (اس حال میں ملتان کے اولے باری) حضرت سیّد السادات نے یخ بخارا سے بہتر اور افضل ہیں۔ اسی روز شیخ الاسلام نے سیّد السادات کو خرقہ خلافت رحمت فرمایا۔ 2؎
حضر ت مخدوم جہانیاں جہانگشت ؒفرماتے ہیں کہ میرے دادا حضرت سیّد جلال الدین سرخ پوش شیخ بہائوالدین زکریا کے خلیفہ اوّل ہیں۔ ( جامع العلوم)
آ پ خرقہ خلافت سہروردیہ حاصل کر کے حسب الارشاد حضرت شیخ الاسلام ملتان سے اُچ شریف جسے اُس وقت دیوگڑھ کہا جاتا تھا پہنچے۔ آپ641 ھ جمعہ کے دن وارد ہوئے ، آپ نے ہی سب سے اوّل بلند آوا زسے اذان دی ۔ کفار اذان سن کر جمع ہو گئے، ایک کہرام مچا اور آپ کے رُخِ انور کی زیارت سے یکے بعد دیگرے پانچ سو ہندو مسلمان ہوگئے ۔ یہ خبر راجہ دیو سنگھ کو پہنچی تو وہ بہت غمناک ہوا اور اس وقت پانچ ہزار سوار آپ کو گرفتار کر کے لانے کو روانہ کئے لیکن آپ کی تجلیات کی برکت سے مسلمان ہوگئے اور بعض تاب نہ لاکر بھاگ گئے ۔ راجہ اس قدر خوف زدہ ہوا کہ راتوں رات مار واڑ بھاگ گیا۔ ( مظہر جلالی )
۱؎ تاریخ ملتان انور احمد فریدی جلد 1ص 147، طبع ملتان
۲؎ سیر العارفین سیّد محمد بن مبارک کرمانی ص 770فارسی، طبع لاہور
حضرت مخدوم جہانیاں جہانگشت ؒ فرماتے ہیں کہ میرے دادا شیخ بہاوَالحق زکریا ملتانی کی خدمت میں تین برس رہے اور شیخ کی وفات کے بعد شیخ صدرالدین عارف باللہ کی خدمت میں کچھ عرصہ رہے ۔ بعد میں ساکن اُوچ متبرکہ ہوئے ۔ حضرت جہانیاں مزید فرماتے ہیں کہ میرے دادا بزرگوار جب حجرہ میں محوذکر ہوتے تو آپ کا کاسہ چوبی آپ کے ساتھ ذکر کیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے شیخ صدرالدین عارف باللہ سے دریافت کیا کہ سیّد جلال کے ساتھ دوسرا کون ہے کہ ذکر میں دو متفق آواز یں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اُن کا کاسہ چوبی ہے جس میں آپ پانی و غذا تناول فرماتے ہیں ۔ یہی کاسہ مجھے وراثت میں ملا ۔( جامع العلوم)
حضرت مخدوم جہانیاںؒ فرماتے ہیں کہ آپ بارہ سال عبادت میں اس طرح مشغول رہے کہ چالیس دن کے بعد ایک گھونٹ پانی اور ایک دانہ مونیر سے روزہ افطارفرماتے۔ ( مظہر جلالی )
حضرت سیّد جلال الدین ؒمیں اتنا جلا ل تھا کہ جس طرف نظر جلالی فرماتے تما م خشک و ترجل کر راکھ ہو جاتا ۔ ایک دفعہ ایک افغان درویش تغلق نام جو تصرف ظاہری و باطنی رکھتا تھا سندھ سے روانہ ہوا راستہ میں بزرگان کے مدارج سلب کرتاہوا اُوچ شریف پہنچا، آپ کے مراتب سلب کرنے کیلئے آپ کے حجرہ دروازہ پر پہنچا ،آپ کو کامل پاکر دل میں خیال کیا کہ آپکی اولاد عاصی ہوگی ،آپ نے شادی کر کے غلطی کی ہے ۔آپ اس کے خیالات سے آگاہ ہوتے ہی جلال میں آگئے اور حجرہ کا دروازہ کھول کر اس پر نظر ڈالی اس کے وجود میں آگ لگی اور وہی جل کر خاکستر ہو گیااور اُس کی راکھ زمین میں دفن کرتے تھے تو زمین نکال کر باہر پھینک دیتی تھی اور اگر دریا میں ڈالتے تھے تو دریا باہر پھینک دیتا تھا۔ آخر کار جمال درویش کی سفارش سے آپ نے دفن کرنے کی اجازت فرمائی ۔ (ملفوظ جمال درویش)
خواجہ نظام الدین محبوبِ الٰہی چشتی بدایونی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص حج بیت اللہ سے فارغ ہو کر اُوچ شریف میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے آپ کو بیت اللہ میں حج کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ آ پ نے اسے ہدایت فرمائی کہ مردان ِخدا کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ جب وہ چاہتے ہیں مشرق سے مغرب کی سیر کرتے ہیں ۔اور آپ نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا آنکھیں بند کر لو، تھوڑی دیر میں کوہ قاف کی سیر کرا کر آنکھیں کھولنے کو فرمایا۔ جب اُس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو وہیں پایا۔ شیخ فریدالدین گنج شکر ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت سرخ جلال الدین اُوچی کو کسی نے نماز کے وقت اُوچ میں نہیں دیکھا ۔ نماز کے وقت آپ غائب ہو جاتے ۔ آخر معلوم ہوا کہ آپ نماز بیت اللہ میں ادا فرماتے تھے۔ (راحت القلوب )
کرامات:
1)آپ والدہ کے شکم میں تھے کہ آپ کی والدہ اور خادمہ آپ کو مادرِ شکم میں قرآن کی تلاوت کر تے ہوئے سُنتیں۔
2) آپ تکمیل علم کے بعد حج کیلئے گئے بیت اللہ میں غیبی آواز سنائی دی کہ اللہ نے تمہیں آدم ثانی کا خطاب دیا ۔ حضور ؐ نے آپ کو حیدر کا خطاب دیا ۔ نجف اشرف روضہ علی ؑ پر گئے تو آپ نے خواب میں حکم دیا کہ ہندوستان میں جا کر اسلام کی تبلیغ کرو۔ لاکھوں افراد آپ کے دست ِمبارک پر مسلمان ہو ںگے ۔
3) آپ کابل کے راستے ہندوستان میں آئے اور موضع پیر والا میں چند یوم قیام کے بعد اُوچ شریف میں آئے ۔ یہاں کا بادشاہ ہندودیو سنگھ تھا۔ شیر شاہ جلال کی کرامات سے اس کی تمام فوج مسلمان ہوگئی اور بادشاہ بھاگ گیا۔ اس کی بیٹی (ستیا) نامی کو آپ نے بادشاہ بنادیاجس کے نام پر (سیت پور) مشہور ہے (اُچ کا پہلے نام دیو گڑھ تھا جس کی بادشاہت اُوچی رانی اور سیتا رانی ونوں بہنوں کی تھی۔ اور دونوں بہنیں جادوگر تھیں۔ دونوںبہنیں تین سو کلومیٹر سے ایک دوسرے کو کھانا اور دوسری چیزیں بھیجتی تھیں۔ اور اُن کا کنواں تھا جس میں رام رام کی غیبی آواز آتی تھی اور پانی چلتا تھا، بغیر بیلوں کے پانی نکلتا تھا۔ جب آپ آئے تو درویش جمال کو بھیجا پانی کیلئے تو اُس نے واپس آکر سارا ماجرا سنایا تو آپ نے ایک ٹھیکری پر اللہ ھو لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کو کنویں میں ڈال دو ۔ جمال درویش نے پتھر کو جب کنویں میں پھینکا تو کنویں سے رام رام کی بجائے اللہ ھو کی آواز آنے لگی۔ جب اُوچی رانی کو یہ پتا چلا تو اُ س نے آپ کو آگ میں ڈال دیا ۔ مگر آپ کو آگ نے چُھوا تک نہیں اور آپ صحیح سلامت باہر نکل آئے ۔ تو اُوچی رانی یہ منظر دیکھ کر آپ کے قدموں میں گر گئی، دستِ مُبارک پر مسلمان ہو گئی ۔ آپ نے اُوچی رانی کا اسلامی نام غلام فاطمہ رکھا ۔اُچی رانی نے اپنی تمام زمین جائیداد جس کا کل رقبہ 30مربعہ کلومیٹر تھا آپ کے نام کر دی ۔
جبکہ اُوچ میں ایک بزرگ بدرالدین بھی تھے ان کا کنواں بھی بغیر بیلوں کے چلتا تھا۔ جب سرکار سُرخ پوش آئے تو وہ کنواں رُک گیا۔ بدرالدین نے کہا کہ اُوچ کے اصل مالک آگئے ہیں اب یہ اُن کی مرضی سے ہی چلے گا۔ حضر ت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ بلخ ، بخارہ ، خراسان پر جو حملہ کرے گا اسے منہ کی کھانی پڑے گی اور یہاں سے میری اولاد اُٹھے گی اور پوری دُنیا میں اسلام پھیلائے گی۔
حضرت جلال الدین شیر شاہ بخاری نے ہندوستان میں جو تبلیغی نیٹ ورک شروع کیا اُسے بزرگانِ جلالیہ نے نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس تبلیغی مشن کو چار چاند لگادئیے ۔ آج گنگا کا کنارا ہو یا قنوج کے باغات، پارہ چنار کے حسین چنارہوں یا تھل کے ریتلے میدان گویا دھان گلی (کشمیر ) سے سہون اور جلال آباد سے دکن تک تمام خطہ خاندان حسینی جلالی بخاری مہک رہا ہے ،
آپ حضرت سیّد علی المؤید کی وفات کے بعد بخارا میں مسند سجادگی پر پہنچے۔ آپ کوخواب میں جناب رسول خداصلی اللہ علیہ وَآلہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ اس کو خیر باد کہہ کر ہندوستان کا رُخ کریں۔ ہندوکش کی بلندیوں سے اُتر کر ہندوستان میں تبلیغ دین کا آغاز کریں۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں خاندان تغلق برسراقتدار تھا۔ آپ بیالیس برس کی عمر میں بحکم جد امجد بخارا سے روانہ ہوئے ۔ آپ کے ہمراہ آپ کا کمسن بچہ جو دادا کے ہمنام تھا اور ایک پیالہ پانی کا اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا نام زادِ راہ کیلئے کافی سمجھا ۔ وہ ایک عجیب رقت آمیز منظر تھا جب ایک پرہیز گار و متقی سرداربغل میں چاند سا چمکتا ہوا بچہ لئے اپنے وفاداروں کو الوداع کہہ رہا تھا ۔ الوداعی کا یہ منظر عقیدت مندوں اور اہل خاندان سے برداشت نہ ہو سکا وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے، مگر عادل شفیق سردار اپنی نیک و متبرک یادیں چھوڑ کر ان سے رخصت ہوا۔راستے میں ایک ہرنی ملی جو ہر روز وہیں آتی اور وقت مقرر پر دُودھ مہیا کر دیتی۔ جب اس احوال سے قرب و جوار کے لوگ مطلع ہوئے اور انہیں پتہ چلا کہ ایک ولی اللہ حضرت جلال الدین موجود ہیں تو اس علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ آپ بلوٹ، پھر ملتان اور بعد میں اُوچ شریف،سندھ بھکر، افغانستان کا جلال آباد سے قابل سے ہوتے ہوئے ہندو کش کی بلندیوں سے اُترے۔
ایک بار راجہ صاحب تخت پر رونق افروز تھے اور تمام وزراء اور مشیر دست بستہ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک نواب کا بیٹا دوڑتا ہوا باپ کے ساتھ تخت پر آ بیٹھا ۔ نواب صاحب نے اپنے اس ملازم کے بارے میں دریافت کیا جو حضرت جلال الدین بخاری کی میزبان ضعیفہ کا بیٹا تھا ۔ نواب صاحب کو جواب ملا کہ وہ ابھی تک حاضر نہیں ہوا۔ نواب اس تاخیر پر کافی برہم ہوا، ابھی گفتگو جاری تھی کہ نواب کا بیٹا سامنے لگی ہوئی شیر کی تصویر کو دیکھ کر پر زور التجا کر رہا تھا کہ مجھے زندہ شیر چاہئے ۔ نواب نے کافی ٹالنے کی کوشش کی لیکن اس کا اصرار بڑھتا ہی گیااسی اثناء میں ملازم بھی داخل دربار ہوا ۔ملازم کو دیکھ کر نواب نے غصے میں چلا کر کہا کہ اس حاضری کی تاخیرکے جرم میں تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ تین دن کے اندر ایک زندہ شیر پکڑ کر اس کمسن ولی عہد کے سامنے پیش کرو گے ورنہ تمہارا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا ۔ اس نے اپنی ماں کے ساتھ جھگڑا کیا تھا کہ اس نے کسی غیر شخص کو اپنے گھر میں کیوں پناہ دے رکھی ہے اب تو اسے یقین ہو چکا تھا کہ اس کی ماں کا گمان بالکل ٹھیک تھا اور وہ شخص واقعی اللہ کا ولّی ہے اور یہ حکم شاہی بھی اسی ولّی کے خلاف اُٹھائی گئی آواز کا خمیازہ ہے ،مگر اب کیا ہو سکتا تھا تیر کمان سے نکل چکا تھا وہ بے حد پریشان دربار سے نکل کر اپنے عزیز و رفقاء کے پاس گیا کہ شاید کوئی اس کی یہ مشکل آسان کر دے ۔ وہ دن رات بھاگتا رہا مگر کہیں سے کامیابی کی کوئی کرن نظر نہ آئی ، نا چار و لاچار دوسرے دن گھر لوٹا اور ماں کو دیکھتے ہی زار وقطار رونے لگا ۔ ماں نے اس کی حالت دیکھی تو اس سے اضطراب کی وجہ پوچھی ۔بیٹے نے تمام کہانی والدہ کے گوش گزار کی اپنے معزز مہمانوں کے خلاف زبان درازی کی اتنی بڑی سزا میرے حصے میں آئی ۔ ماں بیٹے کی اضطرابی کیفیت ان کے کمسن مہمان سیّد علی شاہ نے دیکھ لی ۔ جب شام سے پہلے حضرت کا حجرہ کھلا جو اس وقت روزانہ کھلتا تھا اور حضرت سے ملاقات کا یہی ایک وقت تھا۔ جب ضعیفہ اندر داخل ہوئی اور حضرت کو طعام پیش کیا تو اس وقت بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ اس کی اس حالت پر حضرت جلال الدین بخاری مسکرائے اور فرمایا کہ اے مومنہ غم نہ کر اگر یہ عتاب تیرے بیٹے پر میری وجہ سے ٹوٹا ہے، میرے کمسن بچے سیّد علی کو بُلا کہ وہ دُعا مانگے اور ہم آمین کہیں ۔ دُعا کے بعد ضعیفہ کے بیٹے نے سرکا ر کے قد م پکڑ لئے اور رورو کر معافی مانگنے لگا۔ حضرت نے ان کی تقصیر معاف فرمادیںاور اسے حکم دیا کہ کل صبح اسی حجرے سے شیر تیرے ساتھ جائے گا ۔
دوسرادن دربار میں پیش ہونے کا دن تھا تمام رات وہ شخص خوف سے پیچ و تاب کھاتا رہا مگر ضعیفہ ماں پُر سکون تھی ۔ جب صبح ہوئی ہیبت ناک شیر موجود تھا ،وہ شیر کولے کر دربار کی طرف روانہ ہوا۔ دربار میں نواب اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود تھا ،اس کا بیٹا بھی پہلو میں شیر کا منتظر تھا ۔ دربار میں ایک بار پھر اسی ملازم کے تذکرے ہونے لگے۔ نواب کا بیٹا شیر والے ملازم کے بارے میں باربار پوچھ رہا تھا کہ اسی اثناء میں کسی نے اطلاع دی کہ وہ ایک خوفناک شیر کے ساتھ اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے ۔نواب نے اندر آنے کی اجازت دی ۔اور وہ شیر کے ساتھ داخل دربار ہوا ۔ شیر کی ہیبت سے تمام دربار پر سکوت طاری ہوا۔ ملازم نے فخریہ انداز میں حکم کی بجاآوری کا اعلان کیا۔ ابھی ملازم کی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ شیر نے زوردارچنگھاڑ کے ساتھ اپنی موجود گی کا احساس دلایا ۔ چنگھاڑ کی آواز اتنی خوفناک تھی کہ نواب کا بیٹا ڈر کے مارے تخت سے گرا اور فرش سے ٹکرا کر بے ہوش ہو گیا ۔ نواب چلایا کہ اسے واپس لے جائووہ شیر کو لے کر گھر کی طرف چل دیا ۔ اِدھر نواب کا بیٹا شدید خوف زدہ ہوا کہ سانسیں رکنے لگیں ۔ حکیم اور معالج جب اسے ہوش میں نہ لاسکے اور اس کی زندگی کی امیدیں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگیں تو نواب نے وزیروں اور مشیروں سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے؟ ہو نہ ہو اس ملازم کو ختم کر دینا چاہئے جس نے میرے بیٹے کی یہ حالت بنائی ہے۔ مگرسمجھدار وزیروں اور مشیروں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے امید کے تمام راستے بند ہو جائیں، کیوں نہ ہو اس کو بلا کر اس خوفناک جنگلی شیر کی طابعداری سے متعلق دریافت کیا جائے ۔ ملازم نے حاضر ہو کر نواب کے رو برو تمام واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ تب وزراء ،مشیروں نے نواب کو مشورہ دیا کہ آپ چل کرحضرت سے معافی مانگیں تاکہ عذاب سے نجات مل سکے ۔ نواب نے اپنے بیہوش بیٹے کو اُٹھا یا تمام درباریوں سمیت ضعیفہ کے گھر پیادہ پہنچا اور درخواست کی کہ اس کو حضرت کی زیارت کا شرف حاصل کرنے دیا جائے ۔ ضعیفہ نے صاف انکار کر دیا کہ شام سے پہلے ان سے ملنے کا کوئی حکم نہیں ہے لہٰذا آپ کو شام تک انتظار کرنا پڑے گا ۔ نواب نے شام تک انتظار کرنے کی ٹھان لی مگر اندر سے آواز آئی کہ ہمارے معزز مہانوں کو اندر آنے دیا جائے۔ جب نواب حجرے میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ حُسنِ یوسف کا وارث جلال الدین مصلے پر بیٹھا منتظر ہے ان کے ساتھ مہر منور سا چمکتا ہوا نورانی چہر ہ لئے ان کا صاجزادہ سیّد علی شاہ موجود ہے ۔ نواب ان کا حُسن و جمال، سیّد زادہ دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ نواب نے پائوں پکڑ کر اپنے بیٹے کی شفاء کیلئے التجاء کی۔ آپ نے سیّد علی شاہ سے دُعا منگوائی اور خود آمین کہا ۔ ضعیفہ کو پانی کا پیالہ دے کر بھیجا کہ نواب کے بے ہوش بیٹے کو پلایا جائے، جو نہی پانی اس کے منہ میں گیا، وہ اُٹھ بیٹھا اور پانی پیا ۔ نواب نے ضعیفہ کے بیٹے کو ترقی دی اور اپنے وزراء میں شامل کر لیا ۔ اسی وجہ سے آپ کا لقب شیر شاہ جلال مشہور ہوا۔ اس واقعہ کے بعد آپ کی موجودگی کا علم ہر خاص و عام کو ہوا اور آپ کو دیکھنے کیلئے اور آپ سے روحانی تعلیم حاصل کرنے کیلئے حاجت مند جو ق درجوق آنے لگے ۔
روایت ہے کہ شیخ بہائو الدین زکریا لقر یشی نے اپنے ملفو ظات میں لکھا ہے کہ حضرت مخدوم شیر شاہ جلال الحق و دین جب شار سال کے ہوئے ایک دن لڑکوں کے ہمراہ کھیلتے کھیلتے گھر سے باہر آئے ۔ دیکھا کہ نماز جنازہ ہو رہی ہے ۔ حضرت نے پوچھا یہ کیا ہے اور کیا کرتے ہیں ۔ جب نماز جنازہ سے فارغ ہوئے ،چاہا کہ مردہ کو دفن کریں۔ حجرت نے پوچھا کیا کرتے ہیں ۔ کہا قبر میں دفن کرتے ہیں ۔ اس واقعہ سے متاثر ہو کر نعرہ مارا ۔فرمایا خدا کے حکم سے اُٹھ ۔خدائے ذوالجلال کے حکم سے مردہ زندہ ہو گیا ۔ اور اس مردہ نے کہا مجھے قسم ہے اے ولی اللہ کہ ساتھ بیٹھا اور پیدل اپنے گھر کو روانہ ہوا۔ چالیس سال مزید زندہ رہہا ۔ جب یہ خبر حضرت سید علی المؤید کو پہنچی ،اپنے بیٹے سے آزردہ ہو گئے اور رنجید ہ ہو گئے ۔ شریعت ظاہری کے سبب حضرت نے والد کی خد مت میں عرض کیا ۔ ٹھہریں آپ اگر شریعت کے قول سے مجھے دھتکار تے ہیں تو میں حضرت آدم کے وقت سے تمام مر دے فر مان خدائے تعالیٰ کے زند ہ کر دوں گا ۔ سب اسی حیرانی میں تھے کہ حق سبحان ہو کی آواز آئی کہ اے ابوا لمؤید یہ شخص درست اور سچ کہتا ہے ۔ کیو نکہ میرا مرید ہے ۔ جو کچھ مخدوم شیر شاہ بخاری کہے گا ۔ میں اپنی قدرت کا مل سے قادر ہوں، وہی کرو ں گا ۔ مر دانِ خدا کو خدا سے دورنہ سمجھو ، ن کی خاک در ہو کر ان کے دروازے پر دھونی دینا۔اگر مردہ زندہ ہو جاوے مٹی سونا ہو جائے ، ان دونوں باتوں کا تعجب نہ کر اور جہاں پر صرف نام لکھتا ہوں وہاں حجرت سید مخدوم شیر شاہ جلال الدین کا اسم مبارک مراد ہے ۔ کہتے ہیں کہ اس وقت خدائی آواز جیسا فر مایا اللہ تعالیٰ نے ، اے سید جلال الدین تیری روح میرا نور ہے اور عقل نبوی ہے اور نفس فر شتگان کا ہے اور جسم مٹی کا ہے ۔ اور تیرا سینہ اللہ کا مخزن اسرار ہے ۔ تیری زبان سیف اللہ اور اللہ کا منظر ولی اللہ کا آئینہ ہے ۔ اے خاتم العارفین تو میرا مرید ہے اور می تیرا شیخ ہوں ۔ جب حضرت سید ابو المؤید نے یہ خطاب بار گاہ عالی جناب سے سنا اور دیکھا تو خاموش ہو گئے ۔ کہتے ہیں کہ ایک ہزار پانچ سو علمائے زمانہ نے ساتھ سال مین ان حضرت کے دست ِ ارادت پر علوم ظاہری و باطنی کی سجادہ نشینی حاصل کی ۔ آپ نے ہر ایک کو ایک خاص طریقہ سے حضرت حق تعالیٰ تک پہنچایا ۔ اللہ تک رسائی کے طریق مخلوقات کے سانس کے برابر ہیں حضرت شیر شاہ سید جلال الدین کو شکم مادر سات سال کی عمر تک اس در جہ م تبہ بخشا۔ اس کے جد امجد حضرت علی المؤید سے بیعت کی ۔ اور اس حدیث شریف پع عمل کیا ۔ فر مایا رسول ﷺ نے جس کاکوئی شیخ نہیں ہے ، اس کا شیخ شیطان ہے ۔ فر مایا علیہ السلام نے صوفیا جبہوں میں ہیں اور عوام مویشیوں کی طر ح وہ لوگ مسلمانوں پر راہزنی کرتے ہیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ایسے لوگوں کی مشا بہت سے منع فر مایا ۔ اس لیے کہ زندہ کر نا اور مارنا فقیر کی صفت ہے ۔ اس لیے کہ حدیث میں ہے : یعنی فقیر وہ ہے کہ کسی چیز کو کہتا ہے ۔ہو جاتی ہے ۔ اس حال پر وہ چیز ہو جاتی ہے ۔ فقیر ی بغیر ریاضت و مشقت کے اور دشواری کے نہیں ملتی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے لیکن حق تعالیٰ نے یہ چیز حضرت مخدوم شیر شاہ حضرت جلال الدین حسینی البخاری کو شکم مادر میں عطا فرمائی ۔
کہتے ہیں کہ حضرت پیران ِ پیر دستگیر سید جلال الدین حیدر بخاری ظاہری اور باطنی تحصیل علوم میں سات سال کی عمر میں ایسے مشہور و معروف اور شہرہ آفاق ہوئے کہ دانش مند اہل فتوح آکر علوم ظاہری و باطنی حاصل کر کے جاتے تھے ۔ حتیٰ کہ سجادہ نشین ہوئے اور حجرت شعرائے آفاق ہوئے ۔ بحکم قدر ذوالجلال بقدر ِ کمال حضرت مخدوم شاہ سید ابو المؤید سید جعفر ثانی الصادق نے اپنے فر زند رشید حضرت مخدوم سید جلال الدین بخاری کو طلب فرمایا، اور نعمت ظاہر و باطنی جو اپنے اباواجد اد بزرگوارا سے حاصل کی تھیں ، تمام عطا ء فر مائیں ۔ پھر دستار و جبہ و عصا کا سہ اور جو کچھ آثار شریف اپنے ابا وا جداد سے پہنچے تھے اور ان کے قبضے میں تھے ، حضرت علی ابو المؤید نے تمام مر حمت فر مائے ۔ بعدازاں فر مایا کہ اے فر زند !ہم کو بھی اپنے مریدوں کی فہرست میں شامل کر ۔
حضرت نے عرض کی کہ اے پیر و مرشد و قبہ گا ہی و پشت پناہی و ولی نعمت فیض رساں مد ظلہ یہ احقر کمتر ین خاک پائے جناب عالی ہے اور جو کچھ آپ فر ماتے ہیں ترک ادب ہے ۔ فر مایا حضور علیہ السلام نے کہ جنت والدین کے قدموں کے نیچے ہے پھر فر مایا اے فرزند تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ یہ آثار شریف کسی کو نہیں ملتے ۔ حجرت سید علی ابو المؤید بن جعفر ثالث سے اپنے فر زند دلبند کو پہنچے ہیں ۔ حضرت سید جلال الدین بخاری قد سرہ ،کے مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ۔ اللہ فضل ِ عظیم والا ہے جس کو یہ دولت پہنچی ہے اور عطا کرتا ہے ۔ جد بزرگوار صحابہ کرام کے مر تبہ سے ہے ۔ مرید ہونا اور اے فر زند یہ نعمت کسی کو نہیں ملتی ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور محمد رسول ﷺ کے حکم سے ملتی ہے ۔ چنا نچہ نصیبب جس کا ہے اسے پہنچتا ہے اور یہ ہمارے آباواجداد کا طریقہ ہے ۔ اے فر زند ار جمند حدیث میں ہے اور حکم رب سے بلند رتبہ ہے ۔ بہت بحث و تکر ار کے بعد حضرت کے دستِ عالی پر بیعت ہوئی ۔ صحابہ کرام کا طریقہ بجا لائے ۔ اول سجا دہ نشین حضرت سید علی ابو المؤید ہوئے ۔ بعد ازاں گہر فشانی سے فرمایا : اے فر زند ارجمند جا تجھے نجف اشرف میں حضرت علی المر تضیٰ نے اپنے حضور میں یاد فر مایا ہے ، جو ظاہری باطنی نعمتیں آبائو اجداد سے پہنچی تھیں تم کو پہنچا دیں اور جو کچھ تمہارے تقدیر میں وہ حاصل کر کے میں نے تجھ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کیا ۔
القصہ و عنا یت اپنے سے خیرو عافیت سے پہنچے ۔ سلام کیا السلام و علیکم یا جدی روضٰ مطہر ہ امیر المومنین علی المرتضیٰ شیر خدا وصی ۔ روضے سے بلند آواز نکلی جو بہت لوگوں نے سنی ۔ وعلیکم السلام اے میرے بیٹے ! بعدازاں چند روز جا روب کشی کر کے مجا ور بنے اور سجا دی نشین بن کر مصلے پر بیٹھ گئے اگر کوئی سالک عالی جناب فیض مآب حضرت امیر المو منین شاہ مر دان ِ علی المر تضیٰ خدمت میں آیا تو مخدوم کی شاہ سید جلال الدین حسنی الحسینی البخار ی کی خد مت میں آکر عر ج کرتا ، آپ دم بدم رکھتے اور اپنی جد بزرگوار شریف کی خد مت میں جاتے ۔ جناب فیض مآب سے عرض کرتے پھر جواب حاصل کر کے آتے ۔ حتیٰ کہ اول حکم ہوا اے میرے بیٹے جا مدینے منورہ کی طرف روانہ ہو تجھ کو جد شریف حضرت رسو ل ﷺ نے اپنے حضور ارشاد فر مایا ہے ۔ جب مدینہ منورہ پہنچے وقت ظہر کا تھا آنحضرت مسجد مبارک میں پہنچے اور نماز ظہر ادا فر مائی ۔
بعدازاں حضور ﷺ کی زیارت سے مشرف ہو ئے اور تین سال تک مجاور رہے ۔ ایک دن ساکنانِ مدینہ منورہ نے سید عالی جناب کا انکار کیا اور مزار فیض آثارمبارک سید المر سلین ﷺ پر نہایت جھگڑ اور گفتگو کر نے کی اجازت دی (یا جھگڑا کیا ) تین دفعہ دستِسادات مدینہ منورہ کو سلام کیا اور مقدمہ نبی کریم ﷺ کے مزار پر لائے ۔ مزار مبارک سید المر سلین ﷺ سے آواز بلند نکلی ، و علیکم السلام و رحمت اللہ اے بیٹے اور میر ی آنکھوں کی ٹھنڈک تو میری کل امت کا چراغ اور امت کا شفیع ہے ۔ تو شیخ الا سلام و الیاء ہے اور تو سوائے انبیاء و خلفائے اربعہ سے جو میرے صحابہ میں افضل ہیں تو مجھ سے ہے ۔ مجھے اپنے رب کی قسم جو تجھ سے حاصل ہوا وہ امر سے حاصل ہوا۔
حضرت رسالت مآب کی اس فر مان کی رو سے مسلمانوں پر فرض ہے کہ خود کو سلسلہ عالی حضرت مخدوم سید جلال الدین شیر شاہ بخاری سے ملانا اور اگر کوئی شخص حضرت رسول اکرم ﷺ کے انتقال کے بعد حکم نبی کو باطل کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ ’’نعوذباللہ من ذالک ‘‘آنحضرت کو وحی آئی کہ حق سبحان و تعالیٰ اس بات کا شاہد ہے اور بے شک ولی اللہ کو نہ موت آتی ہے نہ ان پر خوف ہے ۔ نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے اولیاء کو ہر گز موت نہیں آتی اور نہ انبیاء اور نہ اصفیاء کو پس جو شخص خدا اور رسول کی دوستی دل میں رکھتا ہے گویا وہ نبی ؑ کی پیروی کرتا ہے اور حضرت کا مرید ہوا ہے تا کہ اس کے تمام گناہ بخشے دیے جائیں ۔ قول اللہ تعالیٰ کہ میرے اور رسول کریم ﷺ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا ، تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ اللہ غفو رالرحیم ہے ۔ حضرت رسول ﷺ کا فر مان حق تعالیٰ کا فر مان ہے چنا نچہ فر مایا اللہ تعالیٰ نے اور نہیں بولتا اپنی کواہش سے لیکن وہی جو اسے وحی جء جاتی ہے خدا اور رسول کے حکم کو بجا لانا دونوں جہانوں کی نجات ہے پس خود کو حضرت مخدوم شیر شاہ جلال الدین قد سرہ کے سلسلہ میں کوئی قول و فعل رسول ﷺ کی متا بعت کرے اٰمناٰ صدقناٰ ،امید ہے بلکہ بے شک و شبہ حق تعالیٰ کا محبوب ہو گا ۔ کیو نکہ آنحضور سرو ر ِ کائنات فخر موجودات کو حق تعالیٰ دولت دیتا ہے ۔ کہتے ہیں مخدوم سید جلال الدین بخاری کی ولادے سے قبل جواب و سوال ہوئے ۔ ایک دن حضرت ابو سعید مخدومی مکرمی کا گز ر عالم ملکوت میں ہوا ۔ عر ش بالا کی طر ف چلے گئے ۔ فر شتوں کی تسبیح و تحلیل آپ کے کان میں پہنچی ۔ الغر ض مناجات کی قبو لیت کے بعد عرش معلی کی طر ف چلے اور آواز آئی جو زبان گو ہر فشاں حا مدا ن عر ش اعلیٰ سے بہتر سے بہتر تھی ، سنا ہے حضرت سید جلال الدین بخاری طرح طر ح کے نکات تصوف زبان گو ہر فشاں سے بیان فر ما رہے ہیں ۔ اس مشاہدہ سے شیخ ابو سعید کے دل مبارک کو ان کی عزت اور مر تبہ منکشف ہوا۔ اسی وقت رب العزت کی ندا آئی ، اے ابو سعید میرے اولیاء ستاروں کی طر ح ہیں اور حضرت سید جلال الدین بن علی ابو المؤید اس میں چاند کی طر ح ہیں او ر وہ خلفائے راشد ین ائمہ طا ہرین اکے بعد تمام اولیاء سے بر تر ہیں ۔ اے میرے بیٹے اٹھ اور حج اکبر ادا کر اور بیت اللہ شریف کا طواف کر ۔ حضور ؑ کی اجازت سے مکہ معظمہ گئے طواف کعبہ کر کے حج اکبر ادا کیا ۔ بعد ازاں کعبۃ اللہ کی تین سال تک مجاوری کی ۔
رب العزت کے حکم سے مدینہ جانے کا حکم ہوا ۔ اور اسی پہلی خدمت پر معمور ہو ئے ۔ پانچ سال تک مجاور رہے بعدازاں حکم ہوا اے میرے بیٹے سلطان الاولیاء مخدوم حیدر شیر شاہ جلال الدین سر خ رنگ بخاری ! جا کہ ایک ظالم بادشاہ ہے اس کو اپنا مرید بنا اور مسلمان کر و۔ جا تجھے خدا تعالیٰ کے سپرد کیا ۔ مسا فت طے کرنے کے بعد حکم رسالت مآب اور عنایت الہٰی ظالم بادشاہ کے شہر پہنچے ۔ ظالم بادشاہ کو آپ کی تشریف آوری کی اطلاع ہو ئی ۔ آپ کو اپنے پا س بلا کر پوچھا کہ تو کون ہے اور کہا ں کا ہے اور کس کام کے لیے آیا ہے ۔ حضرت ؒ نے جواب میں فر مایا کہ ہمیں رسول آخر الزمان ﷺ نے بھیجا ہے ۔ جناب رسالت پناہ کے حکم سے مکہ و مدینہ سے یہاں آیا ہوں ۔ تم کو مسلمان کرنے کے لیے ۔ ظالم بادشاہ غضب ناک ہو گیا اور کہا اگر تیرا جد شریف اصل پیغمبر ہے اور تو اس کا بیٹا ہے ۔ میں تم کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیتا ہوں ، اگر آگ نے تم پر اثر نہ کیا یعنی نہ جلایا تو میں سمجھ لو ں گا کہ تو اور تیرے جد شریف کا دین حق اور سچ ہے ۔ پس حکم دیا چالیس آتش دان کھلوا دیں اور لکڑیوں کے انبار لگا دیں ۔حجرت کو اس میں بٹھا کر چاروں طرف سے چوکی دار آگ روشن کر دیں ۔ حضرت اسحاق نے کہ یاد ِ الہٰی میں مشغول رہے اور منشور ہوئے ۔ دشمنانِ دین مقہور ہوئے ۔ بفضلِ الہٰی صبح کو حضرت جد شریف پاک دعا ئیں اور عبادت کر نے میں مشغول تھے اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا اور حضرت اس میں اپنے جدِ شریف حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی طرح حکم مطابق کے آگ گلزارو بوستان ہوئی اور حضرت اس میں عند لیب خوش الحان کی طر ح ثنا کواں تھے ۔ ادھر جنگل کی آگ میں شیر زند ہ ذکر سبحان میں مشغول ہے (اسی لیے آپ کو خلیل اللہ ثانی کہا جاتا ہے ) اس کے ساتویں دن ظالم بادشاہ نے دیکھا کہ رب العزت کے حکم سے ان جد شریف کی طرح آگ گل و گلزار بوستان کی طرح تھی اور ظالم بادشاہ جناب والا کی عادت کو دیکھ کر ایمان لے آیا اور مشرف بہ اسلام ہو کر کلمہ طیبہ پڑھ کر کہا کہ میں محمد ﷺ پر ایمان لایا اور تصدیق دل اور صدق ِ یقین سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا اور تعریف و تحسین کرتے ہوئے حضرت کے پائوں پر گر پڑے اور اعتقا د وصدق دل سے مرید ہوئے اور حضرت نے اس کو خطاب سے سر فراز فر مایا اور چنگیز خاں سے ملقب کیا ۔ نام اس کا چنگیز خاں رکھا اور شہر قبۃ الا سلام فر مایا : کہتے ہیں کہ چنگیز خاں چغتائی خاندان کے بانی ہیں ۔ پھر بادشاہ نے دختر بی بی زینب خاتون کو آپ کی خد مت میں پیش کیا ۔ حضرت نے ناقبول کیا ۔ اسی اثنا میں ندا ئے خدا وندی آئی کی اے ولی ! کیو ں قبول نہیں کرتا کہ تیری پشت میں ایک لاکھ بارہ ہزار قطب الا قطاب اور غوث الغیوث اور قطب مدار پیدا ہوں گے اور د وسری اولاد جو میری در گاہ میں عالی منزلت اور قدر رکھتی ہے ، اور دوسری بے حد و تعداد پیدا ہو گی اور تیری اولاد سے تمام رو ئے زمین منور ہو گی اور تجھے ہمارہ در گاہ سے آم ثانی کا خطاب ملے گا اور حضرت پیر پیراں دستگیر حضرت سید جلال الدین حیدر آدم ثانی نے پھر جناب باری میں عرض کیا کہ اے بادشاہ ملک و باد شاہ رو ئے زمین میں تیرا گنہگار بندہ ہوں ۔ میری اولاد بھی گنہگار پیدا ہو گی ۔اور قیامت میں مجھے بھی شر مند گی ہو گی ۔ اب غفو را لرحیم کی جناب سے ندا آئی کہ اے مخدوم شیر شاہ سید جلال الدین بخاری آدم ثانی !خاطر جمع رکھ کہ تو ندا ئے ’’الست بر بکم ‘‘ سے قبل میرا مرید ہے اور جس کو میں اپنا مرید بناتا ہو ں اس کو کیا ڈر ؟ ہم نے تیری اولاد ،مریدوں اور معتقد وں ار ان تمام اشخاص کو جو تیرے سلسلہ میں منسلک ہوں گے بلکہ سات آٹھ پشت تک تمام کو بخش دیا ۔ اور جو شخص تیری اولاد کے دوست ہیں ۔ اور دو ستدار ہیں مجھے اپنی و حدانیت کی قسم اس کو اپنے لُطف عمیم سے بخشا اور عفو فر مایا اور وہ قیامت کے دن تیرے پر چم کے سایہ عا طفت کے نیچے ہوں گے اور تو خوش ہو گا۔ خوش ہو کہ میں نے قبول فر مایا اور بی بی زینب سے کوئی اولاد نہیں ہو گی ۔ بعد ازاں سید قاسم حسین نے اپنی دختر بی بی فا طمہ کو پیش کیا ۔ آپ کی اشارت پر بشارت کے سبب اس سے دو لڑکے پیدا ہوئے : ایک سید علی اور دوسرے سید جعفر دونوں بھائی قطب الا قطاب ہو ئے اور حجرت بخاری کے لقب سے تین وجہ سے مشہور ہیں : اول یہ کہ آپ کا سینہ بے کینہ آتش عشق الہٰی سے ایسا پر تھا کہ جلال کے وقت جس طر ف بھی نظر فر ماتے ہر تر و خشک کو جلاتے اور پہاڑ خاکستر ہو جاتے تھے ۔ حتیٰ کہ دور تک پہاڑ ذرہ ذرہ ہو ئے ۔ دوسرے وجہ یہ ہے کہ آپ نے بخارا میں قیام فر مایا اوع آنحضرت کی اولاد بلخ و بخارا میں پیدا ہو ئی اور شادی شدہ ہو کر ہند سندھ اور بخارا میں وارد ہوئے ۔
تیسری وجہ یہ کہ اس آگ کو جو جلائی گئی تھی آپ کے مبارک قدم نے گلزار فر مایا ان وجوہ سے بخارا کے لقب سے ملقب ہو ئے اس کے بعد بار گاہ عالی جناب رسالت مآ ب صلعم میں فرمایا کہ اے فر زند ! جا اور ملک جدا ہران اور سالت کو اسلام میں لا۔ حضرت تیار ہو ئے ۔ بی بی فا طمہ نے عرض کیا کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چل ۔ اس لیے چنداں تو قف کیا ۔ اس کے چند روز بعد عفیفہ زماں نے انتقال فر مایا ۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ اے فر زند جو علاقہ تب غم سے متعلق تھا ختم ہوا۔ اب تو جا ، تجھ کو خدا کے سپرد کیا ۔ رسالت مآب ﷺ کے حکم سے اپنی تمام اولاد کو وہاں چھوڑا، جواب تک بلخ بخار میں ہے ۔ مگر سید بہا ئو الدین ابن سید علی کہ ان کے بڑے فر زند تھے ، کو اپنے ساتھ لیا اور سید بہاء الحلیم ان دنوں میں شیر خوار تھے ، کو چر مینہ میں ڈال کر اُٹھایا ۔ جہاں حضرت حاجی بہائو الدین حلیم کو بھوک لگتی رو تے ، رب العزت کے حکم سے مادہ آ ہوتا دھرتی آوازِ بلند کر تی کہ اے میرے آہو (ہرنی) اور میرے آہو(ہرنی ) بیٹے سید بہائو الدین کو دودھ پلائو ۔ اسی وقت ہر نیاں دودھ دینے آتیں حتیٰ کہا اب وہاں شہر بلوٹ آباد ہے ۔ اس جگہ حضرت مہتر خضر ؑ نے آگے آکر فر مایا کہ اے فر زند مخدوم جلال الدین بخاری یہ تمہارا مکان ہے اور تیرے بیٹوں سے ھو مقرب ہوں گے اور وہ اس کا بام بلوٹ رکھیں گے ۔ ابھی تجھے کفار نابکار کی مہم در پیش ہے ۔ اس بیٹے کو میرے سپرد کرو اور تم جا ئو اور فتح کرو تجھ کو خدا کے سپرد کیا حضرت سید بہائو الدین کو خطاب فر زندی سے سر فراز کیا ۔ مہتر خضر ؑ کو اپنا سپرد کیا ۔ اور خود حجرت کفار نابکار کی طر ف متو جہ ہو ئے حتیٰ کہ در یا چناب پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے چڈران کے لوگوں کو مسلمان کیا اور وہ آپ کے مرید ہو ئے اور مسلمان ہو ئے ۔ سب کے دل سے لا اللہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے تھے اور شہر آباد کیا اس کا نام جلال پور رکھا اور دریا کو وہاں چند ل ندی کہتے ہیں ۔ اب بھی ویسا ہی مشہور ہے ۔ اس ملک اور شہر کے لوگوں کے حوالہ کیا ۔ آج تک اس کے بعد حکم ہوا کہ سیال لوگوں اور دوسرے لوگوں کو اپنے دست مبارک پر شرف اسلام سے مشرف کریں اور آپ کے مرید اور دست بیعے ہو گئے ۔ اور کلمہ طیبہ پڑھا اور وہاں شہر تیار کر کے نام جھنگ سیالا ں رکھا۔(بحوالہ کتاب جو اہر جلالی و سفر نامہ ،جناب حضرت حسین جلال الدین مخدوم جہانیاں جہانگشتؒ ،فارسی مع اردو تر جمہ ،مؤلف مخدوم سید حامد محمد رسول شاہ (مر حوم ) ،ترتیب جدید مخدوم سید محمد شاہ نقوی ،صفحہ نمبر ۲۱تا ۳۹)
شیخ السلام قطب الا قطاب غوث دستار محد ثین کامل مکمل فی الدین سلطان الا ولیاء بر ہان الا صفیاء قاضی القضا ت سید الثلا ر مجمع جود و کرامات سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہزار بار بے کام و بے زبان حضرت جلال الدین بخار سے کلام کیا ہے اسی طر ح حضرت مخدوم شیر شاہ جلال الدین ابن سید نے بھی فر مایا اللہ تعالیٰ نے اس مخدوم جلال الدین بخاری بن سید المؤید ہم تیرے ہیں اور تو ہمارا مرید ہے پس جس شخص نے تیرے مرید ہو نے کا ارادہ کیا وہ اس ے لیے بس ہے ۔ اور جس شخص نے نفرت کی یعنی تیری مریدی سے بیزار ہوا پس اس کے لیے افسوس ہے یعنی جو شخص تیرا مرید ہوا اس کے لیے بہشت سے اور جو شخص تیری مریدی سے بر گشتہ ہوا اس کے لیے افسوس ہے ۔ دوزخ میں ایک جگہ ہے کہا آتشین سانپ اور بچھو اور کنوئیں میں ہیں اور اس کنوئیں کی گہرائی نوے ہزار سال کی ہے ۔ مناقب اور اوصاف حضرت سید جلال الدین بخاری قد سرہ کے اس قدر ہیں کہ تحریر و تقریر میں نہیں آتے ۔ اگر چہ سات آسمان اور روئے زمین کاغذ ہو جائے اور اگر چہ سات آسمان کاغذ ہو جا وے اور دریا سیا ہی بن جا ئیں اور تمام جن وانس وملائک لکھیں خدا کی قسم کہ لکھ نہیں سکیں کیو نکہ حق تعالیٰ نے اس بندے پر بے شمار فضل و کرم فرمائے ہیں کیونکہ عالی جناب فیض مآب اللہ تعا لیٰ غفو را لر حیم نے بے کا م و زبان ان سے کلام کیا ہے ان مناقب و اوصا ف کی شر ح تحریر تقریر ہی میں نہیں آسکتی خواہ کتنی ہی کوش کر جائیں ۔ خدا کی قسم یہ نہیں لکھ سکتے حق تعالیٰ نے ان کو بہت بلند مر تبہ عطا فر مایا اور بخشا ہے ۔ (بحوالہ کتاب جو اہر جلالی و سفر نامہ ،جناب حضرت حسین جلال الدین مخدوم جہانیاں جہانگشتؒ ،فارسی مع اردو تر جمہ ،مؤلف مخدوم سید حامد محمد رسول شاہ (مر حوم ) ،ترتیب جدید مخدوم سید محمد شاہ نقوی ،صفحہ نمبر ۴۹تا ۵۱)
ایک ہمسایہ کے مطابق ایک جنازے کے ساتھ گئے جب اُسے دفن کر دیا تو شیخ بیٹھے اور ان کا رنگ بدل گیا ۔ جب کھ عر صہ گزار تو ہاتھ منہ تک لیجا تے ہو ئے خوش ہوتے ہو ئے فر مایا الحمد اللہ شیخ صد الدین عا رف با للہ کی خد مت میں اُن کا لڑکا حاضر تھا بعدہ اس حالت کا استحضا ر کیا ۔ شیخ نے فر مایا کہ اس وقت سودا گر کو دفن کیا ۔ فر شتے واپس چلے گئے واپس آئے اور چاہا کہ اس تا جر کو آگ میں جلائیں ۔ اسی مخدوم شیر شاہ سید جلال الدین بخاری آئے اور آگ پر کھڑے ہو ئے اور آگ کو جھڑک کر فرمایا دور ہو جا یہ میرا مرید ہے ۔ آواز آئی سید جلال الدین محال ہے کہ تو کہتا ہے کہ تیرا مرید ہے مگر اس نے تیرے حکم کے خلاف کام کیے اور تیری اطاعت نہیں کی اور حق تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول نہیں ہوا ۔ چھوڑ دیں تا کہ اسے آگ میں جلائیں ۔ حضرت نے عر ض کی اگر چہ بندہ میرے خلاف رہا مگر اُس کا اقرار یہ تھا کہ میں مرید ان سید جلال الدین بخاری سے ہوں ۔ اس اثناء میں ندا ئے ربانی پہنچی کہ اس کو میں نے تیرے لیے بخش دیا فر شتوں کو حکم پہنچا کہ میں نے اس بندے کو بخش دیا ہے اس لیے آتش سے رہائی دے دو ۔ شیخ الا لسلام زار زار رو ئے اور کہا ہاں بزرگوں کا مسلک ہے کہ جو پیروں کے دامن سے اپنا دا من با ند ھتا ہے اور ان سے منسلک ہو جاتا اور ان کی تمام حق و ہو مطا بعت کر تا ہے بے شک آتش دو زخ کا سوال فر شتگان اور عذاب گور سے بچ جاتا ہے اور رہائی پاتا ہے ۔(بحوالہ کتاب جو اہر جلالی و سفر نامہ ،جناب حضرت حسین جلال الدین مخدوم جہانیاں جہانگشتؒ ،فارسی مع اردو تر جمہ ،مؤلف مخدوم سید حامد محمد رسول شاہ (مر حوم ) ،ترتیب جدید مخدوم سید محمد شاہ نقوی ،صفحہ نمبر۵۱تا ۵۳)
مشہور ہے کہ ایک دن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے اولیاء اللہ کی تعریف فر ماتے تھے ۔ حضرت عمر نے عر ض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کی امت میں افضل اولیاء کون ہے ۔ فر مایا سید جلال الدین بخاری بن سید ابو لمؤید اور میں نے اسے شب معراج میں عرش پر دیکھا ہے ۔ اور فر مایا شب معراج میں جب عر ش کے زبر جد گنبد کا معا ئنہ کیا جبریل ؑ سے پوچھا اے بھائی یہ گنبد زبر جد کس لیے ہے اور اس گنبد میں کون ہے ؟ جبریل ؑ نے فر مایا : یا رسول اللہ ﷺ اس سبز گنبد کی پیدا ئش میری پیدا ئش سے پہلے کی ہے ۔ جس وقت اللہ نے مجھے پیدا کیا اس وقت سے میں اس گنبد کو دیکھتا ہوں ۔ اس سبز گنبد سے ذکر الہٰی کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ اس میں کون ہے ۔ اس وقت ندا ئے ربانی آئی کہ اے محمد ﷺ اس میں تمہارے امت اور اولاد میں سے ایک آدمی ہے اس کا نام جلال الدین حیدر بخاری بن سید علی المؤید ہے ۔ وہ تیری اولاد کا خلاصہ ہے ۔ وہ تیری امت کا دنیا و دین میں چراغ ہے ۔ جب حضرت رسالت مآب ﷺ ساتویں آسمان پر پہنچے تو مو سیٰ ؑ سے ملاقات ہو ئی ۔ موسیٰ ؑ پیغمبر صلعم مناجرت بیان کر تے تھے اس وقت ایک جواب ظاہر ہوا ۔ ان دو نوں حضرات کے در میان منصف و قاضی ہو ئے ۔ مو سیٰ ؑ بہت چست تھے کہا کہ میں کلیم اللہ ہوں ۔ حضرت محمد ﷺ جناب رسالتمآب نے اس جوان کو بے شمار عنا یت سے آغوش سے لیا ۔ اور کہا خدا تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ بتا تو کون ہے ۔ حضرت صلعم نے آہستگی و نر می سے فر مایا میں رسول اللہ ہوں ۔ اس جوان نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا اے پیغمبر خدا کیا تو جانتا کہ کلیم اللہ افضل ہے یا رسول اللہ ۔ موسیٰ ؑ نے کہا اے جواب تو قاضی بن اس جوان نے کہا کلیم اللہ اس کو کہتے ہیں جو خدا سے کلام کرے ۔ اور خدا وند تعالیٰ سے بہت ذیادہ گفتگو کرے اور رسول اللہ اسے کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ اسے خاس کر کے دعوت و حد انیت دے اور خاص کر کے انعام ۔ پر یہ مر تبہ رسالت مر تبہ کلیمی سے بر تر ہے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فوراً حضرت محمد ﷺ کے پائو ں پر بو سا دیا اور کہا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ جناب رسالت مآب ﷺ نے اس جواب کو بے شمار عنایت سے آغو ش میں لیا اور کہا خدا تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا بتا تو کون ہے ؟ اس جوان نے کہا میں آپ کے علمائے امت میں سے ایک عالم ہوں ۔ حضرت محمد ﷺنے فر مایا تیرا نما کیا ہے ۔ عرض کیا : سید جلا ل الدین بن علی المؤید بن جعفر ثانی ہے ۔ اس عالم میں رسالت مآپﷺ نے یہ حدیث فر مائی : علماء امت انبیائے نبی اسرائیل کی طر ح ہیں (جس طر ح انبیاء نبی اسرائیل اللہ تعالیٰ سے کلام کرتے اور مردے زندہ کرتے جیسے عیسیٰ روح اللہ کے معجزہ ہیں اسی طر ح امت محمد ی ﷺ کے علماء بھی کرامات دیکھا سکتے ہیں ) اور فر مایا کہ حضرت مخدوم صدر الدین قتال کہ حضرت مخدوم سید جلال الدین حیدر ثانی جلالی بہر تو حید کی مرا قبہ میں ایسے مست ہو تے اگر جسم کا گوشت کاٹ دیا جائے تو انہیں ہر گز اپنے وجود مبارک کی خبر نہ ہوتی ۔ روایت ہے موسم میں ہر رات کو خد مت گا رآں حضرت کی پشت مبارک پر ردا ڈالتے تھے تا کہ حضرت مخدوم جلال الدین بخاری کے بدن پر مچھر نہ بیٹھے ہے ۔ عر ض کیا سید جلال الدین بن علی المؤید بن سید جعفر ثانی اس عا لم میں حضرت رسالتمآب نے یہ حدیث فر مائی : میرے خد مت گا ر ایک رات کسی کام میں مشغول تھے ۔ ردا ئے مبارک پیٹھ پر ڈالنا بھول گئے اور نہ ڈالی ۔ کہتے ہیں صبح کے وقت دیکھا کہ مچھروں کا انبارآں حضرت کے آگے مر دہ پرا تھا ۔ خد مت گار نے پو چھا کہ اے سید یہ مچھر کس طر ح مرے ہیں ۔ آں حضرت نے فر مایا کہ میں نے سنا ہے کہ حضرت عا لم ﷺ نے فر مایا گو شت زہر ہلاہل ہے جو اسے کھائے گا مر جائے گا ۔ (بحوالہ کتاب جو اہر جلالی و سفر نامہ ،جناب حضرت حسین جلال الدین مخدوم جہانیاں جہانگشتؒ ،فارسی مع اردو تر جمہ ،مؤلف مخدوم سید حامد محمد رسول شاہ (مر حوم ) ،ترتیب جدید مخدوم سید محمد شاہ نقوی ،صفحہ نمبر ۵۷ تا ۶۱)
روایت ہے کہ حضرت مخدوم شیر شاہ جلال الدین بخاری چار سال ملک کشمیر میں ر ہے ۔ ایک بوڑھی عور ت مال دار تھی ۔ آنحضرت کی خدمت میں عر ض کی کہ اے جلال الدین میں بڑھتا بہت مالدار ہوں مگر کوئی اولاد نہیں۔ کوئی میرا وارث بننے والا نہیں ہے ۔ اپنے خدا وند سے عرض کر اور میرے حق میں دعا

Address

A-2/3. Street/2 � House/3 Qayyumabad Karachi Est
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سید ملنگ شاہ حسینی نقوی بخاری جلالی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category