11/05/2026
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اس "انوکھے" بیان کو جس نے بھی پڑھا، وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پاکستان کے عوامی مسائل کی فہرست طویل ہے، لیکن ہماری حکومت کے پاس ان مسائل کے جو "تخلیقی" حل ہوتے ہیں، وہ کبھی کبھی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی کا یہ شاھکار بیان کہ "بجلی اتنی سستی کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ اسے بیٹری میں محفوظ کر کے رات کو استعمال کر سکیں گے"، بھت زیر بحث ھے۔
دیکھا جائے تو زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس اور کافی تلخ ہیں۔ وزیر صاحب جس "سستی بجلی" کی نوید سنا رہے ہیں، وہ فی الوقت تو کہیں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بجلی کا بل اب کرائے کے گھر سے بھی زیادہ بوجھ بن چکا ہے۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے آئے روز فی یونٹ قیمتوں میں اضافہ، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی وصولیاں اور بھاری ٹیکسوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ جب عام آدمی کے لیے پنکھا چلانا محال ہو، وہاں "بیٹریوں میں بجلی بھرنے" کی باتیں کسی بھدے مذاق سے کم نہیں۔
پاکستان کے پاور سیکٹر کی سب سے بڑی ناکامی وہ معاہدے ہیں جو نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ کیے گئے۔ ہم بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، ان کمپنیوں کو اربوں روپے کی "کیپیسٹی پیمنٹس" ادا کرنی پڑتی ہیں۔ حکومت کی غلط منصوبہ بندی کا خمیازہ عوام بھاری ٹیرف کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ سولر پینلز پر نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے بدلتی پالیسیوں نے تو پہلے ہی عوام کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے، اب رات کے وقت بیٹری کے استعمال کا مشورہ دے کر شاید وزیر صاحب یہ بھول گئے ہیں کہ ان بیٹریوں اور انورٹرز کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
ایک طرف دعوے ہیں کہ بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، اور دوسری طرف دیہی و شہری علاقوں میں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرانسمیشن لائنوں کی ابتر صورتحال اور بجلی کی چوری روکنے میں ناکامی کا بوجھ بھی ان لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو ایمانداری سے بل بھرتے ہیں۔ وزیر صاحب کا یہ بیان کہ "لوگ رات کو بیٹری سے بجلی استعمال کریں گے"، دراصل اپنی ناکامی کا اعتراف ہے کہ حکومت رات کے اوقات میں سستی اور بلا تعطل بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
عوام کو اب کھوکھلے نعروں اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی جائے، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر نظر ثانی ہو اور عوام کو براہِ راست ریلیف دیا جائے۔ بیٹریوں میں بجلی جمع کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے حکومت ایسی پالیسیاں لائے، جس سے غریب کا گھر روشن ہو سکے، نہ کہ اس کا دیوالیہ نکل جائے۔