Chic Zedd Super Store

Chic Zedd Super Store Welcome to our online store! We bring you a wide range of quality products at affordable prices, delivered right to your doorstep.

Shop easily, save time, and enjoy a smooth shopping experience with us.

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اس "انوکھے" بیان کو جس نے بھی پڑھا، وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پاکستان کے عوامی مسائل کی فہرست...
11/05/2026

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اس "انوکھے" بیان کو جس نے بھی پڑھا، وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پاکستان کے عوامی مسائل کی فہرست طویل ہے، لیکن ہماری حکومت کے پاس ان مسائل کے جو "تخلیقی" حل ہوتے ہیں، وہ کبھی کبھی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی کا یہ شاھکار بیان کہ "بجلی اتنی سستی کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ اسے بیٹری میں محفوظ کر کے رات کو استعمال کر سکیں گے"، بھت زیر بحث ھے۔

دیکھا جائے تو زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس اور کافی تلخ ہیں۔​​ وزیر صاحب جس "سستی بجلی" کی نوید سنا رہے ہیں، وہ فی الوقت تو کہیں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بجلی کا بل اب کرائے کے گھر سے بھی زیادہ بوجھ بن چکا ہے۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے آئے روز فی یونٹ قیمتوں میں اضافہ، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی وصولیاں اور بھاری ٹیکسوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ جب عام آدمی کے لیے پنکھا چلانا محال ہو، وہاں "بیٹریوں میں بجلی بھرنے" کی باتیں کسی بھدے مذاق سے کم نہیں۔

​پاکستان کے پاور سیکٹر کی سب سے بڑی ناکامی وہ معاہدے ہیں جو نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ کیے گئے۔ ہم بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، ان کمپنیوں کو اربوں روپے کی "کیپیسٹی پیمنٹس" ادا کرنی پڑتی ہیں۔ حکومت کی غلط منصوبہ بندی کا خمیازہ عوام بھاری ٹیرف کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ سولر پینلز پر نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے بدلتی پالیسیوں نے تو پہلے ہی عوام کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے، اب رات کے وقت بیٹری کے استعمال کا مشورہ دے کر شاید وزیر صاحب یہ بھول گئے ہیں کہ ان بیٹریوں اور انورٹرز کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

​ایک طرف دعوے ہیں کہ بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، اور دوسری طرف دیہی و شہری علاقوں میں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرانسمیشن لائنوں کی ابتر صورتحال اور بجلی کی چوری روکنے میں ناکامی کا بوجھ بھی ان لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو ایمانداری سے بل بھرتے ہیں۔ وزیر صاحب کا یہ بیان کہ "لوگ رات کو بیٹری سے بجلی استعمال کریں گے"، دراصل اپنی ناکامی کا اعتراف ہے کہ حکومت رات کے اوقات میں سستی اور بلا تعطل بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

​عوام کو اب کھوکھلے نعروں اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی جائے، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر نظر ثانی ہو اور عوام کو براہِ راست ریلیف دیا جائے۔ بیٹریوں میں بجلی جمع کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے حکومت ایسی پالیسیاں لائے، جس سے غریب کا گھر روشن ہو سکے، نہ کہ اس کا دیوالیہ نکل جائے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ طاقت، مفادات اور بدلتے اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حالیہ منظرنامے میں متحدہ عرب امارات کا ر...
04/05/2026

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ طاقت، مفادات اور بدلتے اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حالیہ منظرنامے میں متحدہ عرب امارات کا رویہ واقعی مختلف اور کچھ حد تک چونکا دینے والا محسوس ہوتا ہے—خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تناؤ، اوپیک کے معاملات میں اختلاف، اور اسرائیل کے ساتھ قربت کے تناظر میں۔ لیکن اگر اس صورتحال کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ اچانک تبدیلی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹجک راستے کا حصہ لگتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ UAE اب صرف ایک تیل برآمد کرنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ خود کو ایک عالمی بزنس، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی نے گزشتہ دہائی میں اپنی معیشت کو متنوع (diversify) کرنے پر بہت زور دیا ہے۔ ایسے میں روایتی تیل پالیسیوں، خاص طور پر اوپیک کی پیداوار محدود کرنے والی حکمتِ عملی، سے اختلاف ایک حد تک فطری بن جاتا ہے۔ UAE چاہتا ہے کہ وہ زیادہ تیل پیدا کرے اور اپنی آمدنی کو مزید بڑھائے، جبکہ سعودی عرب اکثر مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے پیداوار کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ یہی مفادات کا ٹکراؤ دونوں ممالک کے درمیان “محاذ آرائی” کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
جہاں تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال ہے، UAE نے ابراہام معاہدے کے تحت ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے کئی عوامل ہیں: جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، دفاعی تعاون، اور امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی UAE اپنے لیے نئے اتحادی تلاش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اسی بڑی تصویر کا حصہ ہیں، جہاں سلامتی اور معیشت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا UAE صحیح کر رہا ہے یا غلط؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ اگر UAE کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو وہ اپنے قومی مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔ عالمی سیاست میں یہی اصول سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ وہ اپنی معیشت کو مضبوط، اپنی سکیورٹی کو بہتر اور عالمی سطح پر اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی پالیسی “عملی” (pragmatic) نظر آتی ہے۔
لیکن دوسری طرف، اس حکمتِ عملی کے نقصانات بھی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی خلیجی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ کھلے تعلقات خطے میں عوامی سطح پر تنقید کا باعث بنتے ہیں، خاص طور پر فلسطین کے مسئلے کی وجہ سے۔ مزید یہ کہ اوپیک سے اختلاف عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتا ہے۔
آخرکار، UAE ایک نیا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے—ایک ایسا ملک جو صرف علاقائی سیاست کا حصہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست کھیلنا چاہتا ہے۔ یہ راستہ مواقع سے بھرا ہوا ہے، لیکن خطرات سے خالی نہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ “جُرات مندانہ حکمتِ عملی” UAE کو مزید مضبوط بناتی ہے یا اسے نئے تنازعات میں الجھا دیتی ہے۔



















پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہمیشہ سے ہی جوش، جذبے اور غیر یقینی صورتحال کا امتزاج ہوتا ہے، لیکن اس بار پشاور زلمی کی جیت نے...
04/05/2026

پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہمیشہ سے ہی جوش، جذبے اور غیر یقینی صورتحال کا امتزاج ہوتا ہے، لیکن اس بار پشاور زلمی کی جیت نے اس ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ حیدرآباد کے خلاف یہ مقابلہ صرف ایک میچ نہیں تھا بلکہ حکمتِ عملی، دباؤ اور اعصاب کا اصل امتحان تھا۔
میچ کے آغاز سے ہی پشاور کی ٹیم ایک واضح منصوبے کے ساتھ میدان میں اتری۔ ان کی بیٹنگ لائن نے محتاط لیکن پراعتماد کھیل پیش کیا۔ اوپنرز نے اچھی بنیاد رکھی، جس کے بعد مڈل آرڈر نے ذمہ داری کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھایا۔ خاص بات یہ تھی کہ کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ پوری ٹیم نے مل کر پرفارم کیا، جو کسی بھی چیمپئن ٹیم کی پہچان ہوتی ہے۔
دوسری جانب حیدرآباد کی ٹیم نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے بولرز نے شروع میں اچھا دباؤ ڈالا اور چند اہم وکٹیں حاصل کیں، لیکن وہ پشاور کے بلے بازوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہے۔ فیلڈنگ میں بھی چند معمولی غلطیاں ہوئیں، جو ایسے بڑے میچ میں بہت مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔
جب حیدرآباد بیٹنگ کے لیے آئی تو آغاز کچھ خاص نہیں تھا۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے سے ٹیم دباؤ میں آ گئی۔ اگرچہ مڈل آرڈر نے مزاحمت کی اور میچ کو دلچسپ بنانے کی کوشش کی، لیکن پشاور کے بولرز نے نہایت سمجھداری سے لائن اور لینتھ برقرار رکھی۔ خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں ان کی بولنگ نے حیدرآباد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
یہ جیت صرف ایک ٹرافی حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیم ایفورٹ کا نتیجہ ہے۔ کپتان کی بہترین قیادت، کوچنگ اسٹاف کی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی محنت سب کچھ اس کامیابی میں شامل ہے۔ پشاور نے ثابت کیا کہ اگر ٹیم ورک مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا حریف بھی شکست کھا سکتا ہے۔
شائقین کے لیے یہ فائنل کسی سنسنی خیز فلم سے کم نہیں تھا۔ ہر اوور کے ساتھ میچ کا رخ بدلتا محسوس ہوتا تھا، لیکن آخرکار پشاور نے اپنے اعصاب مضبوط رکھتے ہوئے میدان مار لیا۔ اس جیت نے نہ صرف ٹیم کے حوصلے بلند کیے بلکہ لیگ کی مقبولیت میں بھی اضافہ کیا۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ فائنل پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کے یادگار مقابلوں میں شمار کیا جائے گا۔ پشاور کی یہ فتح آنے والے سیزنز کے لیے ایک معیار قائم کرتی ہے، جبکہ حیدرآباد کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ چھوٹی غلطیاں بھی بڑے میچز کا نتیجہ بدل سکتی ہیں۔



















سولر کیوں لگارھے ھو۔ پہلے حکومت سے لائسنس تو لو اور فیس تو بھرو۔ پھر آگے بڑھو۔ پہلے تو یہ خبریں سوشل میڈیا میں آررہی تھی...
24/04/2026

سولر کیوں لگارھے ھو۔ پہلے حکومت سے لائسنس تو لو اور فیس تو بھرو۔ پھر آگے بڑھو۔

پہلے تو یہ خبریں سوشل میڈیا میں آررہی تھیں اور اب مین اسٹریم میڈیا بھی ان خبروں کی تصدیق کررھا کہ پاکستان میں سولر صارفین کو لائسنس حاصل کرنا پڑے گا اور فیس بھی ادا کرنی ھوگی۔
یہ تو سراسر ظلم اور زیادتی ھے کہ اپنے پیسوں سے سولر لگوائیں اور سورج سے بجلی بنائیں اور ٹیکس حکومت کو دیں، یہ ظلم نہیں تو اور کیا ھے۔ پاکستان میں حکومت لوگوں کو کوئی سھولت یا رعایت دینے میں تو ناکام ھوچکی ھے۔ الثا سینکڑوں مختلف ٹیکسوں کی مد میں لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالے جارھے ھیں۔ لوگ بھی بیحس ھوچکے ھیں، یا پھر بھت ہی بھولے ھیں۔ احتجاج کرنے کے بجائے لائنوں میں کھڑے ھوکر ٹیکس اور جرمانے بھررے ھیں۔
یہ ایران اور امریکا میں جنگ کیا لگی ھے، حکمرانوں کی موجیں لگ گئی ھیں۔ مختلف طریقوں سے عوام سے پیسے بٹورے جاررھے ھیں۔ خود تو طیاروں، ھیلیکاپٹروں اور چالیس چالیس گاڑیوں کے قافلے لے کر گھوم رھے ھیں اور لوگوں کو کھہ رھے ھیں کہ بچت کرو۔
پاکستان شاید وہ واحد ملک ھے جھاں ٹیکس تو لیے جاتے ھیں لیکن سھولت کوئی نہیں ملتی۔ تعلیم حاصل کرنی ھے تو پرائیوٹ اسکولوں میں جائو۔ بیمار ھو جائو تو علاج خود کروائو۔ پانی چاھیے تو ٹینکر منگوائو۔ بجلی چاھیے تو سولر لگائو اور اس پر بھی ٹیکس دو۔
یہ جو نیا سولر ٹیکس لگایا گیا ھے یہ کن صارفیں کو بھرنا ھوگا۔ یہ ابھی بات کافی حد تک مبھم ھے۔ حکومت کا کھنا ھے کہ آن گرڈ صارفین کو لائسنس لینا پڑے گا اور ایک ھزار کلو واٹ کے حساب سے ھزار روپے ٹیکس دینا ھوگا، مطلب اگر آپ نے چھ کلو واٹ کا سسٹم لگایا ھے تو چھ ھزار روپے جگا ٹیکس لگے گا۔ اب یہ بھی صحیح طرح سے معلوم نہیں کہ یہ ٹیکس ماھانہ دینا ھوگا یا سالانہ۔
بات بلکل عیاں ھے کہ لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ سولر نہ لگائیں بلکہ حکومت سے مہنگے داموں بجلی خریدیں اور بڑے بڑے بل اور جرمانے بھرتے رھیں تاکہ حکمران موج کرتے رھیں۔
آپ ذرا غور کریں تو مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتیں تباھ ھوگئیں۔ ٹیکسوں کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار تباھ ھوگیا۔ گاڑیوں پر ٹیکسوں کی وجہ سے شورومس والے تباھ حال ھیں۔ مطلب ھر چیز پر حکومت کا کچھ نہ کچھ حصا ضرور ھوتا ھے۔ اب تو کچھ بچا ہی نہیں، جس پر ٹیکس نہ لگایا۔
جو صورتحال لگ رہی اس میں تو ھوسکتا ھے کہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگ جائے۔ بس اب تو حالات بس سے باھر ھیں، اللہ رحم کرے۔

19/04/2026

Hindu Wife of JD Vance

06/04/2026

بھت ہی غیر معمولی حالات ھیں، ایک طرف تو جنگ جاری ھے، دوسری طرف پاکستان میں مذاکرات کی تیاریاں مکمل ھیں۔امریکہ میں ٹرمپ ک...
29/03/2026

بھت ہی غیر معمولی حالات ھیں، ایک طرف تو جنگ جاری ھے، دوسری طرف پاکستان میں مذاکرات کی تیاریاں مکمل ھیں۔
امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف بھت ہی بڑے مظاھرے ھوئے ھیں۔ مختلف ماھرین یہ خدشہ ظاھر کررھے ھیں کہ ٹرمپ ایک طرف تو مذاکرات کا ڈرامہ کررھا ھے۔ لیکن اصل میں وہ ایران کے خلاف ایک بھت بڑی کاروائی کرنے جارھا ھے اور ھوسکتا ھے کہ وہ ایران میں اپنے ٹروپس کو اتارنے کی کوشش کرے۔ بھرحال یہ تو آگے چل کر معلوم ھوگا کہ کیا صورتحال بنتی ھے۔ ٹرمپ پر بھت زیادہ پریشر ھے اور وہ اس جنگ میں بری طرح پھنس چکا ھے۔
ٹرمپ کے خلاف، امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاھرے ھوئے ھیں، امریکہ کے لوگ بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ھوچکے ھیں ۔
پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ھوا ھے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراء خارجہ اسلام آباد پہنچ چکے ھیں۔ کہا یہ جارھا ھے کہ نائب صدر جے ڈی وینز یا مارک روبیو بھی پاکستان آئیں گے اور ایران کے وزیر خارجہ اور اسپیکر بھی ھوسکتا ھے کہ پاکستان پہنچ کر مذاکرات میں شرکت کریں۔
امریکہ کسی طرح سے اس جنگ سے جان چھڑانا چارھا ھے، دوسری طرف ایران ان مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرے گا۔ اگر ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ھے تو صورتحال بھت سنگین ھوجائے گی، انرجی کرائسس پہلے ہی شروع ھوچکا ھے، کھانے پینے کی اشیاء کی بھی قلت ھوچکی ھے، مھنگائی بھی بڑھ رھی ھے، پوری دنیا کو اس جنگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ھے، خدا کرے کہ کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ یہ جنگ جلد از جلد ختم ھو۔ اسرائیل کے مکروھ عزائم اور ٹرمپ کے پاگل پن نے دنیا کو تباھی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ھے۔

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے شیڈیول کا اعلان ھوگیا، یہ لاک ڈائون عالمی جنگی صورتحال اور پیٹرول اور ڈیزل کی کمی کو مدنظر رکھ ک...
29/03/2026

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے شیڈیول کا اعلان ھوگیا، یہ لاک ڈائون عالمی جنگی صورتحال اور پیٹرول اور ڈیزل کی کمی کو مدنظر رکھ کر لگایا جارھا ھے، جو صرف ہفتہ رات 12:00 سے اتوار11:59 تک ہوا کرے گا اور اس لاک ڈاؤن پر 4 اپریل سے عمل درآمد شروع ہو گا۔
لاک ڈاؤن کے دوران ہائی وے اور موٹر وے آمد و رفت کے لیے بند ہو گی اور شادی ہال اور کسی قسم کی تقریبات پہ مکمل پابندی ہو گی۔

محمد بن سلمان کے لیے ٹرمپ نے جو گھٹیا ترین زبان استعمال کی، وہ اس بات کی واضح طور پر نشاندھی ھے کہ امریکی صدر موجودہ صور...
29/03/2026

محمد بن سلمان کے لیے ٹرمپ نے جو گھٹیا ترین زبان استعمال کی، وہ اس بات کی واضح طور پر نشاندھی ھے کہ امریکی صدر موجودہ صورتحال کی وجہ سے ذھنی انتشار اور بوکلاھٹ کا شکار ھے۔ ایران نے امریکا کو دن کے تارے دکھا دیے ھیں اور ٹرمپ کا پلان مکمل طور پر ناکام ھوچکا ھے، وہ چاھتا تھا کہ ایران اور عرب ممالک آپس میں لڑیں اور وہ امریکا چپ کے سے اس جنگ سے نکل جائے، لیکن ایسا نہیں ھوا۔ ایران نے خطے کے بھت سارے ملکوں پر حملے کیے، لیکن ابھی تک اسرائیل اور امریکہ کے سوا کسی ملک نے ایران پر اٹیک نہیں کیا۔ محمد بن سلمان اور خطے کے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو چاھیے کہ آمریکا کے اڈے ختم کریں اور بلڈنگیں بنانے کے بجائے تعلیم اور سائنس کی طرف توجہ دیں اور اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں اور امریکا سے جان چھڑائیں اور مسلم ممالک کا اتحاد بنائیں۔ عربوں کے پاس تیل کی دولت تو پہلے سے موجود ھے، اب وقت آگیا ھے کہ وہ یہودیوں کی سازشوں کا شکار ھونے کے بجائے عقل کا استعمال بھی کریں، اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کا انجام بھی کچھ اچھا ھونے والا نہیں ھے۔

جب تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت ھے، لگتا تو یہی ھے کہ نسیم شاھ قومی کرکیٹ ٹیم میں کھیل نہیں سکے گا۔ نسیم شاھ کا سینٹرل کانٹر...
29/03/2026

جب تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت ھے، لگتا تو یہی ھے کہ نسیم شاھ قومی کرکیٹ ٹیم میں کھیل نہیں سکے گا۔
نسیم شاھ کا سینٹرل کانٹریکٹ بھی پاکستان کرکیٹ بورڈ نے معطل کردیا ھے، وہ بی کیٹیگری میں شامل تھا، اس کو سالانہ تیس لاکھ روپے ادا کیے جاتے تھے، اور میچ فیس اس کے علاوہ تھی، اب یہ پیسے نسیم شاھ کو نہیں ملیں گے۔
پی ایس ایل کے ابتدائی میچ کے موقعے پر مریم نواز کا جس طریقے سے استقبال کیا گیا، اس کے بارے میں نسیم شاھ نے ٹویٹ کیا تھا کہ کیوں اس کو کیوئین کی طرح ٹریٹ کیا گیا۔ تھوڑے دیر بعد وہ ٹویٹ تو ڈلیٹ کردیا گیا اور ایک اور ٹویٹ آیا، جس میں کھا گیا کہ میرا اکائونٹ ھیک ھوگیا تھا، وہ ٹویٹ میں نے نہیں کیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری ھے اور کھا جارھا ھے کہ بیٹا تونے بھت سیاست کرلی، اب تو پاکستان کی طرف سے کھیل کر دکھا!

پاکستان سپر لیگ (PSL) 2026 کا سیزن شائقینِ کرکٹ کے لیے بہت اہم اور دلچسپ ہونے جا رہا ہے، لیکن اس بار کچھ بڑی تبدیلیاں بھ...
23/03/2026

پاکستان سپر لیگ (PSL) 2026 کا سیزن شائقینِ کرکٹ کے لیے بہت اہم اور دلچسپ ہونے جا رہا ہے، لیکن اس بار کچھ بڑی تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس سیزن کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا اور فائنل 3 مئی کو کھیلا جائے گا۔
سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اس بار ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر دی گئی ہے، جس سے مقابلہ مزید سخت اور دلچسپ ہو گیا ہے۔ نئی ٹیموں کی شمولیت کے ساتھ لیگ میں کل 44 میچز کھیلے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پہلی بار ڈرافٹ کے بجائے آکشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس سے ٹیمیں کھلاڑیوں کو بولی کے ذریعے منتخب کر رہی ہیں۔
تاہم حالیہ حالات، خاص طور پر ایران جنگ اور معاشی مسائل کی وجہ سے، لیگ کے انتظامات پر اثر پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق میچز کو محدود کرکے صرف لاہور اور کراچیمیں کرانے اور ابتدائی میچز بغیر تماشائیوں کے کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت بھی غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ کچھ کھلاڑی زیادہ معاوضے کے لیے دوسری لیگز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر 6 ایک نئے انداز، نئی ٹیموں اور چیلنجز کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ اگرچہ حالات کچھ مشکل ہیں، لیکن امید ھے کرکٹ کے شائقین PSL میں سنسنی خیز اور دلچسپ میچز دیکھ سکیں گے۔

Address

Karachi
75000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chic Zedd Super Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category