08/10/2026
جب پاکستان 2010 میں ایک چوتھائی ڈوب چکا تھا اور 2 کروڑ پاکستانی سیلاب سے متاثر ہوئے تو عالمی امداد اور ریسکیو آپریشن میں ہالی وڈ سپر سٹار انجلینا جولی بھی پاکستان پہنچی اور متاثرین سے ملنے متعدد کیپمس گئی اور انکی ہمت بندھائی لیکن اس تمام تر صورت حال میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا تمام تر خاندان مبینہ طور پر ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ملتان پہنچا جہاں انکی انجلینا جولی سے خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا اور تواضع کے لیے ایک شاہانہ اور لگثرری دعوت جس میں درجنوں ڈشز کا اہتمام تھا وہ پیش کی گئی تو انجلینا جولی باقاعدہ شاک میں چلی گئی کیونکہ وہ یہ یہاں ایک غریب ملک کی مدد کرنی آئی تھی لیکن حکومت نے ایک الگ کہانی شروع کردی۔
خیر اس خبر پر مقامی میڈیا نے آواز تو اٹھائی لیکن انجلینا جولی نے واپس امریکہ جاکر اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی اداروں کو پاکستان میں امدادی وسائل میں مزید سخت مانیٹرنگ کا مطالبہ کردیا اور انہی آیام میں سیلاب متاثرین کے حالات کو دیکھتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی بیوی نے اپنا قیمتی ہیروں سے مزین ہار عطیہ کردیا تاکہ اسکی نیلامی سے مدد ہوسکے لیکن بعدزاں وہ ہار یوسف رضا گیلانی کی بیوی کے پاس موجود پایا گیا اور جب مزید ہائی لائٹ ہوا تو انکا کہنا تھا انہوں نے یہ ہار نیلامی میں نادرا سے صرف 15 لاکھ کا خریدا تھا اور یہ رقم وہاں اجتماعی شادی کی 8 جوڑوں میں فی کس 2 لاکھ روپے کے حساب سے تقسیم کی گئی لیکن جب معاملہ طول میں پڑا تو انہوں نے 2015 کے بعد وہ ہار واپس نادرا کو واپس کیا جو قوم خزانے کی ملکیت بنا۔۔۔
لیکن سوال بنتا ہے کہ جب ملک کا 25 فیصد حصہ ڈوب چکا ہو، دو کروڑ لوگ متاثرہ ہوں، معیشت کو سیلاب سے 43 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور سیلاب کو 2004 کے بحر ہند کے سونامی اور 2005 کے زلزلے سے زیادہ ہولناک تسلیم کیا گیا ہو وہاں کی حکومت کا شاہانہ دعوت اور اسکی خاتون اول کا نیلامی میں بجائے اپنا مال پیش کرنے الٹا خریدنا بتاتا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں؟