01/11/2024
یہ دیکھیے! 1931 کی مردم شماری کی کتاب، جس میں اُس زمانے کا بلوچستان بسا ہوا ہے! اُس وقت بلوچستان کی کل آبادی 8 لاکھ 68 ہزار تھی۔ بلوچ 2 لاکھ 29 ہزار، براہوی 1 لاکھ 52 ہزار اور پٹھان 1 لاکھ 98 ہزار کی تعداد میں تھے۔ جٹ، لاسی اور سادات بھی اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ بلوچستان کے نقشے کا حصہ تھے۔
یہ تو قبائل کی بات ہوئی، لیکن بلوچستان میں مذاہب کی خوبصورتی بھی دیکھیں! ہندو برادری کی تعداد 53 ہزار اور سکھ 8 ہزار تھے، جبکہ عیسائی، زرتشتی اور جین مذہب کے ماننے والے بھی یہاں آباد تھے۔
اور ایک دلچسپ حقیقت! کوئٹہ-پشین میں ہر مربع میل پر 1426 لوگ آباد تھے، لیکن جیسے ہی آپ بولان یا چاغی جیسے دور دراز علاقوں میں جاتے، وہاں صرف 1 یا 2 لوگ فی مربع میل ملتے۔
یہ دستاویزات آج کے بلوچستان کی کہانی کو وقت کی گہرائیوں سے نکال کر ہمارے سامنے لاتی ہیں۔ یہ وہ بلوچستان ہے جو اپنے اندر قبائل، مذاہب اور ثقافتوں کا خزانہ چھپائے ہوئے ہے — اور آج خوشی خوشی پاکستان کے ساتھ ہے!
Courtesy, archiev