Tahseen Awan

Tahseen Awan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tahseen Awan, Grocers, 1, Jehangira.

05/05/2026

Free Fire Live Streaming

16/04/2026

Warka dang 🤩🎉😄

15/04/2026

Discovered

موجودہ صورتحال میں چاچو شہباز نے اپنے دل پر پتھر رکھنے کے بجائے پہاڑی دباؤ کو سینے پر رکھ کر پیٹرول کی قیمت بڑھا دی
03/04/2026

موجودہ صورتحال میں چاچو شہباز نے اپنے دل پر پتھر رکھنے کے بجائے پہاڑی دباؤ کو سینے پر رکھ کر پیٹرول کی قیمت بڑھا دی

02/04/2026

Bazigar aar 🌈🎉👏💃

28/03/2026

Good morning

پاور شفٹنگ: ایران کی جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی بساط​آج ہم ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں 1945 کے بعد کی سب سے بڑی پ...
14/03/2026

پاور شفٹنگ: ایران کی جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی بساط
​آج ہم ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں 1945 کے بعد کی سب سے بڑی پاور شفٹنگ (Power Shifting) کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایران کے حالیہ تنازع نے دنیا کی نظریں اس حقیقت پر جما دی ہیں کہ عالمی طاقت کا مرکز ایک بار پھر تبدیل ہو رہا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے دوسری جنگِ عظیم نے اقتدار کی چابیاں برطانیہ سے چھین کر امریکہ کے حوالے کر دی تھیں۔
​تاریخی تناظر: طاقت کا عروج و زوال
​تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پرانا نظام ٹوٹتا ہے، ایک نئی طاقت ابھرتی ہے۔
​قسطنطنیہ کی فتح: عثمانیہ سلطنت کا عروج اور رومن سلطنت کا زوال۔
​معاہدہ ویسٹ فیلیا: یورپ کی تیس سالہ جنگ کا خاتمہ اور جدید ریاستوں کا قیام۔
​ورلڈ وار ٹو: ہٹلر کے پولینڈ پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ نے جاپان پر ایٹم بم کے ساتھ امریکی بالادستی (American Hegemony) کی بنیاد رکھی۔
​بائی پولر سے یونی پولر اور اب ملٹی پولر دنیا
​1945 سے 1991 تک دنیا بائی پولر (Bi-polar) تھی، جہاں امریکہ اور سویت یونین کے درمیان نظریاتی جنگ جاری تھی۔ 1991 میں سویت یونین کے بکھرنے کے بعد "امریکن یونی پولر مومنٹ" کا آغاز ہوا، جس میں عراق اور افغانستان جیسی جنگیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ امریکہ کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔
​لیکن اب وہ دور لد چکا ہے۔ آج دنیا ملٹی پولر (Multi-polar) بن رہی ہے، جہاں چین اور روس بڑے کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں، جبکہ انڈیا اور یورپی یونین بھی اپنا وزن بڑھا رہے ہیں۔
​نیو لبرل ڈیموکریسی کا زوال اور نیا ماڈل
​دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے 'لبرل ڈیموکریسی' کا ماڈل بیچا، لیکن آج امریکہ خود اپنی خارجہ پالیسی میں جمہوریت کی پروموشن سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ اب دنیا ایک نئے ماڈل کی تلاش میں ہے:
​ایک طرف: امریکہ، یورپ اور چند اتحادی عرب ممالک۔
​دوسری طرف: چین اور روس کا مضبوط بلاک۔
​وینزویلا سے ایران تک: امریکہ کا غلط اندازہ
​امریکہ نے پہلے وینزویلا میں چین اور روس کو آزمانے کی کوشش کی، مگر وہاں اسے خاموشی ملی۔ اس خاموشی کو امریکہ نے اپنی جیت سمجھا (بالکل ویسے ہی جیسے 1930 میں ہٹلر کو ملنے والی رعایت نے اسے مغرور کر دیا تھا)۔
​اسی اعتماد میں امریکہ نے ایران پر وہی فارمولا آزمایا، لیکن یہاں حساب الٹ گیا۔ ایران کو روس اور چین نے ایک طویل جنگ کے لیے پہلے ہی تیار کر رکھا تھا، جبکہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک نے خود کو اس جنگ سے دور رکھ کر امریکہ کو تنہا کر دیا۔
​اسرائیل کی سکیورٹی اور بدلتا ہوا توازن
​اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ملنے والے کھلے لائسنس نے طاقت کا فلسفہ ہی بدل دیا۔ ایرانی میزائلوں نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل اب "ناقابلِ تسخیر" نہیں رہا۔ دوسری جانب، روس کی انٹیلی جنس شیئرنگ نے ایران کو دفاعی طور پر مزید مضبوط کر دیا ہے۔
​نتیجہ: چین نیا مرکز اور ایک نئی دنیا
​تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ جیسے برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لی تھی، اب معاشی اور سیاسی مرکز چین کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
​مشرقِ وسطیٰ کا رخ: اب عرب ممالک چینی ماڈل (معیشت پر توجہ، جنگ سے دوری) کو ترجیح دے رہے ہیں۔

07/03/2026

Bazigar drama DreamTrackAI Singing along to the perfect playlist Part 14

07/03/2026

Bazigar drama DreamTrackAI Singing along to the perfect playlist Part 13

Address

1
Jehangira

Telephone

+923449035383

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahseen Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category