17/10/2026
متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے خلاف میڈیا پر مہم چلا رکھی ہے جس میں اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں انہی میں ایک متحدہ عرب امارات کے صدر کے سینئر سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش ہیں اور انہوں نے پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان حالیہ "مکہ دفاعی معاہدے" کا حصہ بن کر خلیج کے سکیورٹی توازن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات جب ایران کے ہاتھوں فٹبال بن رہے تھا تب ان کو پاکستان نے ہری جھنڈی دکھا دی تھی کہ پاکستان اپنے پڑوسی مسلم ملک ایران کے خلاف کبھی بھی نہیں جائے گا بلکہ اس ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوگا اور پھر دنیا نے یہ منظر دیکھا بھی۔ موصوف سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو سود پر قرض دے کر اپنی کٹھ پُتلی بنا لینگے لیکن پاکستان نہ کبھی کسی کی کٹھ پُتلی بنا ہے اور نہ بنے گا۔ یہی وجہ تھی کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ایک ایسے ٹائم پر 3.5 ارب ڈالر کے قرضے کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا جب پاکستان پر آئی ایم کی تلوار لٹک رہی تھی۔ لیکن یہ بھول گئے تھے کہ پاکستان عالمی سیاست کا پرانا کھلاڑی رہا ہے پاکستان نے اپنا حساب کبھی کسی پر ادھورا نہی چھوڑا روسیوں سے لے کر امریکیوں تک اور سندوریوں سے لے کر تندوریوں تک اگر نہیں یقین تو تاریخ اٹھا کر دیکھ لو. پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے دونوں حریفوں کو ایک ساتھ بٹھا کر ایسا حساب برابر کیا کہ ان عیاش عربوں کی چیخیں آسمان کو جاتی ہیں اب۔ مکہ ایگریمنٹ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مسابقت کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، اس معاہدے کے باعث سعودی عرب کی علاقائی پوزیشن مضبوط ہوئی، جس پر متحدہ عرب امارات اور اسرائ یل کے باہمی اتحاد میں تشویش پائی جاتی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی بینکوں نے امارات جانے والی بینک رقوم کی منتقلی پر اضافی جانچ شروع کر دی، جس کے باعث بعض ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہونا شروع ہوگئیں۔ سعودی حکام براہِ راست پابندی کی تردید کرتے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ اقدام دونوں خلیجی طاقتوں کے درمیان بڑھتی اقتصادی اور علاقائی رقابت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔