20/03/2026
میں اپنی پوری ہوش و حواس میں بغیر کسی جبر و تشدد کے حلفیہ کہتا ہوں۔ میں موبائل فون، ایزی لوڈ، اور پیکجز لیتے ہوئے ٹیکس ادا کرتا ہوں، کھانے پینے، پہننے کے اشیاء پر ٹیکس ادا کرتا ہوں، گیس، پانی، کا بل ادا کرتے ہوئے ٹیکس دے دیتا ہوں۔ الغرض صبح جاگنے سے لیکر رات سونے تک جتنی چیزیں میرے استعمال میں ہوتی ہیں سب کا ٹیکس ادا کر رہا ہوتا ہوں۔ میں اپنا ٹیکس ان تمام سرکاری ملازمین پر بخشتا ہوں جو بغیر رشوت اور ہیرا پھیری کے ایمانداری سے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ میرا ٹیکس ان سیاستدانوں پر حرام ہے جو اپنے بچوں کے لیے میرے پیسوں سے باہر ممالک میں جائیدادیں بنا کر ان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں۔ جو جرنیل میرے پیسوں سے باہر ممالک میں جزیرے خرید رہے، کمپنی اور ریسٹورانٹ چلا رہے ہیں، کھیل سے وابسطہ تمام لوگ جو میرے ٹیکسوں پر عیاشیاں کر رہے، سیاستدان اور ان کے بچے میرے ٹیکسوں سے شراب پیتے ہیں، جوئے کھیلتے ہیں، زنا کاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آج حلفیہ کہتا ہوں کہ میں اپنے ٹیکس کا ایک پیسہ بھی ان پر حرام سمجھتا ہوں، لہذا قیامت کو یہ لوگ اپنی ان حرکتوں کا خدائے ذوالجلال کو خود جوابدہ ہونگے۔ میں ان سے برأت کا اعلان کرتا ہوں اور روز محشر ان کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنا حق مانگنے کا حق رکھتا ہوں۔ نوٹ: حلف نامہ ٹرینڈ میں حصہ لیں، تحریر کو اپنے نام اور تصویر کے ساتھ کاپی کر کے وال کی زینت بنائیں۔
CHADHAR