URFA Organic Foods

URFA Organic Foods organic foods

03/06/2026

‏اگر محبت کا دعوی کرنے کی ہمت ہے تو پھر باقی محبتوں سے بیزار ہو جاوء - وہ سب سے پیاری چیز سب سے پہلے لے لے گا اور پھر تم شور مچا دو گے - اس نے مثال دی ہے کہ اس نے پیغمبر سے کہا کہ بیٹا ذبح کر دو اور وہ بیٹا ذبح کرنے چلے، ذبح نہ ہوا تب بھی ہو گیا - باپ نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ذبح کرتا ہوں تو وہ ذبح ہو گیا - اب جو باپ یہ فیصلہ کر سکتا ہے، مشاہدہ اسی کا حق ہے

اور آپ سے اگر کہا جائے کہ بیٹے کی انگلی کاٹ کے لاوء تو مشکل ہو جائے گی - وہ کہے گا کہ میری جان حاضر ہے - تو پھر آپ آرام سے اپنی عبادت کرتے جائیں اور اللہ سے کبھی دیدار کی تمنا، مکمل Surrender کیے بغیر نہ کرنا - بس آپ کے لئے اتنا کافی ہے کہ یا اللہ تو مہربانی کرتے جانا

دیدار کا مقام یہ ہے کہ جب تک نگاہوں سے غیر اللہ نہ نکلے تو پھر اللہ کا مشاہدہ کیسے ہو - تو اپنی نگاہوں کا جائزہ لیں، اپنے دل کا جائزہ لیں کہ ان میں کس کس کی محبت بھری پڑی ہے - جس کمرے میں آپ اللہ کو بلا رہے ہیں - اس میں کوئی اور قباحت نہ ہو - یہ نہ ہو کہ اس کے اندر کہیں مال، کہیں سکہ،کہیں زر، کہیں زمین،کہیں زن وغیرہ پڑے ہوں - یہ نہ ہو آپ نے مہمان کو بلا لیا ہو اور اس کے مطابق انتظام نہ ہو
گفتگو والیم 10_____صفحہ نمبر 29_____30
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

31/05/2026

‏🌻قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟"
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔

منقول

26/05/2026
08/05/2026

‏بابا جی نے بتایا کہ اگلے وقتوں میں لوگ گدائی کر کے اور اپنے علائقے کے گھروں پر جا کر ، صدا لگا کر رسد اکٹھی کر کے لاتے تھے اور لنگر میں شامل کرتے تھے -

ان میں ہر طرح کے لوگ ہوتے تھے -

معزز سردار ، تعلقدار ، سرکاری ملازم ، مزدور ، منشی ، مقدی ، مدرسی ، پیشہ ور -

گدائی کرنے سے ان کے تکبر میں کمی آتی تھی - اور وہ ابلیس کی جماعت سے نکل کر سجدہ کرنے والوں کے " جیش " ٹولے میں شامل ہو جاتے تھے -

اب بھی لوگ خواجہ اجمیری کی درگاہ پر بڑی دیگ میں رسد ڈالنے کے لیے گھروں سے سودے لے کر آتے ہیں -

ایک روز بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں گدائی کر کے کچھ رسد لے کر ڈیرے پر جاؤنگا - اور لنگر میں شامل کرونگا تاکہ پرانی رسم کا اعادہ ہو -
گھر کے پھاٹک سے باہر نکل کر جب میں نے ادھر ادھر دیکھا تو میرا حوصلہ نہ پڑا -

میں اتنا بڑا آدمی ایک معزز اور مشہور ادیب کس طرح کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کر یہ کہ سکتا ہوں کہ میں مانگنے آیا ہوں - میں چپ چاپ واپس آ کر اپنی کرسی پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگا -

لیکن چونکہ یہ خیال میرے ذہن میں جاگزیں ہو چکا تھا اس لیے میں پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا !

" مجھے الله کے نام پر کچھ خیرات دو گی "

وہ میری بات نہ سمجھی اور حیرانی سے میرا چہرہ تکنے لگی -

میں نے کہا مجھے الله کے نام پر کچھ آٹا خیرات دو -

اس نے تعجب سے پوچھا تو میں نے کہا بابا جی کے لنگر میں ڈالنا ہے -
کہنے لگی ٹھہرئیے میں کوئی مضبوط سا شاپر تلاش کرتی ہوں - میں نے کہا شاپر نہیں میری جھولی میں ڈال دو - کیونکہ ایسے ہی مانگا جاتا ہے - وہ پھر نہیں سمجھی -

جب میں نے ضد کی تو وہ آٹے کا ایک بڑا پیالہ بھر لائی میں نے اپنے کرتے کی جھولی اس کے آگے کر دی -

اس نے آٹا میری جھولی میں ڈالتے ہوئے سر جھکا لیا اور آبدیدہ ہو گئی - پھر وہ مجھ سے نظریں ملائے بغیر واپس باورچی خانے میں چلی گئی -

وہاں سے دو بڑے بینگن اور چھوٹا سا کدو لے کر کر آئے اور انھیں آٹے پر رکھ دیا -

ہم دونوں کے شرمندہ شرمندہ اور غمناک چہروں کو ہمارا چھوٹا بیٹا دیکھ رہا تھا -
اس کے ہاتھ میں اس کا محبوب لیمن ڈراپ تھا - اور وہ اس سے چپکا ہوا کاغذ اتار رہا تھا جب اس نے باپ کو جھولی پھیلائے دیکھا تو اس نے اپنا لیمن ڈراپ میری جھولی میں ڈال دیا -

ہم دونوں میاں بیوی کے ایک ساتھ چیخ نکل گئی -

جب کوئی گدائے کرتا ہے تو بھکاری اور داتا کے درمیان ایک نہ سنائی دینے والی چیخ ضرور ابھرتی ہے -

بھکاری اپنی دریوزہ گری پر پشیمان ہوتا ہے اور داتا اپنی بے حقیقتی اور نا شدنی پر شرمندہ ہوتا ہے -

میں کھلی جھولی میں آٹا ڈالے آھستہ آھستہ کار چلاتا ڈیرے پر پہنچ گیا
بابا جی کھڑے تھے میری جھولی دیکھ کر زور کا نعرہ لگایا

" رحمتاں برکتاں والے آ گئے - نور والے آگئے - منگتے آگئے منگتے آگئے - "

از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ‎

02/05/2026

‏“صاحبِ حال“

از ؛ حضرت واصف علی واصف رح

—————————————————————

جس طر ح مشاہدہ کا بیان مشاہدہ نہیں ہوتا ، اسی طرح صاحبِ حال پڑھنے یا سُننے والی بات نہیں وہ دیکھنے والی شے ہے ۔ اس کے جلوے خرد اور جنوں کی سرحدوں پر ہوتے ہیں ۔ جہاں اہلِ عقل کی حد ہے وہاں سے صاحبِ دل کی سرحد شروع ہوتی ہے ۔ جذب اور سلوک کے درمیان ایک منزل ہے جسے حال کہتے ہیں اور جہاں ہونا نہ ہونا ہے اور نہ ہونا عین ہونا ہے ۔

صاحبِ حال اس مقام پر ہوتا ہے ، جہاں قال کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ الفاظ حقیقت کو محجوب کر دیتے ہیں ۔ کہنے والا کُچھ اور کہہ رہا ہوتا ہے اور سُننے والا کچھ اور سُننے لگ جاتا ہے ۔ اسی لیے صاحبِ حال الفاظ سے گریزاں ہوتا ہے ۔ وہ اس کائنات میں نئی کائنات دریافت کر چکا ہوتا ہے ۔ وہ ظاہر سے باطن کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ اسم سے مسمیٰ دریافت کرتا ہے ۔ نعمت سے مُنعم کا عرفان حاصل کرتا ہے ۔ وہ مطلعِ انوارِ صبح سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور اس کی نگاہ ڈوبتے سُورج کی لاش پر بھی ہوتی ہے ۔

صاحبِ حال قطرے میں قلزم اور ذرے میں صحرا دیکھنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ صاحبِ حال تغیر و تبدل سے مرعوب و متاثر نہیں ہوتا ۔ موسم بدلتے ہیں ، زمین و آسمان کے جلوے بدلتے ہیں ، آغاز و انجام کے رشتے بدلتے ہیں ، لیکن صاحبِ حال نہیں بدلتا ۔ وہ زندگی اور موت کو ایک حقیقت کے دو رُخ سمجھتا ہے ۔ وہ غم اور خوشی سے نجات پا چکا ہوتا ہے ۔ وہ ماضی ، حال اور مستقبل کو ایک ہی زمانہ سمجھتا ہے ۔ وہ زمین و آسمان کے انوکھے رشتوں کا مفسر ہوتا ہے ۔

اس فنا کے دیس میں صاحبِ حال ملکِ بقا کا سفیر ہے ۔ صاحبِ حال اس زمانے میں کسی اور زمانے کا پیغام رساں ہے ۔ وہ ایسا صاحبِ جُنوں ہے جو خِرد کی گُتھیاں سُلجھا چکا ہے ۔ اس کی نگاہ سات رنگوں سے بہت آگے ہوتی ہے ۔ وہ بے رنگ کے نیرنگ سے آشنا ہوتا ہے ۔ صاحبِ حال کیفیت کے اس مقام پر ہوتا ہے ، جہاں تحیر بھی ہے اور شعور بھی ۔ جہاں وارفتگی بھی ہے اور آگہی بھی ۔

صاحبِ حال اسماء اور اشیاء کے معانی اور مفاہیم سے باخبر ہوتا ہے ۔ وہ اس منزل پر ہوتا ہے جہاں سفر ہی مدعائے سفر ہے ۔ وہ خود آگہی کے ایسے دشتِ وحشت میں پہنچ چکا ہوتا ہے ، جہاں نہ فراق ہے نہ وصال ، نہ کوئی اپنا ہے نہ غیر ۔ وہ سکوت سے ہمکلام رہتا ہے ۔ وہ ذروں کے دل کی دھڑکن سنتا ہے ۔ اس کی نگاہ وجود اور ناموجود کے باطن پر بھی ہوتی ہے اور عدم اور ناموجود کی حقیقت پر بھی ۔ وہ ذات اور صفات کے تعلق سے آشنا ہوتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ عیاں کا رابطہ ہر حال میں ”نہاں“ سے قائم رہتا ہے ۔ صاحبِ حال خود ہی آخری سوال ہے اور خود ہی اس آخری جواب۔

صاحبِ حال بغیر حال کے سمجھ نہیں آتی ۔ اس کا قال بھی حال ہے اور خاموشی بھی حال ۔ بہرحال ، صاحبِ حال اپنے وجود میں اپنے علاوه بھی مُوجود رہتا ہے ۔ معلوم اور نامعلوم کے سنگم پر صاحبِ حال گنگناتا ہے ۔ آپ ایک ایسے انسان کا اندازہ کریں جس کی ایک ہتھیلی پر آگ ہو اور دوسری پر برف ۔ وہ نہ آگ بجھنے دیتا ہے ، نہ برف کا انجماد ٹوٹنے دیتا ہے ۔ وہ ایک ایسی جلوہ گاہ میں محو کھڑا ہوتا ہے ، جہاں آنکھ کی راہ بینائی کا پردہ حائل نہیں ہوتا ۔ اس کی پیشانی زمین پر ہو ، تو اس کی سجدہ گاہ آسمان پر ہوتی ہے ۔ وہ کسی کو نزدیک سے پکارتا ہے اور جواب دینے والا دور سے جواب دیتا ہے ۔ اس کا دل اس کی آنکھ میں ہوتا ہے اور آنکھ دل میں ہوتی ہے ۔

صاحبِ حال ”نمی دانم“ کے پردے میں دانائی کے چراغ جلاتا ہے ۔ اس کی خاموشی میں جمالِ گفتگو کے جلوے ہوتے ہیں ۔ اس کے قُرب میں انسان اپنے آپ سے دُور ہو جاتا ہے ۔ اس کی محفل میں گردشِ زمان و مکاں رُک سی جاتی ہے ۔

صاحبِ حال کوئی انوکھی مخلوق نہیں ۔ وہ انسان ہے ۔ انسانوں کی دنیا میں انسانوں کے درمیان رہتا ہے ۔ اس کا اندازِ نظر انسانوں سے جدا ہوتا ہے ۔ وہ معمولی سے واقعہ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے ۔ درخت سے پتا گرے تو وہ پکار اُٹھتا ہے

پتا ٹوٹا ڈال سے لے گئ پون اُڑا
اب کے بچھڑے کب ملیں گے دُور پڑیں گے جا

ایک صاحبِ حال نے جنازہ دیکھا ۔ پُوچھا ”یہ کیا ہے؟“ جواب ملا ”زندگی کی آخری منزل“۔ بولا “۔ اگر یہ آخری منزل ہے تو ہم کون سی منزل میں ہیں۔ کیوں نہ آخری منزل کو دیکھا جائے “۔ بس تخت چھوڑ دیا ، شہر چھوڑ دیا ، جنگل کی راہ لی اور پھر راز آشنا ہو گیا
موسیٰؑ کی صاحبِ حال سے ملاقات ہوُئی ۔ ایک دور کا پیغمبر اپنے دور کے صاحبِ حال سے مل کر حیران رہ گیا کہ یہ کون سا علم ہے؟ کتاب کا علم! کتاب کا علم تو موسیٰؑ کے پاس بھی تھا بلکہ کتاب ہی موسیٰؑ کے پاس تھی ۔ صاحبِ حال کسی اور زمانے کے واقعات میں مصروف تھا ۔ موسیٰؑ اپنے زمانے کا حال دیکھ رہے تھے ۔ نتیجہ ”ھٰذا فراق بینی و بینکم“ یعنی جدائی ۔

جاری ہے 👇

27/04/2026

‏"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایمان کی حلاوت تین چیزوں میں ہے۔ اگر آپ نے ایمان کی لذت لینی ہے تو وہ تین چیزوں میں ہے کہ خدا کو ایسا مانو کہ پھر اس میں کسی اور کو شریک نہ کرو۔ وہ طاقتیں جو اس کی ہیں کسی اور کو نہ دو۔ اگر وہ اللہ رزق کشادہ کرتا ہے، وہی تنگ کرتا ہے۔ تو پھر جنوں بھوتوں کو نہ دو، تعویذوں کو نہ دو۔ خدا کے لیے اس جرم کبیر سے پرہیز کرو۔ اس جملے سے پرہیز کرو کہ کسی نے میرا رزق بند کر دیا۔ اس فقرے سے نجات حاصل کرو کہ کسی تعویذ کی وجہ سے مجھ پر یہ بیماری آئی ہے۔ یہ انسان کے کام نہیں ہیں۔ وہی بیماری دیتا ہے، وہی شفاء دیتا ہے، وہی رزق دیتا ہے۔ جب خدا کی قدرت اور طاقتوں کو آپ بانٹ دو گے تو پھر آپ اللہ نہیں مان رہے۔ اس لئے پرہیز کرو اس بات سے کہ آپ اللہ کے بارے میں ایسا کہو یا کسی دوسرے کے بارے میں کہ یہ خدا کی طاقتوں کا منقسم کرنے والا ہے۔ اصل میں یہ شرک ہے۔"

استادِ محترم پروفیسر احمد رفیق اختر - ترجیحات

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when URFA Organic Foods posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category