29/11/2023
کسی کا بچہ نہیں، وہ ہمارے سامنے کہہ بیٹھے۔
چلو شکر کرو اللہ نے اچھا شوہر تو دیا ہوا ہے۔
کوئی نئے بچے والی گھبرا کر تھکن کا کہہ دے۔۔
چلو شکر کرو اللہ نے بچہ دیا تو ہوا ہے۔
پریگنینسی میں کوئی الٹیوں کی شکایت کر بیٹھے۔۔
چلو شکر کرو، ہمیں تو ساتھ چکر بھی آتے تھے۔
کسی کے شوہر نے ناک میں دم کر رکھا ہو، ہم سے کہہ بیٹھے۔۔
چلو شکر کرو، بچے تو ہیں۔ ان میں دل لگاؤ۔
کسی کی طلاق ہو جائے اور وہ گھبرا کے کچھ کہہ بیٹھے
چلو شکر کرو جان چھوٹی۔۔
کسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی
چلو شکر ہے دوسری تو بچ گئی۔
یعنی۔۔
ہم سے کوئی انسان کچھ کہہ دے۔۔ ہو نہیں سکتا ہم اسکی پوری بات سن لیں۔ اسے ایکنالج کر لیں۔ اسے دل ہلکا کرنے کا موقع دیں۔ نہ! جیسے محلے کے ڈاکٹر ہوتے ہیں جو پوری بات سنے بغیر اینٹی بائیوٹکس اور ٹیکا لگا دیتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی کوئی کچھ کہہ دے تو شکر کا ٹیکا لگا کے یہ جا وہ جا۔
یہ درست ہے کہ شکر کو یقیناً ہمیں خود پر لازم کرنا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ لوگوں کو خود کو وکٹم سمجھنے سے نکالنا ہے۔
یہ بھی ٹھیک ہے کہ انہیں منفیت سے نکال کر روشن راستہ دکھانا ہے۔
لیکن خدارا بات تو پوری سن لیں۔
ایک بار انہیں اپنا دکھ رو تو لینے دیں۔
پھر ہاتھ تھام کر محبت اور خلوص سے شکر کے راستے پر لگائیں۔
اچھا مزید سنیے۔
ایک یہ ہیں “شکر کرو” والے،
اور دوسرے ہیں “شکر ہے ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوتا” والے۔ انکی بھی اپنی ہی کلاس ہے۔
آپکو شوہر پاکٹ منی نہین دیتا۔ اف شکر ہے میرے والے نے کریڈٹ کارڈ ہی میرے نام پر بنا دیا ئے۔
آپکو میکے جانے کے لئے چار چار مہینے اجازت نہیں ملتی؟
ہائے شکر ہے۔ میں تو تیار ہو کے بتا دیتی ہوں کہ میکے جا رہی ہوں۔
آپکا بچہ ضدی ئے؟
شکر ئے میرا تو پہلی آواز پر سنتا ئے۔
آپکے چہرے پر دانے نکلتے ہیں؟
اف شکر ہے مجھے آج تک نہیں نکلے۔
آپکی بیٹی کا رشتہ نہیں ہو رہا؟
ہماری کے لئے میٹرک سے ہی لائن لگ گئی رشتوں کی۔
آپکا وزن بچے کے بعد بڑھ گیا؟
شکر ئے میرا تو تین بچوں کے بعد بھی پتہ نہیں چلتا۔
ایک انسان جس وقت اپنی کسی محرومی کا رونا روئے، عین اس وقت اسکے منہ پر اپنی اسی نعمت کا تذکرہ کرنا اپنی سمجھ سے اوپر ہے۔
یہاں ہر ایک دل کے اندر ایک الگ کہانی ہے۔ انسانوں کو روبوٹ نہ بنائیں۔ جذبات میں گندھی مخلوق ہے یہ، اسے انسان ہی رہنے دیں۔ انسان کا روٹ ورڈ ہی ا-ن-س سے نکلا ہے۔ انس کرنے والی مخلوق ہے، یہی ڈیمانڈ بھی کرتی ہے۔ محبت سے سن لینا بعض اوقات مشورہ دینے سے بہتر ہوتا ہے۔
نیّر تاباں
Hukam khan Sagar