Saeed akhter

Call Contact the business

Saeed akhter education

06/10/2026



Saeed akhter
@

27/09/2026

اپنی بیٹی سے میری شادی کردو( ماں کا انکار ، لڑکی کا فیصلہ)
#جُلَیْبِیْب رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے۔ نہ مالدار تھے نہ کسی معروف خاندان سے تعلق تھا۔ صاحبِ منصب بھی نہ تھے۔ رشتہ داروں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ رنگ بھی سانولا تھا۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار تھے۔ بھوک کی حالت میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، علم سیکھتے اور صحبت سے فیض یاب ہوتے۔
ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے شفقت کی نظر سے دیکھا اور ارشاد فرمایا:
«يَا جُلَيْبِيبُ! أَلَا تَتَزَوَّجُ؟»
” #جُلیبیب! تم شادی نہیں کرو گے؟“
جُلَیْبِیْب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ جیسے آدمی سے بھلا کون شادی کرے گا؟
اللہ کے رسول ﷺ نے پھر فرمایا: ”جُلیبیب! تم شادی نہیں کرو گے؟“ اور وہ جواباً عرض گزار ہوئے کہ اللہ کے رسول! بھلا مجھ سے شادی کون کرے گا؟ نہ مال نہ جاه و جلال!!
اللہ کے رسول ﷺ نے تیسری مرتبہ بھی ارشاد فرمایا: ”جُلیبیب! تم شادی نہیں کرو گے؟“ جواب میں انہوں نے پھر وہی کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے شادی کون کرے گا؟ کوئی منصب نہیں، میری شکل بھی اچھی نہیں، نہ میرا خاندان بڑا ہے اور نہ مال و دولت رکھتا ہوں۔
#اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِذْهَبْ إِلَى ذَاكَ الْبَيْتِ مِنَ الأَنْصَارِ وَقُلْ لَّهُمْ: رَسُولُ اللهِ ﷺ يُبْلِغُكُمُ السَّلَامَ وَيَقُولُ: زَوِّجُونِي ابْنَتَكُمُ»
”فلاں انصاری کے گھر جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول ﷺ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اپنی بیٹی سے میری شادی کر دو۔“
#جُلیبیب رضی اللہ عنہ خوشی خوشی اس انصاری کے گھر گئے اور دروازہ پر دستک دی۔ گھر والوں نے پوچھا: کون؟ کہا: جُلیبیب۔ گھر والوں نے کہا: ہم تو تمہیں نہیں جانتے، نہ تم سے کوئی غرض ہے۔ خیر گھر کا مالک باہر نکلا، ادھر جُلیبیب کھڑے تھے۔ پوچھا: کیا چاہتے ہو، کدھر سے آئے ہو؟ کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں سلام بھجوایا ہے۔
یہ سننے کی دیر تھی کہ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ کے رسول نے ہمیں سلام کا پیغام بھجوایا ہے۔ ارے! یہ تو بہت ہی خوش بختی کا مقام ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول نے سلام کہلا بھیجا ہے۔
#جُلیبیب کہنے لگے: آگے بھی سنو! اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دو۔
صاحبِ خانہ نے کہا: ذرا انتظار کرو، میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں۔ اندر جا کر لڑکی کی ماں کو پیغام پہنچایا اور مشورہ پوچھا؟ وہ کہنے لگی: نا نا نا... قسم اللہ کی! میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے شخص سے نہیں کروں گی؛ نہ خاندان، نہ شہرت، نہ مال و دولت۔ ان کی نیک سیرت بیٹی بھی گھر میں ہونے والی گفتگو سن رہی تھی اور جان گئی تھی کہ حکم کس کا ہے؟ کس نے مشورہ دیا ہے؟ سوچنے لگی اگر اللہ کے رسول ﷺ اس رشتہ داری پر راضی ہیں تو اس میں یقیناً میرے لیے بھلائی اور فائدہ ہے۔
اس نے والدین کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئی:
« #أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ أَمْرَهُ؟ ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي»
” #کیا آپ لوگ اللہ کے رسول ﷺ کا حکم ٹالنے کی کوشش میں ہیں؟ مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے سپرد کر دیں (وہ اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں میری شادی کر دیں)، کیونکہ وہ ہرگز مجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے؟“
پھر #لڑکی نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تلاوت کی:
﴿ #وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ
لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾
”اور دیکھو! کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے امور میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا“۔ (الأحزاب: 36)
لڑکی کا والد اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ کا مشورہ، آپ کا حکم قبول، میں شادی کے لیے راضی ہوں۔ جب رسولِ اکرم ﷺ کو اس لڑکی کے پاکیزہ جواب کی خبر ہوئی تو آپ نے اس کے حق میں یہ دعا فرمائی:
« #اللَّهُمَّ صُبَّ الْخَيْرَ عَلَيْهَا صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا»
”اے اللہ! اس بچی پر خیر اور بھلائی کے دروازے کھول دے اور اس کی زندگی کو مشقت و پریشانی سے دور رکھ“۔
پھر #جُلَیْبِیْب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی۔ مدینہ منورہ میں ایک اور گھرانہ آباد ہو گیا، جس کی بنیاد تقویٰ اور پرہیزگاری پر تھی، جس کی چھت مسکنت اور محتاجی تھی، جس کی آرائش و زیبائش تکبیر و تہلیل اور تسبیح و تحمید تھی۔ اس مبارک جوڑے کی راحت نماز میں اور دل کا اطمینان تپتی دوپہروں کے نفلی روزوں میں تھا۔
#رسولِ اکرم ﷺ کی دعا کی برکت سے یہ شادی خانہ آبادی بڑی ہی برکت والی ثابت ہوئی۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کے مالی حالات اس قدر اچھے ہو گئے کہ راوی کا بیان ہے:
«فَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ نَفَقَةً وَمَالًا»
” #انصاری گھرانوں کی عورتوں میں سب سے خرچیلا گھرانہ اسی لڑکی کا تھا“۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعین

26/09/2026

🌿 الحمدللہ! زندگی کے 40 سال مکمل ہوگئے 🌿
ایک عمر کا اختتام نہیں، بلکہ محاسبۂ نفس اور شکر کا نیا آغاز
الحمدللہ رب العالمین!
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری زندگی کے 40 سال مکمل ہوگئے۔
گزشتہ چالیس برس اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں، والدین کی محبت و دعاؤں، اہلِ خانہ کی رفاقت اور زندگی کے مختلف تجربات کے ساتھ گزرے۔
قرآنِ کریم نے خاص طور پر چالیس سال کی عمر کا ذکر کرتے ہوئے ایک نہایت جامع دعا سکھائی ہے:
📖 قرآنِ کریم
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو، اور میرے لیے میری اولاد کو بھی صالح بنا دے۔ بے شک میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
(سورۃ الأحقاف: 15) �
Quran.com +1
یہ آیت خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ اس میں والدین، شکر، نیک عمل، اولاد کی اصلاح اور توبہ—سب کو ایک دعا میں جمع کیا گیا ہے۔
🌙 چالیس سال کی عمر اور رسول اللہ ﷺ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا فرمائی۔
(صحیح بخاری، حدیث 3548) �
Sunnah
ایک دوسری صحیح بخاری کی روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی چالیس سال کی عمر میں وحی کے آغاز کا ذکر ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث 3902) �
Sunnah
اس لیے چالیس سال کی عمر ایک مسلمان کے لیے اپنے گزرے ہوئے وقت کا محاسبہ، شکر، توبہ اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کی ایک خوبصورت یاد دہانی بن سکتی ہے۔
🌿 عمر کا اصل سرمایہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا»
یعنی:
تم میں بہترین وہ ہیں جن کی عمریں زیادہ اور اعمال اچھے ہوں۔
یہ روایت صحیح ابن حبان میں مروی ہے۔ �
Sunnah
لہٰذا اصل کامیابی صرف عمر کے بڑھنے میں نہیں بلکہ عمر کے ساتھ نیک اعمال کے بڑھنے میں ہے۔
🤲 میری چالیس سالہ زندگی کی دعا
یا اللہ!
گزشتہ زندگی میں مجھ سے جو غلطیاں اور گناہ ہوئے، اپنے فضل و کرم سے معاف فرما۔
یا اللہ!
مجھے باقی زندگی میں نماز کی پابندی، قرآن سے تعلق، ذکر و عبادت، نیک اعمال، حسنِ اخلاق اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ!
میرے والدین پر رحم فرما، انہیں صحت، عافیت اور برکت والی زندگی عطا فرما، اور اگر وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں تو ان کی مغفرت فرما۔
یا اللہ!
میری اہلیہ، میری اولاد اور میرے تمام اہلِ خانہ کو صحت، عافیت، حلال رزق، ایمان اور نیک زندگی عطا فرما۔
یا اللہ!
میری اولاد کو صالح، نیک، فرمانبردار اور دین و دنیا میں کامیاب فرما۔
یا اللہ!
میری باقی زندگی کو گزری ہوئی زندگی سے بہتر فرما اور مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی ہوجائے۔
رَبِّ أَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي
اے میرے رب! میری اولاد کی اصلاح فرما۔
إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
بے شک میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ �

چالیس سال مکمل ہوئے ہیں؛ زندگی ختم نہیں ہوئی، بلکہ باقی زندگی کو بہتر بنانے کا موقع ملا ہے۔
اب خواہش یہ ہے کہ
عمر کم نہیں، عمل زیادہ ہو؛
دن کم نہیں، نیکیاں زیادہ ہوں؛
اور زندگی صرف گزرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ گزرے۔
الحمدللہ علیٰ کل حال
یا اللہ! باقی زندگی ایمان، صحت، عافیت، نیکی، برکت اور اپنی رضا والی عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
حافظ سعید اختر
Hafiz Saeed Akhter

عنوان: ملاوٹ اور دھوکہ دہی — قرآن و سنت کی روشنی میںاسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو تجارت اور لین دین میں سچائی، ایماندا...
27/07/2026

عنوان: ملاوٹ اور دھوکہ دہی — قرآن و سنت کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو تجارت اور لین دین میں سچائی، ایمانداری اور شفافیت کی سخت تاکید کرتا ہے۔ اشیائے خوردونوش یا کسی بھی چیز میں ملاوٹ کرنا اخلاقی اور شرعی لحاظ سے شدید گناہ ہے۔
۱. قرآن مجید کی تعلیمات:
اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی اور دھوکہ دہی کرنے والوں کے بارے میں شدید وعید نازل فرمائی ہے:
"وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ"
"ہلاکت اور تباہی ہے ناپ تول میں کمی (اور دھوکہ) کرنے والوں کے لیے۔"
(سورۃ المطففین: ۱)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
"وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ"
"اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا پورا کرو۔"
(سورۃ الانعام: ۱۵۲)
۲. احادیثِ مبارکہ (سنتِ نبویؐ):
ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں:
رسول اللہ ﷺ کا گزر غلے کے ایک ڈھیر سے ہوا، آپؐ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو انگلیوں میں تری محسوس ہوئی۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: "اے غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟" اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش ہو گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا"
"جس نے ملاوٹ (دھوکہ) کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
(صحیح مسلم: ۱۰۲)
عیب چھپا کر بیچنا حرام ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں کوئی عیب ہو، الا یہ کہ وہ اس عیب کو (خریدار پر) واضح کر دے۔"
(سنن ابن ماجہ: ۲۲۴۶)
سچے تاجر کا مقام:
آپ ﷺ نے سچی اور امانت دارانہ تجارت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا:
"سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔"
(سنن ترمذی: ۱۲۰۹)
خلاصہ و پیغام:
ملاوٹ صرف مالی دھوکہ دہی نہیں بلکہ انسانوں کی صحت اور زندگیوں سے کھلواڑ بھی ہے۔ حلال روزی میں برکت ہے اور حرام کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی ہے۔ آؤ مل کر عہد کریں کہ ہم ہر قسم کی ملاوٹ اور دھوکہ دہی سے پاک سچی اور حلال تجارت کو فروغ دیں گے۔

Address

Dhoke Rehman Abad P/o Khunda Teh Jand
Attock
43300

Telephone

+923015997852

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saeed akhter posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saeed akhter:

Shortcuts

Share

Category