28/06/2026
*دل کی پکار، بارگاہِ رسالت ﷺ میں*
یا رسول اللہﷺ! آپ کے ایک ادنیٰ غلام کی حیثیت سے اپنی کیفیت بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میری اوقات ہی کیا ہے کہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں لب کشائی کروں، مگر دل کی بے چینی کو لفظوں میں ڈھالنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔
دل بہت بے قرار ہے آقا
آپ کا انتظار ہے آقا
یہ انتظار کسی دنیاوی آرزو کا نہیں، بلکہ اس لمحے کا ہے جب مدینے کی گلیاں نصیب ہوں، روضۂ انور کی حاضری میسر آئے، سلام عرض کرنے کی سعادت ملے، اور آنکھیں اس مبارک شہر کی خاک سے ٹھنڈی ہوں۔ دل بار بار یہی کہتا ہے کہ زندگی کا اصل سکون اسی درِ اقدس سے وابستہ ہے۔
آپ کا ذکر ہے سکونِ دل کا
آپ سے ہی قرار ہے آقا
واقعی جب دنیا کی مصروفیات دل پر بوجھ بن جائیں، جب غم، پریشانیاں اور بے چینیاں گھیر لیں، تو آپ ﷺ کا ذکر دل کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ درودِ پاک کی برکت سے دل کو اطمینان ملتا ہے، روح کو تازگی نصیب ہوتی ہے، اور امید کا چراغ پھر روشن ہو جاتا ہے۔
یا رسول اللہﷺ! ہم گناہگاروں کے پاس نہ عبادتوں کا غرور ہے، نہ اعمال کا بھروسہ۔ اگر کوئی سرمایہ ہے تو وہ آپ ﷺ کی محبت، آپ ﷺ کی غلامی اور آپ ﷺ کی شفاعت کی امید ہے۔ ہماری یہی دعا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ آپ ﷺ کی سنت کے مطابق گزرے، زبان ہمیشہ آپ ﷺ پر درود بھیجتی رہے، اور دل ہمیشہ آپ ﷺ کی یاد سے آباد رہے۔
اے اللہ کریم! اپنے محبوبِ مکرمﷺ کے صدقے ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ عطا فرما، بار بار مدینۂ منورہ کی حاضری نصیب فرما، اور قیامت کے دن اپنے محبوب ﷺ کے مبارک قدموں میں جگہ عطا فرما۔
آمین بجاہِ سیدِ المرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ۔
دانیال سہیل عطاری
Sent from WhatsApp
wa.me/923100053916?source=exsh