Hafiz Muhammad saad zia qadri

Hafiz Muhammad saad zia qadri Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hafiz Muhammad saad zia qadri, Grocers, Chak no75eb, Arifwala.

آپ نے طرم خان کا نام سنا ہو گا جو بطور استہزا لیا جاتا ہے“بڑا تو طرم خان رہتا نہیں”۔ “ایڈا تو طرم خان”ہم میں سے اکثر نے ...
06/02/2026

آپ نے طرم خان کا نام سنا ہو گا جو بطور استہزا لیا جاتا ہے
“بڑا تو طرم خان رہتا نہیں”۔
“ایڈا تو طرم خان”
ہم میں سے اکثر نے اردو کا یہ مشہور محاورہ سن رکھا ہے مگر شاید ہم یہ نہیں جانتے کہ طرم خان تھے کون اور ان کا کردار آخرکیسے لازوال ہو کر محاورے میں ڈھل گیا۔ کیسے وہ ایک لوک ہیرو بن گیا؟
سب سے پہلے طورے باز نام پر کچھ بات ہو جائےطورہ یا تورہ پشتو میں تلوار کو کہتے ہیں، یوں طورہ باز کا مطلب ہوا تلوار چلانے والا یا شمشیر زن۔ یہی طورہ باز/ طورے باز، طرے باز بنا، پھر طرم خان کے روپ میں ڈھل کر ایک لوک ہیرو بن گیا۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا اور ایک گمنام سپاہی اساطیری کردار کیسے بنا، یہ کہانی جتنی عجیب ہے، اتنی ہی دلچسپ بھی ہے
یہ کہانی ہمیں 1857 کی جنگ آزادی تک لے جاتی ہے جہاں ریاستِ حیدرآباد دکن کا نواب، جو ’نظام دکن‘ کہلاتا ہے، برطانیہ کا اتحادی ہے اور ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

لیکن جب انگریز کے خلاف تحریک آزادی کے نعرے ہندوستان کے گلی کوچوں تک پہنچ جاتے ہیں تو اس کی بازگشت نظام حیدر آباد کے درو دیوار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہاں بیگم بازار کا ایک عام سپاہی طورے باز خان نہ صرف باغیوں کی قیادت کرتا تھا بلکہ اس نے چھ ہزار مظاہرین کو لے کر حیدر آباد میں برٹش ریذیڈنسی پر حملہ کر دیا تھا۔ ۔
۔
جنگ آزادی کے شعلے جب میرٹھ سے حیدر آباد پہنچتے ہیں تو حیدرآباد کی مساجد، مندروں، گوردواروں اور چرچوں کی دیواروں پر اشتہارات سج جاتے ہیں، جن میں نہ صرف انگریز کے خلاف بغاوت کے حق میں نعرے درج ہیں بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ نظام بھی اس جنگ میں شریک ہو۔

حالانکہ نظام افضل الدولہ اپنے رفقا، سالارِ جنگ، امرا اور سرداروں کے ساتھ انگریزوں کی حمایت کا اعلان کر چکا تھا، مگر پھر بھی ریاست کے باشندوں نے اس جنگ میں ایک ایسی کہانی رقم کی جس نے انگریزوں کے ساتھ ساتھ نظام کے نظام کی چولیں بھی ہلا کر رکھ دیں۔

نظام دکن نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ 1800 میں ہی اتحادی ہونے کا معاہدہ کر ڈالا تھا، جس کا قلق ریاست کے باسیوں کو شروع دن سے ہی تھا۔ جب جنگ آزادی کے شعلے 1857 میں بھڑک اٹھے تونظام کی فوج میں انگریز افسروں کے خلاف بھی مزاحمت شروع ہوگئی۔ نظام کی فوج کے ایک رسالے کو بغاوت کچلنے کے لیے بلڈھانہ سے دہلی جانے کا حکم دیا گیا تو جمعدار چھیدا خان نے انکار کر دیا کیونکہ جمع

06/02/2026
06/02/2026
🌴یمن کے بادشاہ تُبّع حمیری کا قصہ🌹💖حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع حمیری تھا، ایک مرتب...
06/02/2026

🌴یمن کے بادشاہ تُبّع حمیری کا قصہ🌹💖
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع حمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورہ کو نکلا، بارہ ہزار عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی تھی ، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔

یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دوں گا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دوں گا، یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ایسا بدبودار مادہ بہنے لگا کہ اس کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی اس مرض کا علاج کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا، شام کے وقت بادشاہ ہی علماء میں سے ایک عالم ربانی تشریف لائے اور نبض دیکھ کر فرمایا ، مرض آسمانی ہے اور علاج زمین کا ہو رہا ہے، اے بادشاہ! آپ نے اگر کوئی بری نیت کی ہے تو فوراً اس سے توبہ کریں، بادشاہ نے دل ہی دل میں بیت اللہ شریف اور خدام کعبہ کے متعلق اپنے ارادے سے توبہ کی ، توبہ کرتے ہی اس کا وہ خون اور مادہ بہنا بند ہو گیا، اور پھر صحت کی خوشی میں اس نے بیت اللہ شریف کو ریشمی غلاف چڑھایا اور شہر کے ہر باشندے کو سات سات اشرفی اور سات سات ریشمی جوڑے نذر کئے۔

پھر یہاں سے چل کر مدینہ منورہ پہنچا تو ہمراہ ہی علماء نے جو کتب سماویہ کے عالم تھے وہاں کی مٹی کو سونگھا اور کنکریوں کو دیکھا اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ کی جو علامتیں انھوں نے پڑھی تھیں ، ان کے مطابق اس سر زمین کو پایا تو باہم عہد کر لیا کہ ہم یہاں ہی مر جائیں گے مگر اس سر زمین کو نہ چھوڑیں گے، اگر ہماری قسمت نے یاوری کی تو کبھی نہ کبھی جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے

مکھی کے پر میں شفا اور اونٹنی کے پیشاب والی احادیث اور جدید سائنسی تحقیقات 🦟🐪🔬(ڈاکٹر موریس بوکائے اور ڈاکٹر حمید اللہؒ ک...
06/02/2026

مکھی کے پر میں شفا اور اونٹنی کے پیشاب والی احادیث اور جدید سائنسی تحقیقات 🦟🐪🔬
(ڈاکٹر موریس بوکائے اور ڈاکٹر حمید اللہؒ کا تاریخی مکالمہ اور حقائق)

اسلام اور سائنس کے موضوع پر فرانسیسی سرجن ڈاکٹر موریس بوکائے (Dr. Maurice Bucaille) کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی مشہور کتاب نے دنیا بھر میں تہلکہ مچایا، جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ قرآن کا کوئی بھی بیان جدید مسلمہ سائنسی حقائق سے نہیں ٹکراتا۔
لیکن تاریخ کا ایک کم معروف مگر انتہائی اہم پہلو وہ ہے جب ڈاکٹر موریس، قرآن کی حقانیت تسلیم کرنے کے بعد، حدیث کی سب سے مستند کتاب "صحیح بخاری" کا مطالعہ کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریباً 100 ایسی احادیث منتخب کیں جن کا تعلق سائنس یا طب سے تھا۔ ان کی تحقیق کے مطابق 98 احادیث تو سائنسی معیار پر پوری اتریں، لیکن دو احادیث پر ان کا سائنسی ذہن اٹک گیا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں ان کا مکالمہ عالمِ اسلام کے عظیم محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ سے ہوا، اور پھر جو حقائق سامنے آئے وہ آج کے دور میں ہمارے ایمان کو تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
آئیے! اس تاریخی پس منظر اور ان دو احادیث کا جدید سائنسی جائزہ لیتے ہیں۔
📜 تاریخی پس منظر: کیا یہ مکالمہ ہوا تھا؟
بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی ان دو عظیم شخصیات کے درمیان یہ گفتگو ہوئی تھی؟
تحقیقی جواب: جی ہاں! یہ واقعہ ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کے قریبی رفقاء، شاگردوں اور سوانح نگاروں کے ذریعے مستند ذرائع سے ہم تک پہنچا ہے [1]۔
🤔 وہ دو احادیث اور ڈاکٹر حمید اللہ کا اصولی جواب
ڈاکٹر موریس کو جن دو احادیث پر اعتراض تھا، وہ بظاہر جدید حفظانِ صحت کے اصولوں کے خلاف لگتی تھیں:
1. مکھی والی حدیث: کہ اگر مکھی پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے غوطہ دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔
2. اونٹ کے پیشاب والی حدیث: کہ قبیلہ عرینہ کے بیمار لوگوں کو نبی کریم ﷺ نے اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا۔
ڈاکٹر حمید اللہؒ نے ڈاکٹر موریس کو جو جواب دیا، وہ ان کی علمی بصیرت کا شاہکار تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ سائنس چند تجربات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتی ہے جو حتمی نہیں ہوتے۔ جب 98 احادیث درست ثابت ہو چکی ہیں تو باقی دو کو بھی وحی کا حصہ ماننا چاہیے۔
نیز، انہوں نے تاریخی تناظر میں بتایا کہ طب میں علاج کے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک مشہور انگریز

Address

Chak No75eb
Arifwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Muhammad saad zia qadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category