06/02/2026
آپ نے طرم خان کا نام سنا ہو گا جو بطور استہزا لیا جاتا ہے
“بڑا تو طرم خان رہتا نہیں”۔
“ایڈا تو طرم خان”
ہم میں سے اکثر نے اردو کا یہ مشہور محاورہ سن رکھا ہے مگر شاید ہم یہ نہیں جانتے کہ طرم خان تھے کون اور ان کا کردار آخرکیسے لازوال ہو کر محاورے میں ڈھل گیا۔ کیسے وہ ایک لوک ہیرو بن گیا؟
سب سے پہلے طورے باز نام پر کچھ بات ہو جائےطورہ یا تورہ پشتو میں تلوار کو کہتے ہیں، یوں طورہ باز کا مطلب ہوا تلوار چلانے والا یا شمشیر زن۔ یہی طورہ باز/ طورے باز، طرے باز بنا، پھر طرم خان کے روپ میں ڈھل کر ایک لوک ہیرو بن گیا۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا اور ایک گمنام سپاہی اساطیری کردار کیسے بنا، یہ کہانی جتنی عجیب ہے، اتنی ہی دلچسپ بھی ہے
یہ کہانی ہمیں 1857 کی جنگ آزادی تک لے جاتی ہے جہاں ریاستِ حیدرآباد دکن کا نواب، جو ’نظام دکن‘ کہلاتا ہے، برطانیہ کا اتحادی ہے اور ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
لیکن جب انگریز کے خلاف تحریک آزادی کے نعرے ہندوستان کے گلی کوچوں تک پہنچ جاتے ہیں تو اس کی بازگشت نظام حیدر آباد کے درو دیوار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہاں بیگم بازار کا ایک عام سپاہی طورے باز خان نہ صرف باغیوں کی قیادت کرتا تھا بلکہ اس نے چھ ہزار مظاہرین کو لے کر حیدر آباد میں برٹش ریذیڈنسی پر حملہ کر دیا تھا۔ ۔
۔
جنگ آزادی کے شعلے جب میرٹھ سے حیدر آباد پہنچتے ہیں تو حیدرآباد کی مساجد، مندروں، گوردواروں اور چرچوں کی دیواروں پر اشتہارات سج جاتے ہیں، جن میں نہ صرف انگریز کے خلاف بغاوت کے حق میں نعرے درج ہیں بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ نظام بھی اس جنگ میں شریک ہو۔
حالانکہ نظام افضل الدولہ اپنے رفقا، سالارِ جنگ، امرا اور سرداروں کے ساتھ انگریزوں کی حمایت کا اعلان کر چکا تھا، مگر پھر بھی ریاست کے باشندوں نے اس جنگ میں ایک ایسی کہانی رقم کی جس نے انگریزوں کے ساتھ ساتھ نظام کے نظام کی چولیں بھی ہلا کر رکھ دیں۔
نظام دکن نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ 1800 میں ہی اتحادی ہونے کا معاہدہ کر ڈالا تھا، جس کا قلق ریاست کے باسیوں کو شروع دن سے ہی تھا۔ جب جنگ آزادی کے شعلے 1857 میں بھڑک اٹھے تونظام کی فوج میں انگریز افسروں کے خلاف بھی مزاحمت شروع ہوگئی۔ نظام کی فوج کے ایک رسالے کو بغاوت کچلنے کے لیے بلڈھانہ سے دہلی جانے کا حکم دیا گیا تو جمعدار چھیدا خان نے انکار کر دیا کیونکہ جمع