16/04/2026
ایل پی جی سپلائی کا نظام مکمل طور پر بحال ہونے میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔ سرکاری سطح پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ صورت حال خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس کا اثر خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے پر پڑ رہا ہے، جہاں سے بھارت کی زیادہ تر درآمدات آتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ سپلائرز کی جانب سے اشارہ ملا ہے کہ کچھ اہم سپلائی ذرائع بند ہو چکے ہیں یا محدود ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے بحالی کا عمل طویل ہو سکتا ہے۔
ہندوستان اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب نمایاں ہیں۔ حالیہ رکاوٹوں کے بعد ان ممالک کا حصہ کم ہو کر لگ بھگ 55 فیصد رہ گیا ہے۔